Mazhar-ul-Quran - Al-Muminoon : 82
قَالُوْۤا ءَاِذَا مِتْنَا وَ كُنَّا تُرَابًا وَّ عِظَامًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ
قَالُوْٓا : وہ بولے ءَاِذَا : کیا جب مِتْنَا : ہم مرگئے وَكُنَّا تُرَابًا : اور ہم ہوگئے مٹی وَّعِظَامًا : اور ہڈیاں ءَ اِنَّا : کیا ہم لَمَبْعُوْثُوْنَ : پھر اٹھائے جائیں گے
(ف 1) بولے، کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈیاں ہوجائیں گے تو کیا ہم پھر اٹھائے جاویں گے
(ف 1) ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ منکرین حشر نے کہا، کہ جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور بوسیدہ ہڈیاں رہ جاویں گی تو کیا ہم پھر دوبارہ زندہ کیے جاویں گے۔ اے محمد ایسی باتوں کا وعدہ ہم سے اور ہمارے باپ دادوں سے پہلے ہوتا چلا ایا ہے تو یہ صرف اگلے لوگوں کے قصہ ہیں وہ بھی ہمیشہ ایسی ہی بےاصل باتیں کرتے تھے تو اے محبوب ﷺ ان سے پوچھو کہ زمین اور اس کے عجائبات مخلوقات کس کی ہیں اگر عقل ہو تو بتلاؤ، تمہاری بات کے جواب میں بےاختیار ہوکر یہی کہیں گے کہ یہ سب اللہ کی ہے اسی نے بنایا اور پیدا کیا تو تم فرماؤ جب تمہارے نزدیک اللہ ان سب باتوں پر قادر ہے ارجس نے زمین اور تمام مخلوقات کو ایسی حالت میں پیدا کیا کہ کبھی اس کا پتہ ونشان بھی نہ تھا تو کیا اس مخلوق کو مار کر دوبارہ جلانے پر قادر نہیں۔ پھر ان سے دریافت کرو کہ ساتوں آسمانوں کا پروردگار اور عرش عظیم کا مالک کون ہے تو فورا کہیں گے یہ کہ سب اللہ کا ہے اس وقت تم فرماؤ، پھر تم شرک کرنے سے کیوں نہیں ڈرتے ہو تم یہ بھی پوچھو کہ اچھا وہ کون ہے جس کے ہاتھ میں تمام چیزوں کا اختیار ہے اور وہ سب کو پناہ دیتا ہے اور کوئی نہیں جو اس سے اوپر پناہ دینے والا ہو، اگر تم کچھ جانتے ہو تو بتاؤ، وہ ضرور یہی کہیں گے کہ یہ سب صفتیں بھی اللہ ہی کی ہیں پس تم اس وقت فرمانا کہ تم کس شیطانی دھوکہ میں ہو رہے ہو کہ توحید و اطاعت الٰہی کو چھوڑ کر حق کو باطل سمجھ رہے ہو، جب تم اقرار کرتے ہو کہ قدرت حقیقی اسی کی ہے اور اس کے خلاف کوئی کسی پناہ نہیں دے سکتا تو دوسرے کی عبادت قطعا باطل ہے۔
Top