Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 12
اِنَّ الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ وَّ اَجْرٌ كَبِیْرٌ
اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يَخْشَوْنَ : جو ڈرتے ہیں رَبَّهُمْ : اپنے رب سے بِالْغَيْبِ : ساتھ غیب کے۔ غائبانہ طور پر لَهُمْ مَّغْفِرَةٌ : ان کے لیے بخشش ہے وَّاَجْرٌ : اور اجر كَبِيْرٌ : بہت بڑا
(اور) جو لوگ بن دیکھے اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں ان کے لئے بخشش اور اجر عظیم ہے
ان الذین یخشون ربھم بالغیب . یعنی جو لوگ اپنے رب کے اس عذاب سے ڈرتے ہیں جو ابھی تک ان پر نہیں آیا اور ظاہر نہیں ہوا یا بالغیب سے مراد یہ ہے کہ وہ ابھی عذاب کے سامنے نہیں پہنچے یا یہ کہ وہ تنہائی میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں ‘ منافقوں کی طرح نہیں ہیں یا غیب سے مراد وہ حصۂ بدن ہے جو مخفی ہے یعنی دِل۔ یعنی وہ دلوں میں اپنے رب سے ڈرتے ہیں۔ لھم مغفرۃ . یعنی ان کے گناہوں کی مغفرت۔ واجر کبیر . اور بڑا ثواب ہے جس کے مقابلہ میں ہر لذت کا تصور حقیر ہے۔ یہ جملہ معترضہ ہے۔ اللہ نے (پہلے) کافروں پر ہونے والے عذاب پر تنبیہ کی پھر اس کے مقابلہ میں مؤمنوں سے مغفرت وثواب کا وعدہ فرمایا اور ثواب کی اساسی تمہید خشیت (خوف) کو قرار دیا (گویا) اس امر پر تنبیہ کی کہ ایمان سے اصل مقصود خشیت ہی ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا خوفِ الٰہی دانش کی چوٹی ہے۔ ترمذی بروایت حضرت ابن مسعود ‘ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مشرک آپس میں رسول اللہ ﷺ کی شان میں کچھ ناشائستہ باتیں کرتے تھے اور کہتے تھے ‘ چپکے چپکے پاتیں کرو ‘ کہیں خدا نہ سن لے اور محمد ﷺ کو اطلاع ہوجائے۔ جبرئیل آکر رسول اللہ ﷺ کو خبر پہنچا دیتے تھے۔ اس پر مندرجہ ذیل آیت نازل ہوئی۔
Top