بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Mualim-ul-Irfan - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
آپہنچا ہے اللہ کا حکم پس نہ جلدی کرو اس کے لیے پاک ہے اس کی ذات اور بلندو برتر ہے ان چیزوں سے جن کو یہ اس کے ساتھ شریک بناتے ہیں ۔
(نام اور کوائف) اس سورة مبارکہ کا نام سورة النحل ہے ، نحل شہد کی مکھیوں کو کہا جاتا ہے ان مکھیوں میں اللہ نے جو کمال رکھا ہے اسے اپنی توحید کی دلیل کے طور پر بیان فرمایا ہے ، اسی مناسبت سے اس سورة کو نحل کا نام دیا گیا ہے ، اس سورة کا زمانہ نزول بھی سابقہ سورة کی طرح مکی زندگی کا آخری دور ہے ، جب کہ ہجرت کا وقت قریب آچکا تھا ۔ اس سورة کی 128 آیات ، 16 رکوع 1841 الفاظ اور 6707 حروف ہیں ، یہ درمیانے درجے کی سورتوں میں سے ہے ۔ (مضامین سورة ) گذشتہ سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے حضور خاتم النبیین ﷺ کو مخاطب کرکے فرمایا تھا بسم اللہ الرحمن الرحیم : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے : قل انی انا النذیر المبین “۔ آپ کہہ دیں کہ میں کھول کر ڈر سنانے والا ہوں ، تو اس سورة میں اللہ نے ڈر کی تفصیل بیان فرمائی ہے ، اور مجرمین کو واضح طور پر خبردار کردیا ہے کہ وہ اپنی فکر کرلیں ، ان کی گرفت آنے والی ہے ۔ دیگر مکی سورتوں کی طرح اس سورة میں بھی اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک اور وحی الہی کی صداقت ، توحید باری تعالیٰ ، مسئلہ رسالت اور وقوع قیامت اور اس کے ساتھ مجرموں کی سزا کا ذکر کیا ہے ، اس سورة مبارکہ میں حلت و حرمت کے احکام بھی بیان ہوئے ہیں ، انسان کی طرف سے از خود حرام کردہ چیزوں کی تردید اور اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچنے کا حکم ہے کسی چیز کو حلال یا حرام ٹھہرانا اللہ تعالیٰ کا کام اور اس کی صفت ہے اور یہ بات ایمان کی شرائط میں داخل ہے حضور ﷺ کے صحابی نعمان بن قوقل ؓ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو عرض کیا ، اگر میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کروں ، نماز ادا کروں اور حلال کو حلال اور حرام کو حرام سمجھوں ، تو کیا میں جنت میں داخل ہوں جاؤں گا ؟ آپ نے فرمایا ہاں ، مجبوری کی حالت میں بعض اوقات حرام چیزیں بھی مباح ہوجاتی ہیں ، تو اس سورة میں اللہ نے اضطرار کے مسائل بھی بیان فرمائے ہیں اس کے علاوہ سورة ابراہیم کی طرح اس سورة میں بھی ملت ابراہیمی کی تصریح کی گئی ہے ، غلامی اور آزادی کا مسئلہ بھی بیان ہوا ہے تاہم زیادہ تر توحید کے دلائل اور شرک کی مختلف صورتوں کی تردید کی گئی ہے ۔ حضرت مولانا عبید اللہ سندھی (رح) فرماتے ہیں کہ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے اسلام کا عالمی پروگرام پیش کیا ہے ، جسے اہل اسلام فخر کے ساتھ دینا کے سامنے پیش کرسکتے ہیں یہ وہی عالمی پروگرام ہے جس کی ایک آیت آپ ہر خطبہ میں سنتے رہتے ہیں بسم اللہ الرحمن الرحیم : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے : ان اللہ یامر بالعدل والاحسان “۔ اللہ تعالیٰ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے ، یہ اسی سورة مبارکہ کی آیت ہے ، جسے خلیفہ راشد حضرت عمر بن عبدالعزیز (رح) نے خطبہ جمعہ میں شامل کیا تھا ، ہر جماعت اور حکمت کا ایک منشور ہوتا ہے ۔ جس کے مطابق کوئی نظام چلانا مقصود ہوتا ہے چناچہ اس سے اگلی سورة بنی اسرائیل میں اللہ نے منشور اسلام (MANIFESTO OF ASLAM مینی فسٹوآف اسلام) بھی پیش کیا ہے اس سے اگلی دونوں سورتوں میں اللہ نے دور جدید کے فتنوں یعنی عیسائیت اور دجالیت کا رد فرمایا ہے اس میں طریقہ تبلیغ بتایا ہے اور اقتصادی مسائل کا حل بھی پیش کیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے ایفائے عہد کی تلقین اور نقض عہد سے منع فرمایا ہے ،۔ (عذاب الہی کی آمد) تمہید کے طور پر بعض سورتوں کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی تعریف سے ہوتی ہے اور بعض کی ابتداء میں حروف مقطعات آتے ہیں تاہم اس سورة مبارکہ میں چونکہ انذار کا مسئلہ بیان کیا گیا ہے جس سے مجرموں اور نافرمانوں کی تنبیہ مطلوب ہے ، لہذا اس سورة کی ابتداء بلا تمہید براہ راست کی گئی ہے بسم اللہ الرحمن الرحیم : شروع کرتا ہوں اللہ تعالیٰ کے نام سے جو بیحد مہربان نہایت رحم کرنے والا ہے : اتی امر اللہ “ اللہ کا حکم آن پہنچا ہے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ جب اللہ کے نبی لوگوں کو قیامت اور محاسبہ اعمال سے ڈراتے تو وہ کہتے کہ جس عذاب سے ہمیں ڈراتے ہو اسے لے آؤ ، اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کہ ان کو سزا دینے والا حکم آپہنچا ہے ۔ (عذاب الہی کی آمد) یہ عذاب الہی کی آمد کی وعید ہے جو کہ مستقبل میں نازل ہونے والا ہے مگر اس آیت کریمہ میں اتی ماضی کا صیغہ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنی یہ ہونا چاہئے کہ اللہ کا حکم آچکا ہے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ قرآن کا یہ اسلوب بیان ہے کہ جو واقعہ مستقبل میں یقینی طور پر پیش آنے والا ہوتا اسے مضارع کی بجائے ماضی کے صیغہ میں بیان کیا جاتا ہے چناچہ قیامت اور جنت ، دوزخ کے اکثر واقعات ماضی کے صیغے کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں ، اس کی وجہ یہ ہے کہ کل ما ات “۔ ہر چیز جو یقینی طور پر آنے والی ہے ، وہ اتنی ہی اٹل ہوتی ہے جیسے وہ آچکی ہے چونکہ قیامت اور جزائے عمل لازمی طور پر واقع ہونے والے ہیں اس لیے اللہ نے انہیں ماضی میں بیان کیا اور مطلب یہی ہے کہ اللہ کا حکم عنقریب آنے والا ہے : (آیت) ” فلا تستعجلوہ “۔ لہذا جلدی نہ کرو ، وہ آیا ہی چاہتا ہے ۔ (غلبہ اسلام کی پیش گوئی) حضرت مولانا عبید اللہ سندھی (رح) کی تفسیر کے مطابق امر اللہ سے مراد اسلام کی فتح ، اس دنیا میں مخالفین کی تذلیل اور آگے چل کر سخت عذاب ہے ، اللہ نے یہ آیت نازل فرما کر پیش گوئی کردی ہے کہ اس وقت تو کافر لوگ اہل ایمان کو تنگ کر رہے ہیں ، ان پر عرصہ حیات تنگ کر رکھا ہے مگر ان کی فتح اور کفار کی شکست عنقریب واقع ہونے والی ہے ، اسی غلبہ اسلام کے ساتھ اسلام کا عالمی پروگرام بھی منسلک ہے ، یہ ایسا پروگرام ہے جو اسلام کے سوا کسی مذہب کے پاس نہیں ہے اور اس پروگرام کے ذریعے پوری دنیا کی اصلاح مقصود ہے ۔ (نزول وحی) فرمایا ” سبحنہ “ پاک ہے اس کی ذات (آیت) ” و تعلی عما یشرکون “ وہ ان تمام چیزوں سے بلندو برتر ہے جن کو وہ اللہ کا شریک بناتے ہیں ، وہ قادر مطلق اور معبود برحق ہے اور اس کے علاوہ کوئی الہ نہیں ، اس کی برتری اسی بات سے ظاہر ہے کہ اس نے بنی نوع انسان کی فلاح کے لیے اپنے فرشتوں کے ذریعہ وحی نازل فرمائی ، چونکہ انسان اللہ تعالیٰ سے براہ راست رابطہ قائم کرکے احکام حاصل نہیں کرسکتے ، اس لیے اللہ نے کفر ، شرک اور معاصی سے بچنے کا پروگرام فرشتوں کے ذریعے ارسال کیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” ینزالملئکۃ بالروح من امرہ “۔ وہ ملائکہ کو وحی کے ساتھ اپنے حکم سے اتارتا ہے ، یہاں پر روح سے مراد وحی ہے جیسے قرآن پاک ، خود قرآن کو بھی وحی کہا گیا ہے ، اور ایک روح وہ بھی ہے جس پر انسانی زندگی کا مدار ہے ، اسی کے ذریعے انسان میں عقل و شعور پیدا ہوتا ہے ، اگر انسان کے جسم سے روح خارج ہوجائے تو موت واقع ہوجاتی ہے ، جس طرح انسان کو روح کے ذریعے ظاہری حیات نصیب ہوتی ہے ، اسی طرح کلام پاک اور وحی الہی کے ذریعے انسانوں کے دل زندہ ہوتے ہیں ، ان کے دلوں میں ایمان ، توحید اور نیکی پیدا ہوتی ہے گویا وحی الہی انسان کی روحانی حیات کا ذریعہ ہے ، اس کی وساطت سے انسان کا اعتقاد درست ہوتا ہے ، اور ابدی حیات نصیب ہوتی ہے دل میں پاکیزہ اخلاق وجذبات ابھرتے ہیں ، انسان کا قلب اللہ کی تجلیات کا مورد بنتا ہے ، اور انسان کی اصلاح ہوتی ہے ۔ (رسالت کا انتخاب) فرمایا اللہ تعالیٰ فرشتوں کو اپنی وحی دے کر نازل فرماتا ہے حضرت جبریل امین اس اعلی منصب پر فائز ہیں جن کے ساتھ فرشتوں کی ایک جماعت ہوتی ہے اور یہ وحی کس پر نازل ہوتی ہے ؟ (آیت) ” علی من یشآء من عبادہ “۔ اپنے بندوں میں سے جس پر اللہ تعالیٰ چاہتا ہے مطلب یہ ہے کہ نبوت و رسالت کا انتخاب کسی شخص کی کوشش ، محنت عبادت و ریاضت کی بنا پر نہیں ہوتا بلکہ یہ انتخاب خود اللہ جل جلالہ کا اپنا ہوتا ہے ، سورة انعام میں گزر چکا ہے (آیت) ” اللہ اعلم حیث یجعل رسالتہ “۔ اللہ تعالیٰ اپنے تمام بندوں کی صلاحیتوں کو جانتا ہے اور پھر وہ حکمت اور مصلحت کے مطابق ان میں سے نبوت و رسالت کے لیے منتخب کرتا ہے ، سورة حج میں موجود ہے (آیت) ” اللہ یصطفی من الملئکۃ رسلا ومن الناس “۔ فرشتوں اور انسانوں میں سے اللہ ہی اپنے رسول منتخب فرماتا ہے ، گویا پیغام رسانی کے لیے فرشتوں کا انتخاب اور نبوت و رسالت کے لیے انسانوں کا انتخاب دونوں اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں اور وہی ان کا فیصلہ کرتا ہے ، پیغام رسانی کا یہ سلسلہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) سے شروع کرکے حضور خاتم النبیین ﷺ پر ختم کردیا ہے ، اللہ تعالیٰ کا آخری اور ابدی پروگرام قرآن پاک کی صورت میں آچکا ہے ، اب اگر اس کائنات کی مجموعی عمر دس لاکھ سال بھی ہو تو بھی کسی دوسرے پروگرام کی ضرورت نہیں ہے اور نہ ہی کوئی نیا نبی آئے گا ، اب تاقیام قیامت یہی دین باقی رہے گا ۔ (دعوت توحید) فرمایا اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے وحی نازل فرماتا ہے اور حکم دیتا ہے (آیت) ” ان انذروا “۔ کہ لوگوں کو خبر کر دو ، ڈرا دو (آیت) ” انہ لا الہ الا انا “۔ کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، نہ کوئی میری عبادت میں شریک ہے اور نہ توحید میں ، میں ہی خالق اور مالک ہوں ، میں ہی قادر مطلق ، مختار مطلق اور علیم کل ہوں ، تمام بنی نوع انسان کی ضروریات کو جاننے والا میں ہوں ، نفع نقصان کا مالک میں ہوں ، میرے سوا نہ کوئی مشکل کشا ہے اور نہ حاجت روا اور نہ بگڑی بنانے والا ، ہمہ دان ، ہمہ بین اور ہمہ تو ان بھی میرے سوا کوئی نہیں لہذا (آیت) ” فاتقون “۔ مجھ ہی سے ڈرتے رہو ، اگر تم نے میرے ساتھ کسی کو شریک بنایا تو میری گرفت سے بچ نہیں سکتے ۔ (تخلیق انسانی بطور دلیل) فرمایا (آیت) ” خلق السموت والارض بالحق “۔ اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے ، کائنات کا پورا نظام کوئی کھیل تماشہ نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کی نشانیاں ہیں اللہ نے انہیں مخلوق کی مصلحت کے لیے پیدا فرمایا ہے ، اور پھر اس ساری تخلیق کا نتیجہ بھی سامنے آنے والا ہے لہذا اس ذات سے ڈر جاؤ ، اور وہ ذات ایسی ہے (آیت) ” تعلی عما یشرکون “۔ ان تمام چیزوں سے بلندو برتر ہے جن کو وہ اس کے ساتھ شریک بناتے ہیں ، بار بار یاد دہانی کرائی جا رہی ہے کہ وہی ذات اعلی وارفع ہے ، اس کے مقابل کی کوئی چیز نہیں ، لہذا اس کے ساتھ کسی کو شریک اور شفیع نہ بناؤ ، کسی کو مشکل کے وقت میں مت پکارو ، حاجت روائی اور مشکل کشائی صرف اسی سے چاہو ، وہی ذات بلندو برتر ہے ، باقی ہر چیز ہیچ ہے ۔ آسمان و زمین کا ذکر کرکے اللہ نے اپنی وحدانیت کی بیرونی نشانیاں پیش کردیں ، اب انسان کو خود اس لیے وجود کی اندرونی نشانیوں کی طرف پیش کردیں ، اب انسان کو خودو اس کے وجود کی اندرونی نشانیوں کی طرف متوجہ کیا جارہا ہے ، ارشاد ہوتا ہے ۔ (آیت) ” خلق الانسان من نطفۃ “۔ اللہ نے انسان کی نسل میں (آیت) ” مآء مھین “۔ یعنی حقیر پانی سے چلائی ایسا حقیر پانی کہ اگر کپڑے یا جسم کو لگ جائے تو دھونا یانہانا لازم ہوجاتا ہے ، یہ ایسی نجاست ہے جسے انسانی مزاج برداشت کرنے کے لیے تیار نہیں مگر یہی حقیر مادہ انسانی تخلیق کا ذریعہ ہے ۔ فرمایا کہ جب انسان اس حقیر مادہ سے پیدا ہوگیا ، (آیت) ” فاذا ھو خصیم مبین “۔ تو اچانک کھلے طور پر جھگڑنے والا بن گیا ، اب یہ توحید الہی کا انکار کرتا ہے اور شیطان کی پیروی میں شرکیہ امور کی ترجمانی کرتا پھرتا ہے غیر اللہ کی نذر ونیاز کے حق میں باطل دلائل پیش کر کے جھگڑا کرتا ہے کتنے افسوس کا مقام ہے کہ اپنی تخلیق سے اللہ کی وحدانیت کو سمجھنے کی بجائے شرک کے حق میں دلائل دیتا ہے اور اس طرح اللہ تعالیٰ کی بغاوت پر اتر آتا ہے ۔ یہ انذار کا مسئلہ بھی ہوگیا ، اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی بیرونی اور اندرونی دو دلیلیں بیان کی ہیں ، آسمان و زمین کی پیدائش میں غور کرکے بھی انسان معرفت الہی حاصل کرسکتا ہے اور خود اپنی تخلیق پر غور کرے تو پھر بھی اللہ کی وحدانیت کو تسلیم کیے بغیر چارہ نہیں رہتا ، یہ تو عقلی دلائل ہیں ، اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کو مبعوث فرما کر اور کتب سماویہ نازل کرکے انسان کے لیے اپنی وحدانیت کے نقلی دلائل بھی مہیا کردیے ہیں ، اللہ نے دنیا کے ہر خطے میں اپنے نبی بھیجے ہیں اور ہر ایک نبی نے یہی تعلیم دی (آیت) ” لا الہ الا انا فاعبدون “۔ (الانبیائ) خدا تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اسی لیے وہ فرماتا ہے کہ میرے سوا کسی کی عبادت نہ کرو ، میری توحید میں کسی کو شریک نہ بناؤ انسان کی اپنی عقل سلیم تسلیم کرتی ہے کہ یہ بات سچی ہے لہذا اسے قبول کیے بغیر چارہ نہیں ۔
Top