Tafseer-e-Mazhari - Al-Insaan : 18
عَیْنًا فِیْهَا تُسَمّٰى سَلْسَبِیْلًا
عَيْنًا : ایک چشمہ فِيْهَا : اس میں تُسَمّٰى : موسوم کیا جاتا ہے سَلْسَبِيْلًا : سلسبیل
یہ بہشت میں ایک چشمہ ہے جس کا نام سلسبیل ہے
عینا فیھا . اگر زنجیل کو چشمہ کا نام کہا جائے تو عینًا اس سے بدل ہوگا ورنہ کاْسًا سے بدل ہوگا اور مضاف محذوف ہوگا یعنی مشروب عین۔ تسمی سلسبیلا . اس چشمہ کا نام سلسبیل ہے ‘ جو مشروب آسانی کے ساتھ حلق میں اتر جائے اور خوشگوار ہو وہ سلسبیل ہے۔ سَلْسَلَ ‘ سَلسالاً اور سَلْسَبِیْلاً (آسانی اور خوشگواری کے ساتھ حلق میں اتر گیا) بعض لوگوں کا قول ہے کہ سلسبیل میں باء زائد ہے (اصل لفظ میں سلسبیل یعنی پانچ حرف ہیں) زجاج نے سلسبیل کی وجہ تسمیہ بیان کرتے ہوئے کہا کہ اہل جنت اس (چشمہ) کو جدھر چاہیں گے بہا کرلے جائیں گے۔ وہ ان کی مرضی کا تابع ہوگا ‘ اس لیے اس کو سلسبیل کہا گیا ہے۔ مقاتل اور ابو العالیہ نے کہا کہ وہ چشمہ اہل جنت کے راستہ میں اور ان کے گھروں میں رواں ہوگا ‘ زیر عرش سے جنت عدن کے اندر سے پھوٹ کر نکلے گا اور جنت والوں تک پہنچے گا۔ جنت کی شراب میں کافور کی خنکی ‘ سونٹھ کا مزہ اور مشک کی خوشبو ہوگی۔
Top