Mualim-ul-Irfan - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور جو پہنچی ہے تم کو کوئی مصیبت ، پس اس وجہ سے جو کمایا ہے تمہارے ہاتھوں نے اور در گزر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ بہت کی خطائوں سے
ربط آیات گزشتہ آیات میں نبوت و رسالت کا ذکر تھا ، اس کے ساتھ دلائل تنشہ اور اللہ کی قدرت کی نشانیوں کا تذکرہ تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آسمانوں و زمین کو تخلیق کیا اور پھر زمین پر تمام جانداروں کو پھیلا دیا ۔ جس طرح بنی نوع انسان کو زمین کے مختلف خطوں میں بکھیر دیا ۔ اسی طرح وہ قیامت والے دن سب کو اکٹھا بھی کرے گا پھر محاسبہ کی منزل آئیگی اور جزا و سزا کے فیصلے ہوں گے ، اللہ نے یاد دلایا کہ تمام اختیارات اور تصرفات اسی کے قبضہ میں ہیں اور وہ ہر کام کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ مصائب نتیجہ اعمال دنیا میں انسانوں پر ہر قسم کے دو ر آتے ہیں ، کبھی راحت کبھی تکلیف ، کبھی خوشحالی کبھی تنگدستی ، کبھی صحت ، کبھی بیماری ، پھر جب انسان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو پھر وہ شکوہ بھی کرنے لگتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسی سلسلہ میں فرمایا وما صابکم من مصبیبۃ فبما کسبت ایدیکم تمہیں جو بھی کوئی تکلیف پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کا نتیجہ ہوتا ہے مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کسی پر زیادتی نہیں کرتا کہ وہ بلا وجہ کسی کو مصیبت میں مبتلا کر دے بلکہ ہر آمدۃ تکلیف انسان کے کسی اپنے ہی کردہ اعمال کے بدلے کے طور پر نازل ہوتی ہے ۔ سورة روم میں اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ظہر الفساد فی الیر والبحر بما لسبت ایدی الناس لیذیقھم بعض ندی عملو ( آیت : 8) خشکی اور تری میں فساد برپا ہوگیا ہے لوگوں کے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے تا کہ اللہ تعالیٰ ان کو ان کے بعض اعمال کا مزہ چکھائے ۔ بہر حال اللہ کا فرمان ہے کہ کوئی شخص نیک ہو یا بد اس کو پہنچنے والی تکلیف بلا وجہ نہیں آتی بلکہ اس کے لیے اعمال کا نتیجہ ہوتا ہے ۔ ہاں اللہ کا یہ اصول بھی اپنی جگہ قائم ہے کہ وہ ہر برے عمل پر گرفت نہیں کرلیتا بلکہ ویعفوا عن کثیر ان میں سے بہت سی کوتاہیوں سے در گزر فرماتا ہے اور ان کے لیے انسان کو کوئی تکلیف نہیں پہنچاتا ، تا ہم تکلیف پہنچانے کا حق اس کے پاس محفوظ ہوتا ہے ، بہر حال یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ بیشتر مصائب و پریشانیاں لوگوں کے اعمال بد کی وجہ سے آتی ہیں ۔ حضرت شاہ عبد القادر (رح) اور بعض دیگر مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ مذکورہ اصول عاقل اور بالغ لوگوں کے لیے ہے خواہ وہ نیک ہوں یا بد ، البتہ انبیاء کرام اس قانون سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ وہمعصوم ہوتے ہیں ، اور ان سے اعمال بد سر زد نہیں ہوتے ، اس کے باوجود ہم دیکھتے ہیں کہ پریشانیوں اور مصائب انبیائے کرام (علیہ السلام) کو بھی بہت زیادہ لا حق ہوئیں اس طرح نا بالغ بچے ہیں جو ابھی مکلف نہیں ، لیکن تکلیفیں ان کو بھی آتی ہیں ۔ تو شاہ صاحب فرماتے ہیں کہ انبیاء اور غیر مکلفین کے مصائب کی وجہ ان کے اعمال نہیں ہوتے بلکہ ان کی حقیقت اور حکمت کچھ اور ہی ہوتی ہے جس کو اللہ تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ ان کو پیش آنے والی تکالیف ان کے درجات کی بلندی کا ذریعہ بن جاتی ہوں ۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ کسی اہل ایمان کو پہنچنے والی چھوٹی سے چھوٹی تکلیف بھی اس کے گناہوں اور لغزشوں کا کفارہ بن جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر اگر کسی شخص کو کانٹا چبھ گیا ہے ۔ ٹھوکر لگ گئی ہے یا کوئی خراش آگئی ہے ، کسی ذہنی پریشانی میں مبتلا ہوگیا ہے تو یہ اس کے اعمال سوا کا کفارہ ہوتا ہے ، تا ہم عام قانون یہی ہے کہ آدمی اچھا ہو یا برا اس کے مصائب میں اس کے اعمال کا دخل ہوتا ہے ، البتہ بیشتر اوقات اللہ تعالیٰ گرفت نہیں کرتا بلکہ معاف کردیتا ہے۔ جس طرح وہ دنیا میں در گزر فرماتا ہے ، ہو سکتا ہے کہ وہ برزخ اور آخرت میں بھی معاف فرما دے یا وہاں پر گرفت کرے ، یہ اس کی منشاء پر موقوف ہے ۔ بہر حال اس کے در گزر کا قانون دنیا ، برزخ اور آخرت سب پر حاوی ہے۔ راہ فرار ممکن نہیں فرمایا وما انتم بمعجزین فی الارض اور نہیں ہو تم عاجز کرنے والے اللہ تعالیٰ کو زمین میں ، اگر کوئی شخص چاہے کہ اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کر کے ، کوئی غلطی کوتاہی اور گناہ کر کے اللہ تعالیٰ کے تسلط سے بھاگ جائے یعنی اس کی گرفت سے باہر ہوجائے تو ایسا ممکن نہیں ۔ کوئی شخص کسی قلعے میں پناہ لے لے جنگلوں اور صحرائوں میں چھپ جائے ، کسی پہاڑ کی غار میں پناہ گزین ہوجائے ، وہ اللہ تعالیٰ کی سلطنت سے راہ فرار اختیار نہیں کرسکتا اور نہ اس کی گرفت سے بچ سکتا ہے ، اللہ تعالیٰ کو عاجز کرنے کا یہی مطلب ہے۔ فرمایا تم اس سے بھاگ کر کہاں جائو گے وما لکم من دون اللہ من ولی ولا نصیر تمہارے لیے اللہ کے سوا نہ کوئی کار ساز اور نہ کوئی مدد گار ۔ مصیبت کے وقت کوئی بھی کام نہیں آئے گا ، اس آیت میں خدا تعالیٰ کی وحدانیت ، قدرت کاملہ اور جزائے عمل کا ذکر ہوگیا ۔ دلائل قدرت اور وحدانیت اللہ نے اپنی قدرت اور وحدانیت کے دلائل کے سلسلے میں فرمایا ومن ایتہ الجوار فی الجر کالا علام اس کی قدرت کے دلائل میں سے پہاڑوں کی مانند سمندر میں چلنے والی کشتیاں بھی ہیں ۔ جو ارء ، جاریہ کی جمع ہے جس کا معنی پانی میں چلنے والی ۔۔۔۔۔ کشتی ہوتا ہے ۔ جیسے طوفان کے موقع پر فرمایا انا لما طغا الماء حملنکم فی الجاریۃ ( الحاقۃ : 11) جب نوح (علیہ السلام) کے زمانے میں عظیم سیلاب آیا تو ہم نے تمہیں پانی میں چلنے والی کشتی پر سوار کردیا ۔ اس زمانے میں تو جاریہ سے مراد بادبانی کشتی ہی لیا جاتا تھا مگر بعد میں بحری ذرائع نقل و حمل نے بڑی ترقی کی ہے۔ پہلے سینمر چلے ، پھر کوئلے یا تیل سے چلنے والے لاکھوں ٹن وزنی ، جہاز اور ٹینکر معرض وجود میں آگئے۔ یہ اتنے بڑے بڑے جہاز ہیں جنہیں پہاڑوں سے تشبیہ دی جاسکتی ہے۔ حاجیوں کے لیے مخصوص سفینہ حجاج گیارہ منزلہ تھا ، اس کی چار منزلیں پانی میں اور سات اوپر تھیں اور دیکھنے میں پہاڑ نظر آتا تھا ، اب ختم ہوچکا ہے۔ فرمایا اللہ نے ان کو اپنی قدرت کاملہ سے پانی کی سطح پر رواں دواں کیا ہے یہ اللہ تعالیٰ کی شان ہے کہ ایک سوئی جیسی چھوٹی چیز تو پانی میں ڈوب جاتی ہے۔ مگر ہزاروں اور لاکھوں ٹن وزنی جہاز ، لاکھوں ٹن سامان لیے ہزاروں میل کا سفر کرتے ہیں ۔ فرمایا ان یشا یکسن الریح اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ہوا کو روک دے فیظللن رواکد علی ظھرہ پس وہ پانی کی پشت پر ٹھہرے ہوئے ہوجایا پرانے زمانے میں بادبانی کشتیوں کے ذریعے سفر کا انحصار ہوا پر ہوتا تھا۔ اگر وہ چاہے تو ہوا کو ہی روک دے تو ایسی صورت میں کشتی بھی پانی کی سطح پر رک جائے گی ۔ یہ تو اس زمانے کی بات تھی ، آج بھی جب اللہ تعالیٰ کی منشاء ہوتی ہے تو بڑے بڑے جہاز سطح آب پر رک جاتے ہیں ۔ انجن میں کوئی نقص پڑجائے یا سخت طوفان برپا ہوجائے تو جہاز کو روکنا پڑتا ہے ، بلکہ بعض اوقات کسی حادثے کی صورت میں بڑے ہے جہاز بھی تباہ ہو سکتا ہے ۔ بعض اوقات جہاز کسی سمندری چٹان سے ٹکرا کر پاش پاش ہوجاتا ہے ، کبھی خشکی پر چڑھ جاتا ہے ، آگ لگ جاتی ہے اور اس طرح بڑا جانی و مالی نقصان ہوجاتا ہے۔ سمندر کی وسعت اور اس سے اٹھنے والی پہاڑوں جتنی اونچی اونچی میں بڑے سے بڑے جہاز کی حیثیت بھی ایک تنکے سے زیادہ نہیں ہوتی ، یہ تو اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانی ہے کہ وہ چھوٹی چھوٹی کشتیوں سے لے کر دیو ہیکل جہازوں کو پانی کی سطح پر چلا رہا ہے۔ فرمایا ان فی ذلک لایت لکل صبار شکور بیشک اس میں نشانیاں میں ہر صابر و شاکر آدمی کے لیے ، ان نشانات قدرت سے وہی لوگ مستفید ہو سکتے ہیں جو ہر تکلیف اور مصیبت پر صبر کے دامن کو تھامے رکھتے ہیں اور جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی نعمت میسر آتی ہے ، صحت اور آسودگی حاصل ہوتی ہے تو اس کی قدر دانی کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے ہیں ۔ اگلی آیت میں اللہ نے اسی پہلی بات کا اعادہ کیا ہے او یوبقھن بما کسبوا اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو لوگوں کو ان کی کارکردگی کی بناء پر ہلاک کر دے ، جونہی کوئی شخص کسی ظلم و زیادتی یا گناہ کا مرتکب ہو اللہ تعالیٰ فوراً گرفت کر کے اسے ہلاک کر دے ، کیونکہ وہ اس پر بھی قادر ہے ، مگر ویعف عن کثیر وہ اکثر گناہ گا روں سے در گزر ہی فرماتا ہے ، ان کی فوری گرفت نہیں کرتا بلکہ مہلت دیتا ہے ، دنیا میں در گزر کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ چاہے تو برزخ یا آخرت میں سزا دے دے یا اگر چاہے تو اپنی مہربانی سے وہاں بھی معاف فرما دے اور یہ اس کی شان کریمی کا اظہار ہوگا۔ فرمایا سزا دینے کا ایک مقصد یہ بھی ہے ویعلم الذین یجادون فی ایتناتا کہ جان لیں وہ لوگ جو ہماری آیتوں میں جھگڑا کرتے ہیں ما لھم من محیص کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے جھگڑا کرنے سے مراد یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی وحدانیت ، رسالت ، وحی الٰہی قیامت اور شرائع اور قوانین الٰہیہ کا انکار کیا جائے اور اس سلسلے میں اہل حق کے ساتھ جھگڑا کیا جائے ، اگر اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو فوراً پکڑے تو انہیں کوئی چھڑانے والا نہیں ہوگا ، ان کی تمام تدابیر ناکام ہوجائیں گی ، کیونکہ تمام تدابیر تو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں ، یہ بھی اللہ تعالیٰ کی قدرت اس کی توحید اور جزائے عمل کی دلیل ہوگی۔ متاع دنیا اور آخرت اگلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے دنیا کے ساز و سامان کا مقابلہ آخرت کی ابدی زندگی اور اس کے انعامات کے ساتھ کیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے فما اوتیتم من شی فمتاع الحیوۃ الدنیا تمہیں یہاں پر جو چیز بھی دی جاتی ہے یہ دنیا کی زندگی کا سامان ہے کہ انسان اسے اپنی چند روزہ حیات میں استعمال کرے حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا کی ہر چیز عارضی ہے حتیٰ کہ انسان کا اپنا وجود عمر صحت اور تمام لوازمات زندگی نا پائیدار ہیں۔ اس سے خدا تعالیٰ کا مقصد انسان کو یہ سمجھانا ہے کہ وہ اس عارضی دنیا اور اس کے عارضی سازو سامان کو ہی سب کچھ سمجھ کر اسی پر ہی مفتون نہ ہوجائے ، بلکہ اس کی نگاہ اس کی ابدی زنا کی اور اس کے سازو سامان پر ہونی چاہئے کیونکہ وما عند اللہ خیر وابقی جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ اس دنیا کے سازو سامان سے بہتر بھی ہے ، اور دیرپا بھی ، اللہ کے ہاں ملنے والے انعا و اکرام کی کیفیت اور مقدار کی نسبت اس دنیا کی زندگی اور ساز و سامان کے ساتھ کچھ بھی نہیں اس دنیا کی ہر چیز فانی ہے اور جو کچھ اللہ تعالیٰ کے پاس ہے وہ باقی رہنے والا ہے۔ اس میں کبھی کمی نہیں آئے گی ، مگر یہ ان لوگوں کے لیے ہے للذین امنوا جنہیں ایمان لانے کی توفیق نصیب ہوئی ۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اس کے رسولوں کتسب سماویہ وقوع قیامت اور جزائے عمل پر یقین کیا ۔ اس مقصد کے لیے ادنیٰ درجہ تو یہ ہے انسان مذکورہ چیزوں پر صدق دل سے ایمان لے آئے اور کمال درجہ یہ ہے کہ انسان ایمان لا کر اس پر عائد شدہ فرائض بھی ادا کرے۔ ایسے لوگوں کی کیفیت اللہ نے گزشتہ سورة میں بیان کردی ہے کہ جنت کی خوشخبری ان لوگوں کو حاصل ہوتی ہے۔ ان الذین قالوا ربنا اللہ ثم استقاموا جنہوں نے کہا کہ ہمارا پروردگار اللہ ہے اور پھر اس پر مستقیم رہتے ہوئے نہ صرف فرائض و واجبات کو ادا کیا بلکہ سنن اور مستحبات کی پابندی بھی کی ۔ فرمایا آخرت ان کے لیے ہے جو ایمان لائے وعلی ربھم یتوکلون اور جو اپنے پروردگار پر مکمل بھروسہ بھی رکھتے ہیں ۔ اللہ نے کامیاب لوگوں کی علامات بھی بیان کردی ہیں ۔ اب یہ انسانوں کا فرض ہے کہ وہ دنیا کی عارضی رونق پر مفتون ہونے کی بجائے آخرت کی دائمی زندگی اور اس کے دائمی انعامات کو حاصل کرنے کی کوشش کریں ۔ اس مقصد کے لیے اللہ نے یہ نسخہ بھی بتلا دیا کہ انسان کے پاس ایمان کی دولت ہونی چاہئے۔ ایما جس قدر مضبوط ہوگا ، اور اس کی درجہ جس قدر اعلیٰ ہوگا اسی قدر انسان کے انعامات میں بھی اضافہ ہوگا ، اور پھر ایمان کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ کی ذات پر مکمل اعتماد اور بھروسہ بھی ضروری ہے۔
Top