Mualim-ul-Irfan - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
جو شخص چاہتا ہے آخرت کی کھیتی ہم زیادہ کرلیا گے اس کے لیے اس کی کھیتی میں ، اور جو شخص دنیا کی کھیتی چاہتا ہے ، ہم دیں گے اس کو اس میں سے ، اور نہیں ہوگا اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ
ربط آیات پہلے قرآن پاک پر ایمان لانے کا ذکر ہوا اور اس کتاب کی عظمتوں کا بیان ہوا پھر گزشتہ درس میں قیامت اور محاسبے کا ذکر تھا اللہ نے منکرین قیامت کا رد فرمایا ۔ نیز فرمایا کہ تمام تصرفات اللہ تعالیٰ کے قبضہ میں ہیں ۔ اس کی تدبیر بہت باریک ہے ۔ وہ جس کو چاہتا ہے روزی پہنچاتا ہے وہ تمام قوتوں کا سر چشمہ اور غالب ہے۔ آخرت اور دنیا کی کھیتی آج کی پہلی آیت میں وقوع قیامت اور جزائے عمل ہی کا بیان ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے من کان یرید حرث الاخرۃ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے نزدلہ فی حرثہ تو اس کے لیے ہم اس کو کھیتی میں اضافہ کردیں گے ۔ کھیتی سے مراد کاشتکاری ہے اور یہ ایک ایسا کام ہے جس میں انسان سخت محنت کرتا ہے تو پھر کچھ عرصہ کے بعد جا کر اسکو اس کی محنت کا پھل اناج ، سبزی یا پھلوں کی صورت میں ملتا ہے۔ دنیا کی اس عارضی زندگی کو بھی کھیتی سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جو شخص اس دنیا میں ایمان لانے اور اللہ تعالیٰ کی وحدانیت کو تسلیم کرنے کے بعد عبادت و ریاضت کے ذریعے محنت کرتا ہے۔ وہ گویا ایسی کھیتی پر کام کر رہا ہے جس کا پھل اسے مرنے کے بعد آخرت میں جا کر ملے گا ۔ جو بھی اس دنیا میں آتا ہے وہ اپنا وقت تو بہر حال پورا کرتا ہے اور دو زن زندگی محنت کرتا ہے مگر آگے ان میں دو گروہ پیدا ہوجاتے ہیں ۔ ایک گروہ وہ ہے جو آخرت کے لیے محنت کرتا ہے کہ اس محنت کا بدلہ اسے دوسری دنیا میں جا کر ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق فرمایا کہ جو شخص آخرت کی کھیتی چاہتا ہے ، ہم اس کے لیے اس کی کھیتی میں یعنی اس کھیتی کے پھل میں اضافہ کردیتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ کا یہ عام قانون ہے کہ نیکی کرنے والے شخص کو ہر نیکی کا بدلہ کم از کم دس گنا ملتا ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثال لھا ( الانعام : 161) مگر زیادہ سے زیادہ اجر کی کوئی تحدید نہیں ۔ اللہ تعالیٰ چاہے تو لاکھوں کروڑوں گنا بدلہ عطا فرمادے۔ آگے دوسرے گروہ کے متعلق فرمایا ومن کان یرید حرف الدنیا جو شخص دنیا کی کھیتی کا طلب گار ہے اور آخرت کے لیے اس کے دل میں تڑپ ہی نہیں ہے۔ فرمایا نوتہ منھاہم اس کو اس دنیا میں ہی دے دیتے ہیں وما لہ فی الاخرۃ من نصیب مگر آخرت میں اس کے لیے کچھ حصہ نہیں ہوگا ۔ اللہ نے سورة النجم میں ایسے لوگوں کی ذہنیت کا تجزیہ اس طرح کیا ہے ذلک مبلغھم من العلم ( آیت : 30) ان کے علم کی انتہاء دنیا کے مفاد تک ہی ہے ۔ وہ اسی دنیا میں سے زیادہ سے زیادہ سازو سامان اور آرام اور راحت کے طلب گار ہیں اور آخرت کی فکر ہی نہیں ہے ، لہٰذا انہیں اسی دنیا میں حصہ مل جائے گا ۔ اس مقام پر یہ امر وضاحت طلب ہے کہ اللہ نے آخرت کے خواہشمند کے لیے فرمایا ہے کہ ہم اس کی محنت کی کمائی میں مزید اضافہ کردیں گے اور اسے بڑھا چڑھا کر پیش کریں گے ، مگر دنیا کے طالب کے متعلق فرمایا ہے کہ ہم اس میں سے کچھ دے دیں گے یعنی ضروری نہیں کہ اس کی خواہش مکمل طور پر پوری ہو بلکہ ہم اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق کچھ نہ کچھ حصہ ادا کردیں گے ، مگر ساتھ یہ بھی فرما دیا ثم جعلنا لہ جھنم ( بنی اسرائیل : 18) پھر ہم نے اس کے لیے جہنم بھی تیار کررکھی ہے ، کیونکہ اس نے نیت اور ارادے سے آخرت کی طلب ہی نہیں کی اور ہمیشہ اسی دنیا کی پیش نظر رکھا اور اسی کے لیے تگ و دو کرتا رہا ۔ شرکاء کا علیحدہ دین آیت : 13 میں اللہ کا یہ فرمان گزر چکا ہے شرع لکم من الدین کہ تمہارے لیے وہی دین مقرر کیا گیا ہے جو سابقہ انبیاء کے ساتھ مقرر کیا گیا تھا۔ نیز اللہ نے حضور ﷺ کی زبان مبارک سے یہ بھی کہلوایا ہے امنت بما انزل اللہ من کتب ( آیت : 15) میں اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لا چکا ہوں ۔ اس حقیقت کے پیش نظر کہ اللہ نے تمام امتوں کے لیے ایک ہی دن مقرر کیا ہے ، اللہ تعالیٰ نے اس دین کے منکرین سے متعلق یہ سوال اٹھایا ہے ام لھم شرکاء شرعوا لھم من الدین ما لم یاذن بہ اللہ کیا ان لوگوں کے کوئی شریک ہیں جنہوں نے کوئی ایسا دین مقرر کر رکھا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی ، گویا انہوں نے اپنا کوئی علیحدہ ہی دین بنا رکھا ہے۔ اور اگر کوئی ہے تو وہ کونسا ہے ؟ ھا توا برھانکم ان کنتم صدقین ( النمل : 64) اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو تو کوئی دلیل پیش کرو ، نیز بتائو کہ انہوں نے حلال و حرام کا کون سا ضابطہ مقرر کیا ہے ، کونسی عبادات ضروری قرار دی گئی ہے اور معاشرتی ، معاشی ، سیاسی اور اخلاقی حدود وقیود کیا مقرر کی ہیں ؟ حقیقت یہ ہے کہ شرکاء نے نہ تو کوئی علیحدہ دین بنایا ہے اور نہ اس کے لیے کوئی ضابطہ مقرر کیا ہے ، البتہ مشرکین کی خود ساختہ رسوم دین حق اور شریعت کے سراسر خلاف ہیں ۔ مالم ینزل بہ سلطنا ً ( الاعراف : 33) جس کی اللہ نے کوئی سند نازل نہیں فرمائی۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی فرماتے ہیں کہ اس جملہ میں جہاں شرک کا ابطال ہے وہاں بد عات کا رد بھی پایا جاتا ہے ۔ تمام بدعات لوگوں کی خود ساختہ ہیں اور انہیں اللہ نے ہرگز مقرر نہیں فرمایا ۔ بدعات کا ثبوت نہ تو قرآن میں ہے نہ سنت رسول میں ، نہ عمل صحابہ کبار ؓ میں اور نہ مجتہدین و فقہاء (رح) کے قیاس میں موت کی تمام رسومات از قسم قل ، چالیسواں ، سالانہ عرس ، قبروں کی پختگی ، ان پر چراغاں اور چادر پوشی سب خود ساختہ بدعات ہیں اور یہ بھی شرک کی طرح دین کے خلاف ایک بغاوت کا درجہ رکھتی ہے۔ ان کے لیے سزا مشرکین کا تذکرہ کرنے کے بعد فرمایا ولولا کلمۃ الفصل لقضی بینھم اگر پہلے سے ایک فیصلہ شدہ بات نہ ہوتی تو ان کے درمیان فوری طور پر فیصلہ کردیا جاتا یعنی اللہ کے باغیوں کو اسی دنیا میں مبتلائے عذاب کردیا جاتا ۔ اور وہ طے شدہ امر یہ ہے کہ ان ربک ھو یفصل بینھم یوم القیمۃ فیما کانوا فیہ یختلفون ( السجدۃ : 25) کہ جن امور میں یہ اختلاف کرتے ہیں ان کے درمیان اللہ تعالیٰ قیامت کے دن فیصلہ کرے گا ۔ اس معاملہ میں اللہ تعالیٰ کا قانون امہال و تدریج کا ر فرما ہے وہ سر کشوں کو مہلت دیتا ہے ، شاید کہ وہ تو بہ قبول کرلیں اور پھر اس نے قطعی فیصلہ کے لیے قیامت کا دن مقرر کر رکھا ہے ، اسی دن سارے حتمی فیصلے ہوں گے اس لیے فرمایا کہ اگر ایک طے شدہ بات نہ ہوتی تو ان لوگوں کا فوراً فیصلہ کردیا جاتا وان الظلمین لھم عذاب الیم اور بیشک ظلم یعنی کفر ، شرک کرنے والوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔ فرمایا تری الظلمین مشفقین مما کسبو اور آپ ان ظالموں کو دیکھیں گے کہ وہ اپنی کمائی سے ڈرنے والے ہوں گے۔ ظاہر ہے کہ جب یہ لوگ میدان حشر میں پہنچیں گے تو دنیا میں کردہ اعمال ان کے سامنے ہوں گے۔ ان کا کفر ، شرک ، سرکشی ، معاصی وغیرہ سب نظر آئیں گے اور پھر وہ جان لیں گے کہ آج اپنے برے عقائد و اعمال کی بدولت پھنس گئے۔ اس وقت وہ بڑے خوفزدہ ہوں گے اور حقیقت یہ ہے وھو وافع بھم کہ ان کا کارکردگی کا وبال ان پر پڑنے والا ہوگا ، وہ اس دن بچ نہیں سکیں گے۔ اہل ایمان کے لیے انعامات والذین امنوا وعملوا الصلحت اور وہ لوگ جو ایمان لائے نیک اعمال انجام دیے ۔ ایمان سے مراد اللہ کی ذات ، اس کی صفات ، اس کے رسولوں ، اس کی کتابوں ، ملائکہ بعث بعد الموت اور تقدیر پر ایمان لانا ہے اور ہر قسم کے کفر اور شرک سے بیزاری کا اظہار بھی ہے ۔ ایمان کی مثال میں نے ابھی عرض کی ہے کہ اللہ نے اپنے پیغمبر کو حکم دیا قل امنت بما انزل اللہ من کتب آپ کہہ دیں کہ میں اللہ کی نازل کردہ کتاب پر ایمان لایا کہ یہ بر حق ہے اسی طرح باقی تمام چیزوں پر یقین رکھنا بھی جزو ایمان ہے ۔ اسی طرح کفر و شرک سے بیزاری کی مثال حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے پیش کی واذا قال ابراھیم لابیہ وقومہ اننی برء مما تعبدون ( الزخرف : 26) ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے فرمایا کہ میں ان تمام چیزوں سے بیزاری کا اظہار کرتا ہوں جن کی تم پوجا کرتے ہو۔ تو فرمایا جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال انجام دیئے۔ حضرت مجدد الف ثانی (رح) فرماتے ہیں کہ بنیادی طور پر عبادات اربعہ یعنی نماز ، روزہ ، زکوٰۃ اور حج نیک اعمال ہیں ۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جو شخص ان عبادات کو انجام دے گا بشرطیکہ وہ ٹھیک طور پر ایماندار ہو تو وہ کامیاب ہوجائے گا ۔ خواہ و ہ سفرکرے یا گھر میں بیٹھا رہے ۔ بہر حال بنیادی طور پر نیک اعمال میں عبادت اربعہ ہیں اور اس کے بعد صدقہ خیرات ، صلہ رحمی ، حسن معاشرت ، تعلیم و تعلم ، غریب پروری وغیرہ بھی نیک اعمال میں شامل ہیں ۔ ایسے ہی لوگوں کے متعلق اللہ نے فرمایا فی روضت الجنت وہ بہشتوں کے باغوں میں ہوں گے ۔ لھم ما یشاء ون عند ربھم ان کے لیے ان کے پروردگار کے ہاں ہر وہ چیز ہوگی جس کی وہ خواہش کریں گے۔ اس پاک مقام پر پاک خواہش ہی پیدا ہوگی ۔ کسی جنتی کے دل میں کوئی ردی خواہش پیدا ہی نہیں ہوگی ، لہٰذا اللہ تعالیٰ ان کی ہر خواہش کو پورا فرمائے گا ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ ایک جنتی آدمی عرض کرے گا کہ پروردگار ! مجھے کھیتی باڑی کا بڑا شوق ہے ۔ اللہ فرمائے گا ۔ اے آدم کے بیٹے ! کیا جنت کی نعمتوں سے تیرا پیٹ نہیں بھرا ، کیا تو ان چیزوں سے راضی نہیں ہوا ؟ عرض کریگا ۔ مولا کریم ! میں تیری عطا کردہ نعمتوں سے بڑا خوش ہوں ۔ مگر کا شتکار ہیں میری دلی خواہش ہے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا ، کھیت تیار کیا جائے گا ، پھر اس میں بیچ ڈالا جائے گا اور دیکھتے ہی دیکھتے فصل اگ آئے گی اور پھر پک جائیگی فصل کٹ کر اناج کے ڈھیر لگ جائیں گے اور اس طرح اللہ اس شخص کی خواہش فوراً پوری فرما دیں گے۔ حضور ﷺ کا فرمان مبارک ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ تمہیں جنت تک پہنچا دے اور یہ ہر مومن کی دلی تمنا ہے ۔ تو فرمایا وہاں پر سرخ یا قوت کے گھوڑے پر سوار ہو کر جہاں چاہو گے اڑتے پھرو گے ۔ گھوڑا تمہیں بلا خوف وخطرمنزل مقصود تک پہنچائے گا ۔ الغرض ! جنت میں ہر جنتی کی ہر خواہش پوری ہوگی فرمایا ذلک ھو الفضل الکبیر پر بہت بڑے دجے کی فضلیت ہے جسے اللہ تعالیٰ نصیب فرمادے۔ دوسری جگہ فرمایا فمن زخرج عن النار وادخل الجنۃ فقدفاز (آل عمران : 185) جو دوزخ سے بچا کر جنت میں داخل کردیا گیا وہ کامیاب ہوگیا ۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا ہے ذلک الذی یبشر اللہ عبادہ الذین امنوا وعملو الصلحت یہ وہی چیز ہے جس کی خوشخبری اللہ تعالیٰ اہل ایمان اور نیک اعمال انجام دینے والوں کو دینا ہے کہ جنت میں انہیں ہر قسم کا آرام و راحت نصیب ہوگا اور ان کی ہر خواہش پوری ہوگی ۔ بے لوث تبلیغ آگے اللہ تعالیٰ نے رسالت کا ذکر فرمایا ہے اور اپنے پیغمبر کی زبان سے بےلوث تبلیغ دین کا اعلان کروایا ہے۔ قل لا اسئلکم علیم اجرا اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ میں تبلیغ حق کے سلسلے میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا بلکہ میرا یہ فرض منصبی اور بےلوث خدمت ہے۔ سورة الشعراء میں اللہ نے مختلف نبیوں کی زبان سے یہی کہلوایا ہے وما اسئلکم علیہ من اجرا ان اجری الا علی رب العلمین ( آیت : 164) میں تم سے اس کام پر کوئی اجرت طلب نہیں کرتا بلکہ میرا بدلہ تو اللہ تعالیٰ کے پاس ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے۔ ہاں میرا مطالبہ صرف اس قدر ہے الا المودۃ فی القربی میں قرابت داری میں دوستی چاہتا ہوں ۔ حضرت عبد اللہ عباس ؓ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ میں تم سے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا ہاں اتنی بات ہے کہ تم قرابت داری کا تو کچھ لحاظ رکھو ۔ تم میرے خاندان کے لوگ ہو اور خاندانی لوگ ایک دوسرے کا بڑا لحاظ کرتے ہیں ، تم اگر میرے پروگرام کو قبول نہیں کرتے توقرابتداری کا لحا ظ کر کے سہی ، مجھے ایذا تو نہ پہنچائو ، ہمیں اپنا کام کرنے دو ، تم مانو یا نہ مانو ، یہ تمہاری مرضی ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ اس جملے کا مطلب یہ ہے کہ میں تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا ۔ مگر تم صلہ رحمی کرتے ہوئے آپس میں قرابتداری اور رشتہ داری کا لحاظ تو رکھو ۔ مطلب یہ کہ صرف میری بات نہیں بلکہ میرے ماننے والے دوسرے لوگ بھی تمہاری برادری اور خاندان کے لوگ ہیں ان سب کا لحاظ رکھو۔ حضور ﷺ سواری پر کہیں تشریف لے جا رہے تھے۔ ایک شخص نے راستے میں آپکی سواری روک لی اور عرض کیا ، حضور ! مجھے کوئی ایسی بات بتلائیں جو مجھے جنت سے قریب اور دوزخ سے دور کر دے ۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ وحدہٗ لا شریک پر ایمان لائو ، اسی کی عبادت کرو ۔ فرائض بجا لائو اور صلہ رحمی کرو ۔ ظاہر ہے کہ صلہ رحمی میں سب سے پہلے قرابت دار آتے ہیں ۔ والدین ، اقربا ، رشتہ دار ، پھر برادری کے لوگ ، پھر ساری مسلمان قوم ، پھر ساری بنی نوع انسان کے ساتھ درجہ بدرجہ صلہ رحمی ضروری ہے ۔ غرضیکہ صلہ رحمی بہت بڑی چیز ہے اور اس میں بڑوں ، چھوٹوں ، اپنوں ، بیگانوں ، اہل محلہ ، اہل شہر اور اہل ملک اور پھر اہل ایمان سب کے حقوق آتے ہیں اور اللہ کا فرمان ہے وَاٰتِ ذَا الْقُرْبٰی حَقَّہٗ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ (بنی اسرائیل : 26) قرابت داروں کو ان کا حق اور کرو اور مسکینوں کا اور مسافروں کا بھی ، اور سب سے پہلا حق اللہ نے والدین کا رکھا ہے۔ سورة بنی اسرائیل میں ہی ارشاد ہے ۔ تیرے پروردگار کا فیصلہ ہے کہ عبادت صرف اسی کی کرو وبالوالدین احسانا ً ( آیت : 23) اور ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک کرو ، ان کی خدمت کرو ، اور جب وہ بوڑھے ہوجائیں تو ان کے سامنے اف تک بھی نہ کرو۔ یہ سب کچھ قرابتداری میں آتا ہے جس کے متعلق اس مقام پر فرمایا کہ میں تم سے کوئی معاوضہ تو طلب نہیں کرتا سوائے اس کے کہ قرابتداری کا لحاظ تو رکھو جو کہ ہر جگہ ایک مسلمہ اصول ہے ۔ امام حسن بصری (رح) اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ قربیٰ سے مراد اللہ تعالیٰ کا قرب ہے یعنی میں اپنی ذات کے لیے تم سے کوئی معاوضہ نہیں طلب کرتا بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ تم نیک اعمال انجام دے کر اللہ کا قرب حاصل کرلو ۔ اہل بیت سے محبت حضرت سعید ابن جبیر (رح) اور امام زین العابدین (رح) نے اس آیت سے حضور ﷺ کے قرابتدار مراد لیے ہیں یعنی میں تم سے کچھ نہیں چاہتا سوائے اس کے کہ میرے قرابتداروں کے ساتھ حسن سلوک رکھو۔ حضور ﷺ کے اہل بیت اور قرابتداروں کے ساتھ محبت رکھنا اور ان کا ادب و احترام اپنی جگہ مسلم ہے ۔ اگرچہ اس آیت کا یہ مصداق نہ ہو اور پھر اہل سنت کا یہ بھی مسلک ہے کہ جس طرح حضور ﷺ کے قرابتداروں کے ساتھ محبت ضروری ہے۔ اسی طرح آپ کے صحابہ کرام ؓ اور ازواج مطہرات ؓ کی محبت اور ادب و احترام بھی ضروری ہے ۔ حضرت حضرت علی ؓ ، امام حسن ؓ ، امام حسین ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کو مومن سمجھ کر صحابہ ؓ کے ساتھ بغض رکھا جائے اور ازواج مطہرات سے نفرت کی جائے ، یہ ہرگز روا نہیں ۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ سے محبت کرو کیونکہ وہ خالق اور مالک ہے اور تمہاری تمام ضروریات پوری کرتا ہے ، پھر فرمایا کہ مجھ سے بھی محبت رکھو کیونکہ میں تمہیں خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچاتا ہوں اور میری محبت کی وجہ سے میرے اہل بیت ؓ اور میرے صحابہ ؓ کے ساتھ بھی محبت رکھو۔ فرمایا من احبتھم فجتی احبھم ومن بغضھم فیغضی بغضھم جو میرے صحابہ ؓ کے ساتھ محبت رکھتا ہے وہ میری محبت کی وجہ سے رکھتا ہے اور جو ان کے ساتھ بغض رکھتا ہے وہ گویا مجھ سے بغض رکھتا ہے آپ کا ارشاد ہے حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور حضرت عمر فاروق ؓ کے ساتھ محبت ایمان کی نشانی ہے اور ان کے ساتھ بغض منافقت کی علامت ہے اسی طرح حضرت علی ؓ کے ساتھ محبت ایمان کا جزو ہے اور ان کے ساتھ نفرت منافقین کا کام ہے ۔ آپ نے انصار سے محبت کو بھی ایمان کی علامت بتایا۔ حرف آخر اس آیت کریمہ میں حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کی تفسیر راجح ہے کہ لوگو ! میں تم سے کوئی ذاتی معاوضہ نہیں مانگتا ، بلکہ یہ چاہتا ہوں کہ کم از کم قرابت داری کا لحاظ کرتے ہوئے تکلیف تو نہ پہنچائو ۔ قرابت داری کا خیال تو غیرمذہب والے بھی رکھتے ہیں ۔ تم میری بات مانو یا نہ مانو ، تمہاری مرضی ، مگر صلہ رحمی کا دامن تو نہ چھوڑو۔ فرمایا ومن یقترف حسنہ نزدلہ فیھا حسنا اور جو شخص بھلائی کمانے کا ہم اس کی خوبی زیادہ کردیں گے یعنی اس کا بدلہ بڑھا کردیں گے۔ ان اللہ غفور شکور بیشک اللہ تعالیٰ بہت بخشش کرنے والا اور نہایت ہی قدر دان ہے ۔ وہ معمولی عمل پر بھی بہت زیادہ اجر عطا کردیتا ہے اور بندوں کی لغزشوں اور کوتاہیوں سے در گزر فرماتا ہے۔
Top