Tafseer-e-Mazhari - Al-Haaqqa : 51
وَ اِنَّهٗ لَحَقُّ الْیَقِیْنِ
وَاِنَّهٗ : اور بیشک وہ لَحَقُّ الْيَقِيْنِ : البتہ حق ہے یقینی
اور کچھ شک نہیں کہ یہ برحق قابل یقین ہے
وانہ لحق الیقین . بلاشبہ قرآن حق الیقین ہے۔ یقین کا معنی ہے زوال شک (قاموس) صحاح میں جوہری نے لکھا ہے کہ یقین علم کی صفت ہے۔ معرفت سے اونچی قرآن کو یقین کہنا مبالغہ ہے جیسے زید عدل۔ زید انصاف ہے۔ یعنی قرآن یقینی ہے اور اتنا یقینی ہے کہ گویا عین یقین بن گیا۔ مطلب یہ ہے کہ قرآن واضح ہے ‘ اس کے دلائل روشن ہیں ‘ اس میں کسی سمجھ دار کو شبہ نہیں ہوسکتا۔ ہر عقلمند کو اس کا یقین ہے۔ حق ‘ باطل کی ضد کو کہتے ہیں۔ صاحب سحر نے کہا ہے حق الیقین میں صفت کی موصوف کی جانب اضافت ہے۔ اصل میں الیقین الحق تھا یعنی قرآن یقین حق ہے باطل یقین نہیں۔ باطل یقین جہل مرکب ہوتا ہے۔ ایک شبہ یقین سے اس جگہ مراد وہی ہے جو اپنی روشنی اور دلائل کی چمک کی وجہ سے عقلمند آدمی کے لیے موجب یقین ہو ‘ اس صورت میں یقین عین حق ہے ‘ باطل (جہل مرکب) کو یہ لفظ شامل ہی نہیں ہے ‘ پھر حق کی یقین کی طرف اضافت بےکار ہے۔ ازالہ بیشک بات یہی ہے لیکن حق کی یقین کی طرف اضافت تاکید اور زیادت توضیح کے لیے ہے (بیکار نہیں ہے) بغوی نے لکھا ہے کہ اضافت الی نفسہٖ ہے (یقین اور حق دونوں ایک ہیں) لیکن لفظ دو ہیں (اس لیے اضافت درست ہے) ۔
Top