Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 28
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَهْلَكَنِیَ اللّٰهُ وَ مَنْ مَّعِیَ اَوْ رَحِمَنَا١ۙ فَمَنْ یُّجِیْرُ الْكٰفِرِیْنَ مِنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ
قُلْ : کہہ دیجئے اَرَءَيْتُمْ : کیا دیکھا تم نے اِنْ اَهْلَكَنِيَ اللّٰهُ : اگر ہلاک کردے مجھ کو اللہ وَمَنْ مَّعِيَ : ار اسے جو میرے ساتھ ہے اَوْ رَحِمَنَا : یا وہ رحم کرے ہم پر فَمَنْ يُّجِيْرُ : تو کون پناہ دے گا الْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو مِنْ عَذَابٍ اَلِيْمٍ : دردناک عذاب سے
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر خدا مجھ کو اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر مہربانی کرے۔ تو کون ہے کافروں کو دکھ دینے والے عذاب سے پناہ دے؟
قل . اے محمد ﷺ مکہ کے مشرک جو تمہاری موت کے آرزو مند ہیں ‘ تم انسے کہہ دو ۔ ارایتم ان اھلکنی اللہ ومن معی اور حمنا . بھلا بتاؤ کہ اللہ اگر مجھے اور میرے ساتھیوں کو مار ڈالے یا ہماری موت کو مؤخر کر کے ہم پر رحم کرے (تم کو دونوں صورتوں میں کیا فائدہ پہنچے گا ؟ ) اَرَأیْتُمْ میں ابتدائی ہمزہ استفہام تقریری کے لیے ہے رویت (دیکھنے) سے مراد جاننا ہے ( ارایتم کا صیغہ اگرچہ ماضی ہے لیکن) اس کا معنی ہے مجھے بتاؤ (یعنی امر کے معنی میں ہے) اور افعال قلوب (راٰی ‘ عَلِمَ ‘ وَجَدَ ‘ حَسِبَ وغیرہ) کے بعد جملۂ شرطیہ نفی کی طرح ہوتا ہے اور استفہام مفید تعلیق ہوتا ہے۔ فمن یجیرا الکافرین من عذاب الیم . استفہام (یعنی مَنْ بمعنی کون) انکاری ہے یعنی عذاب الیم سے کافروں کو کوئی پناہ نہیں دے گا۔ حاصل مطلب یہ ہے کہ ہماری موت کے جو تم خواستگار ہو اس سے تم کو کچھ فائدہ نہ ہوگا تمہارے لیے مفید تو یہ امر ہے کہ اللہ کے عذاب سے بچانے والا کوئی تلاش کرو اور بت عذاب خداوندی سے بچا نہیں سکتے۔ بعض اہل تفسیر نے اس طرح آیت کا مطلب بیان کیا ہے کہ اگر خدا مجھے اور میرے ساتھیوں کو مار ڈالے تو ان کو ان کے گناہوں کی پاداش میں عذاب دے گا اور اگر رحم کر کے ان کو معاف کر دے تب بھی باوجود ایماندار ہونے کے اپنے گناہوں کی وجہ سے ہم کو اس کے عذاب کا ڈر لگا رہتا ہے کیونکہ اس کا حکم ہمارے معاملہ میں بہرحال نافذ ہے لیکن تم تو کافر ہو ‘ تم کو اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا۔
Top