Mualim-ul-Irfan - Ash-Shura : 44
وَ مَنْ یُّضْلِلِ اللّٰهُ فَمَا لَهٗ مِنْ وَّلِیٍّ مِّنْۢ بَعْدِهٖ١ؕ وَ تَرَى الظّٰلِمِیْنَ لَمَّا رَاَوُا الْعَذَابَ یَقُوْلُوْنَ هَلْ اِلٰى مَرَدٍّ مِّنْ سَبِیْلٍۚ
وَمَنْ يُّضْلِلِ : اور جس کو بھٹکا دے۔ گمراہ کردے اللّٰهُ : اللہ فَمَا لَهٗ : تو نہیں اس کے لیے مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست مِّنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد وَتَرَى الظّٰلِمِيْنَ : اور تم دیکھو گے ظالموں کو لَمَّا : جب رَاَوُا الْعَذَابَ : وہ دیکھ لیں گے عذاب يَقُوْلُوْنَ : وہ کہیں گے هَلْ : کیا اِلٰى مَرَدٍّ : لوٹنے کی طرف۔ پلٹنے کی طرف مِّنْ : کوئی سَبِيْلٍ : راستہ ہے
اور جس کو اللہ تعالیٰ بہکا دے ، پس نہیں ہے اس کے لیے کوئی کام بنانے والا اس کے سوا ، اور دیکھے گا تو ظلم کرنے الوں کو جب وہ عذاب کو دیکھیں گے اپنے سامنے اور کہیں گے ، کیا ہے کوئی پھرجانے کی طرف راستہ ؟
ربط آیات گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے دین کے بہت سے اہم اصول بیان فرمائے تھے جن پر انسانیت کی فوز و فلاح کا دارومدار ہے۔ اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان اور بھروسہ ، کبائر اور بےحیائی سے اجتناب ، غصے کی حالت میں در گزر ، حکم الٰہی کی تعمیل نماز کا قیام ، انفرادی اور اجتماعی معاملات میں باہمی مشاورت ، خدا کی عطا کردہ روزی میں سے مستحقین پر انفاق ، سرکشی کرنے والے سے انتقام مگر در گزر کی پسندیدگی وغیرہ موٹے موٹے اصول ہیں جو اللہ نے گزشتہ درس میں بیان کیے۔ اب آج کے درس میں اللہ تعالیٰ نے ہدایت اور گمراہی کی بات سمجھائی ہے۔ پھر رسالت اور توحید کا مسئلہ بھی بیان فرما دیا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق انسانی کی دو اصناف کو اپنی قدرت اور حکمت بالغہ کے شاہکار کے طور پر بیان فرمایا ہے۔ ہدایت اور گمراہی اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کی ہدایت اور گمراہی کے ضمن میں ارشاد فرمایا ہے۔ ومن یضلل اللہ فمالہ من وبی من بعدہ اور جس شخص کو اللہ تعالیٰ گمراہ کر دے اس کے لیے اس کے سوا کوئی کار ساز نہیں ۔ اللہ تعالیٰ رحیم ، کریم ، عادل اور ہادل ہے وہ کسی کو یونہی گمرہ نہیں کرتا بلکہ اسی شخص کو گمراہ کرتا ہے جو اس کا مستحق ہوتا ہے اور جس شخص کے دل میں ہدایت کے حصول کا شوق اور … ۔ ضد عناد اور ہٹ دھرمی سے خالی ہو ، اللہ تعالیٰ اس کے لیے بقایا ہدایت کے راستے واضح کردیتا ہے مطلب یہ کہ ضدی ، عنادی اور بےانصاف آدمی ہی ہدایت سے محروم رہتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو حواس ظاہرہ اور باطنہ سے نوازا ہے۔ فہم اور علم دیا ہے اس کی رہنمائی کے لیے پیغمبر بھیجے ہیں ۔ کتابیں نازل فرمائی ہیں اور پھر انسان کو اختیار دے دیا ہے کہ وہ ہدایت اور گمراہی میں سے جو نسا راستہ چاہے اختیار کرلے ۔ اللہ کسی کو زبردستی صراط مستقیم سے نہیں بہکاتا ، البتہ اگر کوئی آدمی اپنے اختیار اور ارادہ سے غلط راستے پر چل نکلتا ہے تو پھر وہ اس کو زبردستی روکتا بھی نہیں ۔ بلکہ نولۃ ما تولی و نصلہ جھنم ( النسائ : 115) وہ جدھر جانا چاہتا ہے ہم ادھر ہی کی توفیق دے دیتے ہیں اور بالآخر وہ جہنم رسیدہو جاتا ہے۔ یہود و نصاریٰ کی گمراہی کی وجہ اللہ نے یہ بیان فرمائی ہے حَسَدًا مِّنْ عِنْدِاَنْفُسِھِمْ مِّنْم بَعْدِ مَاتَبَیَّنَ لَھُمُ الْحَقُّ (البقرہ : 109) کہ حق کے واضح ہوجانے کے باوجود انہوں نے اس بات سے حسد کیا کہ اللہ کا آخری نبی بنی اسرائیل کی بجائے بنی اسماعیل میں سے آ گیا ہے ، ان کا خیال تھا کہ جو شرف بنی اسرائیل کو اپنے وقت میں حاصل رہا ہے وہ کسی دوسری قوم کو نہیں ملنا چاہئے ، حالانکہ وہ نادان جانتے تھے کہ بنو اسحاق اور بنو اسماعیل ایک ہی باپ ابراہیم (علیہ السلام) کی اولاد ہیں ، لہٰذا اگر اللہ نے بنو اسحاق کے بعد بنو اسماعیل کو عظمت عطا فرمائی ہے تو اس میں حسد کی کیا بات ہے ، سب کا جد امجد تو وہی اللہ کا خلیل ہے۔ اس واضح ضد اور عناد کے باوجود اہل کتاب میں سے بھی بعض انصاف پسند لوگ پیدا ہوتے رہے ہیں ۔ تعصب کی عینک اتار کر دیکھا تو حقیقت ان کی سمجھ میں آگئی اور انہوں نے اسلام کو قبول کرلیا ۔ خود حضور ﷺ کے زمانہ مبارکہ میں حضر ت عبد اللہ بن سلام ؓ نے اسلام قبول کیا جو یہودیوں کے بہت بڑے عالم تھے۔ اللہ نے ان پر ہدایت کے دروازے کھول دیے اور وہ ہمیشہ کے لیے کامیاب ہوگئے۔ ابھی دو سال قبل ہندوستان کا ایک بہت بڑا ہندو اچاریہ مسلمان ہوگیا تھا ۔ اس نے دو مضامین میں ڈاکٹریٹ (P.H.D) کیا ہوا تھا۔ بارہ زبانیں جانتا تھا۔ مختلف مذاہب کا مطالعہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجہ پر پہنچا کہ اسلام ہی سب سے سچا مذہب ہے کسی نے کہا اسلام میں تو حلال و حرام کی بہت سی پابندیاں ہیں ، پھر تم نے اسے کیسے قبول کرلیا ؟ تو کہنے لگا کہ انسان انہی پابندیوں کو قبول کر کے ہمیشہ کے لیے آزاد ہوجاتا ہے اور اس کو کامیابی نصیب ہوتی ہے ، اس کو خواب میں حضور ﷺ کی زیارت بھی نصیب ہوئی اور اپنی بیوی اور بچی سمیت دائرہ اسلام میں داخل ہوگیا ۔ آجکل وہ بھوپال میں رہتا ہے ، کچھ عرصہ پہلے فرانس کے ایک سائنس دان نے بھی انصاف سے کام لیا تو اللہ نے اس کو بھی ہدایت دے دی اور وہ بھی حلقہ بگوش اسلام ہوگیا ۔ نیک نیت اور انصاف پسند آدمی تو کبھی نہ کبھی ہدایت کو پا لیتا اور جو ابلیس والے فکر میں مبتلا ہوجاتا ہے۔ وہ ہدایت سے محروم ہوجاتا ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ جس شخص کو خدا تعالیٰ بہکا دے اس کا خدا کے سوا کوئی کار ساز نہیں جو اس کو راہ راستہ کی طرف لاسکے۔ ظالموں کا انجام آگے اللہ نے ظالموں کی حالت زار بیان فرمائی ہے اور ظاہر ہے کہ سب سے بڑا ظلم تو کفر اور شرک ہے اس کے بعد درجہ بدرجہ قتل ناحق ، حق تلفی آبروریزی وغیرہ ظلم کی فہرست میں آتے ہیں ۔ اللہ نے اپنی کاموں کے مرتکبین کے متعلق فرمایا وتری الظلمین لما راو العذاب اور تو ایسے ظالموں کو دیکھے گا کہ جب وہ اس عذاب پر نگاہ ڈالیں گے جس میں وہ مبتلا ہونے والے ہوں گے یقولون ھل الی مرد من سبیل تو اس وقت کہیں گے کہ کیا دنیا میں واپس لوٹ جانے کی کوئی صورت ہے ؟ اس مقام پر مجرمین کی واپس جانے کی خواہش کا ذکر آخرت کے حوالے سے کیا گیا ہے ، تا ہم جب کسی شخص کی انفرادی موت کا وقت قریب آجاتا ہے۔ پردہ غیب اٹھ جاتا ہے اور موت کے فرشتے نظر آنے لگتے ہیں تو اس وقت بھی انسان اللہ رب العزت کی بارگاہ میں عرض کرتا ہے رب لولا اخرتنی الی اجل قریب فاصدق واکن من الصلحین (المنفقون) پروردگار ! اگر تو مجھے تھوڑی سی مہلت دے دیتا تو میں صدقہ و خیرات کر کے تیرے نیک بندوں میں شامل ہوجاتا ، مگر اللہ نے فرمایا ہے کہ جب کسی کی موت کا مقررہ وقت آ پہنچتا ہے تو پھر ہرگز مہلت نہیں دی جاتی ۔ سورة ابراہیم میں یہ مضمون اس طرح بیان کیا گیا ہے کہ ظالم لوگ عذاب والے دن کہیں گے ۔ رَبَّنَآ اَخِّرْنَآ اِلٰٓی اَجَلٍ قَرِیْبٍ نُّجِبْ دَعْوَتَکَ ونَتَّبِعِ الرُّسُلَ (آیت : 44) پروردگار ! ہمیں تھوڑی سی مہلت عطا کرتا کہ ہم تیری دعوت توحید کو قبول کرلیں اور تیرے پیغمبروں کا اتباع کرلیں ۔ اللہ فرمائے گا ، کیا تم اس سے پہلے قسمیں کھا کر نہیں کہا کرتے تھے کہ تم پر کوئی زوال نہیں آئے گا ؟ اب جب کہ دوسرا جہاں آنے والا ہے تمہیں اتباع رسل کی خواہش پیدا ہوئی ہے ، یہ قبول نہیں کی جائے گی ۔ غرضیکہ ظالم لوگ عذاب کو دیکھ کر واپسی کی خواہش کریں گے۔ اللہ نے فرمایا وترنہم یعرضون علیھا خشعین من الدل آپ ان کو دیکھیں گے وہ ذلت کی وجہ سے جھکی ہوئی آنکھوں سے دوزخ کے عذاب پر پیش کیے جائیں گے۔ ینظرون من طرف خفی اور وہ ذلیل نگاہوں سے دیکھیں گے۔ خفی کا معنی پوشیدہ بھی ہوتا ہے اور ذلیل بھی ، مطلب یہ ہے کہ اس دن ندامت کی وجہ سے نظریں اوپر نہیں اٹھا سکیں گے اس لیے ذلت آمیز مخفی نگاہوں سے دیکھیں گے۔ وقال الذین امنوا ان الخسرین الذین خسروا انفسھم واصلیھم یوم القیمۃ اس دن اہل ایمان لوگ کہیں گے کہ بیشک نقصان اٹھانے والے لوگ وہ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو قیامت والے دن خسارے میں ڈال دیا ، ان لوگوں کو اپنے حسام ، عمریں ار قوی گویا کہ زندگی کے قیمتی سرمایہ کو ضائع کردیا۔ انہوں نے اس طرح سرمایہ سے ایمان اور نیکی خریدنے کی بجائے کفر ، شرک ، معاصی اور بدعات کو خریدا یہ خود تو گمراہی میں ڈوبے ہوئے تھے اپنے اہل و عیال کو بھی لے ڈوبے کیونکہ عام طور پر بیوی بچے بھی اپنے بڑوں کے ہی تابع ہوتے ہیں اور بلا سوچے سمجھے انہی کے نقش قدم پر چلتے ہیں ۔ قیامت والے دن واضح ہوجائیگا کہ انہوں نے دنیا میں رہ کر خسارے کا سودا کیا اور پھر آواز آئے گا الا ان الظلمین فی عذاب مقیم آگاہ رہو کہ ظالم لوگ ایسے دائمی عذاب میں مبتلا ہوں گے ۔ جس سے کبھی باہر نہیں نکل سکیں گے۔ فرمایا وما کان لھم من اولیاء ینصرونھزمن دون اللہ ان کے لیے کوئی کار ساز نہیں ہوگا ، جو اللہ کے سوا ان کی مدد کرسکے ، ظالم لوگ اس دن بےیارو مدد گار رہ جائیں گے اور یہ بھی یاد رکھو ومن یضلل اللہ فمالہ من سبیل جس کو اللہ تعالیٰ اس کی ضد ، عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے گمراہ کر دے اس کو ہدایت کا راستہ نہیں مل سکے گا ۔ دنیا میں ہدایت سے محروم رہے گا اور آخرت میں عذاب مقیم کا شکار ہوگا جس سے باہر نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوگی۔ اس برکت سے بچنے کے لیے اللہ نے فرمایا استجیبوا لربکم اپنے پروردگار کے حکم کو تسلیم کر کے اس پر عمل پیرا ہو جائو من قبل ان یاتی یوم لا مرد لہ من اللہ قبل اس کے کہ وہ دن آجائے جو خدا تعالیٰ کی طرف سے ٹل نہیں سکتا ۔ وہ یقینا آ کر رہے گا ، لہٰذا اس دن سے پہلے پہلے ایمان لے آئو ۔ اور یاد رکھو ! مالکم من ملجا یومئذ وما لکم من نکیر اس دن تمہارے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہوگی اور نہ تمہارے لیے انکار کی کوئی گنجائش ہوگی ۔ دنیا میں تو تم کفر ، شرک اور معاصی کا ارتکاب کر کے پھر انکار بھی کردیتے تھے یا دنیا کی نظروں میں چھپ بھی جاتے تھے ، مگر قیامت والے دن نہ تو کہیں بھاگ کر جان بچا سکو گے اور نہ اپنے کردہ اعمال سے انکار کرسکو گے ، اس دن ہر چیز کھل کر سامنے آجائے گی اور پھر تمہیں اپنے عقائد و اعمال کا حساب چکانا ہی پڑے گا ۔ …… آگے رسالت کا مسئلہ بھی آ گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ اے اللہ کے نبی ! تمہاری تمام تر خیر خواہی اور تبلیغ کے باوجود فان اعرضوا اگر یہ لوگ اعراض کریں ۔ آپ کی بات پر توجہ نہ دیں فما ارسلنک علیھم حفیضا تو ہم نے آپ کو ان پر کوئی نگہبان بنا کر تو نہیں بھیجا کہ آپ ان کو حق کی بات منوا کر ہی چھوڑیں ۔ فرمایا ایسی بات نہیں ہے آپ ان کے مسلسل انگار کی وجہ سے دل برداشتہ نہ ہوں بلکہ اپنا کام کرتے جائیں اور ان کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دیں ۔ سورة الغاشیہ میں ہے لست علیھم بمصیطر ( آیت : 33) آپ ان پر کوئی داروغہ تو نہیں ہیں کہ انہیں پکڑکر زبردستی حق کی طرف لے آئیں گے ۔ ان علیک الا البلغ آپ کے ذمے تو خدا کا پیغام پہنچا دینا ہے سورة الرعد میں اللہ نے مزید وضاحت فرما دیا ہے فانما علیک البلغ وعلینا الحساب ( آیت : 40) بیشک آپ کے ذمے پیغام پہنچا دینا ہے اور پھر ان سے حساب لینا ہمارا ذمہ ہے۔ دوسری جگہ فرمایا افانت تکرہ الناس حتیٰ یکونوا مومنین ( یونس : 99) کیا آپ لوگوں کو مجبور کریں گے کہ وہ ضرور ایماندار بن جائیں ؟ نہیں بلکہ قدتبین الرشد من الفی ( البقرہ : 256) ہدایت اور گمراہی واضح ہوچکے ہیں ۔ اب جو شخص اپنے اختیار اور ارادے سے گمراہی کے راستے پر چلے گا تو پھر وہ اس کا خمیازہ بھگتنے کے لیے بھی تیار رہے۔ انسان کی دوزخی اللہ تعالیٰ نے عام انسانوں کی نا شکری کا حال اس طرح بیان فرمایا ہے۔ وانا اذا اذفنا الانسان منا رحمۃ فرح بھا بیشک جب ہم انسان کو اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو وہ خوش ہوجاتا ہے یعنی جب اسے دنیا میں آرزو راحت نصیب ہوتا ہے ، مال و دولت ، عزت و جاہ حاصل ہوتا ہے ، تو پھر بھولے نہیں سماتا اور کہتا ہے کہ یہ میرے علم و ہنر کا ثمرہ ہے۔ میں اس قابل تھا کہ مجھے یہ چیزیں حاصل ہوتیں ۔ دوسرے لفظوں میں وہ اللہ تعالیٰ کی مہربانی کو خاطر میں نہیں لاتا اور نہ اس کا شکر ادا کرتا ہے وان نصبھم سیتۃ بما قدمت ایدیھم اور اگر ان کو ان کے اپنے ہاتھوں کی کمائی کی وجہ سے تکلیف پہنچتی ہے ، اپنی غلط کرتوتوں کی وجہ سے کسی مصیبت میں گرفتارہو جاتے ہیں فان الانسان کفور تو بیشک انسان ناشکر گزار بن جاتا ہے تکلیف کے وقت وہ خدا تعالیٰ کا شکوہ کرنے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ کیا یہ ذلت و رسوائی میرے ہی حصے میں آنے والی تھی ؟ غرضیکہ اللہ نے عام انسان کی یہ حالت بیان فرمائی ہے کہ آسودگی میں غرو ر وتکبر کرتا ہے اور مصیبت میں ناشکر گزار بن جاتا ہے۔ اس کے بر خلاف ایک مومن آدمی ہر حالت میں راضی برضا رہتا ہے۔ راحت آتی ہے ، تو شکر اد کرتا ہے اور تکلیف آتی ہے تو منجانب اللہ سمجھ کر اسے برداشت کرتا ہے۔ اولاد مطابق منشائے خداوندی اگلی آیت میں اللہ نے اپنی قدرت تامہ اور حکمت بالغہ کا اظہار اس طرح فرمایا ہے للہ ملک السموات والارض آسمانوں کی بلندیوں اور زمین کی پستیوں میں اللہ ہی کی بادشاہی ہے ۔ وہی ہر چیز کا مالک اور متصرف ہے۔ یخلق ما یشاء وہ پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہے۔ ہر تخلیق اس کی منشاء اور حکمت پر منحصر ہوتی ہے ۔ خاص طور پر انسان کی تخلیق کے متعلق فرمایا یھب لمن یشاء اناثا و یھب لمن یشاء الذکور وہ جس کو چاہے بیٹیاں عطا کرتا ہے اور جس کو چاہے بیٹے دیتا ہے۔ یعنی تفریق جنس کا معاملہ خالصتا ً اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ وہ اپنی حکمت اور مصلحت کے مطابق لڑکے اور لڑکیوں کی تقسیم کرتا ہے۔ سورة القیامۃ میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ اس نے قطرہ آب سے اور پھر خون کے جمے ہوئے لوتھڑے سے انسان کی تخلیق فرمائی فجعل منہ الزوجینت الذکرو انثی ( آیت : 39) پھر ان میں نر اور مادہ کے جوڑے جوڑے بنا دیئے۔ فرمایا جس کو چاہتا ہے بیٹیاں دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹے عطا کرتا ہے اویزوجھم ذکرانا وانا ثا یا ان کو بیٹے اور بیٹاں جو ڑوں کی شکل میں دیتا ہے ہر شخص کے حالات کے مطابق بعض کو بیٹے اور بیٹیاں دونوں صفتیں عطا کردیتا ہے ویجعل من یشاء عقیما ً اور جس کو چاہتا ہے بانجھ بنا دیتا ہے یعنی نہ لڑکی دیتا ہے اور نہ لڑکا بلکہ بعض لوگ عمر اولاد سے محروم رہتے ہیں ، یہ اس کی قدرت کاملہ کا کام ہے ، اولاد کے سلسلے میں انسان چار قسم کے گروہوں میں تقسیم ہو سکتے ہیں جن کی اولاد میں (1) صرف لڑکیاں ہوں یا (2) صرف لڑکے ہوں (3) لڑکے اور لڑکیاں دونوں صفتیں ہوں اور یا (4) کچھ بھی نہ ہو ۔ نسل انسانی انہی چار گروہوں میں منقسم ہے۔ مشہور ہے کہ حضر ت ابراہیم (علیہ السلام) کے صرف بیٹے تھے اور لوط (علیہ السلام) کی صرف بیٹیاں تھیں اور حضور ﷺ کو اللہ نے بیٹیاں بھی دیں اور بیٹے بھی جب کہ یحییٰ (علیہ السلام) سے بالکل محروم رہے۔ تخلیق انسانی میں اللہ تعالیٰ کی عجیب حکمت کار فرما ہے۔ وہ چاہے تو آدم (علیہ السلام) کو بغیر والدین کے پیدا کردے اور حضرت حوا ؓ کو ماں کے بغیر صرف باپ سے پیدا کر دے ۔ ادھر عیسیٰ (علیہ السلام) ہیں کہ باپ نہیں ہے صرف ماں سے پیدا ہوئے اور عام انسانوں کو اللہ نے مردوزن دونوں کے اختلاط سے پیدا فرمایا ہے یہ سب اس کی کمال قدرت کی نشانیاں ہیں ۔ اس آیت کریمہ میں آمدہ لفظ یروجنھم کا بعض مفسرین یہ معنی بھی کرتے ہیں کہ چاہے تو ایک ہی حمل میں لڑکا اور لڑکی دونوں پیدا فرما دے۔ ہمارے قریبی ساتھی نے بتایا کہ ان کے بیٹے کے ہاں تین جڑواں بچے تولد ہوئے جن میں دو بچیاں اور ایک بچہ تھا۔ 50؁ء میں ایک کسان کے گھر میں بیک وقت آٹھ پکوں کی پیدائش کی خبر آئی تھی اور اس قسم کے واقعات اکثر پیش آتے رہتے ہیں کہ ایک ہی حمل میں دو یا زیادہ بچے پیدا ہوئے اور دوسری طرف یہ بھی ہے کہ میاں بیوی بالکل تندرست ہیں علاج کرواتے ہیں ۔ تعویز گنڈے وغیرہ بھی آزماتے ہیں مگر عمر بھر ٹکریں مارنے کے باوجود کچھ نہیں ہوتا ۔ بات واضح ہے کہ تخلیق اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہے۔ انہ علیم قدیر بیشک وہ سب کچھ جانتا بھی ہے اور ہر چیز پہ قدرت بھی رکتا ہے ، نہ کوئی اس کی ذات میں شریک ہے نہ صفات میں ، نہ تدبیر میں اور نہ تصرف میں ، وہ جو چاہے کرے ، اس کی حکمت و مصلحت میں کوئی دخل اندازی نہیں کرسکتا ۔
Top