Mazhar-ul-Quran - Ash-Shura : 17
اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ
اَللّٰهُ الَّذِيْٓ : اللہ وہ ذات ہے اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : جس نے نازل کی کتاب حق کے ساتھ وَالْمِيْزَانَ : اور میزان کو وَمَا يُدْرِيْكَ : اور کیا چیز بتائے تجھ کو لَعَلَّ السَّاعَةَ : شاید کہ قیامت قَرِيْبٌ : قریب ہی ہو
وہ خدا ہے کہ جس نے حق کے ساتھ کتاب (یعنی قرآن) اتاری اور انصاف کی ترازو بھی، اور تم کیا2 جانو شاید قیامت قریب ہی ہو۔
نیک وبد کا انجام۔ (ف 2) ان آیتوں میں فرمایا کہ جس طرح ترازو سے ہر ایک چیز کی تول معلوم ہوجاتی ہے اسی طرح قرآن سے حق بات معلوم ہوجاتی ہے اس پر بھی قرآن کی آیتوں میں جو لوگ جھگڑا نکالتے ہیں وہ بڑے نادان ہیں ، جب اللہ کے رسول اپنی نصیحت میں قیامت کا ذکر کرتے تھے تو مشرکین اس میں زیادہ جھگڑتے اور یہ کہتے تھے کہ آخر وہ قیامت کب آئے گی اسی کے جواب میں فرمایا کہ ان لوگوں کے دل میں قیامت کے آنے کا یقین نہیں ہے ، اس لیے یہ لوگ مسخراپن کے طور پر گھڑی گھڑی قیامت کے آنے کا حال پوچھتے ہیں فرمایا کہ کیا تم کیا خبر ہے کہ شائد قیامت کا آنا قریب ہو اور جو لوگ رسول و قرآن پر ایمان لائے وہ تو اسی ہولناک گھڑی کے تصور سے لرزتے ہیں اور کانپتے ہیں اور خوب سمجھتے ہیں کہ یہ چیز ہونے والی ہے کسی کے ٹالے ٹل نہیں سکتی، اسی لیے اس کی تیاری میں لگے رہتے ہیں اسی سے سمجھ لو کہ ان جھگڑنے والے منکرین کا حشر کیا ہوتا ہے جب ایک شخص کو قیامت کے آنے کا یقین ہی نہیں وہ تیاری کیا خاک کریگا، ہاں جتنا اس حقیقت کا مذاق اڑائے گا گمراہی میں اور زیادہ دورہوتاچلاجائے گا آگے فرمایا کہ اللہ اپنے سب بندوں پر مہربان ہے باوجود تکذیب و انکار کے کسی کی روزی بند نہیں کرتا، بلکہ بندوں کے باریک سے باریک احوال کی رعایت کرتا اور فراخی وعیش عطا فرماتا ہے مومن کو بھی اور کافر کو بھی حسب اقتضائے حکمت۔ حدیث میں ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے میرے بعض مومن بندے ایسے ہیں کہ تونگری ان کے قوت ایمان کا باعث ہے اگر میں انہیں فقیر محتاج کروں تو ان کے عقیدے فاسد ہوجائیں اور بعض بندے ایسے ہیں کہ تنگی و محتاجی ان کی قوت ایمان کا باعث ہے اگر میں انہیں غنی مالدار کردوں تو ان کے عقیدے خراب ہوجائیں۔
Top