Mazhar-ul-Quran - Ash-Shura : 36
فَمَاۤ اُوْتِیْتُمْ مِّنْ شَیْءٍ فَمَتَاعُ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَا١ۚ وَ مَا عِنْدَ اللّٰهِ خَیْرٌ وَّ اَبْقٰى لِلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَلٰى رَبِّهِمْ یَتَوَكَّلُوْنَۚ
فَمَآ اُوْتِيْتُمْ : پس جو بھی دیے گئے تم مِّنْ شَيْءٍ : کوئی چیز فَمَتَاعُ : تو سامان ہے الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا : دنیا کی زندگی کا وَمَا عِنْدَ اللّٰهِ : اور جو اللہ کے پاس ہے خَيْرٌ : بہتر ہے وَّاَبْقٰى : اور زیادہ باقی رہنے والا ہے لِلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے اٰمَنُوْا : جو ایمان لائے وَعَلٰي رَبِّهِمْ : اور اپنے رب پر يَتَوَكَّلُوْنَ : وہ توکل کرتے ہیں
پس3 جو کچھ تم کو دیا گیا ہے محض وہ چند روزہ دنیا کی زندگی کا اسباب ہے، اور جو (ثواب) اللہ کے پاس ہے بہتر ہے اور زیادہ باقی رہنے والا ان کے لیے جو ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر بھروسہ کرتے ہیں۔
دنیا چند روزہ ہے۔ (ف 3) ان آیتوں میں فرمایا کہ دنیا میں جو کچھ ہے وہ چند روزہ ہے یہ سب دنیا کی جیتی دم کی زینت اور آراستگی ہیں کچھ باقی نہ رہے گا اور آخرت میں جو کچھ اللہ تعالیٰ نے رکھا ہے وہ ان سب دنیا کی نعمتوں سے لاکھوں درجے بہتر ہے اور ہمیشہ باقی رہنے والا ہے جس کو کبھی فنا نہیں جانتے ہو کس کے لیے ہے۔ کامل مسلمان کی خوبیاں۔ ہاں وہ ان کے لیے ہے جو رسول قرآن پر ایمان لائے اور اپنے پروردگار پر ہر بات میں بھروسہ رکھتے ہیں اور کبیرہ گناہوں سے پرہیز کرتے ہیں اور زناوغیرہ سے دور بھاگتے ہیں ، احکام الٰہی کو مانتے ہیں نماز پڑھتے ہیں اور جب کسی بات پر غصہ ہوتے ہیں تو بردباری کرتے ہیں بدلہ نہیں لیتے معاف کردیتے ہیں اور جب کوئی دینی یا دنیوی کرنا چاہتے ہیں اور اس کا ارادہ کرتے ہیں تو پہلے اس کا آپس میں بیٹھ کر مشورہ کرتے ہیں پھر کام کرتے ہیں اور ہم نے جو ان کو روپیہ پیسہ مال وغیرہ دیا ہے اسمیں سے اللہ کی راہ میں خوب صدقہ خیرات کرتے ہیں اور جب انہیں کوئی ستاتا ہے ظلم کرتا ہے ان سے سرکشی بغاوت کرتا ہے تو وہ انصاف اور حقانیت سے بدلہ لیتے ہیں غصہ میں حد سے نہیں گزرتے ، اور جو شخص بدلہ لینے کی جگہ معافی سے کام لیوے گا تو اس کا ثواب اللہ پر ہے اس کو بہت ثواب عطا فرمائے گا خدا ظل کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا، ہاں جو مظلوم ہوا اور اپنا بدلہ لینا چاہے برابر برابر، تو اس پر کوئی اعتراض نہیں کوئی گناہ نہیں ، کیونکہ وہ تو اپنا حق لیتا ہے اعتراض اور گناہ تو اس پر ہے جو خواہ مخواہ لوگوں کو ستاتا ہے اور ان پر ابتلاء ظلم کرتا ہے اور بےانصاف زمین می ناحق بغاوت کرتا ہے تو ایسوں کو سخت عذاب درد ساں پہنچے گا اور جو ظلم پر صبر کرے گا اور بخشش کرے گا بدلہ نہ لے گا تو یہ بہت بڑا مرتبہ ہے اور نہایت بہتر ہے اور عالی درجے کا امر ہے۔
Top