Mualim-ul-Irfan - Al-Muminoon : 93
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِیَنِّیْ مَا یُوْعَدُوْنَۙ
قُلْ : فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اِمَّا تُرِيَنِّيْ : اگر تو مجھے دکھا دے مَا يُوْعَدُوْنَ : جو ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
آپ کہہ دیجئے (اے پیغمبر ! ) اے میرے پروردگار ! اگر تو دکھا دے مجھے وہ چیز جس کا ان سے وعدہ کیا جاتا ہے
ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کافروں ، مشرکوں اور من کروں کا رد فرمایا اور دلائل توحید بیان فرمائے ۔ فرمایا کہ ارض وسما اور ان کے درمیان موجود ہرچیز اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت اور تصرف میں ہے۔ وہ کسی لاچار کو پناہ دے سکتا ہے ، مگر اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دے سکتا۔ فرمایا اس حقیقت کو تسلیم کرنے کے باوجود یہ لوگ اللہ کے ساتھ شرک کرتے ہیں اور قیامت کا انکار کرتے ہیں۔ یہ جھوٹے لوگ ہیں۔ پھر اللہ نے یہ فرمایا کہ اس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور نہ اس کا کوئی حقیقی بیٹا ہے اور نہ ہی اس کے سوا کوئی معبود ہے۔ اگر کوئی ہوتا تو ہر الٰہ اپنی اپنی پیدا کردہ چیز لے کر الگ ہوجاتا اور ہر ایک دوسرے پر چڑھائی کرکے غالب آنے کی کوشش کرتا۔ ایسی صورت میں نظام کائنات درہم برہم ہو کر رہ جاتا۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ وہ عالم الغیب والشہادۃ ہے اور شرک سے بالکل منزہ ہے۔ نیز جو لوگ دلائل توحید دیکھنے کے باوجود انکار کرتے ہیں ، وہ بلا شبہ سزا کے مستحق ہیں۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ منکرین کو جلدی سزا کیوں نہیں ملتی تو اللہ نے مختلف مقامات پر اس کا جواب یہ دیا ہے کہ سزا کا ایک وقت معین ہے وہ اپنے قانون امہال کے مطابق جب چاہے گا سزا میں مبتلا کردے گا۔ بعض اوقات وہ شدید ترین مجرموں کو بھی فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا رہتا ہے اور پھر اچانک پکڑ لیتا ہے۔ یہ لوگ وقوع قیامت پر یقین ہی نہیں رکھتے تھے ، بلکہ کہتے تھے۔ ان ھی الا حیاتنا الدنیا (المومنین 37) یہ ہماری دنیا کی زندگی ہی ہے جس میں ہم مرتے اور جیتے ہیں۔ اس کے بعد کوئی دوسری دنیا نہیں ہے۔ جس میں ہم دوبارہ اٹھائے جائیں گے اور حساب کتاب ہوگا۔ کہتے تھے کہ عالم برزخ عالم آخرت ، جنت دوزخ وغیرہ اساطیر الاولین یعنی پہلے لوگوں کی کہانیاں ہیں جو ہمارے سامنے دہرائی جارہی ہیں ، وگرنہ اس میں حقیقت کچھ نہیں اللہ نے فرمایا کہ ایسے لوگ سزا سے بچ نہیں سکیں گے۔ پیغمبرکی دعا : بعض اوقات منکرین کی حد سے زیادہ سرکشی دیکھ کر پیغمبر اسلام (علیہ السلام) کو بھی خیال آتا تھا کہ یہ بدبخت گرفت میں کیوں نہیں آتے۔ ایسے حالات میں اللہ نے اپنے نبی کی اس طرح راہنمائی فرمائی۔ قل رب اما ترینی مایوعدون ، اے پیغمبر ! آپ اس طرح دعا کریں کہ اے میرے پروردگار ! اگر تو مجھے وہ چیز دکھا دے جس کا تو نے ان سے وعدہ کررکھا ہے۔ یعنی اگر میری زندگی میں ہی ان پر عذاب آجائے رب فلا تجعلنی فی القوم الظلمین ، اے میرے پروردگار ! نہ ٹھہرانا مجھے ان لوگوں میں جو ظالم ہیں ۔ یعنی جب تیرا عذاب آئے تو مجھے ان سے الگ کرلینا۔ حدیث شریف میں یہ دعا بھی سکھائی گئی ہے اے مولیٰ کریم ! اذا اردت بقرم فتنۃ فتوفنی الیک غیر مفتون ، جب تو کسی قوم کے ساتھ فتنہ یا آزمائش کا ارادہ کرے تو مجھے ایسی حالت میں اپنی طرف اٹھالے کہ میں فتنے میں مبتلا نہ ہوں ، یہاں بھی اللہ نے اپنے نبی کو یہی دعا سکھلائی ہے کہ عذاب کے وقت آپ ان ظالموں سے علیحدگی کی درخواست کریں۔ بعض اوقات جب کوئی مصیبت آتی ہے تو پھر کسی خاص وعام کو نہیں چھوڑتی۔ منکرین اور اہل ایمان سب سب اس میں گرفتار ہوجاتے ہیں ۔ اس کے متعلق حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس دنیا میں تو بعض کو ناکردہ گناہ کی سزا بھی ملتی ہے۔ ثم یبعثون علی نیتھم ، مگر جب قیامت کو دوبارہ اٹھیں گے تو اپنی اپنی نیت اور عقیدے کے مطابق بعث ہوگی۔ اس دن اطاعت گزارلوگ اس سزا سے محفوظ ہوں گے۔ جس میں منکرین مبتلا ہوں گے فرمایا وانا علی ان نریک ما نعدھم لقدرون ، اور بیشک ہم اس بات پر قادر ہیں کہ آپ کو وہ چیزدکھادیں جس کا ہم ان سے وعدہ کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ وعدہ تو نافرمانوں سے سزا کا ہی ہے اللہ نے فرمایا کہ ہم یہ سزا آپ کو آپ کی زندگی میں بھی دکھا سکتے ہیں۔ چناچہ بعض چیزیں اللہ تعالیٰ نے آپ کی زندگی میں ہی دکھادیں۔ آپ کی حیات مبارکہ میں کفار ومشرکین کو ذلت ورسوائی کا سامنا کرنا پڑا۔ انہیں پے درپے شکست ہوئی حتیٰ کہ آپ کی زندگی میں ہی پورا جزیرۃ العرب مشرکوں سے پاک ہوگیا۔ سردارن مشرکین مارے گئے اور باقیوں نے اسلام قبول کرلیا۔ پھر آپ کے بعد خلفائے راشدین ؓ کے زمانے میں کفار ومشرکین مکمل طور پر مغلوب ہوگئے حتیٰ کہ دنیا بھر میں ایمان والوں کی طرف بری نظر اٹھا کر دیکھنے والا کوئی نہ رہا۔ برائی کا دفاع اچھائی کے ساتھ : ارشادہوتا ہے کہ مشرک لوگ آپ کو طرح طرح کی تکلیفیں دیتے ہیں۔ آپ کو جسمانی اور ذہنی طور پر پریشان کرتے ہیں ، مگر ان کی برائی کا جواب برائی سے دینے کی بجائے ادفع بالتی ھی احسن والسیئۃ ، اس برائی کا دفاع نیکی اور اچھائی کے ساتھ کریں۔ مشرکین کی بداخلاقی کے مقابلے میں آپ نرمی اور خوش اخلاقی سے کام لیں کیونکہ اللہ نے بد اخلاقی کی اجازت کبھی نہیں دی۔ البتہ آپ تبلیغ دین کا کام کرتے رہیں اور اس میں کمی نہ آنے دیں۔ فرمایا ، آپ فکر نہ کریں نحن اعلم بما یصفون ، ہم ان کی کرتوتوں کو خوب جانتے ہیں۔ یہ لوگ جس قدر کینہ وبغض رکھتے ہیں ، طعن وملامت کرتے ہیں ، گالیاں دیتے ہیں اور اذیتیں پہنچاتے ہیں ، وہ سب ہمارے علم میں ہیں۔ ہم خود ان سے نپٹ لیں گے ، مگر آپ ان کی ہر برائی کا جواب نیکی کے ساتھ دیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ لوگ بھی نرم پڑجائیں گے ، آپ کا کام آسان ہوجائے گا اور پھر کامیابی بھی آپ ہی کے حصے میں آئے گی۔ حضور ﷺ کا یہ فرمان بھی ہے کہ جس چیز میں سختی داخل ہوجاتی ہے۔ وہ اس کو بگاڑ دیتی ہے ، اور جس چیز میں نرمی پائی جاتی ہے وہ اس کو زینت بخشتی ہے۔ ساتھ یہ بھی فرمایا کہ ہر کام کا اپنا اپنا مقام ہوتا ہے۔ تعلیم وتربیت کے معاملہ میں تو بلا شبہ نرم روئی ہی بہترین ہتھیار ہے مگر جہاں نفاذ حدود کا تعلق ہو ، وہاں کسی قسم کی نرمی روا نہیں بلکہ مجرم کو پوری پوری سزا دی جائے گی اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ زانی مرد اور زانی عورت کو سو سو درے لگائو۔ ولا تاخذکم………………دین اللہ (النور 6) اور نفاذ دین کے معاملہ میں تمہیں ان پر کوئی ترس نہیں آنا چاہیے۔ یاد رہے کہ سو کوڑے مارنے کی سزا غیر شادی شدہ زانی اور زانیہ کے لئے ہے جبکہ شادی شدہ مردوزن کی صورت میں ان کی سزا سنگساری ہے۔ اسلام کے ابتدائی دور میں بعض اوقات بعض نو مسلم صحابہ ؓ کی زبان سے بےادبی کی باتیں بھی نکل جاتی تھیں مگر حضور ﷺ نے ہمیشہ شفقت اور محبت کا اظہار کیا اور کسی کو سختی سے جواب نہیں دیا۔ حضرت معاویہ بن حکم سلمی ؓ سے بعض ایسی باتیں سرزد ہوگئیں تھیں مگر ان کو پیار سے ساری بات سمجھادی۔ آخر ان کو کہنا پڑا فو اللہ مارایت معلما قبلہ خدا کی قسم میں نے ایسا معلم پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ انہوں نے نہ مجھے ڈانٹا اور نہ برا بھلا کہا بلکہ میری ہر درشتگی کا جواب نہایت عمدہ طریقے سے دیا۔ اسی لئے فرمایا کہ آپ برائی کا دفاع اچھائی کے ساتھ کریں۔ حضور ﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ اے ابوذر ؓ ! اگر تم سے کوئی بداخلاقی یا برائی کی بات ہوجائے تو اس کو نیکی کے ساتھ مٹائو ، ہر برائی کے پیچھے نیکی لگادو۔ اگر ایسا کرو گے تو برائیاں خود بخود مٹتی چلی جائینگی۔ اور اگر برائی کا جواب برائی سے دو گے تو برائی میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ تعوذ من الشیاطین : تبلیغ دین کے سلسلہ میں بعض اوقات بحث مباحثہ بھی ہوجاتا ہے اور پھر شیطان وسوسہ اندازی کرکے غصہ دلانے کی کوشش بھی کرتا ہے ، یہ شیطان کی چھیڑ چھاڑ کا نتیجہ ہوتا ہے۔ چونکہحضور ﷺ کو ایسے معاملات سے اکثر واسطہ پڑتا رہتا تھا ، اس لئے اللہ تعالیٰ نے شیطان کے شر سے محفوظ رہنے کے لئے آپ کو یہ دعا سکھلائی فرمایا ، وقل رب اعوذبک من ھمزت الشیاطین اے پیغمبر ! آپ اس طرح دعا کریں ، اے میرے پروردگار ! میں تیری ذات کے ساتھ پناہ چاہتا ہوں شیطانوں کی چھیڑ چھاڑ سے حضور ﷺ کا ارشاد مبارک بھی ہے کہ شیطان سے ہر موقع پر استعاذہ کرنا چاہیے چناچہ آپ نے یہ استعاذہ بھی سکھلایا ہے اعوذ باللہ من الشیطن الرحیم من ھمزہ ونفخہ ونفثہ میں اللہ کی پناہ پکڑتا ہوں شیطان مردود کی چھیڑ چھاڑ ، اس کے تکبر اور اس کے سحر سے ۔ حضور ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی شخص بیت الخلا میں جاتا ہے تو شیطان اس کے اعضائے مستورہ سے کھیلتے رہتے ہیں ، اسی لئے آپ (بخاری ص 936 ج 2 (فیاض) نے فرمایا کہ بیت الخلا جاتے وقت اس طرح استعاذہ کرنا چاہیے اللھم انی اعوذ بک من الخبث والخبائث اے اللہ ! میں نر اور مادہ شیاطین سے تیری ذات کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں۔ فرمایا ایک تو شیاطین کی چھیڑ چھاڑ سے پناہ مانگیں اور یہ بھی کہیں واعوذ بک رب ان یحضرون اے اللہ ! میں اس بات سے بھی تیری پناہ مانگتا ہوں کہ شیاطین میرے پاس حاضر ہوں۔ نہ وہ میرے پاس آئیں گے اور نہ وسوسہ اندازی کریں گے ، لہٰذا میں شیطان کے شر سے محفوظ رہوں گا۔ دنیا میں واپسی کی تمنا : فرمایا آپ دعوت دین کا کام کرتے رہیں ۔ اگر یہ لوگ نہیں مانیں گے تو پھر مرنے کے بعد انہیں سخت حسرت ہوگی۔ حتی اذا جاء احدھم الموت ، حتی کہ جب ان میں سے کسی کو موت آگئی تو ہر کافر ، مشرک اور نافرمان کہے گا۔ قال رب ارجعون اے پروردگار مجھے دنیا میں واپس لوٹا دے نافرمانوں کی یہ تمنا عالم برزخ میں بھی ہوگی اور اس خواہش کا اظہار وہ آخرت میں بھی کریں گے۔ سورة المنافقون میں اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ اللہ کی دی ہوئی روزی میں سے خرچ کرو پیشتر اس کے کہ جب تم میں سے کسی کو موت آجائے تو وہ کہنے لگے کہ اے پروردگار ! تو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور کیوں نہ دی۔ فاصدق……………الصلحین (المنافقون 1) تاکہ میں صدقہ و خیرات کرلیتا اور نیک لوگوں میں داخل ہوجاتا ، مگر ادھر سے جواب آئے گا۔ ولن …… …… اجلھا (آیت 11) مگر جب موت کا وقت آجاتا ہے۔ تو پھر خدا تعالیٰ کسی کو مہلت نہیں دیتا۔ اللہ تعالیٰ کا عام قانون بھی یہی ہے فاذاجاء ………………(الاعراف 34) جب مقررہ وقت آجاتا ہے تو نہ ایک گھڑی دیر سکتے ہیں اور نہ جلدی۔ فرمایا جب ان لوگوں کو موت آجاتی ہے تو پھر یہ تمنا کرتے ہیں کہ مولیٰ کریم ! ہمیں واپس لوٹا دے لعلی اعمل صالحا فیما ترکت تاکہ میں کچھ نیک کام کرلوں اس چیز میں جو میں نے پیچھے چھوڑی ہے۔ پیچھے چھوڑی جانے والی چیزوں میں ایک تو ایمان ہے جس کو اس نے دنیا میں ہی چھوڑ دیا اور اس کو اختیار کرکے ساتھ نہ لایا اور دوسری چیز مال ہے جو وہ دنیا میں چھوڑ آیا ہے اور اسے اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرسکا۔ اب تمنا کرتا ہے کہ مولیٰ کریم۔ مجھے دنیا میں واپس بھیج تو میں تیری وحدانیت اور وقوع قیامت پر ایمان بھی لے آئوں گا ، اور تیرے دیے ہوئے مال میں سے تیرے راستے میں خرچ بھی کروں گا۔ اس کے جواب میں اللہ نے فرمایا کلا خبردار ، یہ زجرا اور تنبیہ ہے ، تماری یہ خواہش ہرگز قبول نہیں ہوگی۔ انھا کلمۃ ھو قائلھا ، یہ ایک بات ہے جس کو وہ کہنے والا ہے۔ یہ اس کی تمنا ہی تمنا ہے ، محض آرزو ہے جو کبھی پوری نہیں ہوگی سورة انبیاء میں واضح کیا جاچکا ہے انھم لا یرجعون (آیت 95) کہ وہ دنیا میں واپس نہیں آسکیں گے جو ایک دفعہ چلا گیا ، اس کی واپسی ناممکن ہوگئی۔ برزخ کی زندگی : ارشاد ہوتا ہے ومن ورائھم برزخ ، اور ان کے آگے ایک پردہ ہے الی یوم یبعثون اس دن تک جب وہ دوبارہ اٹھائے جائیں گے ۔ مطلب یہ کہ اب انہیں قیامت تک اسی برزخی زندگی میں رہنا ہوگا۔ وراء کا لفظ اضداد میں سے ہے اور یہ آگے اور پیچھے دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ جب اس دنیا سے رخصت ہوگئے تو پھر پیچھے آنے کی خواہش تو پوری نہیں ہوگی ، البتہ ان کے آگے برزخ یا پردہ ہے۔ دوبارہ اٹھائے جانے کے دن تک۔ جب صوراسرافیل پھونکا جائیگا تو پھر سب دوبارہ جی اٹھیں گے ، اس وقت ان کے آگے پردہ ہے۔ عالم برزخ دنیا اور آخرت کا درمیانی جہان ہے۔ ان تینوں جہانوں کے احکام مختلف ہیں۔ مفسر قرآن حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ برزخ کا جہاں بقیۃ الدنیا یعنی اس دنیا کا باقی ماندہ حصہ ہے۔ شاہ ولی اللہ (رح) بھی برزخ کے متعلق فرماتے ہیں من بقاء ھذا العالم کہ یہ اس جہان کے بقایا میں سے ہے۔ وہاں کے مشاہدات صاف نظر نہیں آتے بلکہ ایسے نظر آتے ہیں جیسے کوئی جالی کے پیچھے سے دھندلی سی چیز نظر آئے ، پھر جب حشر برپا ہوگا ، اور عالم برزخ ختم ہوجائیگا تو پھر ہر چیز صاف نظر آنے لگے گی عالم برزخ میں بھی سزا اور جزا ملتی ہے۔ مگر وہ مکمل نہیں ہوتی بلکہ اصل سزا اور جزا کا کچھ نمونہ ہوتا ہے۔ امام ابن کثیر (رح) نے حدیث نقل کی ہے کہ عالم برزخ میں بعض ظالموں پر دو سانپ مسلط کردیے جاتے ہیں۔ ایک سر کی طرف سے کاٹتا ہے اور دوسرا پائوں کی طرف سے ، اور یہ عمل صوراسرافیل تک ہوتا رہے گا۔ دوسری روایت میں آتا ہے کہ بعض مجرموں پر ننانوے سانپ مسلط کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ اس نے خدا تعالیٰ کے ننانوے ناموں میں سے کسی ایک کو بھی یاد نہیں کیا ہوگا۔ شاہ صاحب (رح) یہ بھی فرماتے ہیں کہ عالم برزخ میں انسان بالکل انفرادی زندگی گزارے گا۔ چونکہ انفرادی زندگی کے احکام مختلف ہوتے ہیں اس لئے برزخی زندگی میں بھی اسے عقیدے سے تعلق رکھنے والی چیزیں ہی مفید ہوں گی۔ اگر دنیا میں اس کا عقیدہ اور فکر پاک تھی تو برزخ میں راحت حاصل ہوگی اور اگر اس میں خرابی تھی تو پھر سزا بھی ملے گی۔ حشر کے بعد جب سب لوگ دوبارہ جی اٹھیں گے ، تو پھر اجتماعی زندگی شروع ہوجائے گی۔ اس وقت کے احکام بھی مختلف ہوں گے۔ اس دن ہر قسم کے مجرموں کو ان کے جرائم کی نوعیت کے اعتبار سے علیحدہ علیحدہ قطاروں میں کھڑا کیا جائے گا۔ اس دن قطعی فیصلے ہوں گے اور ہر شخص کو اس کے عقیدے اور عمل کی بناء پر جزا یا سزا ملے گی۔
Top