Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 27
فَلَمَّا رَاَوْهُ زُلْفَةً سِیْٓئَتْ وُجُوْهُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا وَ قِیْلَ هٰذَا الَّذِیْ كُنْتُمْ بِهٖ تَدَّعُوْنَ
فَلَمَّا : پھر جب رَاَوْهُ : وہ دیکھ لیں گے اس کو زُلْفَةً : نزدیک سِيْٓئَتْ : بگڑ جائیں گے وُجُوْهُ الَّذِيْنَ : چہرے ان لوگوں کے كَفَرُوْا : جنہوں نے کفر کیا وَقِيْلَ : اور کہہ دیاجائے گا هٰذَا الَّذِيْ : یہ ہے وہ چیز كُنْتُمْ : تھے تم بِهٖ : ساتھ اس کے تَدَّعُوْنَ : تم تقاضا کرتے
سو جب وہ دیکھ لیں گے کہ وہ (وعدہ) قریب آگیا تو کافروں کے منہ برے ہوجائیں گے اور (ان سے) کہا جائے گا کہ یہ وہی ہے جس کے تم خواستگار تھے
فلما راوہ . جب کافر اس وعدہ کے وقوع کو دیکھیں گے یعنی جس چیز سے ان کو ڈرایا جا رہا ہے ‘ جب وہ چیز ان کے سامنے آجائے گی۔ اکثر اہل تفسیر کے نزدیک اس سے مراد عذاب آخرت ہے لیکن مجاہد کا قول ہے کہ جنگ بدر کی تباہی مراد ہے۔ زلفۃ . (زلفۃ بمعنی قرب ہے لیکن مراد ہے) قریب۔ سیئت . تو بدنما سیاہ ہوجائیں گے۔ وجوہ الذین کفروا . کافروں کے منہ عذاب کو دیکھنے سے۔ و قیل ھذا الذی کنتم بہ تدعون . اور ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی عذاب ہے جس کے جلد آنے کے تم خو استگار تھے۔ تَدَّعُوْنَ دعاء سے مشتق ہے یعنی تم طلب کرتے تھے یا دعویٰ سے ماخوذ ہے یعنی تمہارا دعویٰ تھا کہ قیامت نہ آئے گی۔
Top