Tafseer-e-Mazhari - Al-Mulk : 4
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ
ثُمَّ ارْجِعِ : پھر لوٹاؤ الْبَصَرَ : نگاہ کو كَرَّتَيْنِ : بار بار يَنْقَلِبْ : لوٹ آئے گی اِلَيْكَ الْبَصَرُ : تیری طرف نگاہ خَاسِئًا : ذلیل ہوکر۔ عاجز ہو کر وَّهُوَ حَسِيْرٌ : اور وہ تھکی ہوئی ہوگی
پھر دو بارہ (سہ بارہ) نظر کر، تو نظر (ہر بار) تیرے پاس ناکام اور تھک کر لوٹ آئے گی
ثم ارجع البصر کر تین . اس جملہ کا عطف فارجع پر ہے اور تثنیہ (یعنی لفظ کر تین جو کرۃٌ کا تثنیہ ہے) تکثیر کے لیے ہے (صرف دو مرتبہ دیکھنا مراد نہیں ہے بلکہ) بار بار دیکھنا مراد ہے جیسے لفظ لبیک میں (صرف دو مرتبہ حاضری مراد نہیں بلکہ بکثرت حاضری مراد ہے) ۔ ینقلب . ب ساکن ہے یہ (ارجع) امر کا جواب ہے۔ الیک البصر خاسئا . دھتکاری ہوئی خاسئی کا معنی ہے ناکام ‘ نامراد ‘ ذلت اور حقارت کے ساتھ دور پھینکا ہوا۔ وھو حسیر . ینقلب کے فاعل یعنی لبصر کا پہلا حال خاسئا تھا۔ یہ دوسرا حال ہے حسیر کا معنی ہے ماندہ یعنی بار بار دیکھنے سے تھکی ہوئی۔ بغوی نے کعب کا قول نقل کیا ہے کہ نچلا دنیوی آسمان موج بستہ ہے (یعنی لہریں ہے جن کو روک دیا گیا ہے) دوسرا آسمان سفید زمرد کا ہے ‘ تیسرا لوہے کا ‘ چوتھا پیتل کا ‘ پانچواں چاندی کا ‘ چھٹا سونے کا ‘ ساتواں یاقوت سرخ کا ‘ ساتویں آسمان اور ذات خداوندی کے حجابوں کے درمیان نور کے سات صحراء ہیں۔
Top