Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 11
فَاعْتَرَفُوْا بِذَنْۢبِهِمْ١ۚ فَسُحْقًا لِّاَصْحٰبِ السَّعِیْرِ
فَاعْتَرَفُوْا : تو وہ اعتراف کرلیں گے بِذَنْۢبِهِمْ : اپنے گناہوں کا فَسُحْقًا : تو لعنت ہے۔ دوری ہے لِّاَصْحٰبِ السَّعِيْرِ : دوزخ والوں کے لیے
پس وہ اپنے گناہ کا اقرار کرلیں گے۔ سو دوزخیوں کے لئے (رحمت خدا سے) دور ہی ہے
فاعتر فوابذنبھم . قالوا پر عطف تفسیری ہے ‘ یعنی انہوں نے اپنے جرم کا ایسے وقت اعتراف کیا جب اعتراف غیر مفید تھا۔ اعتراف کا معنی ہے پہچاننے کے بعد اقرار کرنا اور گناہ سے مراد ہے کفر ‘ ذنب چونکہ اصلاً مصدر ہے (اور مصادر میں باعتبار اصل جمع نہیں ہوتی) اس لیے ذنب کو بصورت جمع ذکر نہیں کیا۔ فسحقا لاصحب السعیر . سحقًا مصدر (مفعول مطلق) ہے۔ اس کا فعل محذوف ہے یعنی فَاَسْحَقَھُمُ ﷲُ سُحْقًااللہ نے ان کو اپنی رحمت سے دور کردیا۔ کلام میں ایجاز اور معنی میں مبالغہ پیدا کرنے کیلئے یہ تغیر کیا گیا۔ یہ جملہ معترضہ بددعائیہ ہے۔
Top