Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Tafseer-e-Mazhari - Al-Hashr : 8
لِلْفُقَرَآءِ الْمُهٰجِرِیْنَ الَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِهِمْ وَ اَمْوَالِهِمْ یَبْتَغُوْنَ فَضْلًا مِّنَ اللّٰهِ وَ رِضْوَانًا وَّ یَنْصُرُوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ١ؕ اُولٰٓئِكَ هُمُ الصّٰدِقُوْنَۚ
لِلْفُقَرَآءِ
: محتاجوں کیلئے
الْمُهٰجِرِيْنَ
: مہاجر (جمع)
الَّذِيْنَ
: وہ جو
اُخْرِجُوْا
: نکالے گئے
مِنْ دِيَارِهِمْ
: اپنے گھروں سے
وَاَمْوَالِهِمْ
: اور اپنے مالوں
يَبْتَغُوْنَ
: وہ چاہتے ہیں
فَضْلًا
: فضل
مِّنَ اللّٰهِ
: اللہ کا، سے
وَرِضْوَانًا
: اور رضا
وَّيَنْصُرُوْنَ
: اور وہ مدد کرتے ہیں
اللّٰهَ
: اللہ کی
وَرَسُوْلَهٗ ۭ
: اور اس کے رسول
اُولٰٓئِكَ
: یہی لوگ
هُمُ
: وہ
الصّٰدِقُوْنَ
: سچے
(اور) ان مفلسان تارک الوطن کے لئے بھی جو اپنے گھروں اور مالوں سے خارج (اور جدا) کر دیئے گئے ہیں (اور) خدا کے فضل اور اس کی خوشنودی کے طلبگار اور خدا اور اس کے پیغمبر کے مددگار ہیں۔ یہی لوگ سچے (ایماندار) ہیں
للفقراء المھجرین الذین اخرجوا من دیارھم و اموالھم یبتغون فضلا من اللہ و رضوانا و ینصرون اللہ و رسولہ اولئک ھم الصدقون . ” اور ان حاجت مند مہاجروں کا (بالخصوص) حق ہے جو اپنے گھروں سے نکالے گئے اور (جبراً ) اپنے مالوں سے (جدا کردیئے گئے) وہ اللہ کے فضل اور رضامندی کے طالب ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کے دین کی مدد کرتے ہیں ‘ یہی لوگ (ایمان کے) سچے ہیں۔ “ لِلْفُقَرَآءِ الْمُھٰجِرِیْنَ...... یہ جملہ (للرسول سے بدل نہیں ہے بلکہ) ذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنِ سے بدل ہے کیونکہ رسول اللہ ﷺ کو فقیر مہاجر نہیں کہا جاسکتا۔ اس کے علاوہ اگلی آیت میں اللہ نے فرمایا ہے : یَنْصُرُوْنَ اللہ وَ رَسُوْلَہٗ اور ظاہر ہے کہ اگر رسول کو فقراء میں شامل کیا جائے گا تو یہ معنی ہوجائے گا کہ رسول اللہ ﷺ اور دوسرے فقراء مہاجرین اللہ کے دین اور اس کے رسول کی مدد کرتے ہیں یعنی رسول خود اپنی مدد کرتے ہیں۔ لِلْفُقَرَآءِ : میں الف لام عہدی ہے اور معہود وہ ہی لوگ ہوں گے جن کا ذکر اوپر کردیا گیا۔ یعنی ذوی القربیٰ اور یتامیٰ اور مساکین۔ پس یہ بدل الکل من الکل ہے۔ میرے نزدیک فقراء مہاجرین اور وہ لوگ جن کا ذکر آگے کیا گیا ہے ان تمام مؤمنوں کو شامل ہیں جو قیامت تک آنے والے ہوں خواہ زردار ہوں یا نادار۔ جن لوگوں کا ذکر اس سے پہلے ہوچکا ہے یعنی ذوی القربیٰ وغیرہ وہ بھی انہیں لوگوں کے ذیل میں داخل ہیں۔ اس میں فقراء مہاجرین وغیرہ عام قرار پائیں گے اور پہلے جن کا ذکر آچکا ہے وہ خاص مانے جائیں گے اور یہ صورت بدل الکل من البعض کی ہوجائے گی۔ اَلَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا .... مکہ کے کافروں نے مسلمانوں کو ان کے گھروں سے نکال دیا تھا اور ان کے مال پر قبضہ کرلیا تھا۔ اس آیت سے ثابت ہوتا ہے کہ مسلمان مہاجر اپنا جو مال چھوڑ آئے تھے اور کفار مکہ نے اس پر قبضہ کرلیا تھا وہ مال کافروں کا ہی ہوگیا۔ کفار اس کے مالک ہوگئے کیونکہ اللہ نے ایسے مہاجروں کو فقراء فرمایا ہے اور فقیر اسی کو کہتے ہیں جس کی ملکیت میں کچھ نہ ہو ‘ اس شخص کو فقیر نہیں کہا جاتا جس کی ملکیت میں مال تو ہو مگر اس کے قبضہ میں نہ ہو اور وہ ایسے مقام پر چلا گیا ہو کہ اپنے مال تک اس کی رسائی نہ ہوسکتی ہو بلکہ ایسے شخص کو خصوصیت کے ساتھ ابن السبیل (راہ گیر ‘ مسافر) کہا جاتا ہے۔ اس لیے آیت صدقات میں ابن السبیل کا فقراء پر عطف کیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر امام ابوحنیفہ (رح) اور امام مالک (رح) نے فرمایا ہے کہ کافر اگر مسلمانوں کے مال پر قابض ہوجائیں تو شرعاً ان کو مالک قرار دیا جائے گا۔ امام ابوحنیفہ (رح) نے کفار کے مالک ہونے کی یہ شرط لگائی کہ دارالکفر میں کفار مسلمانوں کے مال پر منفرداً قابض ہوجائیں۔ امام مالک (رح) کے نزدیک انتقال ملکیت کے لیے کافروں کا مسلمانوں کے مال پر صرف تسلط اور غلبہ ہوجانا کافی ہے۔ امام شافعی (رح) نے فرمایا کہ قبضہ کرلینے اور تسلط حاصل کرلینے کے بعد بھی کفار مسلمانوں کے مال کے مالک نہیں ہوجاتے۔ ابن ہمام نے اس کے متعلق امام احمد (رح) کے دو متضاد قول نقل کیے ہیں ‘ ایک قول امام ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کے موافق ہے اور دوسرا امام شافعی (رح) کے مسلک کے مطابق۔ ابن جوزی نے صرف ایک روایت لکھی ہے جس میں امام احمد (رح) کے قول کو امام شافعی (رح) کے قول کے موافق کہا گیا ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے مسلک کی تائید چند احادیث سے ہوتی ہے۔ ابوداؤد نے مراسیل میں تمیم بن طرفہ کا بیان نقل کیا ہے کہ ایک شخص نے دوسرے کے قبضہ میں اپنی اونٹنی پائی اور دعویٰ کیا کہ یہ اونٹنی میری ہے۔ دونوں اپنا مقدمہ لے کر رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں پہنچے۔ مدعی نے اپنے دعوے کے گواہ پیش کیے اور مدعٰی علیہ نے اس امر کے گواہ پیش کیے کہ میں نے یہ اونٹنی دشمن سے خریدی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے مدعی سے فرمایا : جس قیمت کو اس شخص نے یہ اونٹنی خریدی ہے اگر تو لینا چاہے تو وہ قیمت دے کر تو لے لے ورنہ اونٹنی اس کی ہے۔ یہ حدیث اگرچہ مرسل ہے لیکن مرسل اکثر اہل علم کے نزدیک قابل استدلال ہے۔ طبرانی نے مسند میں بروایت تمیم بن طرفہ حضرت جابر بن سمرہ کی طرف اس بیان کی نسبت کی ہے لیکن اس روایت کی سند میں یاسین زیات ضعیف راوی ہے۔ دارقطنی اور بیہقی نے اپنی اپنی سنن میں حضرت ابن عباس کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مسلمان کا) جو مال دشمن نے اپنے قبضے میں لے لیا ہو۔ پھر مسلمان اس کو (کسی وقت) اپنے قبضہ میں (واپس) لے لیں اور چھڑا لیں اور (اصل) مالک اگر اس کو تقسیم کیے جانے سے قبل پالے تو وہی اس مال کا مستحق ہے اور اگر وہ مال تقسیم کردیا گیا ہو تو اصل مالک اگر چاہے تو قیمت دے کرلے سکتا ہے۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی حسن بن عمارہ ہے جس کو دارقطنی نے متروک کہا ہے۔ دارقطنی کا بیان ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : میں نے خود سنا کہ رسول اللہ ﷺ ارشاد فرما رہے تھے کہ مال فے کی تقسیم سے پہلے اگر کسی کو اپنا مال اس میں مل جائے تو وہ مال اسی کا ہے (دوسروں کو تقسیم کے وقت نہ دیا جائے) اور اگر تقسیم کے بعد کسی کو اپنا مال اس مال فے میں دستیاب ہو ‘ تو اس کو اس مال کا کوئی حق نہیں۔ اس حدیث کی سند میں اسحاق بن عبداللہ بن فروہ ضعیف راوی ہے اور دوسری سند میں رشدین ضعیف ہے۔ طبرانی نے حضرت ابن عمر کی مرفوع حدیث نقل کی ہے کہ مال فے کے اندر تقسیم ہونے سے پہلے اگر کسی کو اپنا مال مل جائے تو اس مال کا مالک وہی ہے (کسی اور کو نہیں دیا جائے گا) اور اگر تقسیم کے بعد کسی کو اپنا مال فے میں ملا ہو تو وہ (اس کا نہیں مانا جائے گا بلکہ) قیمت ادا کر کے لینے کا زیادہ مستحق ہے۔ اس روایت میں یاسین راوی ضعیف ہے۔ امام شافعی (رح) نے احادیث مذکورہ کے مضمون کی تائید میں حضرت عمر کا قول پیش کیا ہے۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : دشمن نے مسلمانوں کا جو مال لے لیا ہو پھر وہ مال (کبھی) مسلمانوں کے ہاتھ آجائے اور کسی مسلمان کو اپنا سابق مال ‘ مال فے میں دستیاب ہوجائے تو مال فے کی تقسیم سے پہلے یہ شخص (اپنے سابق مال کا جو مال فے میں شامل ہو) مالک مانا جائے گا اور اگر تقسیم فے کے بعد دستیاب ہوا ہو تو بغیر قیمت ادا کیے اس مال میں اس کا کوئی حق نہیں ہے۔ حضرت عمر کا یہ قول شعبی نے بھی نقل کیا ہے اور رجاء بن حیوہ نے بھی۔ دونوں راویوں نے حضرت عمر کا زمانہ پایا تھا۔ دونوں کی روایت مرسل ہے۔ طحاوی نے اپنی سند سے بروایت قبیصہ بن ذویب بیان کیا کہ حضرت عمر ؓ نے فرمایا : مشرکوں نے مسلمانوں کا جو مال لے لیا ہو ‘ پھر (کسی وقت) وہ مال مسلمانوں کے ہاتھ لگ جائے اور اس میں کوئی مسلمان اپنا مال شناخت کرلے اور ابھی تک اس مال (فے) کی تقسیم نہ ہوئی ہو تو وہ شناخت کردہ مال اسی مسلمان کا ہوگا اور تقسیم حصص کے بعد اگر وہ مال شناخت کیا گیا ہو تو اس صورت میں اس کو (بطور استحقاق سابق) وہ مال نہیں ملے گا۔ حضرت ابو عبیدہ کی روایت سے بھی حضرت عمر کا یہ قول مروی ہے۔ سلیمان بن یسار نے حضرت زید بن ثابت ؓ کی روایت سے بھی اسی طرح بیان کیا ہے۔ طحاوی نے بروایت قتادہ بوساطت جلاس بیان کیا کہ حضرت علی ؓ نے فرمایا : جس کسی کا مال دشمن نے اپنے قبضہ میں لے لیا ہو تو (صاحب مال) مسلمان اس کو خرید سکتا ہے۔ مذکورۂ بالا احادیث میں بعض ضعیف ہیں ‘ بعض مرسل ہیں لیکن ایک کی دوسری سے تائید ہو کر قوّت پیدا ہوجاتی ہے۔ انہی احادیث کی بناء پر امام ابوحنیفہ (رح) نے فرمایا ہے کہ دارالحرب میں مسلمان کے مال پر کافر کا قبضہ ہونا ضروری ہے پھر جب مسلمان غالب آجائیں اور اصل مالک اپنا (پچھلا) مال تقسم فے سے پہلے کافروں سے واپس لیے ہوئے مال میں پالے تو اس کو اس کا مالک مانا جائے گا اور تقسیم سہام کے بعد اگر اس کو اپنا کھویا ہوا مال فے میں ملے گا تو اس کو مالک نہیں مانا جائے گا بلکہ اس کو اگر لینا ہوگا تو قیمت دے کرلے گا۔ اسی طرح کوئی تاجر دارالحرب میں جا کر مسلمان کو لوٹا ہوا مال کافروں سے خرید کر دارالسلام میں لے آئے گا تو اصل مالک کو (ادا شدہ) قیمت دے کر اس کا مال مل سکتا ہے۔ اگر چاہے لے لے (سابق ملکیت کی بنا پر بلا قیمت لینے کا اس کو کوئی حق نہیں ہے) ۔ یہی حکم اس صورت میں ہوگا جب کافروں نے کسی مسلمان کو (کسی دوسرے مسلمان سے لوٹا ہوا مال) مفت ہبہ کردیا ہو۔ اس صورت میں بھی موہوب لہ مالک قرار پائے گا اور اصل مالک اگر لینا چاہے گا تو قیمت دے کرلے گا۔ بعض حنفیہ نے صحیحین کی مندرجہ ذیل حدیث کو استدلال میں پیش کیا ہے ‘ فتح مکہ کے دن رسول اللہ ﷺ سے دریافت کیا گیا کہ کل کو حضور ﷺ مکہ میں کس مکان میں نزول اجلال فرمائیں گے ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : عقیل نے ہمارے لیے کوئی مکان چھوڑا ہی کہاں ہے ؟ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ عقیل نے جبکہ وہ کافر تھے۔ رسول اللہ ﷺ کے مکان پر تسلط جما لیا تھا (یعنی مالک بن بیٹھے تھے اور رسول اللہ ﷺ نے ان کی اس جابرانہ ملکیت کو تسلیم کرلیا تھا) بعض اہل علم نے کہا : اس حدیث سے (کافروں کے جابرانہ قبضہ کو تسلیم مالکیت پر دلیل نہیں لائی جاسکتی بلکہ اس سے) تو یہ ثابت ہو رہا ہے کہ مسلمان کافر کے مال کا وارث نہیں ہوتا (اور نہ کافر مسلمان کے مال کا) عقیل نے ابو طالب کی وراثت میں یہ مکان پائے تھے۔ ابو طالب کے چار بیٹے تھے : علی ؓ اور جعفر۔ یہ دونوں مسلمان ہوئے۔ عقیل اور طالب کافر رہے۔ پس عقیل اور طالب اپنے باپ کے ترکہ کے وارث قرار پائے۔ امام شافعی (رح) نے اپنے مسلک کے استدلال میں مندرجۂ ذیل حدیث ذکر کی ہے۔ یہ حدیث امام احمد (رح) نے بھی بیان کی اور مسلم نے اپنی صحیح میں بھی۔ حضرت عمران بن حصین راوی ہیں کہ بنی عقیل کے ایک آدمی کی ایک اونٹنی تھی ‘ جس کو عضباء کہا جاتا تھا۔ یہ اونٹنی حاجیوں کے قافلہ کے سارے اونٹوں سے آگے بڑھ جاتی تھی۔ اتفاقاً اونٹنی کا مالک مع اونٹنی کے گرفتار کرلیا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے عضباء کو روک لیا ‘ کچھ مدت کے بعد مشرکوں نے مدینہ کے باہر چرنے والے اونٹوں پر حملہ کیا ‘ اونٹوں کو لوٹ کرلے گئے ‘ ان میں عضباء بھی تھی۔ مشرک ایک مسلمان عورت کو بھی پکڑ کرلے گئے ‘ راستہ میں جب یہ لوگ کسی منزل پر اترتے تو اونٹوں کو اپنے صحن میں رات کو رکھتے تھے ‘ ایک رات وہ مسلمان عورت اٹھی ‘ سب لوگ سو رہے تھے۔ عورت اونٹوں کی طرف گئی۔ جس اونٹ پر ہاتھ رکھتی وہ اونٹ بلبلانے لگتا تھا۔ آخر عضباء کے پاس گئی اور اس پر سوار ہو کر مدینہ کی طرف چل دی اور اس نے نذر مان لی کہ اگر اللہ کافروں سے اس کو نجات دے دے گا تو وہ اللہ کے لیے عضباء ہی کی قربانی کر دے گی۔ جب مدینہ پہنچی تو اونٹنی پہچان لی گئی۔ لوگ اس کو رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں لے گئے۔ عورت نے (فرار ہو کر آنے اور) نذر ماننے کا ذکر کردیا۔ حضور ﷺ نے مسکراتے ہوئے فرمایا : اونٹنی نے تو میرے ساتھی کی خبر دی اور تو اسی کو قربان کر دے گی حالانکہ اللہ نے اسی پر بٹھا کر تجھے بچا دیا۔ پھر فرمایا : گناہ کی نذر کو پورا کرنا (جائز) نہیں اور نہ اس چیز کی نذر ماننی جائز ہے جو نذر ماننے والے کی ملک میں نہ ہو۔ دیکھو اگر مشرک اس اونٹنی کے مالک ہوگئے ہوتے تو رسول اللہ ﷺ اس کو (خود)ؔ نہ لیتے اور نہ عورت کی نذر باطل ہوتی۔ ابوداؤد نے بیان کیا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے فرمایا : میرا ایک گھوڑا چلا گیا اور کافروں نے اس کو پکڑ لیا ‘ کچھ مدت کے بعد مسلمانوں کا غلبہ ہوگیا اور وہ گھوڑا مجھے واپس دے دیا گیا۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ کا ہے۔ یہ بھی حضرت ابن عمرکا بیان ہے کہ میرا ایک غلام بھاگ کر روم پہنچ گیا۔ پھر جب مسلمانوں کا روم پر تسلط ہوا تو وہ غلام پکڑا ہوا آیا اور خالد بن ولید نے وہ غلام مجھے واپس کردیا۔ یہ واقعہ رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد کا ہے۔ یہ دونوں حدیثیں بھی امام شافعی (رح) نے اپنے مسلک کے ثبوت میں ذکر کی ہیں۔ اوّل حدیث کا جواب یہ ہے کہ مشرک اونٹنی کو لے کر دارالحرب میں نہیں پہنچے تھے اور دارالحرب کے اندر اونٹنی ان کے قبضے میں نہیں پہنچنے پائی تھی۔ حدیث میں صاف صراحت ہے کہ جہاں کہیں وہ لوگ کسی منزل پر اترتے تھے تو اونٹوں کو (اپنے پڑاؤ کی) انگنائیوں میں باندھتے تھے۔ رہی دوسری حدیث ‘ تو وہ ہمارے مسلک کے موافق ہے۔ ہمارا مسلک ہے کہ مشرک جب ہمارے مال پر غلبہ پا کر قابض ہوجائیں تو وہ اس مال کے مالک ہوجاتے ہیں پھر اگر مسلمان غالب آجائیں اور مال فے میں وہ مال بھی ہو جو کافر لے گئے تھے اور تقسیم سہام سے پہلے اصل مالک اپنے مال کو پہچان لے تو بلا قیمت (سابق استحقاق کی بناء پر) وہ مال اس کو دے دیا جائے گا اور تقسیم کے بعد قیمت ادا کر کے وہ اپنا مال لے سکتا ہے (چنانچہ گھوڑا حضرت ابن عمر کو واپس کردیا گیا کیونکہ تقسیم سہام اس وقت تک نہیں ہوئی تھی) رہا غلام تو وہ خود بھاگ کر دارالحرب میں چلا گیا تھا۔ امام ابوحنیفہ (رح) کے نزدیک کفار اس کے مالک ہی نہیں ہوئے تھے۔ جب مسلمان رومیوں پر غلبہ پا کر اس کو پکڑ لائے تو اصل مالک کو دے دیا گیا۔ کافروں سے اگر مسلمان خرید لائے یا وہ بلا قیمت کسی مسلمان کو دے دیں تو اس کا بھی یہی حکم ہے کہ قیمت دے کر اصل مالک اس کو لے سکتا ہے۔ یَبْتَغُوْنَ فَضْلاً مِّنَ اللہ : یعنی اپنے اعمال حسنہ کی مقدار سے کتنے ہی گنا زائد ثواب کی طلب کرتے ہیں۔ وَ یَنْصُرُوْنَ اللہ : یعنی اللہ کے دین کی مدد کرتے ہیں۔ اُوْلٰٓءِکَ ھُمُ الصّٰدِقُوْنَ : یعنی مؤمن ہونے کے دعوے میں وہ سچے ہیں۔ بعض شیعہ کہتے ہیں کہ فقراء مہاجرین جن کو گھر بار چھوڑ کر نکلنا پڑا وہ مؤمن نہیں تھے ‘ منافق تھے۔ مؤمن ہونے کے دعوے میں جھوٹے تھے۔ آیت مذکورہ کی صراحت شیعہ کے مقولہ کے خلاف ہے اس لیے ایسا کہنا اور یہ عقیدہ رکھنا کفر ہے۔ قتادہ نے کہا : یہ وہ مہاجر تھے جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی محبت میں گھر بار ‘ مال و متاع اور کنبہ ‘ قبیلہ کو چھوڑ کر نکل کھڑے ہوئے تھے اور راہ اسلام میں ان کو کتنی ہی شدائد برداشت کرنی پڑیں۔ مگر انہوں نے اسلام کو اختیار کیا۔ بعض آدمیوں کی تکلیفیں اس حد تک بڑھ گئی تھیں کہ انتہائی بھوک کی وجہ سے وہ پیٹ پر پتھر باندھ لیتے تھے تاکہ کمر سیدھی ہی رہ سکے۔ بعض آدمیوں کے پاس سردی سے بچنے کے لیے کوئی کپڑا نہیں تھا ‘ اس لیے وہ زمین میں گڑھے کھود کر ان میں پناہ لیتے تھے۔ میں کہتا ہوں وہ لوگ راہ خدا میں شہید ہونے کے مشتاق تھے۔ بغوی نے معالم اور شرح السنۃ میں امیّہ بن خالد بن عبداللہ بن اسید کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ فقراء مہاجرین کے ذریعہ سے دعاء کشائش کیا کرتے تھے۔ مسلم نے حضرت عبداللہ بن عمر کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن فقراء مہاجرین دولت مندوں سے چالیس سال پہلے جنت کی طرف بڑھیں گے۔ ابوداؤد نے حضرت ابوسعید ؓ خدری کی روایت سے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اے فقراء مہاجرین کے گروہ ! تم کو قیامت کے دن نور کامل حاصل ہونے کی بشارت ہو ‘ تم لوگ دولت مند آدمیوں سے نصف یوم پہلے جنت میں داخل ہو گے اور یہ (نصف یوم) بقدر پانسو برس کے ہوگا۔ میں کہتا ہوں شاید فقراء مہاجرین مالدار مہاجرین سے چالیس سال پہلے اور دوسرے دولت مند لوگوں سے پانچ سو برس پہلے جنت میں داخل ہوں گے۔ ابن المنذر نے حضرت یزید بن اصم کی روایت سے بیان کیا کہ انصار نے رسول اللہ ﷺ سے گزارش کی یا رسول اللہ ! ﷺ ہمارے اور ہمارے مہاجر بھائیوں کے درمیان زمین آدھی آدھی بانٹ دیجئے ‘ زمین سے مراد وہ زمین تھی جو انصار کی تھی (اور اس میں سے آدھی زمین وہ مہاجرین کو دینا چاہتے تھے) حضور ﷺ نے فرمایا : نہیں ! زمین تو تمہاری ہے (زمین کی ملکیت میں شرکت نہیں ہوگی) البتہ تم ان کی طرف سے محنت کا بار اٹھا لو اور پیداوار کی تقسیم کرلو (آدھی پیداوار ان کو دے دو ) انصار نے کہا : ہم اس پر راضی ہیں۔ اس پر آیت ذیل نازل ہوئی :
Top