Mazhar-ul-Quran - Al-Muminoon : 12
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ سُلٰلَةٍ مِّنْ طِیْنٍۚ
وَ : اور لَقَدْ خَلَقْنَا : البتہ ہم نے پیدا کیا الْاِنْسَانَ : انسان مِنْ : سے سُلٰلَةٍ : خلاصہ (چنی ہوئی) مِّنْ طِيْنٍ : مٹی سے
اور (ف 1) بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے بنایا
انسان کی پیدائش کی کیفیت۔ دنیا کو پیدا کرنے کا نتیجہ۔ (ف 1) ان آیتوں میں فرمایا کہ بیشک ہم نے آدمی کو چنی ہوئی مٹی سے پیدا کیا پھر ہم نے جوہر کو پانی یعنی نطفہ بنا کر ایک مدت معینہ تک ایک محفوظ مقام پر یعنی رحم میں رکھا، پھر ہم نے اس نطفہ کو جماہوا خون بنایا، پھر ہم نے اس جمے ہوئے خون کو ایک گوشت کا ٹکڑا سابنایا، پھر اس میں ہڈیوں کا ڈھانچا بنایا، پھر ڈھانچے پر گوشت چڑھایا، رگیں پٹھے جوڑ وغیرہ سب بنائے اور پتلا تیار ہوگیا پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے جان پڑجاتی ہے اور رحم پر جو فرشتہ تعینات ہے اس کو اس پتلے کی عمر، رزق، نیک وبد لکھنے کا حکم جس طرح ہوتا ہے وہ فرشتہ اس کے موافق لکھ لیتا ہے پس کیا ہی برکتوں والا ہے اللہ، جو سب سے بہتر پیدا کرنے والا ہے یہاں انسان کی کس قدر بزرگی تمام زمین اور آسمان اور جمیع موجودات پر ثابت ہوتی ہے کہ انسان کے پیدا کرنے سے اللہ تعالیٰ اپنی ثنا اور تعریف بیان فرماتا ہے آگے فرمایا کہ اس طرح کی پیدائش کے بعد جتنی اس کی عمر ہوتی ہے اس عمر کے ختم ہونے تک ہر شخص جیتا ہے پھر مرجاتا ہے پھر فرمایا انسان کا اس طرح پیدا کرنا، اور اس کی عمر کی ایک مدت کاٹھہرانا کھیل تماشہ کے طور پر نہیں ہے کہ ہر شکص جب مر کر خاک ہوجاوے تو پھر اس کی خبر نہ لی جائے کہ عمر بھر اس نے اپنی پیدائش کے شکریہ میں اپنے پیدا کرنے والے کی مرضی کے موافق کچھ کام کیے یا نہیں، اس لیے دنیا کی عمر ختم ہوجانے اور اس کے اجڑ جانے کے بعد دنیا بھر کے لوگوں کو ایک ہی دفعہ دوبارہ پیدا کرکے نیکی وبدی کی جزاوسزا کا فیصلہ کیا جاوے گا، آگے آسمانوں کی پیدائش کا ذکر فرمایا، یہ جتلایا کہ جس طرح اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اس حامل سے بیخبر نہیں ہے وہ گرکرزمین اور اہل زمین کو برباد نہ کریں۔ اس طرح ہر شخص کے نیک وبد کاموں سے بھی وہ غافل نہیں ہے اس کو سب کے عملوں کی خبر ہے جس کا نتیجہ وقت مقررہ پر سب کو معلوم ہوجائے گا ہر ایک آسمان دوسرے آسمان کی چھت ہے اور ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک پانچ سو برس کے راستہ کا فاصلہ ہے اسی واسطے آسمانوں کو سات راہیں فرمایا۔
Top