Mualim-ul-Irfan - An-Nahl : 5
وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪
وَالْاَنْعَامَ : اور چوپائے خَلَقَهَا : اس نے ان کو پیدا کیا لَكُمْ : تمہارے لیے فِيْهَا : ان میں دِفْءٌ : گرم سامان وَّمَنَافِعُ : اور فائدے (جمع) وَمِنْهَا : ان میں سے تَاْكُلُوْنَ : تم کھاتے ہو
اور مویشی ، ان کو پیدا کیا ہے ان میں تمہارے لیے گرمی کا سامان ہے اور بہت سے فائدے ہیں اور ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو۔
(ربط آیات) سورة کی ابتدائی آیتوں میں انذار کا مضمون بیان ہوا ہے ، اللہ سے ڈرنے اور اس کی گرفت سے بچنے کا حکم دیا گیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کے ذریعے اپنے انبیاء پر وحی نازل فرما کر لوگوں کو ڈرانے اور خبردار کرنے کا حکم دیا کہ اللہ فرماتا ہے کہ میرے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، لہذا مجھ ہی سے ڈرو اور میری توحید کو مانو ، خدا تعالیٰ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو ۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنے انعامات کا ذکر کیا ہے اور ان دلائل کو بیان کیا ہے جن میں غور کرنے سے انسان اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو سمجھ سکتا ہے اور خدا کی اطاعت اور شکر گزاری بجا لاسکتا ہے چناچہ سب سے پہلے آسمانوں اور زمین کا ذکر بطور دلائل قدرت کے کیا ، خدا تعالیٰ کی ذات کو ہر قسم کے شریکوں سے بلندو برتر قرار دیا ، اس کے بعد اللہ نے انسان کی تخلیق کا ذکر کیا کہ اسے حقیر قطرہ آب سے پیدا کرکے کتنا کمال عطا کیا ، مگر افسوس کا مقام ہے کہ انسان اپنی اصلیت کو بھول کر اور خدا تعالیٰ کی قدرت کی طرف عدم توجہی کی بنا پر اس کی توحید میں جھگڑا کرنے لگتا ہے اور شرکیہ عقائد اور باطل رسوم کے حق میں دلائل پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ (مویشیوں کے فوائد) اب اللہ نے مویشیوں کا ذکر کرکے اپنی قدرت کے بعض دلائل پیش کیے ہیں ارشاد ہوتا ہے ، (آیت) ” والانعام خلقھا “۔ اور مویشیوں کو پیدا کیا ، ان مویشیوں سے کون سے مویشی مراد ہیں ، اس کا ذکر سورة الانعام اور بعض دوسری سورتوں میں بھی آیا ہے ، سورة الانعام میں ہے (آیت) ” ثمنیۃ ازواج “ یہ آٹھ جوڑے ہیں جو عام طور پر انسانوں کے قریب رہتے اور ان سے مانوس ہوتے ہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں انسانوں کی خدمت کے لیے پیدا فرمایا ہے اور یہ ان کا دودھ ، گوشت کھال اور ہڈیاں استعمال میں لاتے ہیں اور یہ جانور اونٹ (نر اور مادہ) گائے بیل (نر اور مادہ) بھیڑ (نر اور مادہ) اور بکری (نر اور مادہ) ہیں ، یہ مویشی طاقت میں انسان سے کہیں بڑھ کر ہیں مگر اللہ نے ان کے اذہان میں یہ بات ڈال دی ہے کہ وہ انسان کی خدمت پر مامور ہیں ایک تین سال کا بچہ بھی اونٹ کی نکیل پکڑ کر چل دے تو سو اونٹ اس کے پیچھے چل پڑے گا ، بعض اوقات یہی جانور خلاف معمول جب بگڑ جاتے ہیں تو تباہی مچا دیتے ہیں ، اونٹ کے متعلق تو خاص طور پر مشہور ہے کہ وہ اپنے دشمن کو ہلاک کیے بغیر نہیں چھوڑتا بہرحال اللہ نے ان آٹھ قسم کے مویشیوں کا ذکر کیا ہے اور انسان کو یاد دلایا ہے کہ ان جانوروں کو اس کی خدمت کے لیے پیدا کیا گیا ہے اور یہ بھی اس کی وحدانیت کی ایک دلیل ہے ۔ ان جانوروں کے علاوہ بعض دوسرے جانور بھی ہیں جو انسان سے مانوس نہیں ہیں ان میں جنگلی جانور ، نیل گائے ، ہرن جنگلی گدھے وغیرہ بھی ہیں جو اگرچہ مفید ہیں مگر انہیں آسانی سے قابو نہیں کیا جاسکتا ۔ اللہ نے ایسے جانوروں کی قربانی جائز قرار نہیں دی ، بلکہ قربانی کے لیے وہی آٹھ جوڑے مقرر کیے ہیں جو ہمیشہ انسانوں کے قریب رہتے ہیں اور آسانی سے دستیاب ہیں ۔ (اون اور گوشت) فرمایا اللہ نے مویشیوں کو پیدا کیا (آیت) ” لکم فیھا دفئ “۔ ان میں تمہارے لیے گرمی کا سامان ہے ، اونٹ اور بھیڑ بکری کی اون سے گرم لباس تیار ہوتے ہیں جو موسم سرما میں انسان کے لیے کارآمد ہوتے ہیں ، انسانی لباس میں دھسہ ، کوٹ ، کمبل ، سویٹر وغیرہ اون سے تیار کیے جاتے ہیں جو کہ اور جانوروں سے حاصل ہوتی ہے ، اسی طرح ان جانوروں کی کھال سے پوستین ، موزے اور صدری وغیرہ بنتے ہیں ، وہ انسانوں کے لیے گرمی پہنچانے کا ذریعہ بنتے ہیں ، اسی لیے فرمایا کہ ان جانوروں میں تمہارے لیے گرمی کا سامان ہے (آیت) ” ومنافع “ اور بہت سے فائدے ہیں ، اس کے بعد ان جانوروں کا دوسرا بڑا فائدہ یہ ہے (آیت) ” ومنھا تاکلون “۔ ان میں سے بعض کو تم کھاتے ہو ، مذکورہ آٹھ قسم کے جانوروں کا گوشت انسانی غذا کا ایک اہم حصہ ہے ، اس لیے شریعت میں اپنی جانوروں کا گوشت حلال ہے جن میں کسی قسم کا جسمانی یا روحانی ضرر نہ ہو ، مردار خنزیر ، نذر بغیر اللہ ، بلی کتے وغیرہ اور پنچہ مار کر شکار کرنیوالے پرندوں کو اسی لیے حرام قرار دیا گیا ہے کہ ان میں جسمانی یا روحانی ضرر پایا جاتا ہے اور یہ انسان کے لیے غیر مفید ہیں ، امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کے پاکیزہ اخلاق یعنی طہارت ، اخبات ، سماحت اور عدالت پر غذا کا اثر ہوتا ہے ۔ چناچہ جس قسم کے جانور کا گوشت کھایا جائے گا ، انسانی اخلاق پر اسی قسم کے اثرات مرتب ہوں گے ، جن آٹھ جانوروں کا گوشت اللہ نے حلال قرار دیا ہے ، وہ انسان کے پالتو جانور ہیں ، اس لیے ان کا گوشت بھی انسانی مزاج کے مطابق ہے ان کی پیدائش کا بھی اللہ نے وسیع انتظام فرمایا اور ہر روز لاکھوں جانور ذبح ہو کر استعمال ہوتے ہیں ان کے علاوہ اگر کوئی شخص بھیڑیے کا گوشت کھائے گا تو اسی قسم کی پھاڑ والی خصلت پیدا ہوگی ، خنزیر ، کتا ، بلی وغیرہ ، کے گوشت سے اسی قسم کے اخلاق پیدا ہوں گے ، بہرحال فرمایا کہ مویشیوں میں انسان کے لیے یہ دو بڑے فائدے ہیں کہ ان کے ذریعے گرمی کا سامان مہیا ہوتا ہے اور ان کا گوشت بھی کھایا جاتا ہے ۔ (دودھ کی نعمت) ان دوبڑے فوائد کے درمیان اللہ نے ایک اور چیز کا ذکر کیا ہے (آیت) ” ومنافع “۔ یعنی ان جانوروں میں تمہارے لیے اور بھی بہت سے فائدے ہیں ، مثلا سب سے اہم چیز ان جانوروں کا دودھ ہے جو بچپن سے لے کر آخر عمر تک انسانی غذا کا حصہ ہے پھر دودھ سے حاصل ہونے والا دھی اور گھی بھی بہت بڑی مقدار میں انسانی استعمال میں آتا ہے ، خاص طور پر بچوں اور بیماروں کے لیے یہ چیزیں انتہائی مفید ہیں ، جنہیں اللہ نے ان جانوروں کے ذریعے بہم پہنچایا ہے ، ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ ایک ایسی چیز جو بیک وقت کھانے اور مشروب کا کام دے وہ دودھ کے علاوہ کوئی نہیں ، اسی لیے حضور ﷺ نے امت کو سکھلایا ہے کہ جب بھی کوئی نعمت استعمال کرو تو اس کا شکریہ ادا کرو اور دعا کرو کہ اے اللہ ! اس سے بہتر عطا فرما ، مگر جب دودھ جیسی عظیم نعمت استعمال کرو کہ اے اللہ ! اس سے بہتر عطا فرما مگر جب دودھ جیسی عظیم نعمت استعمال کرو تو ” اللھم زدنا منہ “ کی دعا کرو یعنی اے اللہ ! ہمارے لیے اس میں اضافہ فرما ، گویا دودھ سے بہتر چیز کی دعا نہیں کی گئی ، دودھ کے علاوہ ان جانوروں کی چربی اور ہڈیاں بھی انسانی فائدی کی مختلف چیزوں میں استعمال ہوتی ہیں ، تو فرمایا ان جانوروں میں تمہارے لیے دیگر فوائد بھی ہیں ۔ (خوبصورتی کا ذریعہ) فرمایا (آیت) ” ولکم فیہا جمال “۔ ان میں تمہارے لیے خوبصورتی ہے (آیت) ” حین تریحون “۔ جب کہ وہ جنگلوں سے چر کر پچھلے پہر گھر واپس آتے ہیں (آیت) ” وحین تسرحون “۔ اور جس وقت صبح کے وقت چرنے کے لیے باہر جاتے ہیں مطلب یہ کہ مویشیوں کی آمد ورفت بھی تمہارے لیے خوشنمائی کا باعث ہے یہاں پر یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ ترتیب کے لحاظ سے پہلے جانوروں کے چرنے کے لیے جانے اور پھر واپس آنے کا ذکر ہونا چاہئے مگر اس آیت کریمہ میں پہلے واپس آنے اور بعد میں گھر سے جانے کا ذکر کیا ہے ، ایسا کیوں ؟ اس ضمن میں امام رازی (رح) اور بعض دوسرے مفسرین فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے زیادہ خوبصورت حالت کا پہلے ذکر کیا ہے اور نسبتا کم خوشنمائی کا بعد میں جس وقت جانور گھر سے چرنے کے لیے جنگل کی طرف نکلتے ہیں تو بسا اوقات گوبر سے لتھڑے ہوئے اور کسی قدر بھوکے بھی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے زیادہ خوبصورت نظر نہیں آتے ۔ البتہ جب جنگل سے چرچگ کر شام کو واپس آتے ہیں تو دن بھر پھرنے سے ان کی غلاظت وغیرہ بھی دور ہوچکی ہوتی ہے اور پیٹ بھی بھرے ہوتے ہیں ، اس لیے زیادہ خوشنما نظر آتے ہیں تو یہاں پر اللہ نے زیادہ خوشنمائی کی حالت کو پہلے ذکر کیا ہے ۔ (جانوروں کے حقوق) اپنے جانوروں کو اچھی حالت میں دیکھ کر انسان کا جی خوش ہوتا ہے اور ہونا بھی چاہئے بشرطیکہ اس میں تکبر کا پہلو نہ ہو ، خوبصورت جانور دیکھ کر انسانوں کو اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرنا چاہئے اور اگر وہ ان پر غرور کرنے لگے گا تو یہ اس کے حق میں حرام ہوگا اور اسے اللہ تعالیٰ کی ناشکری پر محمول کیا جائے گا ، پھر یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان پر ان جانوروں کے بھی بعض حقوق رکھے ہیں ، فرضی حق میں زکوۃ ہے جو سال بھر میں ایک دفعہ ادا کی جاتی ہے بشرطیکہ جانور نصاب کو پہنچ جائیں اس کے علاوہ انسان پر ایک اخلاقی حق بھی عائد ہوتا ہے کہ اگر جانور دودھ دینے والا ہے تو اس میں سے غریبوں اور محتاجوں کو بھی حصہ دیا جائے ، ک کوئی بیمار ہے بچہ ہے جسے دودھ کی ضرورت ہے تو اسے مایوس نہ کیا جائے اس طرح اگر کسی کے پاس گھوڑا ہے تو اس کا حق بھی ادا کرے ، کسی ضرورت مند پڑوسی یا عزیز کو سواری کے لیے ضرورت ہے ، تو انکار نہ کرے ، یہ حق محض گھوڑے کی سواری تک محدود نہیں سواری کی کوئی قسم کار ، موٹر سائیکل یا سائیکل کی سواری موجود ہے تو حاجتمند کو بوقت ضرورت پیش کرنا ، اس سواری کا حق ادا کرنا ہے ، بہرحال فرمایا کہ اپنے جانوروں کا حق ادا کرو جس دن انہیں گھاٹ پر لے جاتے ہو ۔ ّ (باربرداری کا کام) اللہ تعالیٰ نے جانوروں کا ایک یہ فائدہ بھی بیان فرمایا ہے (آیت) ” و تحمل اثقالکم الی بلدلم تکونوا بلغیہ الا بشق الانفس “۔ یہ جانور ایسے شہروں تک تمہارے بوجھ اٹھاتے ہیں ، جہاں تم اپنے آپ کو مشقت میں ڈالے بغیر نہیں پہنچ سکتے ، باربرداری کا کام خالی سفر سے بھی زیادہ مشکل ہے ، اللہ کے پیدا کردہ جانور نہ صرف انسانوں کے لیے سواری کا کام دیتے ہیں بلکہ ان کی باربرداری بھی کرتے ہیں ، اگر باربرداری کے ذرائع نہ ہوں تو انسان سخت مشکل میں پڑجائیں ، اونٹ اور بیل وغیرہ باربرداری کے لیے خاص طور پر موزوں ہیں اور انسان کی بڑی خدمت انجام دیتے ہیں ، فرمایا (آیت) ” ان ربکم لرء وف رحیم “۔ تمہارا پروردگار نہایت شفقت والا اور بڑا مہربان ہے جس نے تمہیں جانوروں کی خدمات مہیا کر کے بہت سی آسانیاں پیدا کردی ہیں اب تمہارا بھی فرض ہے کہ اللہ تعالیٰ کی توحید کو تسلیم کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناؤ صرف اسی کی عبادت کرو ، اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرو ۔ (ناخوردنی جانور) فرمایا (آیت) ” والخیل والبغال والحمیر “۔ اللہ تعالیٰ نے گھوڑوں خچروں اور گدھوں کو بھی پیدا کیا ہے (آیت) ” لترکبوھا “۔ تاکہ ان پر سواری کرو ، (آیت) ” وزینۃ “ اور یہ تمہارے لیے زینت کا سامان بھی ہیں ، یہ جانوروں کا ایسا گروہ اللہ نے ذکر کیا ہے ، جن کا گوشت تو نہیں کھایا جاتا ، البتہ یہ انسان کی دیگر خدمات ضرور انجام دیتے ہیں ، خالص النسل گھوڑے کی حلت کے متعلق البتہ دونوں قسم کی روایات ملتی ہیں اور اس میں ائمہ کرام کا اختلاف ہے ، اسی اختلاف کی بنا پر امام ابوحنیفہ (رح) گھوڑے کے گوشت کو حرام بھی نہیں کہتے اور اسے بہتر بھی نہیں سمجھتے ، گھوڑے کے متعلق حلت و حرمت دونوں قسم کی روایات کی موجودگی میں اس پر مکروہ کا حکم لگایا جاتا ہے ، البتہ گھوڑے کی اعلی خدمات کا اعتراف حضور کے ارشاد مبارک سے ملتا ہے ، کہ گھوڑوں کی پیشانیوں میں اللہ نے بہتری لکھی ہوئی ہے ، یہ جانور قیامت تک کار آمد رہیں گے ، چناچہ گھوڑا سفر میں سواری کا کام دیتا ہے اور جنگ کے دوران بھی بڑ مفید ثابت ہوتا ہے خچر بھی بڑا مفید جانور ہے ، یہ گدھے اور گھوڑی کا مرکب ہوتا ہے مگر اس کی نسل آگے نہیں چلتی ، یہ بڑا طاقتور جانور ہے اور بار برداری میں بڑا مفید ثابت ہوتا ہے ، باربرداری اور سواری کے لیے گدھا بھی بڑا کار آمد جانور ہے ، تاہم اس کی حماقت بڑی مشہور ہے ، اس کا گوشت بھی حرام ہے کہ اس سے حماقت پیدا ہونے کا خطرہ ہے ، البتہ سواری کے طور پر خود حضور ﷺ نے اسے استعمال کیا ہے ، بہرحال یہ سارے جانور انسان کے خادم اور خدا کی قدرت کے نمونے ہیں ۔ (مستقبل کی سواریاں) اللہ تعالیٰ نے یہاں پر ایک بڑا بامعنی جملہ یہ فرمایا ہے (آیت) ” ویخلق مالا تعلمون “۔ اور اللہ تعالیٰ پیدا کرتا ہے یا پیدا کرے گا ، وہ چیزیں بھی جو تم نہیں جانتے ، مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اس جملے سے وہ تمام سواریاں مراد ہیں جو نزول قرآن کے زمانے میں اس کے اولین مخاطبین کی نظروں سے اوجھل تھیں ، یا آئندہ قیامت تک معرض وجود میں آتی رہیں گی ، اس وقت جانوروں سے کھینچی جانے والی ، بجلی پٹرول اور بھاپ سے چلنے والی اتنی سواریاں ایجاد ہوچکی ہیں جن کا اس زمانے میں تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا چھکڑا ، ٹرک ، موٹر کار بس ، ریل گاڑی ، سائیکل موٹر سائیکل ، ہوائی جہاز اور بحری جہاز کی بیشمار قسمیں انسانوں اور ان کے سامان کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتی نظر آتی ہیں ، تیز ترین سواریوں نے دنیابھر کو سیکڑ کر رکھ دیا ہے بلکہ اب تو کرہ ارضی سے نکل کر انسان چاند پر پہنچ چکا ہے اور مریخ پر پہنچنے کی کوشش کررہا ہے ، اللہ تعالیٰ نے یہ تمام چیزیں پیدا فرما کر بنی نوع انسان پر بڑا احسان کیا ہے ورنہ انسانی زندگی میں قدم قدم پر رکاوٹیں کھڑی ہوتی ، اگرچہ ان تمام مشینی ذرائع کو ایجاد کرنے کا سہرا بظاہر خود انسان کے سر ہے مگر اس کے علاوہ خام مال کی بہم رسانی اور انسانی اعضاء قوی کی عطائیگی اللہ تعالیٰ ہی کا کام ہے ، فضا میں پرواز کا شوق ایک اندلسی آدمی کے دل میں پیدا ہوا جس نے اپنے بازؤں پر گدھ کے پر باندھ کر اڑنے کی کوشش کی مگر گر کر زخمی ہوگیا ، اس کا جذبہ زندہ رہا ، لوگ تجربات کرتے رہے حتی کہ آٹھ سو سال کے تجربات کے بعد اس صدی کے آغاز یعنی 4 ، 19 ء میں ہوائی جہاز کی پہلی پرواز کامیابی سے ہمکنار ہوئی ، بہرحال اس دور میں بجلی ، ڈیزل اور پٹرول سے چلنے والی بیشمار گاڑیاں منظر عام پر آچکی ہیں اور ایجادات کا یہ سلسلہ قیامت تک جاری رہے گا ، اسی لیے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ چیزیں بھی پیدا کریگا جنہیں تم نہیں جانتے ۔ یہ تو مادی زندگی کی سواریوں کا تذکرہ تھا حضور ﷺ نے اگلے جہان کی سواری کا تصور بھی دیا ہے ، ایک شخص نے عرض کیا ، حضور ! جنت میں ایک دوسرے سے ملاقات کے لیے کیا انتظام ہوگا ، آپ نے فرمایا ، وہاں تمہیں سرخ یاقوت کا گھوڑا ملے گا ، جس کی رفتار اتنی تیز ہوگی کہ اس دنیا کی جدید ترین گاڑی اس کی گرد کو بھی نہیں پہنچ سکتی ، اور پھر یہ ہے کہ وہاں پر کسی حادثے کا بھی کوئی خطرہ نہیں ہوگا ، جنتی آدمی کروڑوں میلوں کا سفر آسانی سے بلاخوف وخطر کرسکے گا ، فرمایا وہاں تمہیں ایسی سواری میسر ہوگی ۔ (مستقیم اور منحنی راستے) آگے اللہ نے انسانی کی روحانی زندگی کو خوشگوار بنانے اور اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کے لیے روحانی راستوں کا ذکر بھی کیا ہے ، ارشاد ہوتا ہے (آیت) ” وعلی اللہ قصد السبیل “۔ اور اللہ تک ہی پہنچتا ہے سیدھا راستہ ، اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے صراط مستقیم پرچلو گے تو یہ زندگی بھی خوشگوار گزرے گی اور آخرت کی کامیابی بھی یقینی ہوجائے گی ، مگر یاد رکھو ، (آیت) ” ومنھا جآئر “۔ ان میں بعض راستے ٹیڑھے بھی ہیں ، اگر ان پر چل نکلے ، کفر ، شرک ، بدعت ، معصیت اور گمراہی کے راستے اختیار کرلیے تو خدا تعالیٰ کی رضا کے مقام تک نہیں پہنچ سکو گے ، اللہ تعالیٰ نے دو قسم کے راستے واضح کردیے ہیں ، اب یہ انسان کی اپنی صوابدید ہے (آیت) ” فمن شآء فلیؤمن ومن شآء فلیکفر “۔ (الکہف) کہ وہ ایمان کا راستہ قبول کرتا ہے یا کفر کا ، اللہ تعالیٰ نے انسان کو عقل سمجھ ، کتب سماویہ ، بنی اور مبلغ جیسے سارے وسائل مہیا کردیے ہیں اب مستقیم یا منحنی راستہ اختیار کرنا اس کا اپنا کام ہے ، (آیت) ” ولو شآء لھدکم اجمعین “۔ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو تم سب کو زبردستی ہدایت کے راستے پر ڈال دیتا ، مگر یہ اس کی حکمت کے خلاف ہے ، وہ انسانوں کو آزمانا چاہتا ہے کہ وہ سیدھا راستہ اختیار کرتے ہیں یا ٹیڑھا اور پھر اس امتحان میں کون کامیاب ہوتا ہے اور کون ناکام اس نے یہ واضح کردیا ہے کہ آخرت کی کامیابی صراط مستقیم کو اختیار کرنے پر منحصر ہے اور جو شخص دوسرا راستہ اختیار کرے گا ، اس کے لیے آگے جہنم بھی تیار ہے ۔
Top