Mazhar-ul-Quran - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم2 اس سے بےخوف ہوگئے کہ جو آسمان میں ہے کہ تم کو زمین میں دھنسا دے پس ناگہاں زمین تھرتھرا نے لگے۔
(ف 2) پہلے انعامات یاد دلائے تھے اب شان قہر وانتقام یاد دلا کر ڈرانا مقصود ہے یعنی زمین بیشک تمہارے لیے مسخر کردی گئی مگر یاد رہے اس پر حکومت اسی آسمان والے کی ہے ، وہ اگر چاہے تو تم کو زمین میں دھنسا دے اس وقت زمین بھونچال سے لرزنے لگے اور تم اس کے اندر اترتے چلے جاؤ، لہذا آدمی کو جائز نہیں کہ اس مالک ومختار سے نڈر ہوکر شرارتیں شروع کردے، اور اس کے ڈھیل دینے پر مغرور ہوجائے۔
Top