Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
54
55
56
57
58
59
60
61
62
63
64
65
66
67
68
69
70
71
72
73
74
75
76
77
78
79
80
81
82
83
84
85
86
87
88
89
90
91
92
93
94
95
96
97
98
99
100
101
102
103
104
105
106
107
108
109
110
111
112
113
114
115
116
117
118
119
120
121
122
123
124
125
126
127
128
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - An-Nahl : 5
وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪
وَالْاَنْعَامَ
: اور چوپائے
خَلَقَهَا
: اس نے ان کو پیدا کیا
لَكُمْ
: تمہارے لیے
فِيْهَا
: ان میں
دِفْءٌ
: گرم سامان
وَّمَنَافِعُ
: اور فائدے (جمع)
وَمِنْهَا
: ان میں سے
تَاْكُلُوْنَ
: تم کھاتے ہو
اور مویشی ، ان کو پیدا کیا ہے ان میں تمہارے لیے گرمی کا سامان ہے اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔
(ربط آیات) سورة کی ابتدائی آیتوں میں انذار کا مضمون بیان ہوا ہے ، اللہ سے ڈرنے اور اس کی گرفت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے اپنے انبیاء پر وحی نازل فرما کر لوگوں کو ڈرانے اور خبردار کرنے کا حکم دیا کہ اللہ فرماتا ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو اور میری توحید کو مانو ، خدا تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے اور ان دلائل کو بیان کیا ہے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے اور خدا کی اطاعت اور شکر گزاری بجا لاسکتا ہے چناچہ سب سے پہلے آسمانوں اور زمین کا ذکر بطور دلائل قدرت کے کیا ، خدا تعالیٰ کی ذات کو ہر قسم کے شریکوں سے بلندو برتر قرار دیا ، اس کے بعد اللہ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا کہ اسے حقیر قطرہ آب سے پیدا کرکے کتنا کمال عطا کیا ، مگر افسوس کا مقام ہے کہ انسان اپنی اصلیت کو بھول کر اور خدا تعالیٰ کی قدرت کی طرف عدم توجہی کی بنا پر اس کی توحید میں جھگڑا کرنے لگتا ہے اور شرکیہ عقائد اور باطل رسوم کے حق میں دلائل پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ (مویشیوں کے فوائد) اب اللہ نے مویشیوں کا ذکر کرکے اپنی قدرت کے بعض دلائل پیش کیے ہیں ارشاد ہوتا ہے ، (آیت) ” والانعام خلقھا “۔ اور مویشیوں کو پیدا کیا ، ان مویشیوں سے کون سے مویشی مراد ہیں ، اس کا ذکر سورة الانعام اور بعض دوسری سورتوں میں بھی آیا ہے ، سورة الانعام میں ہے (آیت) ” ثمنیۃ ازواج “ یہ آٹھ جوڑے ہیں جو عام طور پر انسانوں کے قریب رہتے اور ان سے مانوس ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں انسانوں کی خدمت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور یہ ان کا دودھ ، گوشت کھال اور ہڈیاں استعمال میں لاتے ہیں اور یہ جانور اونٹ (نر اور مادہ) گائے بیل (نر اور مادہ) بھیڑ (نر اور مادہ) اور بکری (نر اور مادہ) ہیں ، یہ مویشی طاقت میں انسان سے کہیں بڑھ کر ہیں مگر اللہ نے ان کے اذہان میں یہ بات ڈال دی ہے کہ وہ انسان کی خدمت پر مامور ہیں ایک تین سال کا بچہ بھی اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل دے تو سو اونٹ اس کے پیچھے چل پڑے گا ، بعض اوقات یہی جانور خلاف معمول جب بگڑ جاتے ہیں تو تباہی مچا دیتے ہیں ، اونٹ کے متعلق تو خاص طور پر مشہور ہے کہ وہ اپنے دشمن کو ہلاک کیے بغیر نہیں چھوڑتا بہرحال اللہ نے ان آٹھ قسم کے مویشیوں کا ذکر کیا ہے اور انسان کو یاد دلایا ہے کہ ان جانوروں کو اس کی خدمت کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور یہ بھی اس کی وحدانیت کی ایک دلیل ہے ۔ ان جانوروں کے علاوہ بعض دوسرے جانور بھی ہیں جو انسان سے مانوس نہیں ہیں ان میں جنگلی جانور ، نیل گائے ، ہرن جنگلی گدھے وغیرہ بھی ہیں جو اگرچہ مفید ہیں مگر انہیں آسانی سے قابو نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ نے ایسے جانوروں کی قربانی جائز قرار نہیں دی ، بلکہ قربانی کے لیے وہی آٹھ جوڑے مقرر کیے ہیں جو ہمیشہ انسانوں کے قریب رہتے ہیں اور آسانی سے دستیاب ہیں ۔ (اون اور گوشت) فرمایا اللہ نے مویشیوں کو پیدا کیا (آیت) ” لکم فیھا دفئ “۔ ان میں تمہارے لیے گرمی کا سامان ہے ، اونٹ اور بھیڑ بکری کی اون سے گرم لباس تیار ہوتے ہیں جو موسم سرما میں انسان کے لیے کارآمد ہوتے ہیں ، انسانی لباس میں دھسہ ، کوٹ ، کمبل ، سویٹر وغیرہ اون سے تیار کیے جاتے ہیں جو کہ اور جانوروں سے حاصل ہوتی ہے ، اسی طرح ان جانوروں کی کھال سے پوستین ، موزے اور صدری وغیرہ بنتے ہیں ، وہ انسانوں کے لیے گرمی پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں ، اسی لیے فرمایا کہ ان جانوروں میں تمہارے لیے گرمی کا سامان ہے (آیت) ” ومنافع “ اور بہت سے فائدے ہیں ، اس کے بعد ان جانوروں کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے (آیت) ” ومنھا تاکلون “۔ ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو ، مذکورہ آٹھ قسم کے جانوروں کا گوشت انسانی غذا کا ایک اہم حصہ ہے ، اس لیے شریعت میں اپنی جانوروں کا گوشت حلال ہے جن میں کسی قسم کا جسمانی یا روحانی ضرر نہ ہو ، مردار خنزیر ، نذر بغیر اللہ ، بلی کتے وغیرہ اور پنچہ مار کر شکار کرنیوالے پرندوں کو اسی لیے حرام قرار دیا گیا ہے کہ ان میں جسمانی یا روحانی ضرر پایا جاتا ہے اور یہ انسان کے لیے غیر مفید ہیں ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کے پاکیزہ اخلاق یعنی طہارت ، اخبات ، سماحت اور عدالت پر غذا کا اثر ہوتا ہے ۔ چناچہ جس قسم کے جانور کا گوشت کھایا جائے گا ، انسانی اخلاق پر اسی قسم کے اثرات مرتب ہوں گے ، جن آٹھ جانوروں کا گوشت اللہ نے حلال قرار دیا ہے ، وہ انسان کے پالتو جانور ہیں ، اس لیے ان کا گوشت بھی انسانی مزاج کے مطابق ہے ان کی پیدائش کا بھی اللہ نے وسیع انتظام فرمایا اور ہر روز لاکھوں جانور ذبح ہو کر استعمال ہوتے ہیں ان کے علاوہ اگر کوئی شخص بھیڑیے کا گوشت کھائے گا تو اسی قسم کی پھاڑ والی خصلت پیدا ہوگی ، خنزیر ، کتا ، بلی وغیرہ ، کے گوشت سے اسی قسم کے اخلاق پیدا ہوں گے ، بہرحال فرمایا کہ مویشیوں میں انسان کے لیے یہ دو بڑے فائدے ہیں کہ ان کے ذریعے گرمی کا سامان مہیا ہوتا ہے اور ان کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے ۔ (دودھ کی نعمت) ان دوبڑے فوائد کے درمیان اللہ نے ایک اور چیز کا ذکر کیا ہے (آیت) ” ومنافع “۔ یعنی ان جانوروں میں تمہارے لیے اور بھی بہت سے فائدے ہیں ، مثلا سب سے اہم چیز ان جانوروں کا دودھ ہے جو بچپن سے لے کر آخر عمر تک انسانی غذا کا حصہ ہے پھر دودھ سے حاصل ہونے والا دھی اور گھی بھی بہت بڑی مقدار میں انسانی استعمال میں آتا ہے ، خاص طور پر بچوں اور بیماروں کے لیے یہ چیزیں انتہائی مفید ہیں ، جنہیں اللہ نے ان جانوروں کے ذریعے بہم پہنچایا ہے ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ ایک ایسی چیز جو بیک وقت کھانے اور مشروب کا کام دے وہ دودھ کے علاوہ کوئی نہیں ، اسی لیے حضور ﷺ نے امت کو سکھلایا ہے کہ جب بھی کوئی نعمت استعمال کرو تو اس کا شکریہ ادا کرو اور دعا کرو کہ اے اللہ ! اس سے بہتر عطا فرما ، مگر جب دودھ جیسی عظیم نعمت استعمال کرو کہ اے اللہ ! اس سے بہتر عطا فرما مگر جب دودھ جیسی عظیم نعمت استعمال کرو تو ” اللھم زدنا منہ “ کی دعا کرو یعنی اے اللہ ! ہمارے لیے اس میں اضافہ فرما ، گویا دودھ سے بہتر چیز کی دعا نہیں کی گئی ، دودھ کے علاوہ ان جانوروں کی چربی اور ہڈیاں بھی انسانی فائدی کی مختلف چیزوں میں استعمال ہوتی ہیں ، تو فرمایا ان جانوروں میں تمہارے لیے دیگر فوائد بھی ہیں ۔ (خوبصورتی کا ذریعہ) فرمایا (آیت) ” ولکم فیہا جمال “۔ ان میں تمہارے لیے خوبصورتی ہے (آیت) ” حین تریحون “۔ جب کہ وہ جنگلوں سے چر کر پچھلے پہر گھر واپس آتے ہیں (آیت) ” وحین تسرحون “۔ اور جس وقت صبح کے وقت چرنے کے لیے باہر جاتے ہیں مطلب یہ کہ مویشیوں کی آمد ورفت بھی تمہارے لیے خوشنمائی کا باعث ہے یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ترتیب کے لحاظ سے پہلے جانوروں کے چرنے کے لیے جانے اور پھر واپس آنے کا ذکر ہونا چاہئے مگر اس آیت کریمہ میں پہلے واپس آنے اور بعد میں گھر سے جانے کا ذکر کیا ہے ، ایسا کیوں ؟ اس ضمن میں امام رازی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زیادہ خوبصورت حالت کا پہلے ذکر کیا ہے اور نسبتا کم خوشنمائی کا بعد میں جس وقت جانور گھر سے چرنے کے لیے جنگل کی طرف نکلتے ہیں تو بسا اوقات گوبر سے لتھڑے ہوئے اور کسی قدر بھوکے بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے زیادہ خوبصورت نظر نہیں آتے ۔ البتہ جب جنگل سے چرچگ کر شام کو واپس آتے ہیں تو دن بھر پھرنے سے ان کی غلاظت وغیرہ بھی دور ہوچکی ہوتی ہے اور پیٹ بھی بھرے ہوتے ہیں ، اس لیے زیادہ خوشنما نظر آتے ہیں تو یہاں پر اللہ نے زیادہ خوشنمائی کی حالت کو پہلے ذکر کیا ہے ۔ (جانوروں کے حقوق) اپنے جانوروں کو اچھی حالت میں دیکھ کر انسان کا جی خوش ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے بشرطیکہ اس میں تکبر کا پہلو نہ ہو ، خوبصورت جانور دیکھ کر انسانوں کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اگر وہ ان پر غرور کرنے لگے گا تو یہ اس کے حق میں حرام ہوگا اور اسے اللہ تعالیٰ کی ناشکری پر محمول کیا جائے گا ، پھر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر ان جانوروں کے بھی بعض حقوق رکھے ہیں ، فرضی حق میں زکوۃ ہے جو سال بھر میں ایک دفعہ ادا کی جاتی ہے بشرطیکہ جانور نصاب کو پہنچ جائیں اس کے علاوہ انسان پر ایک اخلاقی حق بھی عائد ہوتا ہے کہ اگر جانور دودھ دینے والا ہے تو اس میں سے غریبوں اور محتاجوں کو بھی حصہ دیا جائے ، ک کوئی بیمار ہے بچہ ہے جسے دودھ کی ضرورت ہے تو اسے مایوس نہ کیا جائے اس طرح اگر کسی کے پاس گھوڑا ہے تو اس کا حق بھی ادا کرے ، کسی ضرورت مند پڑوسی یا عزیز کو سواری کے لیے ضرورت ہے ، تو انکار نہ کرے ، یہ حق محض گھوڑے کی سواری تک محدود نہیں سواری کی کوئی قسم کار ، موٹر سائیکل یا سائیکل کی سواری موجود ہے تو حاجتمند کو بوقت ضرورت پیش کرنا ، اس سواری کا حق ادا کرنا ہے ، بہرحال فرمایا کہ اپنے جانوروں کا حق ادا کرو جس دن انہیں گھاٹ پر لے جاتے ہو ۔ ّ (باربرداری کا کام) اللہ تعالیٰ نے جانوروں کا ایک یہ فائدہ بھی بیان فرمایا ہے (آیت) ” و تحمل اثقالکم الی بلدلم تکونوا بلغیہ الا بشق الانفس “۔ یہ جانور ایسے شہروں تک تمہارے بوجھ اٹھاتے ہیں ، جہاں تم اپنے آپ کو مشقت میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے ، باربرداری کا کام خالی سفر سے بھی زیادہ مشکل ہے ، اللہ کے پیدا کردہ جانور نہ صرف انسانوں کے لیے سواری کا کام دیتے ہیں بلکہ ان کی باربرداری بھی کرتے ہیں ، اگر باربرداری کے ذرائع نہ ہوں تو انسان سخت مشکل میں پڑجائیں ، اونٹ اور بیل وغیرہ باربرداری کے لیے خاص طور پر موزوں ہیں اور انسان کی بڑی خدمت انجام دیتے ہیں ، فرمایا (آیت) ” ان ربکم لرء وف رحیم “۔ تمہارا پروردگار نہایت شفقت والا اور بڑا مہربان ہے جس نے تمہیں جانوروں کی خدمات مہیا کر کے بہت سی آسانیاں پیدا کردی ہیں اب تمہارا بھی فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو تسلیم کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ صرف اسی کی عبادت کرو ، اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو ۔ (ناخوردنی جانور) فرمایا (آیت) ” والخیل والبغال والحمیر “۔ اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں خچروں اور گدھوں کو بھی پیدا کیا ہے (آیت) ” لترکبوھا “۔ تاکہ ان پر سواری کرو ، (آیت) ” وزینۃ “ اور یہ تمہارے لیے زینت کا سامان بھی ہیں ، یہ جانوروں کا ایسا گروہ اللہ نے ذکر کیا ہے ، جن کا گوشت تو نہیں کھایا جاتا ، البتہ یہ انسان کی دیگر خدمات ضرور انجام دیتے ہیں ، خالص النسل گھوڑے کی حلت کے متعلق البتہ دونوں قسم کی روایات ملتی ہیں اور اس میں ائمہ کرام کا اختلاف ہے ، اسی اختلاف کی بنا پر امام ابوحنیفہ (رح) گھوڑے کے گوشت کو حرام بھی نہیں کہتے اور اسے بہتر بھی نہیں سمجھتے ، گھوڑے کے متعلق حلت و حرمت دونوں قسم کی روایات کی موجودگی میں اس پر مکروہ کا حکم لگایا جاتا ہے ، البتہ گھوڑے کی اعلی خدمات کا اعتراف حضور کے ارشاد مبارک سے ملتا ہے ، کہ گھوڑوں کی پیشانیوں میں اللہ نے بہتری لکھی ہوئی ہے ، یہ جانور قیامت تک کار آمد رہیں گے ، چناچہ گھوڑا سفر میں سواری کا کام دیتا ہے اور جنگ کے دوران بھی بڑ مفید ثابت ہوتا ہے خچر بھی بڑا مفید جانور ہے ، یہ گدھے اور گھوڑی کا مرکب ہوتا ہے مگر اس کی نسل آگے نہیں چلتی ، یہ بڑا طاقتور جانور ہے اور بار برداری میں بڑا مفید ثابت ہوتا ہے ، باربرداری اور سواری کے لیے گدھا بھی بڑا کار آمد جانور ہے ، تاہم اس کی حماقت بڑی مشہور ہے ، اس کا گوشت بھی حرام ہے کہ اس سے حماقت پیدا ہونے کا خطرہ ہے ، البتہ سواری کے طور پر خود حضور ﷺ نے اسے استعمال کیا ہے ، بہرحال یہ سارے جانور انسان کے خادم اور خدا کی قدرت کے نمونے ہیں ۔ (مستقبل کی سواریاں) اللہ تعالیٰ نے یہاں پر ایک بڑا بامعنی جملہ یہ فرمایا ہے (آیت) ” ویخلق مالا تعلمون “۔ اور اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے یا پیدا کرے گا ، وہ چیزیں بھی جو تم نہیں جانتے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس جملے سے وہ تمام سواریاں مراد ہیں جو نزول قرآن کے زمانے میں اس کے اولین مخاطبین کی نظروں سے اوجھل تھیں ، یا آئندہ قیامت تک معرض وجود میں آتی رہیں گی ، اس وقت جانوروں سے کھینچی جانے والی ، بجلی پٹرول اور بھاپ سے چلنے والی اتنی سواریاں ایجاد ہوچکی ہیں جن کا اس زمانے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا چھکڑا ، ٹرک ، موٹر کار بس ، ریل گاڑی ، سائیکل موٹر سائیکل ، ہوائی جہاز اور بحری جہاز کی بیشمار قسمیں انسانوں اور ان کے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی نظر آتی ہیں ، تیز ترین سواریوں نے دنیابھر کو سیکڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ اب تو کرہ ارضی سے نکل کر انسان چاند پر پہنچ چکا ہے اور مریخ پر پہنچنے کی کوشش کررہا ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہ تمام چیزیں پیدا فرما کر بنی نوع انسان پر بڑا احسان کیا ہے ورنہ انسانی زندگی میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی ہوتی ، اگرچہ ان تمام مشینی ذرائع کو ایجاد کرنے کا سہرا بظاہر خود انسان کے سر ہے مگر اس کے علاوہ خام مال کی بہم رسانی اور انسانی اعضاء قوی کی عطائیگی اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے ، فضا میں پرواز کا شوق ایک اندلسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا جس نے اپنے بازؤں پر گدھ کے پر باندھ کر اڑنے کی کوشش کی مگر گر کر زخمی ہوگیا ، اس کا جذبہ زندہ رہا ، لوگ تجربات کرتے رہے حتی کہ آٹھ سو سال کے تجربات کے بعد اس صدی کے آغاز یعنی 4 ، 19 ء میں ہوائی جہاز کی پہلی پرواز کامیابی سے ہمکنار ہوئی ، بہرحال اس دور میں بجلی ، ڈیزل اور پٹرول سے چلنے والی بیشمار گاڑیاں منظر عام پر آچکی ہیں اور ایجادات کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ، اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ چیزیں بھی پیدا کریگا جنہیں تم نہیں جانتے ۔ یہ تو مادی زندگی کی سواریوں کا تذکرہ تھا حضور ﷺ نے اگلے جہان کی سواری کا تصور بھی دیا ہے ، ایک شخص نے عرض کیا ، حضور ! جنت میں ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے کیا انتظام ہوگا ، آپ نے فرمایا ، وہاں تمہیں سرخ یاقوت کا گھوڑا ملے گا ، جس کی رفتار اتنی تیز ہوگی کہ اس دنیا کی جدید ترین گاڑی اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتی ، اور پھر یہ ہے کہ وہاں پر کسی حادثے کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا ، جنتی آدمی کروڑوں میلوں کا سفر آسانی سے بلاخوف وخطر کرسکے گا ، فرمایا وہاں تمہیں ایسی سواری میسر ہوگی ۔ (مستقیم اور منحنی راستے) آگے اللہ نے انسانی کی روحانی زندگی کو خوشگوار بنانے اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے روحانی راستوں کا ذکر بھی کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “۔ اور اللہ تک ہی پہنچتا ہے سیدھا راستہ ، اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پرچلو گے تو یہ زندگی بھی خوشگوار گزرے گی اور آخرت کی کامیابی بھی یقینی ہوجائے گی ، مگر یاد رکھو ، (آیت) ” ومنھا جآئر “۔ ان میں بعض راستے ٹیڑھے بھی ہیں ، اگر ان پر چل نکلے ، کفر ، شرک ، بدعت ، معصیت اور گمراہی کے راستے اختیار کرلیے تو خدا تعالیٰ کی رضا کے مقام تک نہیں پہنچ سکو گے ، اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے راستے واضح کردیے ہیں ، اب یہ انسان کی اپنی صوابدید ہے (آیت) ” فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر “۔ (الکہف) کہ وہ ایمان کا راستہ قبول کرتا ہے یا کفر کا ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل سمجھ ، کتب سماویہ ، بنی اور مبلغ جیسے سارے وسائل مہیا کردیے ہیں اب مستقیم یا منحنی راستہ اختیار کرنا اس کا اپنا کام ہے ، (آیت) ” ولو شآء لھدکم اجمعین “۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو زبردستی ہدایت کے راستے پر ڈال دیتا ، مگر یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے ، وہ انسانوں کو آزمانا چاہتا ہے کہ وہ سیدھا راستہ اختیار کرتے ہیں یا ٹیڑھا اور پھر اس امتحان میں کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام اس نے یہ واضح کردیا ہے کہ آخرت کی کامیابی صراط مستقیم کو اختیار کرنے پر منحصر ہے اور جو شخص دوسرا راستہ اختیار کرے گا ، اس کے لیے آگے جہنم بھی تیار ہے ۔
Top