Tafseer-e-Mazhari - Al-Haaqqa : 21
فَهُوَ فِیْ عِیْشَةٍ رَّاضِیَةٍۙ
فَهُوَ : تو وہ فِيْ عِيْشَةٍ : عیش میں ہوگا۔ زندگی میں ہوگا رَّاضِيَةٍ : دل پسند
پس وہ (شخص) من مانے عیش میں ہوگا
فھو فی عیشۃ راضیہ . تو وہ پسندیدہ عیش میں ہوگا۔ صاحب قاموس نے لکھا ہے کہ راضیہ (اسم فاعل) بمعنی مرضیہ (اسم مفعول) ہے یعنی پسندیدہ رُضِیَتِ الْعِیْشَۃُ بصیغۂ مجہول کہا جاتا ہے رُضِیَتِ الْعِیْشَۃُ بصیغۂ معروف نہیں بولا جاتا۔ بیضاوی نے راضیۃ کا ترجمہ کیا ہے پسندیدگی والی۔ گویا صیغۂ اسم فاعل پسندیدگی کی نسبت کو بتارہا ہے یا رضاء کی نسبت عیشۃ کی طرف مجازی ہے ( عیشہ کو پسند کیا جاتا ہے عیشہ بجائے خود پسند کرنے والی چیز نہیں پسندیدہ چیز ہوتی ہے ‘ مجازی طور پر عیشہ کو پسند کرنے والا قرار دیا) ۔
Top