Mualim-ul-Irfan - Aal-i-Imraan : 199
وَ اِنَّ مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ لَمَنْ یُّؤْمِنُ بِاللّٰهِ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكُمْ وَ مَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْهِمْ خٰشِعِیْنَ لِلّٰهِ١ۙ لَا یَشْتَرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰهِ ثَمَنًا قَلِیْلًا١ؕ اُولٰٓئِكَ لَهُمْ اَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ سَرِیْعُ الْحِسَابِ
وَاِنَّ : اور بیشک مِنْ : سے اَھْلِ الْكِتٰبِ : اہل کتاب لَمَنْ : بعض وہ جو يُّؤْمِنُ : ایمان لاتے ہیں بِاللّٰهِ : اللہ پر وَمَآ : اور جو اُنْزِلَ : نازل کیا گیا اِلَيْكُمْ : تمہاری طرف وَمَآ : اور جو اُنْزِلَ : نازل کیا گیا اِلَيْھِمْ : ان کی طرف خٰشِعِيْنَ : عاجزی کرتے ہیں لِلّٰهِ : اللہ کے آگے لَا يَشْتَرُوْنَ : مول نہیں لیتے بِاٰيٰتِ : آیتوں کا اللّٰهِ : اللہ ثَمَنًا : مول قَلِيْلًا : تھوڑا اُولٰٓئِكَ : یہی لوگ لَھُمْ : ان کے لیے اَجْرُھُمْ : ان کا اجر عِنْدَ : اپ اس رَبِّھِمْ : ان کا رب اِنَّ : ابیشک اللّٰهَ : اللہ سَرِيْعُ : جلد الْحِسَابِ : حساب
اور بیشک بعض اہل کتاب میں سے البتہ وہ ہیں جو اللہ تعالیٰ پر ایمان رکھتے ہیں ، اور اس چیز پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی اور اس چیز پر جو ان کی طرف اتاری گئی۔ وہ اللہ کے سامنے عاجزی کرنے والے ہیں۔ وہ نہیں خریدتے اللہ کی آیتوں کے بدلے کم قیمت یہی لوگ ہیں جن کے واسطے ان کے پروردگار کے پاس بدلہ ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے۔
ربط آیات : گذشتہ درس میں اللہ تعالیٰ نے کفار کا ذکر فرمایا کہ اے اہل ایمان ! کفار کی خوشحالی وسعت کاروبار ، اعلی ذرائع آمدورفت ، اچھی خوراک اور اچھی رہائش کہیں تمہیں اس مغالطے میں نہ ڈال دے کہ یہ لوگ اللہ کے محبوب ہیں۔ فرمایا یہ تو دنیا میں استعمال کے لیے انہیں تھوڑا سا سامان دیا گیا ہے۔ اور پھر مرنے کے بعد ان کا ٹھکانا جہنم میں ہوگا جو کہ بہت ہی بری جگہ ہے۔ فرمایا البتہ عام متقین کے لیے ان کے رب کے پاس بدلہ ہے۔ انہیں جنت میں داخل کیا جائیگا ، وہ اللہ رب العزت سے اعلی انعام پائیں گے ، اللہ تعالیٰ ان کی مہمانداری کریں گے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے خاص متقین کا ذکر فرمایا ہے۔ کہ اہل کتاب میں سے جو لوگ ایمان لائیں گے ان کے لیے بھی اللہ تعالیٰ نے بہت بڑا اجر تیار کر رکھا ہے۔ سارے اہل کتاب برابر نہیں : اسی سورة میں اہل کتاب کے متعلق پہلے بھی گزر چکا ہے۔ لیسوا سواء۔ سارے کے سارے اہل کتاب تو ایک جیسے نہیں۔ اگر ان کی اکثریت قرآن پاک ، نبی خاتم النبیین ﷺ اور اسلام کے دشمن ہیں تو ان میں سے اچھے لوگ بھی ہیں جو اسلام کی حقانیت کو سمجھتے ہیں۔ وہ تعصب اور عناد کو چھوڑ کر ایمان کو قبول کرلیتے ہیں جو اسلام کی حقانیت کو سمجھتے ہیں۔ وہ تعصب اور عناد کو چھوڑ کر ایمان کو قبول کرلیتے ہیں ، اگرچہ وہ تعداد میں قلیل ہیں۔ ایسے سمجھدار لوگ ہر زمانے میں پائے گئے ہیں۔ حضور ﷺ کے زمانے میں عبداللہ بن سلام یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے ، مگر اللہ کی توفیق سے اسلام قبول کیا۔ ان کے ساتھ بہت سے دوسرے لوگ بھی حلقہ بگوش اسلام ہوئے۔ تمیم داری مشہور عیسائی تھے۔ صہیب رومی کا تعلق بھی اسی مذہب سے تھا ، سلمان فارسی جیسی عظیم المرتبت شخصیت کا پہلا دین عیسائیت تھا۔ ان سب نے اسلام قبول کیا اور مسلمانوں کی صفِ اول میں جگہ پائی۔ بعض مفرین فرماتے ہیں کہ لیسو سواء والی آیت میں یہودیوں کی طرف اشارہ ہے کہ وہ سب برابر نہیں ہیں۔ ان میں کچھ اچھے لوگ بھی ہیں اور اس آیت ان من اھل الکتب سے نصاری مراد ہیں۔ یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام کے متعلق حضور ﷺ نے فرمایا عبداللہ مثل عاشر عشرہ۔ کہ وہ عشرہ مبشرہ کی طرح ہیں۔ یعنی وہ ان دس صحابہ کی طرح ہیں جنہیں حضور ﷺ نے بیک وقت جنت کی بشارت دی۔ ان میں حضرات ابوبکر صدیق ، عمر فاروق ، عثمان غنی ، علی المرتضی ، طلحہ ، زبیر ، سعد ، سعید ، ابوعبیدہ ، عبدالرحمن ، ؓ شامل ہیں۔ یعنی حضرت عبداللہ بن سلام ان دس صحابہ کی طرح جنتی ہیں۔ مسلم شریف اور ترمذی شریف کی روایت میں آتا ہے کہ عبداللہ بن سلام نے خواب دیکھا اور حضور ﷺ کے پاس بیان کیا ، تو آپ نے فرمایا۔ ان تموت علی الایمان۔ یعنی تمہارا خاتمہ بالایمان ہوگا۔ آپ نے یہ بشارت اسی وقت سنا دی تھی۔ نجاشی کا قبول اسلام : امام نسائی اور امام بیضاوی نے حضرت انس سے روایت بیان کی ہے اور امام ابن جریر نے حضرت جابر ؓ سے نقل کیا ہے کہ نجران کے چالیس عیسائی ایمان قبول کرچکے تھے۔ حبشہ میں بھی بتیس خوش نصیب ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئے ، مدینے کے یہودیوں میں سے حضرت عبداللہ بن سلام سر فہرست تھے اور حبشہ کے بادشاہ نجاشی خود ایمان لے آئے۔ امام نسائی فرماتے ہیں۔ کہ مکہ سے ہجرت کرکے دو قافلے حبشہ پہنچے۔ پہلے قافہلہ میں تو مہاجرین کی تعداد کم تھی ، تاہم دوسرا اسی افراد پر مشتمل تھا جس میں حضرت عثمان بمع اپنی زوجہ اور حضور ﷺ کی دختر حضرت رقیہ شامل تھے۔ حضرت جعفر بھی بمع اپنی زوجہ اسماء کے ساتھ اسی قافلے کے ہمراہ گئے۔ فرماتے ہیں کہ نجاشی نے حضرت عثمان اور حضرت جعفر کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا تھا۔ اسے حضور ﷺ کی ملاقات کا زیست بھر شوق رہا۔ مگر اس کی یہ حسرت پوری نہ ہوسکی۔ مورخین لکھتے ہیں کہ ایک موقع پر نجاشی نے تیس افراد پر مشتمل ایک وفد جس میں اس کا اپنا بیٹا بھی تھا ، حضور ﷺ کی خدمت میں بھیجا تھا۔ یہ وفد بحری سفر کے دوران سمندری طوفان کی نذر ہوگیا ، کشتی ڈوب گئی اور ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچ سکا۔ البتہ اس کے علاوہ ایک اور قافلہ وہاں سے مدینے آیا اور ایمان قبول کیا ، اس کا ذکر ساتویں پارے کی ابتداء میں آئے گا۔ اہل کتاب کے لیے دہرا اجر : امام بغوی نے اپنی تفسیر میں لکھا ہے کہ نجاشی کی وفات کے وقت وہاں پر ایک بھی مسلمان موجود نہیں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے ذریعے حضور ﷺ کو خبر دی کہ آج نجاشی فوت ہوگیا ہے۔ وہ صاحب ایمان تھا ، لہذا آپ اس کی نماز جنازہ ادا کریں۔ چناچہ نبی کریم ﷺ نے اس بات کا عام اعلان فرمایا۔ لوگ باہر عید گاہ میں نکلے ، دو بڑی بڑی صفیں بنیں اور نجاشی کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ امام بغوی فرماتے ہیں۔ کہ حقیقت میں یہ جنازہ غائبانہ نہیں تھا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ نے مدینے اور حبشہ کے درمیان موجود تمام پردے ہٹا دیے اور نجاشی کی میت حضور ﷺ کو نظر آنے لگی اور اس طرح یہ جنازہ گویا حاضر میت پر ہی پڑھا گیا۔ یہ بالکل اسی طرح ہوا ، جس طرح مشرکین کے بیت المقدس سے متعلق سوال کرنے پر اللہ تعالیٰ نے درمیانی تمام پردے چاک کرکے بیت المقدس حضور ﷺ کے سامنے کردیا تھا اور آپ ہر سوال کا جواب بیت المقدس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ کردیتے جاتے تھے۔ نماز جنازہ غائبانہ طور پر درست ہے یا نہیں ، یہ مسئلہ متنازعہ ہے۔ امام ابوحنیفہ (رح) فرماتے ہیں۔ کہ جس مسلمان کا جنازہ پڑھنے والا کوئی مسلمان موجود نہ ہو ، اس کا غائبانہ جنازہ پڑھا جاسکتا ہے۔ یہ نماز فرض کفایہ ہے اور چند مسلمانوں کی طرف سے نماز جنازہ پڑھ لینا سب کو کفایت کرجاتا ہے ، نجاشی کا جنازہ غائبانہ ایک تو اس وجہ سے جائز تھا کہ اس وقت حبشہ میں کوئی مسلمان موجود نہیں تھا لہذا اس کا جنازہ پڑھنا دوسرے مسلمانوں پر ضروری ہوگیا تھا۔ اور دوسری وجہ یہ بھی ہے۔ کہ یہ جنازہ حقیقت میں غائبانہ نہیں تھا کیونکہ نجاشی کی میت حضور ﷺ کی آنکھوں کے سامنے کردی گئی تھی۔ بعض حضرات اسی واقعہ نجاشی سے غائبانہ جنازہ کا جواز نکالتے ہیں مگر صحیح مسلک یہی ہے۔ کہ اگر کسی مرنے والے کا جنازہ بعض آدمیوں نے پڑھ لیا تو سب کو کفایت کر گیا ، اب دوبارہ غائبانہ جنازہ پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ امام بغوی (رح) لکھتے ہیں کہ جب حضور ﷺ نے نجاشی کا جنازہ ادا کرنے کا اعلان فرمایا تو منافقین نے کہا ، حضور ! وہ جو حبشی غلام ہیں کیا ہم ان کی نماز جنازہ پڑھیں ، فرمایا وہ مومن تھا اور ایمان لا کر اعلی مقام حاصل کرچکا تھا۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ کی روایت میں آتا ہے کہ صحابہ کرام بیان کرتے تھے کہ کافی عرصہ تک نجاشی کی قبر پر نور برستا دکھائی دیتا رہا۔ فرماتے ہیں کہ نجاشی کا جنازہ پڑھنے پر بعض منافقین نے اعتراض کیا کہ دیکھو ! مسلمان کن لوگوں کے جنازے پڑھ رہے ہیں۔ مگر بعض خالص مسلمانوں کو بھی تردد تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے حضور ﷺ کو خبر دے کر واضح کردیا کہ نجاشی ایمان قبول کرکے مومن ہوچکا تھا۔ بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ آیت زیر درس اسی موقع پر نازل ہوئی تھی۔ فرمایا۔ وان من اھل الکتب۔ اہل کتاب میں سے بعض ایسے ہیں۔ لمن یومن باللہ۔ جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں۔ و اما انزل الیکم۔ اور اس چیز پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی۔ وما انزل الیھم۔ اور جو ان کی طرف اتاری گئی۔ کچھ اہل کتاب ایسے ہیں کہ جو تورات اور انجیل پر بھی ایمان رکھتے تھے اور جب اللہ تعالیٰ نے قرآن پاک کا نزول فرمایا تو اس پر بھی ایمان لے آئے۔ حدیث شریف میں آتا ہے۔ کہ تین آدمی ایسے ہیں جو دوہرے اجر کے مستحق ہیں۔ پہلا شخص وہ مسلمان غلام ہے جو اللہ کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ اس کے حکم کے مطابق زندگی بسر کرتا ہے۔ اور پھر اپنے دنیوی آقا کا حق بھی ادا کرتا ہے۔ اس کی خدمت کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتا ، فرمایا اس کے لیے اللہ کے ہاں دوہرا اجر ہے۔ اس اجر کا حقدار دوسرا وہ شخص ہے جو اپنی لونڈی کی اچھی تربیت کرتا ہے ، پھر اس کو آزاد کرکے اس سے نکاح کرلیتا ہے اور تیسرا وہ شخص بھی دوہرے اجر کا مستحق ہے جو پہلے کسی دوسرے نبی اور دوسری کتاب پر ایمان رکھتا ہے اور پھر حضور ﷺ کا زمانہ پا کر آپ پر اور قرآن پاک پر ایمان لے آتا ہے۔ آیت کے اگلے حصے میں اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی دو صفات بھی بیان فرمائی ہیں۔ اور پھر ان کے اجر کا تذکرہ کیا ہے۔ قریبی دور کے نومسلم : اس قسم کے لوگ ہر زمانہ میں موجود رہے ہیں۔ بعض انصاف پسند لوگوں کو ہمیشہ دوہرا اجر حاصل ہوتا رہا ہے۔ ہمارے قریبی زمانہ انیسویں اور بیسویں صدی میں ایسے کئی خوش نصیب ہمارے سامنے ہیں۔ ڈاکٹر اقبال کے جد امجد برہمن تھے۔ اللہ نے ایمان نصیب فرمایا۔ مولانا احمد علی لاہور کے والد اولا ہندو تھے ، زرگری کا کام کرتے تھے ، اللہ نے ایمان بخشا۔ اسی طرح مولانا عبیداللہ سندھی سکھ تھے۔ وہ خود ایمان کی دولت سے مالا مال ہوئے اور اعلی مقام پایا۔ یہاں آپ کے ضلع میں پروفیسر محبوب الہی سکھ مذہب رکھتے تھے۔ اللہ نے ایمان بخشا۔ اسلامیہ ہائی سکول کے تیچر ابراہیم صاحب کے والد اور مولانا احمد علی کے والد اکٹھے مسلمان ہوئے۔ اسیران مالٹا میں سے واحد زندہ شخصیت مولانا عزیر گل کی بیوی انگریز تھی ، وہ بھی ایمان لائی اور تیس سال تک آپ کے عقد میں رہی۔ ابھی چند سال پہلے فوت ہوئی ہے۔ بڑی عبادت گزار خاتون تھیں۔ تحفۃ الہند کے مصنف ہندو تھے۔ پٹیالے کے رہنے والے تھے۔ شاہ اسماعیل شہید (رح) کی جماعت کے آدمیوں سے متاثر ہو کر ایمان لائے۔ آپ نے اسلام کے حقائق اور شرک کی تردید میں بڑی اچھی کتاب لکھی ہے۔ اب بھی ایک آدمی زندہ ہے جو یہودی تھا اور ترکوں کے دور کے آخری حصے میں مسلمان ہوا۔ اس وقت مصر ، اردن اور شام کا مدینے کے ساتھ رابطہ بذریعہ ریل قائم تھا۔ اردن میں تو اب بھی یہ ریل چلتی ہے ، مگر سعودی عرب والا حصہ جنگ عظیم میں ایسا تباہ ہوا جو آج تک بحال نہیں ہوسکا۔ بہرحال اس جرم یہودی کا پہلا نام لیوپولڈ تھا ، مسلمان ہو کر محمد اسد کہلایا۔ اس شخص نے مطالعہ اسلام کے لیے مصر سے بذریعہ ریل سفر کا آغاز کیا۔ گاڑی میں فلسطین کے کچھ مسلمان بدو بھی ہم سفر تھے۔ دوران سفر ایک بدو کسی سٹیشن پر اترا اور کھانے کے لیے دو روٹیاں لے آیا۔ اس نے کھانے میں شرکت کے لیے لیوپولڈ کو بھی دعوت دی اور کہا۔ بسم اللہ علی برکۃ اللہ۔ تناول فرمائیں۔ اس نے معذرت چاہی مگر اس بدو نے اصرار کیا کہ ہم مسلمانوں کا یہی طریقہ ہے۔ کہ ہم ساتھیوں کو بھی کھانے کی دعوت دیتے ہیں ، وہ شخص اس پیش کش سے بہت متاثر ہوا۔ اس شخص نے بدو کے سامنے اسلام پر یہ اعتراض پیش کیا۔ کہ تمہارے بقول اسلام ایک عالمگیر اور منصفانہ دین ہے مگر اس کا یہ قانون عجیب معلوم ہوتا ہے کہ ایک مسلمان آدمی اہل کتاب عورت سے تو شادی کرسکتا ہے مگر ایک مسلمان عورت کسی یہودی یا عیسائی کے ساتھ نکاح نہیں کرسکتی۔ وہ بدو باشعور تھا ، فوراً معاملے کی تہہ تک پہنچ گیا اور اعتراض کی وضاحت یوں کی کہ مسلمان حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) سمیت تمام انبیائے کرام پر ایمان رکھتے ہیں۔ لانفرق بین احد منھم۔ اور ان کی اسی طرح تکریم کرتے ہیں جس طرح نبی آخر الزمان (علیہ السلام) کی کرتے ہیں۔ اگر کوئی یہودی یا عیسائی عورت مسلمان کے گھر میں آجاتی ہے ، تو وہ اس گھر میں اپنے نبی اور اس کی کتاب کے متعلق کوئی تکلیف دہ بات نہیں سنے گی بلکہ اپنے نبی کا عزت و اھترام دیکھے گی۔ برخلاف اس کے اگر مسلمان عورت کسی یہودی یا عیسائی کے گھر داخل ہوگی۔ تو وہ اپنے نبی آخر الزماں (علیہ السلام) کی تعظیم و تکریم کو محفوظ نہیں پائے گی۔ جس کی وجہ سے وہ ہمیشہ ذہنی کوفت میں مبتلا رہے گی۔ لہذا اسلام نے کسی مسلمان عورت کو غیر مسلم سے نکاح کی اجازت نہیں دی۔ اس بات نے بھی لیوپولڈ پر اثر کیا۔ اور اللہ تعالیٰ نے اس کا دل ایمان کے لیے کھول دیا۔ اس شخص نے اسلام کی تائید میں بڑی اچھی کتابیں لکھی ہیں جن میں Road of Makkah (شاہراہ مکہ) بڑی اچھی کوشش ہے ، اور Islam at Theoross Road (اسلام چور رستے پر) بھی اعلی کتاب ہے۔ یہ شخص مسلمانوں کی زبوں حالی کا بڑا شاکی ہے۔ ماما ڈیوک بھی عیسائی تھا۔ ترکی میں جاسوسی کرنے کی غرض سے گیا۔ اس دور کے شیخ الاسلام کی مجالس میں شمولیت اختیار کی جس کا اثر یہ ہوا کہ عیسائیت چھوڑ کر اسلام میں داخل ہوگیا۔ ضلع جہلم میں پروفیسر غازی احمد آج بھی زندہ سلام تموجود ہے جس نے خود اسلام قبول کیا۔ اس کا باپ کٹر ہندو تھا۔ اسلام قبول کرکے بڑے مصائب کا شکار ہوا۔ والدین کی طرف سے سختیاں جھیلیں اور آخر کار دل پر پتھر رکھ کر ہمیشہ کے لیے ان سے علیحدہ ہوگیا۔ اللہ تعالیٰ نے علم جیسی نعمت عطا کی ، اس نے ہدایہ کا اردو ترجمہ بھی کیا ہے۔ ملکہ وکٹوریہ کے زمانے میں شاہی خاندان کے فرد کو یلم نے اسلام قبول کیا۔ اس نے قبول اسلام کا واقعہ خود لکھا ہے جسے طنطاوی جوہری (رح) نے تفسیر الجواہر میں نقل کیا ہے۔ کو یلم تبدیلی آب و ہوا کے لیے الجزائر گیا ، وہاں پر مسلمانوں کے وضوء کے طریقے سے متاثر ہو کر اسلام قبول کرلیا۔ خود بیرسٹر تھا۔ اس کے ساتھ خاندان کے مزید چالیس افراد نے ایمان قبول کیا۔ انگریزوں نے اس پر عدالت میں مقدمہ دائر کیا۔ اس نے اپنے مقدمہ کی خود پیروی کی اور انگریز نامراد رہے۔ غرض اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تمام غیر مسلم ایک سے نہیں ہوتے بلکہ ان میں بعض منصف مزاج بھی ہوتے ہیں۔ جو حق کو قبول کرلیتے ہیں اور ایسے لوگ ہر دور میں پائے گئے ہیں۔ خشیت الہی : آگے اللہ تعالیٰ نے ایسے لوگوں کی صفات بیان فرمائی ہیں۔ پہلی صفت یہ ہے کہ وہ خشعین للہ ۔ اللہ کے سامنے عاجزی کرنے والے ہوتے ہیں۔ خشیت الہی یا اخبات للہ اسلام کے چار اہم اصولوں میں سے ایک ہے۔ اور ہر اہل ایمان کے لیے ضروری ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کا اظہار کرے حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس امت سے جو چیز سب سے پہلے اٹھے گی وہ اخبات ہے۔ فرمایا مسجد نمازیوں سے بھری ہوگی مگر پانچ سو آدمیوں میں سے۔ لاتری فیہ خاشعا۔ ایک بھی صاحب خشوع و خضوع نظر نہیں آئے گا ، اخبات کا اس قدر قحط واقع ہوجائیگا۔ اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرنا جزو ایمان ہے ، جو شخص اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی کرے گا ، وہ اپنے گردوپیش والوں کے ساتھ بھی تواضع سے پیش آئیگا۔ وہ کسی بات پر اکڑ نہیں دکھائے گا حضور ﷺ نے فرمایا۔ لایبغی بعضکم علی بعض۔ تم ایک دوسرے کے ساتھ فخر و غرور کے ساتھ مت پیش آؤ، ہمیشہ انکساری اختیار کرو۔ فرمایا ایسے لوگوں کی دوسری صفت یہ ہے۔ لایشترون بایات اللہ ثمنا قلیلا۔ وہ اللہ کی آیتوں کے بدلے دنیا کا حقیر مال نہیں خریدتے۔ گذشتہ دروس میں کئی مقامات پر آ چکا ہے۔ کہ اہل کتاب اللہ کی آیتوں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے تھے۔ یہاں فرمایا کہ بعض اچھے ہیں جو ایسا نہیں کرتے۔ یہ بہت بڑی بیماری ہے ، جو اہل کتاب سے مسلمانوں میں بھی آگئی ہے دھوکے فریب کی کمائی اسی قبیل سے ہے۔ غلط مسائل بتا کر اس کی فیس وصول کی جاتی ہے۔ یہ اللہ کی آیتوں کو بیچنے کے مترادف ہے۔ حساب میں جلدی : فرمایا۔ اولئک لھم اجرھم عند ربھم۔ ایسے لوگوں کا اپنے پوردگار کے ہاں بہتر اجر ہے۔ بلکہ جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا ہے۔ اللہ تعالیٰ دوہرا اجر عطا فرمائیں گے۔ ان اللہ سریع الحساب۔ اللہ تعالیٰ جلد حساب لینے والا ہے قیامت قریب ہے اور ہر شخص کا حساب جلدی شروع ہونے والا ہے۔ لہذا اسے غافل نہیں رہنا چاہئے۔ اور پھر یہ بھی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ حساب جلدی لینے والا ہے۔ تو اس کا اجر بھی جلدی عطا کرے گا اس میں کسی قسم کی دیر نہیں ہوگی۔ اچھا یا برا بدلہ جس کا کوئی شخص حقدار ہوگا۔ فوراً پا لے گا۔
Top