بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Mazhari - Al-Insaan : 1
هَلْ اَتٰى عَلَى الْاِنْسَانِ حِیْنٌ مِّنَ الدَّهْرِ لَمْ یَكُنْ شَیْئًا مَّذْكُوْرًا
هَلْ اَتٰى : یقیناً آیا (گزرا) عَلَي : پر الْاِنْسَانِ : انسان حِيْنٌ : ایک وقت مِّنَ الدَّهْرِ : زمانہ کا لَمْ يَكُنْ : اور نہ تھا شَيْئًا : کچھ مَّذْكُوْرًا : قابل ذکر
بےشک انسان پر زمانے میں ایک ایسا وقت بھی آچکا ہے کہ وہ کوئی چیز قابل ذکر نہ تھی
ھل اتی . استفہام تقریری ہے (قَدْ کے معنی میں ھَلْ استعمال کیا گیا ہے) بیشک آچکا ہے ‘ گزر چکا ہے۔ علی الانسان . الانسان سے عام انسان مراد ہے یا حضرت آدم (علیہ السلام) ۔ حین . زمان کا ایک محدود ٹکڑا (معین حصہ) حین ہے۔ (بیضاوی) قاموس میں ہے حین۔ مبہم وقت جس کا اطلاق ہر زمانہ پر ہوتا ہے لمبی مدت ہو یا چھوٹی بعض کا قول ہے کہ حین چالیس سال یا ساٹھ سال یا ایک ماہ یا دو ماہ کے لیے مخصوص ہے۔ من الدھر . الدھر غیر محدود مدت۔ قاموس میں ہے : دھر طویل زمانہ یا ایک ہزار برس۔ میں کہتا ہوں یہی حضرت آدم کی عمر کی مدت تھی۔ صحاح میں ہے کہ دہر اصل میں عالم کی کل عمر۔ آغاز آفرنیش سے اختتام تک ہے اور آیت : ھل اتٰی علی الانسان حین من الدھر میں (الدھر) اسی معنی پر محمول ہے پھر (عرف عام میں) بڑی طویل مدت کو دہر کہا جانے لگا۔ دہر فلاں ‘ یعنی فلاں شخص کی مدت زندگی۔ لم یکن شیئا مذکورا . یہ الانسان کی حالت کا بیان ہے یعنی اس وقت انسان کا نہ ذکر کیا جاتا تھا ‘ نہ اس کو کوئی پہچانتا تھا ‘ نہ اس کا نام معلوم تھا ‘ نہ مقصد یا یہ جملہ حِیْنٌ کی صفت ہے اور (موصوف کی طرف راجع ہونے والی) ضمیر محذوف ہے یعنی ایسا وقت تھا کہ اس وقت میں انسان کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا۔ بہرحال کلام کا اقتضاء ہے کہ انسان کوئی چیز تو تھا (خواہ قابل ذکر چیز نہ تھا) ورنہ اس وقت بیتنے کا کیا مطلب۔ کلام کا اقتضاء یہ بھی ہے کہ انسان اس وقت مذکور نہ تھا بلکہ فراموش کردہ (یعنی متروک الذکر) تھا۔ اسی لیے اہل تفسیر نے لکھا ہے کہ اگر الانسان سے مراد آدم ہوں تو حین سے مراد ہوگا وہ وقت جب گارے سے اللہ تعالیٰ نے انسان کی مورتی بنا کر مکہ اور طائف کے درمیان چالیس برس تک بغیر روح کے ڈال رکھی تھی۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا : پھر (پتلا بنانے سے) ایک سو بیس بر س کے بعد اللہ تعالیٰ نے آدم کو (زندہ) بنایا اور اگر الانسان سے مراد عام انسان ہو تو حین سے مراد ہوگی وہ چار ماہ کی مدت جس میں نطفہ ‘ علقہ اور مضغہ کی صورت میں انسان ہوتا ہے اور وہ چھ ماہ جو کم سے کم حمل کی مدت ہے یا دو سال جو زیادہ سے زیادہ حمل کی مدت ہے۔ بعض لوگوں نے بیش از بیش مدت حمل سات سال بتائی ہے بہرصورت اس تشریح میں کچھ سہل انگاری سے کام لیا گیا ہے کیونکہ مذکورہ اوقات انسان پر نہیں گزرتے بلکہ گارے پر (گزرے) یا نطفہ اور علقہ وغیرہ پر گزرتے ہیں اور کلام چاہتا ہے کہ اس وقت انسان ہو کیونکہ انسان کے لیے دوسرے اوصاف کے ثبوت سے پہلے اس کا انسان ہونا ضروری ہے لہٰذا اولیٰ یہ ہے کہ حین سے مراد وہ دور لیا جائے جب کہ انسان اعیان ثابتہ (حقائق کونیہ یا درجۂ تقرر) کے مرتبہ میں تھا۔ اعیان ثابتہ کا مرتبہ صرف صوفیاء نے پہچانا ہے ‘ ہمارے قول کی تائید حین کی تنوین سے بھی ہوتی ہے جس کے معنی تکثیر کے ہیں یعنی بہت بڑا وقت گزرا کہ آدمی کچھ نہ تھا۔ روایت میں آیا ہے کہ حضرت ابن عمر ؓ نے ایک شخص کو یہی آیت : لم یکن شیءًا مذکورًا پڑھتے سنا تو فرمایا کہ کاش یہ (حالت) پوری ہوئی ہوتی۔ آپ کا مقصد یہ تھا کہ کاش انسان ہمیشہ اسی ناقابل ذکر دور میں باقی رہتا۔ حضرت ابن عمر ؓ کا یہ قول صوفیہ کی تشریح کے زیادہ قریب ہے اور سابق تفسیر سے زیادہ میل نہیں کھاتا۔ صوفیہ نے اس آیت کی ایک اور دقیق تشریح کی ہے کہ انسان پر یعنی صوفی پر ایک وقت ایسا آتا ہے کہ وہ ناقابل ذکر چیز ہوتا ہے۔ پہلے انسان اور صفات انسانی سے متصف ہونے کی حیثیت سے اس کا ذکر کیا جاتا تھا لیکن مرنے سے پہلے مرجانے اور فناء کامل کے درجہ میں پہنچ جانے کی وجہ سے وہ اپنی دانست میں کوئی قابل ذکر چیز نہیں رہتا۔ حضرت مجدد صاحب (رح) نے فرمایا تھا : بیشک اے میرے ربّ ! انسان پر ایک ایسا وقت گزرا کہ وہ قابل ذکر چیز نہ تھا ‘ نہ اس کی ذات تھی ‘ نہ نشان ‘ نہ شہود ‘ نہ وجود پھر اس دور کے بعد اگر تو چاہتا ہے تو وہ تیری ہی حیات سے زندہ اور تیری ہی بقاء سے باقی اور تیرے ہی اخلاق سے موصوف بالخلق ہوجاتا ہے بلکہ تیری مہربانی اور قدرت سے وہ عین فنا کی حالت میں بھی باقی بن جاتا ہے اور عین بقاء کی حالت میں تجھ سے جدا نہیں ہوتا۔ حضرت مجدد صاحب (رح) کا مذکورہ بالا قول پھر اگر تو چاہتا ہے تو وہ ہوجاتا ہے ٗگویا حِیْنٌ مِّنَ الدَّھْر کی تفسیر ہے من الدھر میں من ابتدائیہ ہے اور الدھر کا شمار اللہ کے ناموں میں کیا جاتا ہے۔ صاحب قاموس نے یہی لکھا ہے۔ صحیحین میں ابوہریرہ ؓ کی روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ فرماتا ہے مجھے ابن آدم دکھ دیتا ہے ‘ دہر کو گالیاں دیتا ہے حالانکہ میں ہی دہر ہوں ‘ میرے ہی ہاتھوں میں امر ہے۔ رات دن کی لوٹ پلٹ میں ہی کرتا ہوں (گویا اللہ کی طرف سے انسان پر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ وہ ناقابل ذکر ہوجاتا ہے) ۔
Top