Mazhar-ul-Quran - Al-Hashr : 10
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ جَآءُوْ : وہ آئے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں رَبَّنَا : اے ہمارے رب اغْفِرْ لَنَا : ہمیں بخشدے وَلِاِخْوَانِنَا : اور ہمارے بھائیوں کو الَّذِيْنَ : وہ جنہوں نے سَبَقُوْنَا : ہم سے سبقت کی بِالْاِيْمَانِ : ایمان میں وَلَا تَجْعَلْ : اور نہ ہونے دے فِيْ قُلُوْبِنَا : ہمارے دلوں میں غِلًّا : کوئی کینہ لِّلَّذِيْنَ : ان لوگوں کیلئے جو اٰمَنُوْا : وہ ایمان لائے رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اِنَّكَ : بیشک تو رَءُوْفٌ : شفقت کرنیوالا رَّحِيْمٌ : رحم کرنے والا
اور ان کے لیے ہے1 جو ان مہاجرین و انصار کے بعد (دائرہ اسلام میں) آئے، وہ عرض کرتے ہیں کہ اے ہمارے پروردگار ! ہمیں اور ہمارے ان بھائیوں کو جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں بخش دے اور ہمارے دلوں میں ایمان والوں کی طرف سے کینہ نہ رکھ، اے پروردگار ہمارے ! بیشک تو ہی بخشنے والا مہربان ہے۔
حضور ﷺ کی فرمانبرداری کا حکم اور بیعت کا ذکر۔ (ف 1) شروع سورة سے یہاں تک اللہ تعالیٰ نے بنی نضیر کے جلاوطن ہونے کا ذکر فرما کر اس جلاوطنی کے بعد بغیر لڑائی اور بغیر مقابلہ کے جو مال ہاتھ آیا ان آیتوں میں اس کا یہ حکم فرمایا کہ جس طرح بغیر لڑائی کے بنی نضیر کا مال اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو دلوایا، اس مال میں اور آگے کو اسی طرح جو مال بغیر لڑائی کے ہاتھ لگے ایسے سب مال میں وہ پانچ حصے نہ ہوں گے جو پانچ حصے لڑائی کے بعد غنیمت کے مال کے سورة انفال میں بیان ہوئے کہ ان پانچ حصوں میں چار خمس لشکراسلام میں تقسیم کیے جائیں گے اور ایک خمس اللہ کے رسول کے اختیار میں رہے گا بلکہ یہ بغیرلڑائی کے ہاتھ آیا ہو تمام مال اللہ کے رسول کے اختیار میں رہے گا۔ صحیح بخاری ومسلم وغیرہما میں حضرت عمر سے روایت ہے کہ جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی نضیر کا مال ومتاع بغیرلڑائی کے ہاتھ آیا ہو اللہ کے رسول کے خاص اختیار میں رہنے کا مال تھا غرض نبی ﷺ کے خاص اختیار کا مال نصف حصہ تو خیبر کا تھا اور بنی نضیر کے اور فدک کے کھجور کے پیڑ تھے ابوداؤد وغیرہ میں حضرت عمر ؓ سے جو روایتیں ہیں ان سے معلوم ہوتا ہے کہ کہ بنی نضیر کے درختوں کی آمدنی تو نبی ﷺ نے بالائی ضروری اخراجات کے لیے خاص کررکھی تھی اور باغ فدک کی آمدنی مسافروں کے خرچ کے لیے خاص تھی اور خیبر کی آمدنی میں ازواج مطہرات کا کھاناپینا ہوت اور جو کچھ بچتا تھا وہ مہاجر ضرورت مندوں کو خیرات کے طور پر دیاجاتا تھا ، نبی ﷺ کی وفات کے بعد حضرت ابوبکر کی خلافت میں بھی یہی عمل رہا ، اب آگے فرمایا کہ یتیم مسکین اور مسافر کا نام اس تقسیم میں اس لیے خاص طور پر جتلایا گیا ہے کہ مالدار لوگ موروثی مال کی طرح اس مال کی تقسیم آپس میں نسل بعد نسل نہ ٹھہرائیں لیویں، جس سے یتیم مسکین اور مسافر بالکل محروم ہوجائیں پھر فرمایا کہ اس مال میں سے اللہ کے رسول جو تم کو دیویں وہ لے لو، اور جو نہ دیویں اس میں کچھ اصرار نہ کرو اور اللہ کے رسول کی نافرمانی عین اللہ کی نافرمانی ہے اس لیے اس سے بچتے رہو کہ اس میں عذاب الٰہی کا خوف ہے جو بہت سخت اور انسان کی برداشت سے باہر ہے ، اگرچہ اس آیت کا نزول فے کے مال کے باب میں ہے لکن حکم اس کا عام ہے۔ چنانچہ صحیح بخاری کی حضرت ابوہریرہ کی حدیث ہے کہ جس میں نبی نے فرمایا جس شخص نے میری نافرمانی کی وہ جنت میں نہیں جاسکتا، اس باب میں اور بھی حدیثیں ہیں جو آپ آیت کے حکم کے عام ہونے کی تفسیر ہیں ۔ اس تفسیر کی بنا پر سلف نے لکھا ہے کہ صحیح حدیث کے معلوم ہوجانے کے بعد جو شخص اس کے موافق عمل نہ کرے گا وہ اللہ کے نزدیک اس مواخذہ کے قابل قرار پائے جس مواخذہ سے اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اپنے بندوں کو ڈرایا ہے ہر مسلمان کو چاہیے کہ رسول کی شان اقدس اور علم رسول کے گستاخی کرنے سے بچے ورنہ جہنم کی آگ ہے فے کے مال کے حق داروں کے بیان میں اطاعت رسول کا ذکر آگیا تھا اب آگے وہی سلسلہ پھر شروع فرمایا کہ اس مال کے حق دار تنگدست مہاجر اور انصار بھی ہیں۔ مہاجرین وانصار صحابہ کرام علیہم الرضوان۔ مہاجروں کی تعریف فرمائی کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے دین اور اللہ کے رسول کی مدد کے جوش میں اپنا گھر بار اور مال ومتاع سب کچھ چھوڑا اور دنیا میں اللہ کے فضل سے رزق ملنے کی اور عقبی میں اللہ کی رضامندی اور خوشنودی حاصل کرنے کی ان کو آرزو ہے ان لوگوں کا ظاہر و باطن یکساں ہے اس لیے یہ سچے ایماندار ہیں اہل مکہ کی طرح طرح کی ایذا اور مخالفت کے سبب سے حکم الٰہی کے موافق اللہ کے رسول نے جو مکہ اور اہل مکہ کو چھوڑا اور اس کو ہجرت کہتے ہیں۔ اسی ہجرت کے زمانہ سے ہجری سن قرار پایا ہے جس وقت نبی نے مدینہ کی سکونت کے ارادہ سے مکہ چھوڑا اس وقت تو فقط حضرت ابوبکر اور عامر بن فہیرہ ، حضرت ابوبکر ؓ کا پروردہ یہ دو صحابی نبی کے ساتھ تھے پھر رفتہ رفتہ اور بہت سے صحابہ مدینہ آگئے ہجرت کے حکم کی تعمیل میں جن صحابہ نے اپنے گھربار کو چھوڑا ان کو مہاجرکہتے ہیں مشرکین مکہ کی ایذا سے گھبرا کر کچھ صحابہ حبشہ کو چلے گئے تھے پھر مدینہ کو آگئے ان صحابہ کو اصحاب الہجرتین کہتے ہیں کیونکہ انہوں نے پہلی دفعہ حبشہ کی ہجرت کی، اور پھر مدینہ کی ۔ فتح مکہ تک ہجرت فرض تھی۔ فتح مکہ کے بعد پھر ہجرت کی تاکید باقی نہیں، مہاجرین کے ذکر کے بعد انصار کا ذکر فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول اور مہاجرین کے ذکر کے بعد انصار کا ذکر فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اللہ کے رسول اور مہاجیرن کے مدینہ میں پہنچنے سے پہلے اپنی بستی کو ایماندار لوگوں کا ایک ٹھکانہ قرار دیا، نبی ﷺ کے مدینہ میں تشریف لانے سے پہلے وہاں اسلام کے پھیل جانے کا قصہ یہ ہے کہ ہجرت سے پہلے نبی ﷺ ان باہر کے لوگوں کو قرآن شریف کی آیتیں سنا کر اسلام کر ترغیب دلایا کرتے تھے جو موسم حج میں مکہ کو ادھر ادھر سے آتے تھے ایک سال قبیلہ خزرج کے کچھ لوگوں نے قرآن شریف کی آیتیں سنیں اور مدینہ میں آن کر اپنی قوم میں اس کا ذکر کیا، اس خزرج قبیلہ اور مدینہ کے گردونواح میں جو یہود رہتے تھے ان کی اکثر لڑائی ہوا کرتی تھی اس لڑائی میں یہود کو کبھی شکست ہوجاتی تھی تو وہ کہا کرتے تھے کہ نبی آخرالزمان کے پیدا ہونے کا وقت اب قریب آگیا ہے وہ پیدا ہوکرنبی ہوجائیں گے تو ان کے ساتھ ہم مخالف لوگوں سے دل کھول کر لڑیں گے اور اس شکست کا بدلہ نکالیں گے اب جو قبیلہ خزرج کے عام لوگوں نے اپنی قوم کے مکہ سے آنے والے لوگوں کی زبانی نبی ﷺ کا یہ ذکرسنا تو ان کو یقین ہوگیا کہ یہ وہی نبی آخرالزمان ہیں جن کا ذکر یہود کیا کرتے تھے اس لیے اب کے سال ان میں کے بارہ شخص حج کو آئے اور نبی ﷺ سے منی کے پہاڑ کی گھاتی کے پاس انہوں نے اسلام کی بیعت کی اسی کو عقبہ اول کہتے ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ مقام منی کے پہاڑ کی گھاٹی کی یہ پہلی بیعت ہے منی میں عقبہ وہ جگہ ہے جہاں حج میں شیطانوں کو کنکریوں مارتے ہیں اس سال کے بعد پھر اس قبیلہ کے بہت سے لوگ حج کو آئے اور اس گھاٹی میں اسلام کی بیعت ہوئی اس کو عقبی ثانی کو بیعت کہتے ہیں اس بیعت میں اسلام کے پھیلانے والے بارہ نقیب نبی ﷺ نے قرار دیے اور اسی بیعت کے بعد اہل مدینہ کا نام انصار قرار پایا، جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ لوگاسلام کے مددگار ہیں پھر فرمایا ان انصار میں یہ نیک خصلتیں ہیں کہ ان کے دل مہاجرین کی پوری الفت ہے دنیا کا قاعدہ ہے کہ وہ حق داروں میں سے ایک حق دار کو کوئی چیز زیادہ پہنچ جائے تو یہ دوسرے حق دار کی دل شکنی کا باعث ہوتا ہے لیکن ان انصار کے دل میں مہاجرین کی اس قدر الفت اور محبت ہے کہ مہاجرین کی تنگ دستی کو کبھی کچھ زیادہ بھی دیویں تو انصار کی اس سے کچھ دل شکنی نہیں ہوتی ، ان انصار کی اعلی درجہ کی سخاوت کی یہ خصلت اللہ کو بہت پسند ہے کہ اپنی ضرورت پر یہ دوسروں کی ضرورت کو مقدم رکھتے ہیں جو کمال عالی ہمتی اور دین داری کی بات ہے۔ جذبہ ایثار۔ صحیح بخاری ، صحیح مسلم ، ترمذی ، نسائی وغیرہ میں جو روایتیں ہیں ان میں اس آیت کا جوشان نزول ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ ایک دن نبی ﷺ کے پاس ایک مہمان آیا اور جب نبی ﷺ کے مکان مبارک میں اس مہمان کے کھانے کا کچھ بندوبست نہ ہوسکا، تو نبی ﷺ کے حکم سے حضرت ابوطلحہ انصاری ؓ اسمہمان کو اپنے گھر لے گئے گھر میں فقط بچوں کے تھوڑے سے کھانے کے سو اور کچھ نہیں تھا، اسی لیے انہوں نے اپنے بچوں کو تو بہلاکربھوکا سلادیا، اور چراغ بجھا کر اندھیرے میں وہ بچوں کے حصہ کا کھانا اس طرح مہمان کوکھلایا، جس سے مہمان نے جانا کہ ابوطلحہ اور ان کی بی بی اس مہمان کے ساتھ کھا رہے ہیں صبح کو جب ابوطلحہ ؓ نبی ﷺ کے پاس آئے تو نبی ﷺ نے فرمایا ابوطلحہ رات کو تم نے اور تمہاری بی بی نے وہ عالی ہمتی کام کیا جس سے اللہ تعالیٰ کو ہنسی آئی اور اس پر اللہ نے انصار کی تعریف می یہ آیت نازل فرمایا، اس طرح کی عالی درجہ کی سخاوت کے مقابلہ میں بخیلی کا ذکر فرمایا کہ بخیلی کی برائی، آدمی کے دل میں خوب جم جائے اور بخیلی سے بچنے میں مراد پانے سے یہ مطلب ہے کہ بخیلی سے بچ کر جو شخص اللہ کے نام پر کچھ دیوے گا تو ایک کے ساتھ سو اور کبھی اس سے بھی زیادہ پائے گا۔ صحیح بخاری ومسلم میں ابوہریرہ ؓ سے ، روایت ہے کہ جس کا حاصل مطلب یہ ہے کہ نبی نے فرمایا کہ ہر روز اللہ کی طرف سے زمین پر دوفرشتے اترتے ہیں ایک ان میں سے سخی کا مال بڑھنے کی دعاکرتارہتا ہے اور دوسرابخیل کے مال کے ضائع اور تلف ہونے کی، صحیح بخاری وغیرہ کی عبداللہ بن مسعود ؓ کی حدیث کہ اصل میں انسان کا مال وہی ہے جو اس نے خیر خیرات میں سے صرف کیا، اور جو جوڑ کررکھا اور وہ اس کا نہیں اس کے وارثوں کا ہے ، یہ حدیثیں گویا اس آیت کی تفسیر ہیں جن مہاجرین نے بیت المقدس اور بیت اللہ شریف دونوں طرف کے قبلہ کی نمازیں آنحضرت کے ساتھ مدینہ میں پڑھیں وہ مہاجرین اولین کہلاتے ہیں اسی طرح جو انصار نبی ﷺ کے مدینہ میں آنے سے پہلے مسلمان ہوگئے وہ انصار اولین کہلاتے ہیں۔
Top