Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
31
32
33
34
35
36
37
38
39
40
41
42
43
44
45
46
47
48
49
50
51
52
53
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ
: اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو
مِّنْ
: کوئی
مُّصِيْبَةٍ
: مصیبت
فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ
: پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے
وَيَعْفُوْا
: اور وہ درگزر کرتا ہے
عَنْ كَثِيْرٍ
: بہت سی چیزوں سے
اور جو پہنچی ہے تم کو کوئی مصیبت ، پس اس وجہ سے جو کمایا ہے تمہارے ہاتھوں نے اور در گزر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ بہت کی خطائوں سے
ربط آیات گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر تھا ، اس کے ساتھ دلائل تنشہ اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں و زمین کو تخلیق کیا اور پھر زمین پر تمام جانداروں کو پھیلا دیا ۔ جس طرح بنی نوع انسان کو زمین کے مختلف خطوں میں بکھیر دیا ۔ اسی طرح وہ قیامت والے دن سب کو اکٹھا بھی کرے گا پھر محاسبہ کی منزل آئیگی اور جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے ، اللہ نے یاد دلایا کہ تمام اختیارات اور تصرفات اسی کے قبضہ میں ہیں اور وہ ہر کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ مصائب نتیجہ اعمال دنیا میں انسانوں پر ہر قسم کے دو ر آتے ہیں ، کبھی راحت کبھی تکلیف ، کبھی خوشحالی کبھی تنگدستی ، کبھی صحت ، کبھی بیماری ، پھر جب انسان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو پھر وہ شکوہ بھی کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں فرمایا وما صابکم من مصبیبۃ فبما کسبت ایدیکم تمہیں جو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر زیادتی نہیں کرتا کہ وہ بلا وجہ کسی کو مصیبت میں مبتلا کر دے بلکہ ہر آمدۃ تکلیف انسان کے کسی اپنے ہی کردہ اعمال کے بدلے کے طور پر نازل ہوتی ہے ۔ سورة روم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ظہر الفساد فی الیر والبحر بما لسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض ندی عملو ( آیت : 8) خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے تا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے ۔ بہر حال اللہ کا فرمان ہے کہ کوئی شخص نیک ہو یا بد اس کو پہنچنے والی تکلیف بلا وجہ نہیں آتی بلکہ اس کے لیے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ ہاں اللہ کا یہ اصول بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ ہر برے عمل پر گرفت نہیں کرلیتا بلکہ ویعفوا عن کثیر ان میں سے بہت سی کوتاہیوں سے در گزر فرماتا ہے اور ان کے لیے انسان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاتا ، تا ہم تکلیف پہنچانے کا حق اس کے پاس محفوظ ہوتا ہے ، بہر حال یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ بیشتر مصائب و پریشانیاں لوگوں کے اعمال بد کی وجہ سے آتی ہیں ۔ حضرت شاہ عبد القادر (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مذکورہ اصول عاقل اور بالغ لوگوں کے لیے ہے خواہ وہ نیک ہوں یا بد ، البتہ انبیاء کرام اس قانون سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ وہمعصوم ہوتے ہیں ، اور ان سے اعمال بد سر زد نہیں ہوتے ، اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ پریشانیوں اور مصائب انبیائے کرام (علیہ السلام) کو بھی بہت زیادہ لا حق ہوئیں اس طرح نا بالغ بچے ہیں جو ابھی مکلف نہیں ، لیکن تکلیفیں ان کو بھی آتی ہیں ۔ تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ انبیاء اور غیر مکلفین کے مصائب کی وجہ ان کے اعمال نہیں ہوتے بلکہ ان کی حقیقت اور حکمت کچھ اور ہی ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ ان کو پیش آنے والی تکالیف ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بن جاتی ہوں ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ کسی اہل ایمان کو پہنچنے والی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف بھی اس کے گناہوں اور لغزشوں کا کفارہ بن جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو کانٹا چبھ گیا ہے ۔ ٹھوکر لگ گئی ہے یا کوئی خراش آگئی ہے ، کسی ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوگیا ہے تو یہ اس کے اعمال سوا کا کفارہ ہوتا ہے ، تا ہم عام قانون یہی ہے کہ آدمی اچھا ہو یا برا اس کے مصائب میں اس کے اعمال کا دخل ہوتا ہے ، البتہ بیشتر اوقات اللہ تعالیٰ گرفت نہیں کرتا بلکہ معاف کردیتا ہے۔ جس طرح وہ دنیا میں در گزر فرماتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ وہ برزخ اور آخرت میں بھی معاف فرما دے یا وہاں پر گرفت کرے ، یہ اس کی منشاء پر موقوف ہے ۔ بہر حال اس کے در گزر کا قانون دنیا ، برزخ اور آخرت سب پر حاوی ہے۔ راہ فرار ممکن نہیں فرمایا وما انتم بمعجزین فی الارض اور نہیں ہو تم عاجز کرنے والے اللہ تعالیٰ کو زمین میں ، اگر کوئی شخص چاہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ، کوئی غلطی کوتاہی اور گناہ کر کے اللہ تعالیٰ کے تسلط سے بھاگ جائے یعنی اس کی گرفت سے باہر ہوجائے تو ایسا ممکن نہیں ۔ کوئی شخص کسی قلعے میں پناہ لے لے جنگلوں اور صحرائوں میں چھپ جائے ، کسی پہاڑ کی غار میں پناہ گزین ہوجائے ، وہ اللہ تعالیٰ کی سلطنت سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا اور نہ اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے کا یہی مطلب ہے۔ فرمایا تم اس سے بھاگ کر کہاں جائو گے وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی کار ساز اور نہ کوئی مدد گار ۔ مصیبت کے وقت کوئی بھی کام نہیں آئے گا ، اس آیت میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت ، قدرت کاملہ اور جزائے عمل کا ذکر ہوگیا ۔ دلائل قدرت اور وحدانیت اللہ نے اپنی قدرت اور وحدانیت کے دلائل کے سلسلے میں فرمایا ومن ایتہ الجوار فی الجر کالا علام اس کی قدرت کے دلائل میں سے پہاڑوں کی مانند سمندر میں چلنے والی کشتیاں بھی ہیں ۔ جو ارء ، جاریہ کی جمع ہے جس کا معنی پانی میں چلنے والی ۔۔۔۔۔ کشتی ہوتا ہے ۔ جیسے طوفان کے موقع پر فرمایا انا لما طغا الماء حملنکم فی الجاریۃ ( الحاقۃ : 11) جب نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں عظیم سیلاب آیا تو ہم نے تمہیں پانی میں چلنے والی کشتی پر سوار کردیا ۔ اس زمانے میں تو جاریہ سے مراد بادبانی کشتی ہی لیا جاتا تھا مگر بعد میں بحری ذرائع نقل و حمل نے بڑی ترقی کی ہے۔ پہلے سینمر چلے ، پھر کوئلے یا تیل سے چلنے والے لاکھوں ٹن وزنی ، جہاز اور ٹینکر معرض وجود میں آگئے۔ یہ اتنے بڑے بڑے جہاز ہیں جنہیں پہاڑوں سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ حاجیوں کے لیے مخصوص سفینہ حجاج گیارہ منزلہ تھا ، اس کی چار منزلیں پانی میں اور سات اوپر تھیں اور دیکھنے میں پہاڑ نظر آتا تھا ، اب ختم ہوچکا ہے۔ فرمایا اللہ نے ان کو اپنی قدرت کاملہ سے پانی کی سطح پر رواں دواں کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ ایک سوئی جیسی چھوٹی چیز تو پانی میں ڈوب جاتی ہے۔ مگر ہزاروں اور لاکھوں ٹن وزنی جہاز ، لاکھوں ٹن سامان لیے ہزاروں میل کا سفر کرتے ہیں ۔ فرمایا ان یشا یکسن الریح اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ہوا کو روک دے فیظللن رواکد علی ظھرہ پس وہ پانی کی پشت پر ٹھہرے ہوئے ہوجایا پرانے زمانے میں بادبانی کشتیوں کے ذریعے سفر کا انحصار ہوا پر ہوتا تھا۔ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ہی روک دے تو ایسی صورت میں کشتی بھی پانی کی سطح پر رک جائے گی ۔ یہ تو اس زمانے کی بات تھی ، آج بھی جب اللہ تعالیٰ کی منشاء ہوتی ہے تو بڑے بڑے جہاز سطح آب پر رک جاتے ہیں ۔ انجن میں کوئی نقص پڑجائے یا سخت طوفان برپا ہوجائے تو جہاز کو روکنا پڑتا ہے ، بلکہ بعض اوقات کسی حادثے کی صورت میں بڑے ہے جہاز بھی تباہ ہو سکتا ہے ۔ بعض اوقات جہاز کسی سمندری چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتا ہے ، کبھی خشکی پر چڑھ جاتا ہے ، آگ لگ جاتی ہے اور اس طرح بڑا جانی و مالی نقصان ہوجاتا ہے۔ سمندر کی وسعت اور اس سے اٹھنے والی پہاڑوں جتنی اونچی اونچی میں بڑے سے بڑے جہاز کی حیثیت بھی ایک تنکے سے زیادہ نہیں ہوتی ، یہ تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں سے لے کر دیو ہیکل جہازوں کو پانی کی سطح پر چلا رہا ہے۔ فرمایا ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور بیشک اس میں نشانیاں میں ہر صابر و شاکر آدمی کے لیے ، ان نشانات قدرت سے وہی لوگ مستفید ہو سکتے ہیں جو ہر تکلیف اور مصیبت پر صبر کے دامن کو تھامے رکھتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت میسر آتی ہے ، صحت اور آسودگی حاصل ہوتی ہے تو اس کی قدر دانی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ اگلی آیت میں اللہ نے اسی پہلی بات کا اعادہ کیا ہے او یوبقھن بما کسبوا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو لوگوں کو ان کی کارکردگی کی بناء پر ہلاک کر دے ، جونہی کوئی شخص کسی ظلم و زیادتی یا گناہ کا مرتکب ہو اللہ تعالیٰ فوراً گرفت کر کے اسے ہلاک کر دے ، کیونکہ وہ اس پر بھی قادر ہے ، مگر ویعف عن کثیر وہ اکثر گناہ گا روں سے در گزر ہی فرماتا ہے ، ان کی فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے ، دنیا میں در گزر کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ چاہے تو برزخ یا آخرت میں سزا دے دے یا اگر چاہے تو اپنی مہربانی سے وہاں بھی معاف فرما دے اور یہ اس کی شان کریمی کا اظہار ہوگا۔ فرمایا سزا دینے کا ایک مقصد یہ بھی ہے ویعلم الذین یجادون فی ایتناتا کہ جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں ما لھم من محیص کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے جھگڑا کرنے سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت ، رسالت ، وحی الٰہی قیامت اور شرائع اور قوانین الٰہیہ کا انکار کیا جائے اور اس سلسلے میں اہل حق کے ساتھ جھگڑا کیا جائے ، اگر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو فوراً پکڑے تو انہیں کوئی چھڑانے والا نہیں ہوگا ، ان کی تمام تدابیر ناکام ہوجائیں گی ، کیونکہ تمام تدابیر تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ، یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی توحید اور جزائے عمل کی دلیل ہوگی۔ متاع دنیا اور آخرت اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ساز و سامان کا مقابلہ آخرت کی ابدی زندگی اور اس کے انعامات کے ساتھ کیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے فما اوتیتم من شی فمتاع الحیوۃ الدنیا تمہیں یہاں پر جو چیز بھی دی جاتی ہے یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے کہ انسان اسے اپنی چند روزہ حیات میں استعمال کرے حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز عارضی ہے حتیٰ کہ انسان کا اپنا وجود عمر صحت اور تمام لوازمات زندگی نا پائیدار ہیں۔ اس سے خدا تعالیٰ کا مقصد انسان کو یہ سمجھانا ہے کہ وہ اس عارضی دنیا اور اس کے عارضی سازو سامان کو ہی سب کچھ سمجھ کر اسی پر ہی مفتون نہ ہوجائے ، بلکہ اس کی نگاہ اس کی ابدی زنا کی اور اس کے سازو سامان پر ہونی چاہئے کیونکہ وما عند اللہ خیر وابقی جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس دنیا کے سازو سامان سے بہتر بھی ہے ، اور دیرپا بھی ، اللہ کے ہاں ملنے والے انعا و اکرام کی کیفیت اور مقدار کی نسبت اس دنیا کی زندگی اور ساز و سامان کے ساتھ کچھ بھی نہیں اس دنیا کی ہر چیز فانی ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ اس میں کبھی کمی نہیں آئے گی ، مگر یہ ان لوگوں کے لیے ہے للذین امنوا جنہیں ایمان لانے کی توفیق نصیب ہوئی ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اس کے رسولوں کتسب سماویہ وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین کیا ۔ اس مقصد کے لیے ادنیٰ درجہ تو یہ ہے انسان مذکورہ چیزوں پر صدق دل سے ایمان لے آئے اور کمال درجہ یہ ہے کہ انسان ایمان لا کر اس پر عائد شدہ فرائض بھی ادا کرے۔ ایسے لوگوں کی کیفیت اللہ نے گزشتہ سورة میں بیان کردی ہے کہ جنت کی خوشخبری ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا جنہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اس پر مستقیم رہتے ہوئے نہ صرف فرائض و واجبات کو ادا کیا بلکہ سنن اور مستحبات کی پابندی بھی کی ۔ فرمایا آخرت ان کے لیے ہے جو ایمان لائے وعلی ربھم یتوکلون اور جو اپنے پروردگار پر مکمل بھروسہ بھی رکھتے ہیں ۔ اللہ نے کامیاب لوگوں کی علامات بھی بیان کردی ہیں ۔ اب یہ انسانوں کا فرض ہے کہ وہ دنیا کی عارضی رونق پر مفتون ہونے کی بجائے آخرت کی دائمی زندگی اور اس کے دائمی انعامات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ اس مقصد کے لیے اللہ نے یہ نسخہ بھی بتلا دیا کہ انسان کے پاس ایمان کی دولت ہونی چاہئے۔ ایما جس قدر مضبوط ہوگا ، اور اس کی درجہ جس قدر اعلیٰ ہوگا اسی قدر انسان کے انعامات میں بھی اضافہ ہوگا ، اور پھر ایمان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل اعتماد اور بھروسہ بھی ضروری ہے۔
Top