Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 3
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ : بنائے سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمان طِبَاقًا : اوپر تلے۔ تہ بہ تہ مَا تَرٰى : نہ تم دیکھو گے فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کی تخلیق میں مِنْ تَفٰوُتٍ : کوئی نقص۔ کجی۔ خلل فَارْجِعِ الْبَصَرَ : پھر لوٹاؤ نگاہ کو هَلْ تَرٰى : کیا تم دیکھتے ہو مِنْ فُطُوْرٍ : کوئی شگاف۔ کوئی رخنہ
اس نے سات آسمان اوپر تلے بنائے۔ (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمٰن کی آفرینش میں کچھ نقص دیکھتا ہے؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو (آسمان میں) کوئی شگاف نظر آتا ہے؟
الذی خلق . یہ ھُوَ کی دوسری خبر یا الغفور کی صفت یا موصول اوّل (یعنی الذی بیدہ الملک) سے بدل ہے۔ سبع سموات طباقا . یعنی طبقات والے سات آسمان۔ طباق۔ طبق کی جمع ہے جیسے حبال ‘ حبل کی ‘ یا طبقۃٌ کی جمع ہے جیسے رحاب ‘ رَحْبَۃٌکی ‘ یا طباقافعل محذوف کا مصدر ہے (یعنی مفعول مطلق ہے) موچی اگر جوتے کو تہ بہ تہ کر کے سیتا ہے تو کہتے ہیں : طابق النَّعل۔ بہرحال لفظ طباق جمع ہو یا فعل محذوف کا مصدر سَمٰوٰتٍ کی صفت ہے یا حال ہے۔ سماوات سبع اور ان کی درمیانی مسافت کا بیان سورة بقر میں لکھا جا چکا ہے۔ ما تری . یہ خطاب صرف رسول اللہ ﷺ کو ہے یا مخاطب عام ہے کوئی ہو اس میں ما نفی کے لیے ہے یا استفہام انکاری کے لیے۔ مؤخر الذکر صورت میں ما لفظ تَرٰیکا مفعول مقدم ہوگا۔ فی خلق الرحمن . خلق کی اضافت عہدی ہے۔ سماوات سبع جن کا ذکر اوپر کیا جا چکا ہے ‘ مراد یہ ہے۔ تعریف جنس کے لیے اضافت نہیں ہے (یعنی عمومی مخلوق مراد نہیں ہے بلکہ آسمان ہی مراد ہیں) کیونکہ جنس خلق میں تو بہت زیادہ واضح تفاوت ہے۔ الرحمٰن کی جانب خلق کی اضافت تعظیمی ہے (یعنی رحمن اتنا عظیم الشان ہے کہ ساتوں آسمان اسی کے پیدا کیے ہوئے ہیں) ہاں ! اگر تفاوت سے مراد ہو عدم تناسب اور توازن ضروری سے تجاوز (یعنی نقص اور عیب) تو اضافت جنسی ہوسکتی ہے (کیونکہ کسی مخلوق میں تخلیقی عدم تناسب اور نقص نہیں ہے) اس وقت عبارت کا مقتضا (یعنی مفہوم لازم) یہ ہوگا کہ مخلوق کی پیدائش جن احوال کے ساتھ ہوئی ہے ‘ ان سے بہتر احوال کا امکان ہی نہ تھا۔ یعنی مجموعی اعتبار سے اس سے اعلیٰ نظام ممکن نہ تھا۔ من تفاوت لفظ من زائد ہے یا تبعیض کے لیے ہے (یعنی کچھ بھی تفاوت) بشرطیکہ ما کو نافیہ قرار دیا جائے لیکن اگر ما کو سوالیہ کہا جائے تو من بیانیہ ہوگا۔ پورا جملہ (ما تری فی خلق الرحمٰن من تفاوت) سبع سماوات کا حال ہے یا خلق کے فاعل یا اس کے مفعول سے حال ہے۔ (بجائے فی خلقہ کہنے کے فی خلق الرحمٰن کہنے میں یعنی بجائے ضمیر لانے کے الرحمٰن کا لفظ ذکر کرنے میں یا (بجائے فیہ کہنے کے) فی خلق الرحمٰن کہنے میں آسمانوں کی تخلیق کے لیے بےعیب اور ناقص نہ ہونے کی صراحت ہے کیونکہ ان کی تخلیق ایسی ذات کی طرف منسوب ہے جو ہر عیب سے پاک اور رحمت سے متصف ہے (اس لیے اس کی تخلیق بھی ناقص نہیں ہوسکتی) یا کَیْفَ خُلِقَتْ سوال محذوف ہے اور یہ جملہ پہلے کلام سے بالکل الگ ‘ سوال محذوف کا جواب ہے۔ مراد یہ ہے کہ تعمیر انسانی کی طرح تخلیق خداوندی میں کوئی خرابی اور نقص نہیں ہے۔ فارجع البصر . یہ شرط محذوف کی جزاء ہے یعنی اگر تمہارا خیال ہو کہ بار بار دیکھنے سے آسمان کی تخلیق میں کچھ عدم تناسب دکھائی دے گا تو پھر دیکھ لو۔ ھل تری من فطور . تم کو کوئی شگاف نظر نہ آئے گا۔ فطور کا لفظ فطرہ (اس کو پھاڑ دیا) سے ماخوذ ہے اس میں لفظ مِنْ زائد ہے یا تبعیض کے لیے ہے (کوئی شگاف) اور استفہام تقریری ہے۔
Top