Mazhar-ul-Quran - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
پھر (ف 1) کیا تم یہ گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں بےکار پیدا کیا ہے اور یہ کہ تم کو ہماری طرف لوٹنا ہی نہیں
حشر کا ثبوت۔ (ف 1) ان آیتوں میں منکرین حشر کا یہ بھی جواب ہے کہ دنیا کے نیک وبد کی جزاوسزا کے لیے پھر بھی دوبارہ جینا نہ ہوتا تو دنیا کا پیدا کرنا بےفائدہ ہوتا جس سے اللہ کی شان پاک ہے اللہ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں بھی عقل مند لوگ اس طرح کے بےفائدہ کام سے پرہیز کرتے ہیں ، جس طرح کا بےفائدہ کام یہ لوگ اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں کیونکہ یہ لوگ مثلا کھیتی کرتے ہیں تواناج پیدا ہونے کی نیت سے ، باغ لگاتے ہیں تو میوہ کھانے کا ارادہ سے، پھر تمام مخلوقات کو جو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا بغیر سزا وجزا کے اس کو بلانتیجہ ٹھہرانا ان لوگوں کی بڑی نادانی ہے۔
Top