Mualim-ul-Irfan - Aal-i-Imraan : 200
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠   ۧ
يٰٓاَيُّھَا : اے الَّذِيْنَ اٰمَنُوا : ایمان والو اصْبِرُوْا : تم صبر کرو وَصَابِرُوْا : اور مقابلہ میں مضبوط رہو وَرَابِطُوْا : اور جنگ کی تیاری کرو وَاتَّقُوا : اور ڈرو اللّٰهَ : اللہ لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم تُفْلِحُوْنَ : مراد کو پہنچو
اے ایمان والو ! صبر کرو اور مقابلے میں مضبوط رہو۔ اور لگے رہو ، اور اللہ سے ڈرتے رہو تاکہ تم فلاح پا جاؤ۔
خلاصہ سورة : پانچ اصول : سورة آل عمران کی یہ آخری آیت ہے۔ یہ لمبی اور عظیم سورتوں میں سے ہے۔ سورة کے اختتام پر اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں سے خطاب کرکے اس سورة کے خلاصہ طور پر پانچ اصول بیان فرما دیے ہیں اور اس کے چھٹی بات مومنوں کے لیے فلاح و کامیابی کا مثدہ ہے۔ آج کی یہ آخری آیت پوری سورة کا لب لباب اور ایک جامع نصیحت پر مشتمل ہے۔ دوسرے لفظوں میں پوری سورة آل عمران اس آخری آیت میں مذکورہ پانچ اصولوں کی تشریح ہے۔ ارشاد ہوتا ہے۔ یا ایہا الذین امنوا۔ اے ایمان والو ! اس آیت میں خطاب ہی ایمان والوں سے ہے۔ انسان کے لیے سب سے اہم مطلوبہ چیز ایمان ہے۔ اس لحاظ سے یہ ایمان والوں سے خطاب بھی ہے اور ایک اہم اصول بھی ہے۔ انسان کی سعادت ، فلاح ، نجات اور دنیا و آخرت میں کامیابی ایمان پر ہی موقوف ہے۔ اس سورة کی ابتداء سے اختتام تک ایمان ہی کی بات سمجھائی گئی ہے۔ اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے بیس سے زیادہ مقامات پر شرک کی تردید فرمائی ہے اور واضح کردیا ہے۔ کہ جس طرح اللہ کی ذات میں کوئی شریک نہیں اسی طرح علم میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں ، علیم کل بھی وہی ہے اور عالم الغیب بھی وہ خود ہی ہے۔ کہیں مغالطے میں پڑ کر شرک نہ کر بیٹھنا۔ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی بالوضاحت فرما دیا ہے کہ ہر قسم کی عبادت بدنی ہو یا مالی صرف اسی کی ذات کے لیے ہے۔ عبادت میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں تمام کائنات کا تصرف اور اختیار بھی اللہ جل جلالہ کے پاس ہے۔ اس میں بھی اس کا کوئی شریک نہیں۔ یہ تمام چیزیں ایمان کی بنیاد ہیں ، ان باتوں میں ذرا سی لغزش مشرک بن جانے کے لیے کافی ہے۔ نذر و نیاز بھی اللہ کے سوا کسی کے لیے روا نہیں۔ اسی سورة میں حضرت مریم (علیہا السلام) کی والدہ کی نذر کا ذکر آ چکا ہے۔ رب انی نذرت لک ما فی بطنی محررا۔ اے مولا کریم ! جو کچھ میرے پیٹ میں ہے وہ تیری رضا کی خاطر وقف کرنے کی نذر مانتی ہوں۔ گویا نذرونیاز بھی صرف اللہ تعالیٰ کے تقرب کے لی ہونی چاہئے۔ غیر اللہ کے تقرب کی نذر کفر تک پہنچا دے گی۔ اور یہ چیز ایمان کے منافی ہوگی۔ اس سورة میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام امور کی نشاندہی فرما دی ہے۔ جو ایمان میں خلل کا باعث بن سکتے ہیں۔ شرک کی مختلف صورتوں کو بھی واضح کردیا ہے۔ غرض ! ایمان تمام اصولوں کا بنیادی اصول ہے ، اور اس کے بعد چار دیگر اصول بھی بیان کردیے گئے ہیں۔ دوسرا اصول : فرمایا اے ایمان والو ! اصبروا ، صبر کرو۔ اس سورة میں کتنے ہی مقامات پر اہل ایمان کی تکالیف اور ایذا رسانیوں کا تذکرہ بیان ہوا ہے۔ اور پھر اللہ تعالیٰ نے ہر مقام پر صبر کی تلقین کی ہے۔ تکالیف کو برداشت کرنے کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ اللہ کے سچے انبیاء حضرات موسیٰ (علیہ السلام) ، عیسیٰ (علیہ السلام) ، ابراہیمی (علیہ السلام) ، یحییٰ (علیہ السلام) ، زکریا (علیہ السلام) اور پھر آخر میں خاتم النبیین ﷺ نے کس قدر تکالیف برداشت کیں اور ان پر صبر و تحمل کا کیسا نمونہ پیش کیا۔ اس سورة میں غزوہ احد کی بہت سی تفصیلات بیان ہوئی ہیں جن سے مسلمانوں پر مصائب کے پہاڑ ٹوٹنے کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے۔ اور پھر یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں صحابہ کرام اور خود حضور ﷺ نے صبر کا کتنا بڑا معیار قائم کیا۔ سورة کے مختلف مقامات پر اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کو خطاب کرکے فرمایا ہے۔ وان تصبروا۔ یعنی اگر صبر کروگے ، تو کامیابی حاصل کرلوگے ، سورة بقرہ میں بھی صبر کا اصول اللہ تعالیٰ نے بڑی وضاحت کے ساتھ بیان فرمایا ہے ، یہ ملت ابراہیمی کا ایک اہم اصول ہے وہاں بھی صبر کرنے کی بڑی تاکید آئی ہے۔ ایک جگہ فرمایا۔ یا ایہا الذین امنوا استعینوا بالصبر والصلوۃ۔ اے ایمان والو صبر اور نماز کے ساتھ استعانت پکڑو۔ اطاعت کے لیے سبر بہت ضروری ہے نماز ، روزہ ، حج ، زکوۃ جیسی اطاعتیں صبر کے بغیر ممکن نہیں ، لہذا صبر بہت ضروری اصول ہے۔ صبر کا لغوی معنی روکنا یا ضبط کرنا ہے ، لہذا صبر کی ایک دوسری صورت نفس انسانی کو خواہشات سے روکنا ہے۔ نفس ہمیشہ خواہشات کے پیچھے چلتا ہے۔ اور اس کو ڈسپلن کا پابند بنانا بھی صبر ہی کی ایک قسم ہے۔ صبر کی ایک قسم یہ ہے۔ کہ انسان پر دین کے سلسلہ میں جس قدر مشکلات آئیں ، ان کو برداشت کرے۔ گویا صبر انسانی زندگی کے ہر موڑ پر کام آنے والا اصول ہے۔ کوئی نقصان ہوجائے۔ جان چلی جائے ، مقدمہ پیش آجائے۔ ہنگامہ ہوجائے ، جنگ چھڑ جائے ہر معاملے میں صبر کی ضرورت پیش آتی ہے اور اس کے بغیر انسان کی کامیابی ممکن نہیں ہے۔ تیسرا اصول ، تلقین صبر : اللہ تعالیٰ نے تیسرا اصول فرمایا۔ وصابرو۔ اور مقابلے میں مضبوط رہو۔ پہلے فرمایا تھا ہر تکلیف پر خود صبر کر ، اب فرمایا ، اور مقابلہ میں مضبوط رہو۔ اس کے علاوہ بھی قرآن کریم میں متعدد مقامات پر دوسروں کو صبر کی تلقین کرنیکا حکم دیا گیا ہے۔ کہ انہیں ترغیب دو کہ وہ مشکلات پر صبر کے ذریعے قابو پائیں سورة بلد میں فرمایا۔ وتواصوا بالصبر وتواصوا بالمرحمۃ۔ یعنی ان لوگوں میں ہوجاؤ جو ایک دوسرے کو صبر اور رحم کی تلقین کرتے ہیں سورة العصر میں بھی ایسا ہی آتا ہے۔ وتواصوا بالحق وتواصوا بالصبر۔ یعنی خسارے سے محفوظ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ایک دوسرے کو حق اور صبر کی تلقین کی۔ گویا ایمان کے ساتھ ساتھ اعمال صالحہ اور تواصی بالصبر بھی ضروری ہے۔ حق اور صبر کی تلقین ایک جیسی ضروری ہیں۔ صابروا میں یہ بات بھی آگئی کہ خود بھی ایمان پر قائم رہو اور دوسروں کو بھی قائم رہنے کی تلقین کرتے رہو۔ غرضیکہ ایک اصول خود صبر کرنا ہے اور دوسرا اصول تواصی بالصبر ہے۔ چوتھا اصول۔ رباط : اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے چوتھے اصول کے متعلق فرمایا۔ ورابطوا۔ نیکی اور اطاعت کے کاموں میں لگے رہو۔ رابطہ در اصل دشمن کی سرحد پر گھوڑے باندھنے کو کہتے ہیں۔ جہاں دو ملکوں کی سرحدیں ملتی ہیں ہو ہاں سرحدوں کی حفاظت کے لیے ہمہ وقت مستعد رہنا بھی انہی معانی میں آتا ہے۔ اسلامی ملک کی سرحدوں کی حفاظت کرنے اور وہاں پر پہرہ دینے کی بڑی فضیلت آئی ہے۔ یہ اس لیے ضروری ہے کہ کہیں دشمن حملہ کرکے اسلام کے پروگرام میں خلل اندازی نہ کرے۔ لہذا سرحدوں کی حفاظت اہل اسلام کے لیے فرض ہوجاتی ہے حدیث شریف میں آتا ہے۔ رباط یوم خیر من صیام شھر وقیامہ۔ (مسند احمد) یعنی سرحد پر ایک رات پہرہ دینا مہینہ بھر کی نفلی عبادت سے افضل ہے۔ ایک دوسری روایت میں فرمایا۔ خیر من الف شہر۔ ایک ہزار مہینوں کی نفلی عبادت سے افضل ہے اور جو شخص سرحدوں کی حفاظت کے دوران فوت ہوگیا ، تو اس کا یہ عمل قیامت تک کے لیے لکھا جائے گا۔ ایک روایت میں یہ بھی آتا ہے کہ ایسا شخص قبر کے فتنے سے مامون رہے گا۔ رباط کی دو صورتیں ہیں ، ایک ظاہری اور ایک باطنی۔ ظاہری رباط کا بیان تو ہوچکا۔ باطنی رباط یہ ہے کہ انسان شیطان کے مقابلے میں مستعد ہوجائے۔ اور اسے دخل اندازی نہ کرنے دے۔ جس طرح ظاہری دشمن کے مقابلے میں سرحدوں کی حفاظت ضروری ہے۔ اسی طرح باطنی دشمن شیطان کا مقابلہ کرنا بھی ضروری ہے تاکہ وہ وسوسہ اندازی نہ کرسکے۔ انسان جب تک نیکی میں لگا رہے گا ، شیطان دخل نہیں دے سکے گا۔ جب آدمی غافل ہوجاتا ہے تو شیطان کا وسوسہ اندازی کا موقع مل جاتا ہے۔ لہذا شیطان کے مقابلے میں باطنی رباط بھی ضروری ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے۔ الا ادلکم علی ما یمحو اللہ بہ الخطایا و یرفع بہ الدرجات قالوا بلی یا رسول اللہ قال اساغ الوضوء علی المکارہ وکثرۃ الخطا الی المساجد وانتظار الصلوۃ بعد الصلوۃ فذالکم الرباط۔ آپ نے صحابہ کرام کو فرمایا کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتاؤں جس کے ذریعے اللہ تعالیٰ خطاؤں کو مٹاتا ہے اور درجات کو بلند کرتا ہے۔ لوگوں نے عرض کیا ، حضور ! کیوں نہیں۔ فرمایا۔ تکلیف برداشت کرکے کامل وضو بنانا ، مسجد کی طرف کثرت سے قدم اٹھانا اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا یہ تمہارا رباط ہے۔ یہ بات آپ نے تین دفعہ فرمائی۔ پانچواں اصول تقوی : آگے فرمایا۔ واتقوا اللہ۔ اے ایمان والو ! اللہ سے ڈرتے ہو ، یعنی تقوی اختیار کرو۔ اور یہ بھی اہم اصول ہے۔ تقوی کا معنی اللہ تعالیٰ سے ڈر جانا ، برائیوں سے بچ جانا اور اللہ کی حدود کو قائم کرنا ہے۔ شاہ ولی اللہ اپنی کتاب الطاف القدس میں فرماتے ہیں۔ تقوی محافظت است برحدود شرع ، یعنی شریعت کی حدود کی حفاظت کرنا تقوی کہلاتا ہے۔ اور تقوی میں عدل اور احسان اور شعائر اللہ کی تعظیم بھی شامل ہے شیخ عبدالقادر جیلانی نے غنیۃ الطالبین میں تقوی کی تشریح کرنے کے بعد یہ آیت نقل کی ہے۔ ان اللہ یا مر بالعدل والاحسان ایتاء ذی القربی وینھی عن الفحشاء والمنکر والبغی۔ گویا تقوی میں عدل قائم کرنا ، لوگوں کے ساتھ احسان کرنا ، سرکشی بےحیائی اور بری باتوں سے بچ جانا بھی شامل ہے۔ تقوی کا لفظی معنی ڈر اور بچاؤ ہے۔ جو شخص اللہ سے ڈر کر اس کی نافرمانی سے بچ جاتا ہے وہ تقوی کو پالیتا ہے۔ اس سورة مبارکہ میں جگہ جگہ تقوی کی تعلیم دی گئی ہے۔ الغرض ! یہ پانچواں اصول ہے جو اس سورة میں بیان ہوا ہے۔ فرمایا خود صبر کرو ، دوسروں کو صبر کی تلقین کرو۔ نیکی اور اطاعت کے کاموں میں لگے رہو۔ اور اللہ سے ڈرتے رہو۔ لعلکم تفلحون۔ اس کا نتیجہ یہ ہوگا۔ کہ تم کامیاب ہوجاؤگے۔ منزل مراد کو پا لوگے۔ حضور ﷺ نے سورة بقرہ اور سورة آل عمران کی بڑی فضیلت بیان کی ہے فرمایا قیامت کے دن یہ دونوں سورتیں خیموں کی شکل میں آئیں گی ، ان کے درمیان چمک ہوگی اور وہ اپنے پڑھنے والوں ، عمل کرنے والوں اور ایمان رکھنے والوں پر سایہ فگن ہوں گی اور بندے کے حق میں سفارش کریں گی۔ ان سورتوں کو زہراوین یعنی دو روشن سورتیں کہا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لمبی سورتوں میں بہت سے حقائق ، معارف ، بنیادی اصول اور مسائل بیان فرمائے ہیں۔ دارمی شریف کی حدیث میں آتا ہے کہ جو شخص جمعے کے دن سورة آل عمران کی تلاوت کرے گا اس کے لیے فرشتے سارا دن دعائیں کرتے رہیں گے۔ حتی کہ سورج غروب ہوجائے۔ واللہ اعلم بالصواب۔ و صلی اللہ علی خیر خلقہ محمد والہ وصحبہ وازواجہ واتباعہ اجمعین۔ برحمتک یا ارحم الراحمین۔ والحمد للہ رب العلمین۔
Top