Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 2
اِ۟لَّذِیْ خَلَقَ الْمَوْتَ وَ الْحَیٰوةَ لِیَبْلُوَكُمْ اَیُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا١ؕ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْغَفُوْرُۙ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ الْمَوْتَ : پیدا کیا موت کو وَالْحَيٰوةَ : اور زندگی کو لِيَبْلُوَكُمْ : تاکہ آزمائے تم کو اَيُّكُمْ : کون ساتم میں سے اَحْسَنُ عَمَلًا : زیادہ اچھا ہے عمل میں وَهُوَ الْعَزِيْزُ : اور وہ زبردست ہے الْغَفُوْرُ : بخشش کرنے والا ہے
اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے۔ اور وہ زبردست (اور) بخشنے والا ہے
الذی خلق الموت والحیاۃ . حیات اللہ کی بھی صفت ہے اور مخلوق کی بھی (مطلق) حیات کے لیے صاحب حیاۃ کا عالم ‘ قادر اور صاحب ارادہ ہونا لازم ہے۔ اللہ نے اپنے ارادہ اور ممکنات کی استعداد (فطری) کے موافق مختلف ممکنات کو مختلف درجات کی زندگی عطا فرمائی ہے۔ ا) کسی مخلوق (یعنی انسان) کو ایسی زندگی عطا فرمائی جس کے نتیجہ میں اللہ کی ذات وصفات کی معرفت اس کو حاصل ہوگئی ‘ یہی وہ امانت ہے جس کو انسان نے برداشت کرلیا اور تمام آسمان ‘ زمین ‘ پہاڑ اس کو اٹھانے سے خوفزدہ ہوگئے ‘ یہ حیات (معرفت اندوز) اللہ کی طرف سے محض القاء نوری کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہے ‘ اس کو اور اس کے مقابل والی موت کو آیت : افمن کان میتا ......... 1 ؂ ذیلی ذکر سے مراد یہ ہے کہ دلیل کی تکمیل سے کفار کے عذاب اور اہل ایمان کے ثواب کا تعلق نہیں۔ یہ مراد نہیں کہ عذاب وثواب کا اس جگہ ذکر بےمحل یا غیر مفید یا غیر ضروری ہے کیونکہ اللہ کی ہستی اور اس کی صفات کے منزہ ہونے کا ثبوت آیات کونیہ کو گہری نظر سے دیکھنے اور دیکھنے کے بعد ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے۔ اب ظاہر کہ جو شخص ایمان لائے گا وہ ثواب کا مستحق ہوگا اور جو منکر ہوگا عذاب پائے گا اس لیے عذاب وثواب کا ذکر نہ بےمحل ہوا نہ غیر مفید۔ اس فقیر کے خیال میں اگر تفسیری تقریر اس طرح کی جائے تو زیادہ مناسب ہے کہ آیات مذکورہ میں تمام انسانوں کے لیے درس ہدایت دیا گیا ہے کچھ انسان کسی دعوے کے ثبوت کے لیے براہین و دلائل کے خواستگار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی ہدایت کے لیے اللہ نے براہین تکوینی بیان کردیں کچھ لوگ کم حوصلہ اور کوتاہ نظر ہوتے ہیں ‘ براہین کو نہیں سمجھتے ان کی قوت مطالعہ ضعیف ہوتی ہے۔ ان کی ہدایت کے لیے اعمال کے اچھے برے نتائج کی تصویر کشی اور ترغیب و ترہیب کافی ہوتی ہے۔ آیات مذکورہ میں ضمنی طور پر ان چیزوں کی بھی صراحت فرما دی ‘ واللہ اعلم۔ فاحییناہ میں بیان فرمایا ہے (یعنی وہ حیات معرفت اندوز سے محروم تھا۔ ہم نے اس کو ایمان و معرفت دے کر زندہ کیا) امام احمد (رح) اور ترمذی (رح) نے ایک حدیث نقل کی ہے ‘ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ نے اپنی مخلوق کو تاریکی میں پیدا کیا پھر ان پر اپنے نور کا کچھ حصہ (یعنی پرتو) ڈال دیا ‘ تو جس کو اس نور کا کچھ حصہ مل گیا اس نے ہدایت پائی اور جس کو نہ ملا وہ گمراہ ہوگیا (اسی لیے) میں کہتا ہوں کہ علم الٰہی کے مطابق لکھ کر قلم خشک ہوگیا۔ ب) کسی مخلوق کو ایسی زندگی بخشی کہ حس اور حیوانی حرکت کو وہ اپنے ساتھ لے آئی ‘ اس حیات اور اس کے مقابل (موت حیوانی) کی تعبیر اس آیت میں فرمائی ہے : کنتم امواتا فاحیاکم یمیتکم ثم یحییکم۔ تم بےحس و حرکت تھے ‘ اللہ نے تم کو حیات (حیوانی) عطا کی پھر وہ تم کو بےحس و حرکت کر دے گا پھر زندگی عطا کرے گا۔ ج) کسی مخلوق کو ایسی زندگی عطا کی کہ وہ اپنے ساتھ صرف نمو (تناسب طبعی کے موافق لمبائی ‘ چوڑائی اور موٹائی میں بیشی) لاتی ہے ‘ اس حیات (نباتی) کو اس آیت میں ظاہر فرمایا ہے : یحییٰ الارض بعد موتھا۔ یعنی زمین کے خشک ہونے کے بعد اللہ اس کو نباتی زندگی عطا فرماتا ہے ‘ یہ تینوں زندگیاں روح انسانی ‘ روح حیوانی اور نفس نباتی پھونکے جانے سے حاصل ہوتی ہے۔ جمادات میں ان تینوں اقسام میں سے کسی قسم کی زندگی نہیں ہے اس لیے بتوں کے متعلق فرمایا : اموات غیر احیاء۔ لیکن جمادات بھی ایک گونہ زندگی سے بےبہرہ نہیں ہیں۔ آیت : وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ اس پر دلالت کر رہی ہے۔ اس آیت کی تفسیر سورة بقر میں گزر چکی ہے۔ حیات جمادی تو (ہر قسم کے) وجود کے لیے لازم ہے۔ اللہ نے فرمایا : وان من شیء الا یسبح بحمدہ۔ ہر چیز اللہ کی پاکی اور ثناء کا اظہار کرتی ہے (اور بغیر حیات کے نہ تسبیح ممکن ہے ‘ نہ حمد 1 ؂) ۔ موت کا معنی ہے مطلقاً زندگی نہ ہونا یا ایسی چیز میں زندگی نہ ہونا جو زندہ ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے (جیسے نابینا ‘ انسان یا حیوان کو ہی کہا جاتا ہے کیونکہ انہی میں بینا ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے ‘ دیوار کو نابینا نہیں کہا جاتا ‘ کیونکہ دیوار میں بینا ہونے کی صلاحیت ہی نہیں ہے) بصورتِ اوّل موت وحیات میں نفی و اثبات کا تقابل ہے اور بصورتِ دوئم عدم و ملکہ کا تقابل ہے۔ دونوں صورتوں میں موت ایک وصف عدمی ہوگا جس کا تقاضا ہے کہ حقیقت ممکن کا عدم حیات عارضہ پر مقدم ہے (یعنی موت کو حیات پر تقدم حاصل ہے) ہم نے جو آیات اوپر نقل کی ہیں یعنی : او من کان میتا فاجیناہ اور آیت : کنتم امواتا فاحیاکم اور آیت یحییٰ الارض بعد موتھا اور آیت : کن فیکون یہ تمام آیات اسی مضمون کی طرف راہنمائی کر رہی ہیں اور چونکہ موت کو زندگی پر طبعی تقدم حاصل ہے اس لیے جگہ خلق الموت والحیاۃ میں بھی موت کا ذکر حیات سے پہلے کیا۔ کچھ علماء موت کو صفت وجودی قرار دیتے ہیں (یعنی جس طرح زندگی) ایک امر وجودی ہے ایس طرح موت بھی ایک وجودی مخلوق ہے) اس صورت میں موت وحیات کے درمیان تقابل تضاد ہوگا۔ دونوں ایک دوسرے کی ضد ہوں گی گویا علم ‘ قدرت ‘ احساس ‘ حرکت وغیرہ سے جسم کو روکنے والی جسمانی کیفیات کا نام موت ہوگا۔ اس قول کے ثبوت میں آیت : خلق الموت والحیاۃ کو پیش کیا گیا ہے تخلیق موت کا تقاضا ہے کہ موت امر وجودی ہو کیونکہ (جو چیز اصلاً معدوم ہے وہ مخلوق نہیں) اعدام اصلیہ مخلوق نہیں ہیں۔ .......... 1 ؂ امام رازی (رح) اور دوسرے اکابر اہل تفسیر نے تسبیح جمادی کو حالی تسبیح قرار دیا ہے یعنی ہر چیز کی فطرت ‘ خلقت ‘ بناوٹ اور پر حکمت صنعت خالق کی حکمت ‘ قدرت اور توحید پر دلالت کر رہی ہے مگر یہ فقیر اکابر کرام کی اس تشریح کو سمجھنے سے قاصر رہا کیونکہ مخلوق سے خالق اور مصنوع سے صانع کی قدرت حکمت اور توحید پر استدلال تو ہر ہوش مند کرتا اور ہر سمجھدار اس کو سمجھتا ہے اگر تسبیح سے یہی دلالت حال مراد ہے تو پھر اس سے آگے ولکن لا تفتھون کیوں فرمایا اور کیوں انسانی دانش کو ہر چیز کی تسبیح حالی سمجھنے سے قاصر قرار دیا۔ معلوم ہوتا ہے کہ ہر چیز کی تسبیح سے تسبیح مقالی مراد ہے مگر ہر نوع کا مقالی جدا جدا ہے۔ ہر ایک کی زبان الگ ہے اور انسان دوسری مخلوق کی زبان نہیں جانتا ‘ اسی لیے اس کی تسبیح نہیں سمجھتا۔ شاید حضرت قاضی صاحب نے ایک گونہ حیات جمادی کی صراحت کی ہے ‘ اس سے اسی طرح اشارہ ہے۔ 12 ہم اس قول کی تردید میں کہتے ہیں کہ موت کوئی انضمامی امر نہیں کہ باہر سے لا کر جسم کے ساتھ اس کو ملا دیا جاتا ہو بلکہ ایک انتزاعی صفت ہے جو مردوں کے اجسام سے انتزاع کی جاتی ہے (امر انتزاعی کا وجود محض انتزاعی ہوتا ہے ‘ انتزاع کرنے والا عمل کسی سے اپنے دماغ میں کسی وصف کا انتزاع کرلیتا ہے۔ اگر انتزاع کرنے والا عمل انتزاع نہ کرے تو اس وصف کا کوئی وجود واقعی نہیں ہوتا) گویا امر انتزاعی اختراعی ہوتا ہے اور زمینی خارج میں امر انتزاعی کا کوئی متصل وجود نہیں ہوتا۔ پس موت بھی ایسی ہی ایک چیز ہے کہ مردہ کو دیکھ کر دماغ اس سے عدم حس و ارادہ اور فقدان حرکت و عمل کا مفہوم اخذ کرلیتا ہے (ورنہ عدم حسن ‘ عدم ارادہ ‘ عدم حرکت و عمل کوئی خارجی چیزیں نہیں ہیں) جس طرح نابینا کو دیکھ کر نابینائی کا انتزاع کیا جاتا ہے۔ بصیرت کشف کا فیصلہ ہے کہ علم الٰہی میں ہر چیز اپنی نقیض کے ساتھ الگ الگ امتیاز کو لیے ہوئے موجود تھی اور ہے ‘ زندگی اور اس کی نقیض موت ‘ علم اور اس کی نقیض جہالت ‘ قدرت اور عجز ‘ بینائی اور نابینائی غرض تمام اعدام اصلیہ اپنے نقائض اضافی کے ساتھ علم الٰہی میں ثابت ہیں جس رنگ سے صفات کمالیہ رنگین ہیں اسی رنگ سے اس مرتبہ میں ثبوت اور تقرر رکھتی ہیں ‘ یہی حقائق کونیہ اور اعیان ثابتہ ہیں جو اگرچہ بجائے خود صفات کا پر تو ہیں لیکن آنے والے وجود خارجی کی اصل بھی ہیں اور موجودات خارجیہ انہی کے سائے میں ہر ماہیت (وجود خارجی سے پہلے) درجۂ تقرر و ثبوت میں کون اوّل کہلاتی ہے تمام ممکنات خارجیہ اعیان ثابتہ کے سائے ہیں ‘ اس کا مطلب یہ ہے کہ مبدء فیاض (خالق کائنات) سے ہر ممکن کو وجود خارجی عطا ہوتا ہے وہ ثبوت کونی یا تقرر علمی کی وساطت سے ہوتا ہے۔ اعیان ثابتہ کے حجاب زجاجی (لیمپ کی چمنی) سے نور وجودچھن کر باہر آتا ہے اسی کی طرف آیت : مثل نورہ کمشکٰوۃ فیھا مصباح المصباح فی زجاجۃ میں اشارہ کیا گیا ہے۔ لیکن یاد رکھو کہ صفات اور ممکنات خارجیہ کے درمیان اعیان ثابتہ کی وساطت صرف اسی دنیا میں ہے ‘ آخرت میں وجود اور صفات وجود کا فیضان مبدء فیاض کی طرف سے اعیان ثابتہ کی وساطت کے بغیر ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا میں تمام ممکنات آماجگاہ فناء ہیں اور آخرت میں کسی کے لیے فنا نہیں۔ پس آیات مذکورہ یعنی : کنتم امواتا فاحیاکم اور او من کان میتا فاییناہ واضح دلالت کر رہی ہیں کہ موت صفت ممکن ہے اور حیات پر مقدم ہے۔ رہا خَلَقَ الْمَوْتَ کا معنی تو اس جگہ خلق کا معنی اظہار ہے یعنی حیات کو موجود کر کے یا زائل کر کے اللہ نے موت کو ظاہر کیا یا یہ مطلب ہے کہ اللہ نے مردوں کو اس طرح کردیا کہ عدم حیات ان سے منتزع ہوتی ہے۔ خلق کا معنی تقدیر (اندازہ کرنا) بھی ہے یعنی اللہ نے موت وحیات کا اندازہ کرلیا۔ بغوی نے بروایت عطاء حضرت ابن عباس ؓ کا قول نقل کیا ہے کہ اللہ نے دنیا میں موت کو خلق (مقدر) کردیا ہے اور آخرت میں (دوامی) زندگی کو۔ میں کہتا ہوں شاید حضرت ابن عباس ؓ کی مراد یہ ہے کہ اللہ نے دنیوی زندگی کی تعبیر موت سے اور آخرت کی زندگی کی تعبیر حیات سے فرمائی ہے کیونکہ ہم بیان کرچکے ہیں کہ اعیان ثابتہ ممکنات خارجیہ کے اصول ہیں اور تمام موجودات ممکنہ کی حقیقت میں عدم داخل ہے۔ اس لیے دنیوی زندگی موت کی آمیزش سے خالی نہیں اور فی الحال اِنَّکَ مَیِّتٌ وَّاِنَّھُمْ مَّیِّتُوْنَ اور کُلُّ مَنْ عَلَیْھَا فَانٍ اور کُلُّ شَیْ ءٍ ھَالِکٌ کہنا صحیح ہے کیونکہ صیغۂ مشتق (اسم فاعل۔ صفت مشبہ وغیرہ) کا حال میں استعمال حقیقی ہے اور ماضی و مستقبل کے معنی میں مجازی۔ ایک گروہ کا خیال ہے کہ موت عرض نہیں بلکہ جسم ہے ‘ اس کی پیدائشی شکل مینڈھے کی ہے اور زندگی کی پیدائشی صورت گھوڑی کی بدورسافرہ میں سیوطی (رح) نے اسی قول کو اختیار کیا ہے۔ اس قول کی بنیاد حضرت ابن عباس ؓ کے اس قول پر ہے جس کو بغوی نے نقل کیا ہے کہ اللہ نے موت کو چتکبرے مینڈھے کی شکل پر اور زندگی کو چتکبری گھوڑی کی شکل پر پیدا کیا ہے۔ موت کا مینڈھا جس طرف سے گزرتا ہے اور جس کو اس کی بو بھی آجاتی ہے ‘ وہ مرجاتا ہے اور زندگی کی گھوڑی وہی تھی جس پر جبرئیل اور تمام انبیاء ( علیہ السلام) سوار ہوتے تھے۔ جس چیز کی طرف سے یہ گھوڑی گزرتی تھی اور جو چیز اس کی بو سونگھ لیتی تھی وہ زندہ ہوجاتی تھی۔ اسی گھوڑی کے قدم کے نیچے کی مٹھی بھر خاک سامری نے لے کر بچھڑے کے اندر ڈالی تھی ‘ جس کی وجہ سے وہ زندہ ہوگیا تھا۔ میں کہتا ہوں اس رروایت سے یہ ثابت نہیں ہوتا ہے کہ موت اور زندگی صفت نہیں ‘ جسم ہے بلکہ یہ معلوم ہوتا ہے کہ چتکبرے مینڈھے کی شکل کا ایک جسم ہے جس کو موت کہا جاتا ہے اور گھوڑی کی شکل کا ایک جسم ہے جس کو زندگی کہا جاتا ہے اوّل الذکر جس چیز کی طرف سے گزرتا ہے اور وہ چیز اس کی بو پا لیتی ہے تو مرجاتی ہے اور مؤخر الذکر جس چیز کی طرف سے گزرتا ہے تو وہ چیز زندہ ہوجاتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ موت و زندگی بعینہٖ اس حیوان کے جسم کا نام ہے بلکہ جس طرح زہر کے قرب سے ایک خاص اثر مرتب ہوتا ہے اسی طرح ان دونوں جانوروں کے گزرنے اور ان کی بو محسوس کرنے سے ایک اثر پیدا ہوجاتا ہے جو موت و زندگی ہے۔ صحیح بخاری اور صحیح مسلم میں حضرت ابن عمر ؓ کی روایت سے ایک حدیث آئی ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا : جب دوزخی دوزخ کو (اور جنتی جنت کو) جا چکیں گے تو موت کو لا کر دوزخ اور جنت کے درمیان ذبح کردیا جائے گا اور پھر ایک پکارنے والا پکارے گا : اے اہل جنت (آئندہ) موت نہیں اور اے دوزخ والو ‘ آئندہ موت نہیں ‘ اس وقت جنت والوں کی مسرّت بالائے مسرت ہوگی اور دوزخیوں کا رنج بالائے رنج۔ صحیحین میں حضرت ابن سعید کی روایت سے ایک حدیث آئی ہے جس میں حضور اکرم ﷺ نے فرمایا : قیامت کے دن موت کو چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لا کر دوزخ و جنت کے درمیان کھڑا کیا جائے گا۔ اس حدیث کے آخر میں ہے پھر اس کو حکم کے مطابق ذبح کردیا جائے گا۔ حاکم اور ابن حبان نے بیان کیا اور حاکم نے اس کو صحیح کہا ہے کہ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : موت کو چتکبرے مینڈھے کی شکل میں لایا جائے گا ‘ الخ۔ ان روایات کے سلسلہ میں سلف کا طریقہ یہ رہا ہے کہ ان کے معنی پر غور نہ کیا جائے ‘ صرف مان لیا جائے اور دوسرے متشابہات کی طرح ان کے (حقیقی) علم کو اللہ کے سپرد کردیا جائے اور (کہہ دیا جائے ہمارا ان پر ایمان ہے اور ان کی حقیقت اللہ ہی جانتا ہے) سیوطی (رح) نے حکیم ترمذی کا یہی قول نقل کیا ہے لیکن صوفیہ صافیہ کو چونکہ عالم مثال کا بھی کشف ہوتا ہے اور عالم مثال میں ہر جوہر ‘ عرض بلکہ ہر غیر مادی چیز بلکہ باری تعالیٰ کی بھی ایک شکل ہے باوجودیکہ اللہ ہر شبہات سے پاک ہے اور عالم مثال پر ہی اس حدیث کو محمول کیا جاتا ہے جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ میں نے اپنے رب کو بےریش و بروت جوان کی شکل میں دیکھا ‘ اس کے دونوں پاؤں میں سونے کی جوتیاں تھیں۔ کبھی اللہ کی قدرت سے صورت مثالیہ عالم مثال سے عالم شہادت کی طرف منتقل ہو کر آجاتی ہے۔ بکثرت اولیاء کی اس سلسلہ میں کرامتیں مشہور ہیں تو ممکن ہے کہ قیامت کے دن خدائے تعالیٰ عالم مثال سے موت کی صورت مثالیہ لوگوں کے سامنے لے آئے اور بحکم الٰہی اس کو ذبح کردیا جائے تاکہ جنت اور دوزخ والے سمجھ جائیں کہ (موجودہ مکان میں) ہمیشہ رہنا ہے (آئندہ کبھی) موت نہیں ہوگی۔ اسلام ‘ ایمان ‘ قرآن ‘ اعمال ‘ امانت ‘ رحم اور دنیوی ایّام کے حشر کا جو صحیح احادیث میں تذکرہ آیا ہے اس کی مراد بھی یہی ہے کہ (عالم مثال میں چونکہ ان سب کی صورتیں ہیں وہی صورتیں سامنے لے آئی جائیں گی) ۔ سیوطی (رح) نے بدورسافرہ میں بیان کیا ہے کہ تمام اعمال اور معانی (یعنی اجسام کے علاوہ) بھی مخلوق ہیں ‘ جن کی صورتیں اگرچہ ہم کو نظر نہیں آتیں لیکن اللہ کے علم میں ان کی صورتیں ہیں۔ اہل حقیقت نے صراحت کی ہے کہ معافی کی حقیقتوں سے واقف ہونا اور ان کا بصورت جسمانی مشاہدہ کرنا کشف (اولیاء) کی ایک خاص قسم ہے۔ احادیث اس کی بکثرت شاہد ہیں (انتہیٰ ) سیوطی (رح) کا یہ قول عالم مثال کا بیان ہے (اولیاء کو عالم مثال ہی کا کشف ہوتا ہے عالم مثال ہی میں وہ معانی کی صورتیں دیکھتے ہیں) ۔ لیبلوکم . یعنی اوامرو نواہی کا پابند بنا کر اللہ تمہارے ساتھ بھی ویسا ہی عمل کرنا چاہتا ہے جیسا ممتحن ‘ امتحان دینے والوں کے ساتھ (انکے درجات کو الگ الگ کردینے کے لیے) کرنا چاہتا ہے (مطلب یہ ہے کہ بندوں کو مکلف کرنا بصورت امتحان ہے لیکن یہ امتحان اس لیے نہیں کہ اللہ کو بندوں کی وہ حالت معلوم ہوجائے جو پہلے معلوم نہ تھی بلکہ اس لیے ہے کہ بندوں کے درجات کو الگ الگ کردیا جائے ‘ کوئی دوزخی اور کوئی جنتی ہوجائے) ۔ اَیُّکُمْ اَحْسَنُ عَمَلاً . یہ جملہ لیبلوکم کا مفعول دوئم ہے۔ بغوی نے بروایت حضرت ابن عمر ؓ مرفوعاً بیان کیا ہے کہ اَحْسَنُ عَمَلاً (یعنی) کون زیادہ اچھی سمجھ رکھتا ہے اور کون ممنوعاتِ الٰہیہ سے اپنے نفس کی بازداشت کرنے والا ہے اور کون اطاعت الٰہیہ میں زیادہ سرگرم ہے (گویا عمل سے مراد ہے فہم ‘ تقویٰ اور اطاعت) لیبلوکم کا تعلق خلق الموت والحیاۃ سے ہے یعنی تخلیق موت وحیات کی حکمت یہ ہے کہ فرمانبردار اور نافرمان کا (جدا ‘ جدا) ظہور ہوجائے کیونکہ اوامرو نواہی کا پابند بنانے کا مدار زندگی پر ہے ‘ زندگی ہی کی وجہ سے تعمیل احکام کی قدرت حاصل ہوتی ہے اور موت ایک وعظ ہے جس سے دانش مند نصیحت اندوز ہوتا ہے اور آخرت کے لیے توشہ فراہم کرنے کا موقع غنیمت سمجھتا ہے۔ حیات و موت کا انقلاب صانع حکیم و مختار کے وجود کی دلیل ہے۔ حضرت عمار بن یاسر ؓ کی مرفوع روایت ہے : موت سب سے بڑا وعظ اور ایمان سب سے بڑی دولت۔ (رواہ الطبرانی) امام شافعی (رح) اور امام احمد (رح) نے ربیع بن انس کا مرسل قول نقل کیا ہے کہ دنیا سے بےرغبت بنانے اور آخرت کی اندرونی طلب پیدا کرنے کے لیے موت کافی ہے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے سات چیزوں سے پہلے عمل کرلو جو تمہارے سامنے آئیں گی : 1) ایسا افلاس جو (خدا اور احکام خدا کو) فراموش کرا دے ‘ 2) ایسی دولت جو سرکش بنا دے ‘ 3) تباہ کن بیماری ‘ 4) بےعلم بنا دینے والا بڑھاپا ‘ 5) (دُنیا کو چھڑا دینے والی) موت ‘ 6) دجال ‘ یہ ایسا شر ہے جس کا (ہر پیغمبر کے زمانہ میں) انتظار کیا جاتا رہا ہے ‘ 7) اور قیامت کی ساعت جو سب سے بڑی مصیبت اور تلخ ترین حقیقت ہے۔ ترمذی اور حاکم نے اس حدیث کو بیان کیا ہے کہ چھ چیزوں سے پہلے (اصلاح اعمال) کرلو : 1) مغرب سے آفتاب کا طلوع ‘ 2) دھواں ‘ 3) دابۃ الارض ‘ 4) دجال ‘ 5) وہ چیز جو ہر شخص کے لیے مخصوص ہے یعنی موت ‘ 6) اور وہ امر جو عمومی ہوگا یعنی قیامت۔ بیہقی نے حضرت ابو امامہ کی روایت سے اسی طرح کی حدیث نقل کی ہے۔ وھو العزیز . یعنی نافرمانوں سے انتقام لینے پر خدا غالب ہے۔ الغفور . یعنی جس کو چاہے بخشنے والا ہے۔
Top