Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 29
قُلْ هُوَ الرَّحْمٰنُ اٰمَنَّا بِهٖ وَ عَلَیْهِ تَوَكَّلْنَا١ۚ فَسَتَعْلَمُوْنَ مَنْ هُوَ فِیْ ضَلٰلٍ مُّبِیْنٍ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ : وہی الرَّحْمٰنُ : رحمن اٰمَنَّا بِهٖ : ایمان لائے ہم اس پر وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا : اور اسی پر توکل کیا ہم نے فَسَتَعْلَمُوْنَ : پس عنقریب تم جان لوگے مَنْ هُوَ : کون ہے وہ جو فِيْ ضَلٰلٍ مُّبِيْنٍ : کھلی گمراہی میں ہے
کہہ دو کہ وہ جو (خدائے) رحمٰن (ہے) ہم اسی پر ایمان لائے اور اسی پر بھروسا رکھتے ہیں۔ تم کو جلد معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں کون پڑ رہا تھا
قل ھو الرحمن . یعنی گزشتہ کلام میں جس ہستی کے وجود ‘ قدرت اور تسلط کے دلائل بیان کیے گئے ہیں ‘ وہی بڑے رحم والا ہے جس کی عبادت میں خود بھی کرتا ہوں اور تم کو بھی اسی کی عبادت کی دعوت دیتا ہوں۔ تمام نعمتیں عطا کرنے والا (الرحمن) وہی ہے (عطاء نعمت کا تقاضا ہے کہ اسی کی عبادت کی جائے) ۔ امنا بہ . ہم اس کے رحمن ہونے سے واقف ہیں ‘ اس لیے ہمارا اس پر ایمان ہے۔ اس جملہ کا مضمون ھو الرحمٰن کے مضمون کی تائید کر رہا ہے۔ و علیہ توکلنا . چونکہ اس پر ہمارا ایمان ہے اس لیے اسی پر ہمارا بھروسہ ہے۔ اس جملہ میں علیہ کو توکلنا سے مقدم ذکر کرنا حصر پر دلالت کر رہا ہے (اسی پر ہمارا بھروسہ ہے) حصر کا مفہوم ھو الرحمٰن سے بھی مستفاد ہوتا ہے (وہی رحمن ہے) اس جملہ سے اس کی تائید ہوجاتی ہے۔ گویا یہ جملہ سابق دونوں جملوں کی تائید کر رہا ہے۔ حقیقت میں اس آیت کا مفہوم نتیجہ ہے ان دلائل کا جو پہلے بیان کیے گئے ہیں اور اسی پر مؤمنوں اور کافروں کے آئندہ حکم کی بناء ہے ‘ اسی لیے فستعلمون من ھو فی ضلال مبین . میں فاء سببیت لائی گئی ہے (فاء کا ما قبل فاء کے ما بعد کے لیے علت اور سبب ہے) یعنی تم جزا و سزا کے دن جان لو گے کہ ہم دونوں میں سے کون کھلی ہوئی گمراہی میں تھا تم یا ہم۔ اس آیت میں کافروں کے لیے تہدید اور تخویف ہے۔ اسی طرح آئندہ آیت میں بھی کافروں کو ڈرایا گیا ہے۔
Top