Mazhar-ul-Quran - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور2 جو کچھ تم کو مصیبت پہنچی ہے تو وہ اس گناہ کے سبب سے ہے جو تمہارے ہاتھوں نے کیا ہے اور بہت کچھ تو وہ معاف فرما دیتا ہے۔
مسلمانوں کی تکالیف ان کے گناہوں کا کفارہ۔ (ف 2) حضرت علی ؓ نے فرمایا، مسلمانوں کے لیے قرآن شریف میں یہ آیت بڑی فضیلت کی آیت ہے کیونکہ میں نے نبی ﷺ سے اس آیت کی تفسیر سنی ہے کہ مسلمانوں کو دنیا میں جو کچھ درد پہنچتا ہے وہ دنیا میں ہی ان کے گناہوں کا بدلہ ہوجاتا ہے اور بہت سے گناہ اللہ تعالیٰ یوں ہی بغیر بدلہ کے معاف کردیتا ہے ۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوسعید خدری اور ابوہریرہ سے جو روایتیں ہیں کہ ایمان دار شخص کو ایک کانٹا چبھنے کی تکلیف ہو تو وہ بھی گناہ کا کفارہ ہے ۔ مسند امام احمد میں حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا کہ مسلمان آدمی کے جب گناہ بہت ہوجاتے ہیں تو اللہ ان گناہوں کے کفار کے طور پر اس شخص کو کسی رنج میں مبتلا کردیتا ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا کہ جب مسلمان کو کوئی مرض یا کوئی رنج یاغم دنیا میں ہوتا ہے تو اس کے گناہ اس طرح جھڑ جاتے ہیں جس طرح خزاں کے موسم میں درخت کے پتے جھڑ جاتے ہیں نبی ﷺ نے فرمایا بخار کو برا نہیں کہنا چاہیے اس سے انسان کے گناہ جھڑتے ہیں حاصل مطلب یہ ہے کہ دنیا میں مسلمان کو جانی ومالی جو کچھ مصیبت پہنچتی ہے وہ اس کے بعض گناہوں کے سبب سے ہوتی ہے ، بخاری ومسلم کی حدیث میں وارد ہے کہ انبیاء (علیہ السلام) گناہوں سے پاک ہوتے ہیں اور معصوم ہوتے ہیں اور اگر ان کو دنیاوی دکھ پہنچتا ہے تورفع درجات کے لیے ہوتا ہے۔
Top