Mazhar-ul-Quran - Al-Insaan : 20
وَ اِذَا رَاَیْتَ ثَمَّ رَاَیْتَ نَعِیْمًا وَّ مُلْكًا كَبِیْرًا
وَاِذَا رَاَيْتَ : اور جب تو دیکھے گا ثَمَّ رَاَيْتَ : وہاں تو دیکھے گا نَعِيْمًا : بڑی نعمت وَّمُلْكًا كَبِيْرًا : اور بڑی سلطنت
اور1 جب تو اس جگہ کو دیکھے تو بڑٰ نعمت اور بڑی بادشاہی دیکھے۔
(ف 1) یعنی جنت کا حال کیا کہا جائے جس کا وصف بیان میں تو نہیں آسکتا کوئی دیکھے تو معلوم ہو کہ کیسی عظیم الشان نعمت اور کتنی بھاری بادشاہت ہے جو ادنی ترین جنتی کو نصیب ہوگی، وسعت کا یہ عالم کہ ادنی مرتبہ کا جنتی جب اپنے ملک میں نظر آئے گا تو ہزار برس کی راہ تک ایسے ہی دیکھے گا جیسے اپنے قریب کی جگہ دیکھتا ہو، شوکت وشکورہ یہ ہوگا کہ ملائکہ بےاجازت اس کے دربار میں اور بغیرسلام کیے نہ آئیں گے اسی طرح ترمذی اور ابن ماجہ دارمی اور صحیح ابن حبان میں حضرت ابوسعید خدری کی جو روایت ہے اس میں نبی ﷺ نے فرمایا ادنی ادنی اہل جنت کی خدمت میں اسی ہزار خدمت گار اور موتیوں اور یاقوت کے خیمے ہوں گے ان حدیثوں سے ہر شخص کی سمجھ میں آسکتا ہے کہ جب ادنی اہل جنت کی یہ شان ہے تو متوسط اور اعلی درجہ کے اہل جنت کی کیا شان ہوگی، آگے فرمایا کہ جنتیوں کو باریک اور دبیز دونوں قسم کے لباس ملیں گے اور ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے ۔ حضرت ابن مسیب ؓ نے فرمایا کہ ہر ایک جنتی کے ہاتھ میں تین کنگن ہوں گے۔ ایک چاندی کا، ایک سونے کا، ایک موتی کا۔ سب نعمتوں کے بعد شراب طہور کا ایک جام محبوب حقیقی کی طرف سے ملے گا جس میں نہ نجاست ہوگی کہ کدورت نہ سرگردانی نہ بدبو، اس کے پینے سے دل پاک اور پیٹ صاف ہوں گے پینے کے بعد بدن سے پسینہ نکلے گا جس کی خوشبو مشک کی طرح مہکنے والی ہوگی جب اہل جنت کو یہ جنت کی سب نعمتیں مل جائیں گی تو انہیں ان نعمتوں کا سبب یوں جتلایا جائے گا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے تمہارے تھوڑی سی عمر کے اعمالوں کے بدلہ میں یہ ابدالاباد کی نعمتیں تم کو دی ہیں بندوں کی سعی کو اللہ نے مشکور فرمایا ہے اس کو سن کر جنتی اور زیادہ خوش ہوں گے۔
Top