Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 30
قُلْ اَرَءَیْتُمْ اِنْ اَصْبَحَ مَآؤُكُمْ غَوْرًا فَمَنْ یَّاْتِیْكُمْ بِمَآءٍ مَّعِیْنٍ۠   ۧ
قُلْ اَرَءَيْتُمْ : کہہ دیجئے کیا دیکھا تم نے اِنْ : اگر اَصْبَحَ : ہوجائے مَآؤُكُمْ : پانی تمہارا غَوْرًا : خشک ۔ گہرا فَمَنْ يَّاْتِيْكُمْ : تو کون ہے جو لائے تمہارے پاس بِمَآءٍ مَّعِيْنٍ : بہتا پانی
کہو کہ بھلا دیکھو تو اگر تمہارا پانی (جو تم پیتے ہو اور برتے ہو) خشک ہوجائے تو (خدا کے) سوا کون ہے جو تمہارے لئے شیریں پانی کا چشمہ بہا لائے
قل ارایتم . اس کی تشریح اوپر کی جا چکی ہے۔ ان اصبح ماء و کم غورا . اگر تمہارا پانی (تمہارے کاموں میں استعمال ہونے والا پانی) زمین کے اندر اتنے گہراؤ پر چلا جائے کہ ڈول وہاں تک نہ پہنچ سکیں (یعنی تمہاری رسائی وہاں تک نہ ہو سکے) غور مصدر ہے (گہراؤ میں چلا جانا) یہاں وصفی معنی مراد ہیں (بہت گہرا) ۔ فمن یاتیکم بماء معین . لفظ معین (بمعنی اسم فاعل) العین الجاریۃ (جاری چشمہ) سے مشتق ہے۔ یعنی بہتا ہوا پانی یا (بمعنی اسم مفعول) العین الباصرۃ سے مشتق ہے۔ یعنی ظاہر ‘ نمایاں ‘ آسانی سے حاصل ہوجانے والا (مطلب یہ ہے کہ اگر پانی ناقابل رسائی گہرائی تک پہنچ جائے تو پھر کون (سوائے خدا کے) یہ بہتا ہوا یا آسانی کے ساتھ حاصل ہونے والا پانی تمہارے لیے فراہم کرسکتا ہے) عقل بدیہی شاہد ہے کہ بت ایسا نہیں کرسکتے بلکہ اللہ کے سوا کسی میں بھی اس کی قدرت نہیں۔ شیخ جلال الدین محلی (رح) نے بیان کیا ہے کہ سورت کو ختم کرنے پر اللہ رب العالمین کہنا مستحب ہے (یعنی پروردگار عالم ہی کو یہ قدرت ہے کہ ناقابل حصول پانی اپنی رحمت سے آسانی کے ساتھ بندوں کو عطا فرماتا ہے) ۔ فصل : حضرت ابوہریرہ ؓ راوی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قرآن کی ایک سورت جس کی تیس آیات ہیں ‘ آدمی (یعنی پڑھنے والے) کی سفارش اتنی کرے گی کہ اس شخص کو بخش دیا جائے گا اور وہ سورت تبارک الذی بیدہ الملک ہے۔ (احمد ‘ ابوداؤد ‘ ترمذی ‘ نسائی ‘ ابن ماجہ ‘ ابن حبان ‘ حاکم) حاکم نے اس روایت کو نقل کرنے کے بعد صحیح بھی قرار دیا ہے) ۔ بغوی کی روایت ان الفاظ کے ساتھ ہے کہ کتاب اللہ کی ایک سورت ہے جو صرف تیس آیات کی ہے۔ وہ آدمی کے لیے سفارش کرے گی اور قیامت کے دن اس کو دوزخ سے نکال کر جنت میں داخل کر دے گی ‘ یہ سورت تبارک ہے۔ حضرت جابر ؓ نے فرمایا کہ رسول اللہ ﷺ جب تک الم تنزیل اور تبارک الذی بیدہ الملک پڑھ نہ لیتے تھے ‘ سوتے نہ تھے۔ (احمد ‘ ترمذی ‘ دارمی) ترمذی نے اس کو صحیح کہا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : وہ حفاظت کرنے والی ہے ‘ وہ اللہ کے عذاب سے نجات دینے والی ہے۔ (ترمذی) خالد بن معدان نے فرمایا : مجھے ” الم تنزیل “ اور اسی طرح ” تبارک الذی “ کے متعلق یہ اطلاع پہنچی ہے کہ ایک آدمی ان سورتوں کو پڑھا کرتا تھا ‘ ان کے علاوہ اور کچھ نہیں پڑھتا تھا اور تھا بڑا گناہ گار (قبر میں) اس سورت نے (پرندہ کی شکل میں آکر) اس پر اپنے پروں کا سایہ کرلیا اور عرض کیا : الٰہی اس کو بخش دے۔ یہ مجھے بہت پڑھتا تھا اللہ نے اس کی سفارش قبول فرمائی اور فرمایا : اس شخص کے ہر گناہ کی جگہ ایک نیکی لکھ دو اور اس کا درجہ اونچا کر دو ۔ یہ بھی خالد کا قول ہے کہ قبر کے اندر یہ سورت اپنے پڑھنے والے کی طرف سے جھگڑا کرتی ہے اور کہتی ہے : الٰہی ! اگر میں تیری کتاب میں سے ہوں تو میری سفارش اس (قاری) کے متعلق قبول فرما اور اگر تیری کتاب میں سے نہیں ہوں تو مجھے کتاب سے مٹا دے ‘ یہ سورت (قبر میں) پرندہ کی طرح ہوگی اور اپنے بازو صاحب قبر پر پھیلا دے گی اور اس کی سفارش کرے گی اور قبر کے عذاب سے اس کو بچا لے گی۔ طاؤس نے فرمایا : دونوں (غالباً ” الم تنزیل “ اور ” تبارک الذی “ ) قرآن کی ہر سورت سے بقدر ساٹھ نیکیوں کے بڑھ کر ہیں۔ (دارمی) الحمد اللہ سورة ملک کا ترجمہ ختم ہوا اور سو رۂ قلم کا شروع)
Top