Mualim-ul-Irfan - Ash-Shura : 7
وَ كَذٰلِكَ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ قُرْاٰنًا عَرَبِیًّا لِّتُنْذِرَ اُمَّ الْقُرٰى وَ مَنْ حَوْلَهَا وَ تُنْذِرَ یَوْمَ الْجَمْعِ لَا رَیْبَ فِیْهِ١ؕ فَرِیْقٌ فِی الْجَنَّةِ وَ فَرِیْقٌ فِی السَّعِیْرِ
وَكَذٰلِكَ : اور اسی طرح اَوْحَيْنَآ : وحی کی ہم نے اِلَيْكَ : آپ کی طرف قُرْاٰنًا عَرَبِيًّا : قرآن عربی کی لِّتُنْذِرَ : تاکہ تم خبردار کرو اُمَّ الْقُرٰى : مکہ والوں کو وَمَنْ حَوْلَهَا : اور جو اس کے آس پاس ہیں وَتُنْذِرَ : اور تم خبردار کرو يَوْمَ الْجَمْعِ : جمع ہونے کے دن سے لَا رَيْبَ فِيْهِ : نہیں کوئی شک اس میں فَرِيْقٌ : ایک گروہ ہوگا فِي الْجَنَّةِ : جنت میں وَفَرِيْقٌ : اور ایک گروہ ہوگا فِي السَّعِيْرِ : دوزخ میں
اور اسی طریقے سے ہم نے وحی اتاری آپ کی طرف قرآن عربی زبان میں تا کہ آپ ڈر سنائیں ام القریٰ اور اس کے ارد گرد والوں کو ، اور آپ ڈر ا دیں جمع ہونے والے دن سے جس میں کوئی شک نہیں ایک فریق جنت میں اور دوسرا فریق بھڑکتی ہوئی آگ میں ہوگا
وحی الٰہی کی حقانیت وحی الٰہی پر ایمان لانا دین کے بنیادی اصولوں میں سے ہے۔ سورة ہذا کی ابتداء بھی وحی الٰہی کی حقانیت سے ہوئی جیسا کہ گزشتہ درس میں فرمایا کذلک یوحی الیک والی الدین من قبلک اسی طرح ہم نے وحی بھیجی آپ کی طرف جیسا کہ وحی بھیجی آپ سے پہلے لوگوں کی طرف ، اور اب اس درس کا آغاز بھی درس الٰہی کی حقانیت سے ہو رہا ہے ۔ البتہ سابقہ درس کی نسبت وحی الٰہی کا ذکر اس مقام پر قدرے تفصیل سے ہے۔ ارشاد ہوتا ہے وکذلک اوحیان الیک قرانا عریبا اور اسی طرح ہم نے وحی نازل کی ہے آپ کی طرف ایک قرآن جو عربی زبان میں ہے۔ قرآن پاک میں وحی الٰہی اور دوسرے بنیادی عقائد کا تذکرہ بار ہا آ رہا ہے تا کہ بات اچھی طرح ذہن نشین ہوجائے گزشتہ درس میں وحی الٰہی کا ذکر سابقہ انبیاء کے تسلسل میں کیا گیا تھا کہ حضرت آدم (علیہ السلام) سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام انبیاء پر کم و بیش وحی کا نزول ہوتا رہا ہے اور اب یہ بات واضح کی جا رہی ہے کہ ہر وحی کا نزول نبی کی قومی زبان میں ہوتا ہے ، چناچہ سورة ابراہیم میں موجود ہے وما ارسلنا من رسول الا بلسان قوم لیبین لھم ( آیت : 4) ہم نے ہر رسول کو اس کی قومی زبان میں بھیجا تا کہ وہ اپنی قوم کو بات اچھی طرح واضح کرسکے ۔ جب نبی اور قوم کی زبان ایک ہوگئی تو لا محالہ وحی الٰہی بھی اسی زبان میں نازل ہوگی ۔ اسی لئے فرمایا کہ ہم نے آپ کی طرف وحی کی قرآن پاک جو کہ آپ کی قومی زبان عربی میں ہے۔ جزائے عمل کیوں ضروری ہے ؟ امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ انسان کے لیے جزائے عمل کا واقع ہونا چار وجوہات کی بناء پر ضروری ہے۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ انسان کی تخلیق فطرت اور اس کے قوائے ظاہرہ و باطنہ چاہتے ہیں کہ اس کو عمل کا بدلہ ضرور ملنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان میں ملکیت اور بہمیت دونوں قسم کی قوتیں ودیعت کی ہیں ۔ اور انسان ذاتی طور پر چاہتا ہے کہ اس کی ملکیت اس کی بیہمت پر غالب رہے تا کہ اسکے حالات فطرت کے مطابق درست رہیں ۔ اس کے بر خلاف اگر بہمیت ملکیت پر غالب آگئی تو اس کا نتیجہ الٹ نکلے گا۔ اب ملکیت کو غالب رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ انسان میں ایسے امور کی انجام دہی کے لیے طہارت یعنی پاکیزگی پائی جائے ، اگر نجاست والے کام کرے گا ، خواہ وہ ظاہری نجاست ہو یا روحانی ، تو اس سے اس کا مزاج بگڑ جائے گا ، علاوہ ازیں ملکیت کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ انسان خبات یعنی عاجزی کو اختیار کرے ، اگر غرور وتکبر میں پھنس گیا تو ناکام ہوجائے گا ۔ انسان کے لیے تیسری خصلت سماحت بھی ہونی چاہئے یعنی وہ فیاض اور نرم دل ہو اور خود غرضی اور حسات سے پرہیز کرتا ہو اور چوتھی صفت یہ ہے کہ انسان میں عدل پایا جائے یعنی وہ علم و جور کی خصلت سے پاک ہو ۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ انسان میں ملکیت کے غلبہ کے لیے اس میں مذکورہ چار صفات یعنی طہارت ، اخبات ، سماحت اور عدل کا ہونا ضروری ہے ورنہ اس کا مزاج بگڑ کر بہمیت کی طرف چلا جائے گا ۔ شاہ صاحب (رح) مثال کے طور پر سمجھاتے ہیں کہ گھاس خور جانور بھیڑ بکری ، گائے ، اونٹ وغیرہ جب تک گھاس اور چارہ کھاتے رہیں گے ان کا مزاج درست رہے گا اور جب یہ گوشت کھانے لگیں گے تو ان کا مزاج بگڑ جائے گا ۔ اسی طرح انسانی فطرت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ وہ ایسے کام انجام دے جس سے اس میں ملکیت کا عنصر ہیمیت کے عضر پر غالب رہے۔ غرضیکہ جزائے عمل کی پہلی وجہ تو خود فطرت انسانی کا تقاضا ہے کہ یہ ضرور واقع ہونا چاہئے کیونکہ اس کے بعد انسان کے اچھے اور برے اعمال میں تمیز بےمعنی ہوجاتی ہے۔ جزائے عمل کے واقع ہونے کی دوسری وجہ یہ ہے کہ اللہ کی مقرب مخلوق یعنی ملاء اعلیٰ کے فرشتے ہر انسان کے لیے دعا یا بد دعا کرتے ہیں ، جو انسان اچھے اعمال انجام دیتے ہیں تو فرشتے ان کے حق میں بخشش کی دعائیں کرتے ہیں۔ سورة المومن کے پہلے رکوع میں خدا تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ حاملین عرش اور اس کے ارد گرد حلقہ باندھنے والے فرشتے اپنے پروردگار کی تسبیح وتحمید بیان کرتے ہیں ۔ اس کے ساتھ ایمان رکھتے ہیں ویستغفرون للذین امنوا اور اہل ایمان کیلئے بخشش کی دعائیں کرتے ہیں ۔ جب اللہ کے بندے ایمان لانے کے بعد نیک اعمال انجام دیتے ہیں تو فرشتوں سے خوشی کی شعائیں نکلتی ہیں ، جو ایک طرف تو اس نیک آدمی پر پڑتی ہیں اور دوسری طرف اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی جاتی ہیں اور اگر کوئی آدمی برے کام کرتا ہے تو فرشتوں س غیب کی شعائیں اٹھتی ہیں اور ان کے مونہوں نے بد دعائیں نکلتی ہیں ۔ تو اس دعا یا بد دعا کا نتیجہ بھی جزائے عمل کی صورت میں ضروری ہے۔ تیسری وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں اور انبیاء (علیہم السلام) پر شرائع نازل فرمائے ہیں اور انسانوں کو ان کی پابندی کرنے والوں کو اچھاصلہ اور ان کی مخالفت کرنے والوں کو سزا ملے ۔ چوتھی وجہ یہ ہے کہ اللہ کا فرمان ہے وما ارسلنا من رسول الا لیطاع باذن اللہ ( النسائ : 64) ہم نے ہر رسول کو اس لیے بھیجا تا کہ لوگ اس کی پیروی کریں اب اگر کوئی شخص اپنے نبی کی پیروی کرتا ہے اور کوئی نہیں کرتا تو وہ برابر نہیں ہو سکتے لہٰذ بعثت انبیاء (علیہم السلام) کا تقاضا بھی ہے کہ اطاعت کنندہ کو جزاء اور منکر کو سزا دی جائے اور یہی جزائے عمل ہے۔ تبلیغ قرآن کے ذرائع جزائے عمل کے دن سزا سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ احکام الٰہی پر عمل کیا جائے۔ اللہ تعالیٰ اپنے احکام اور شرائع اپنے ابنیاء کے واسطہ سے لوگوں تک پہنچاتا ہے۔ ہر نبی پورے طریقے سے حق تبلیغ ادا کرتا ہے اور پھر اس کے بعد بھی اگر کوئی شخص ایمان کو قبول نہیں کرتا تو وہ سزا کا مستحق بن جاتا ہے۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے وما کنا معذبین حتی نبعت رسولا ً ( بنی اسرائیل : 15) ہم کسی قوم کو سزا نہیں دیتے جب تک کہ اس کے پاس اپنا رسول نہ بھیج لیں ۔ اور نبی اپنی قومی زبان میں کلام کرتا ہے ، اگر نبی کی زبان قوم کی زبان سے مختلف ہو تو پھر اعتراض آئے گا کہ ہم اللہ کے احکام کو اچھی طرح سمجھ نہیں پائے ، یہ اعتراض گزشتہ سورة حم السجدۃ میں ذکر ہوچکا ہے کہ اگر ہم اس قرآن کو غیر عربی زبان میں نازل کرتے تو یہ لوگ کہتے کہ اس کی آیتیں ہماری زبان میں کیوں نہیں بیان کی گئیں کیا خوب ہےء اعجمی و عربی (آیت : 44) کہ قرآن عجمی زبان میں ہے جب کہ ہم عربی بولنے والے ہیں ۔ الغرض ! تبلیغ قرآن کا ایک ذریعہ تو عربی زبان ہے جو اس کے اولین مخاطبیین کی زبان ہے۔ انہوں نے پہلے خود اس کو سمجھا اور پھر آگے دوسروں تک پہنچایا ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ ہم نے یہ قرآن عربی زبان میں نازل فرمایا ہے لینذر امر القریٰ ومن حولھا تا کہ آپ ڈرا دیں بستیوں کی جڑ یعنی مکہ مکرمہ اور اس کے اردگرد والوں کو چونکہ آپ عربوں کی طرف اسی زبان میں مبعوث ہوئے ، اس لحاظ سے آپ قومی نبی ہیں قُلْ یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہ ِ اِلَیْکُمْ جَمِیْعَا (الاعراف : 158) اے پیغمبر ! آپ کہہ دیں کہ اے دنیا جہان کے لوگو ! میں تم سب کی طرف رسول بنا کر بھیجا گیا ہوں ۔ گویا اس لحاظ سے آپ بین الاقوامی نبی بھی ہیں ، مگر آپ کی یہ حیثیت آپ کی اپنی قوم یعنی عربوں کے واسطہ سے ہوگی سب سے پہلے آپ نے اپنی قوم کو دین کو علم سکھایا اور پھر انہوں نے آگے دنیا میں اس کو پہنچایا ، اللہ نے فرمایا کہ اے لوگو ! ہم نے تمہیں امت معتدل بنایا ہے لتکونوا شھداء عل الناس ویکون الرسول علیکم شھیدا (البقرہ : 143) تاکہ تم تمام دنیا کے معلم بن جائو اور اللہ کا رسول تمہارا معلوم ہوجائے۔ بہ حال تبلیغ قرآن اور تبلیغ دین کا کام حضور ﷺ کی قوم کے واسطہ سے نسلا ً بعد نسلا ً چلا آ رہا ہے جو تا قیام اسی طرح جاری رہے گا ، چناچہ اللہ نے حضور ﷺ کی زبان سے کہلوایا کہ یہ قرآن میری طرف اس لیے وحی کیا گیا ہے کہ میں تمہیں اس کے ذریعے ڈرائوں ومن بلغ ( الانعام : 19) اور اس کو بھی جس تک یہ پہنچے۔ نزول قرآن کی غایت بہر حال اللہ نے نزول قرآن کا ایک مقصد تو یہ بیان فرمایا ہے آپ مکہ والوں اور ارد گرد والوں کو ڈرائیں ۔ اس مقام پر شہر مکہ کے لیے ام القریٰ کا لفظ استعمال کیا گیا ہے جس کا معنی بستیوں کی جڑ یا بنیاد ہے ، ابتداء میں کرہ ٔ ارض مکمل طور پر پانی میں ڈوبا ہوا تھا ، پھر اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے خانہ کعبہ والی جگہ پر خشکی کا ابھار پیدا کیا اور پھر اسی کو پھیلا کر ساری زمین بنا دی گئی ۔ اسی لیے شہر مکہ کو زمین کی ناف بھی کہتے ہیں کہ زمین کا پھیلائو اسی مقام سے شروع ہوا ، مکہ مکرمہ کو ام القریٰ اس لحاظ سے بھی کہتے ہیں کہ اس کو دنیا بھر کی بستیوں میں فضلیت حاصل ہے ۔ جب حضور ﷺ والسلام ہجرت کے موقع پر مکہ مکرمہ کو چھوڑ رہے تھے تو آپ نے پلٹ کر اس بستی کی طرف نگاہ ڈالی اور فرمایا اے مکہ کی سر زمین ! تم اللہ کے نزدیک تمام خطوں سے بہتر خطہ ہو ، اگر میری قوم کے لوگ مجھے یہاں سے نکلنے پر مجبور نہ کرتے تو میں تیرا پڑوس چھوڑ کر کبھی نہ جاتا ۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ قرآن ہم نے اس لیے اتارا ہے تا کہ آپ اہل مکہ اور ارد گرد والوں کو ڈرائیں وتنذر یوم الجمع لا ریب فیہ او جمع ہونے کے دن یعنی قیامت کے روز سے بھی ڈرائیں جس کے واقع ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے۔ اس دن جزائے عمل کی منزل آئے گی جس کے نتجے میں فرق فی الجنۃ و فریق فی الشعیر ایک گروہ جنت میں جائے گا اور ایک گروہ بھڑکتی ہوئی آگ کا شکار ہوگا ۔ ایمان لا کر توحید کے راستے پر چلنے والا اللہ کی رحمت سے جنت میں داخل ہوگا اور کفر ، شرک اور معاصی کا مرتکب جہنم رسید ہوگا ۔ فرمایا آپ اس دن کی ہولناکیوں سے بھی لوگوں کو خبردار کردیں ، بہر حال یہ ذمہ داری سب سے پہلے عربوں پر عائد ہوتی ہے اور پھر ان کے واسطہ سے اگلی نسلیں ذمہ دار ہیں کہ وہ خدا کا دین آئندہ نسلوں تک پہنچائیں ۔ آج ہم بھی ذمہ دار ہیں کہ دین حق کو صحیح طریقے سے آنے والی نسلوں تک پہنچائیں اور اسی طرح ہر دور کے لوگوں پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ اسلام میں جبر نہیں دو فریقوں کا ذکر کرنے کے بعد اللہ نے فرمایا ولو شاء اللہ لجعلکم امۃ واحدۃ اگر اللہ تعالیٰ چاہتا تو سب لوگوں کو ایک ہی فرقہ بنا دیتا یعنی سب کو جبراً اطاعت پر مجبور کردیتا ، مگر یہ اس کی حکمت کے منافی ہے ۔ اس کا عام اعلان ہے کہ یہ قرآن تمہارے پروردگار کی طرف سے بر حق ہے فمن شاء فلیومن ومن شاء فلیکفر ( الکہف : 29) اب جس کا جی چاہے اس پر ایمان لائے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔ اگر کفر کرے گا تو آگے اس کے لیے جہنم بھی تیار ہے اللہ نے خبردار کردیا ہے مگر جبر نہیں کیا ۔ اس کا قانون یہ ہے کہ لا اکراہ فی الدین قدتبین الرشد من الغنی (البقرہ : 256) دین میں جبر نہیں ہے ہدایت گمراہی سے الگ ہوچکی ہے ۔ اب یہ انسان کے اپنے اختیار میں ہے کہ وہ ہدایت کا راستہ اختیار کرتا ہے یا گمراہی کا ۔ بعض لوگوں نے اس ضمن میں مسلمانوں کو بد نام کرنے کی کوشش کی ہے کہ بعض مسلمان حکمرانوں نے لوگوں کو زبردستی اسلام میں داخل کیا ہے ۔ اس قسم کا پراپیگنڈا اور نگ زیب عالمگیر (رح) کے خلاف خاص طور پر کیا جاتا ہے مگر یہ درست ہیں ہے ۔ خلافت راشدہ اور اس کے بعد کسی مسلمان حکومت نے غیر مسلموں کو دین میں زبردستی داخل کرنے کی کوشش نہیں کی ، البتہ دیگر اقوام نے مسلمانوں کے ساتھ ایسا سلوک ضرور کیا ہے ۔ سپین میں دو کروڑ مسلمان آباد تھے مگر عیسائویں نے یا تو انہیں قتل کردیا یا جبراً عیسائی بنا لیا ۔ روسی لوگوں کو زبردستی تاشترا کی بناتے ہیں اور اسی طرح ہندو ، بدھ اور سکھ بھی اپنا اپنا مذہب قبول کرنے پر مجبور کرتے تھے۔ فرمایا اللہ کسی پر جبر نہیں کرتا ولکن یدخل من یشاء فی رحمتہ بلکہ اللہ تعالیٰ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرلیتا ہے والظلمون ما لھم من وبی ولا نصیر اور جو لوگ ظالم ہیں یعنی کفر و شرک کو ترک کرنے کے لیے تیار نہیں ، ان کا نہ کوئی کار ساز ہوگا اور نہ مدد گار ، ایسے لوگ قیامت والے دن پکڑے جائیں گے اور پھر سخت سزا کے مستحق ہوں گے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کی اطاعت اس لیے ضروری ہے کہ وہ خالق اور مالک ہے اور نبی کی اطاعت اس لیے فرض ہے کہ وہ اللہ کا پیغام پہنچانے پر مامور ہوتا ہے ۔ اس کے بعد مسلمان حاکم علمائے حق ، مبلغ دین ، قاضی اور مفتی کی اطاعت بھی ضروری ہے مگر اس وقت تک جب تک وہ خود اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت میں رہے۔ اگر ان میں سے کوئی شخص خلاف قرآن و سنت بات کریگا تو وہ قابل قبول نہیں ہوگی ، سورة النساء میں اللہ کا فرمان ہے اے ایمان والو ! خدا اور اس کے رسول کی فرمانبرداری کرو اور تم میں سے جو صاحب اور میں ان کو بھی اور اگر کسی معاملہ میں اختلاف پیدا ہوجائے۔ فردہ الی اللہ والرسول ( آیت : 59) تو ایسے معاملہ کو اللہ اور اس کے رسول کی طرف لوٹا دو ، کسی حاکم ، عالم قاضی ، مفتی وغیرہ کی خلاف قرآن و سنت کوئی بات قابل قبو ل نہیں ہوگی ۔ فرمایا امر اتخذو من دونہ اولیاء کیا انہوں نے اللہ کے سوا دوسروں کو کار ساز بنا لیا ہے ، حالانکہ فاللہ ھوا الولی کار ساز تو فقط اللہ تعالیٰ کی ذات ہے وھو یحییٰ الموتی اور وہی مردوں کو زندہ کرتا ہے وھو علی کل شی قدیر اور وہی ہر چیز پر قدر ت رکھنے والا ہے اسی کو کار سازسمجھنا چاہئے اور اس کی توحید پر ایمان لانا چاہئے ، اور تمام حاجات میں اسی کو پکارنا چاہئے۔ اختلافی مسائل میں خدائی فیصلہ ارشاد ہوتا ہے وما اختلفتم فیہ من شیء اگر کسی چیز میں تمہارا اختلاف ہوجائے فحکمہ الی اللہ تو اس کا حکم یعنی فیصلہ اللہ کی طرف سونپ دینا چاہئے۔ یہ ایک اہم اصول ہے مگر لوگ اسے ترک کر کے اکثر مصائب میں مبتلا ہوجاتے ہیں ۔ اگر تمام باہمی تنازعات اللہ تعالیٰ کے فرمان کے مطابق حل کرلیے جائیں تو دنیا امن و سکون کا گہوارہ بن جائے ، مگر افسوس کہ ہر فرد ، جماعت گروہ یا حکومت من مانی کرتے ہیں اور پھر اس کے لیے جواز تلاش کرنا شروع کردیتے ہیں حالانکہ چاہئے تو یہ تھا کہ اپنے تمام معاملات اللہ کے دین اور شریعت کے سامنے پیش کردیتے ۔ دیکھ لیجئے ، ایران اور عراق کے درمیان ایک چھوٹے سے خطے شط العرب کا جھگڑا ہے ۔ جس پر سات سال سے جنگ ہو رہی ہے دونوں مسلمان ملک ہیں مگر کسی فیصلے پر پہنچنے سے قاصر ہیں ۔ اغیارنے مسلمانوں کی بڑی بڑی سلطنتیں ہتھیار رکھتی ہیں وہ تو واپس نہیں لے سکتے مگر یہاں ایک تھوڑی ہی جگہ کے لیے کشت و خون ہو رہا ہے جس میں اب تک سات لاکھ ایرانی اور پانچ لاکھ عراق ہلاک ہوچکے ہیں اور جو مالی نقصان ہو رہا ہے ، اس کا اندازہ ہی نہیں لگایا جاسکتا ۔ سورة الحجرات میں اللہ کا فرمان ہے کہ اگر مومنوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں فاصلحوا بینھما ( آیت : 9) تو ان میں صلح کرا دو ، مگر یہاں صلح پر کوئی بھی فریق آمادہ نہیں حالانکہ دنیا بھر کی مسلمان حکومتیں اس کے لیے کوششیں کرچکی ہیں۔ آخر یہ اللہ کے فیصلے سے روگردانی نہیں تو اور کیا ہے ؟ ( اب یہ جنگ ختم ہوچکی ہے) عام طور پر دیکھنے میں آیا ہے کہ لوگ اپنی مرضی سے بیوی کو طلاق دے دیتے ہیں۔ پھر جب ندامت ہوتی ہے تو اس کا ازالہ تلاش کرنے لگتے ہیں ۔ علماء کے پاس اس وقت آتے ہیں جب طلاق واقع ہوچکی ہوتی ہے ۔ پھر کہتے ہیں کہ میں نے غصے میں آ کر طلاق دے دی ہے ۔ اب اس کا کوئی حل نکالو تا کہ بیوی سے علیحدگی کی نبوت نہ آئے افسوس یہ ہے کہ لوگ طلاق دینے سے پہلے نہیں پوچھتے کہ طلاق دینے کا صحیح طریقہ کیا ہے تا کہ بعد میں مشکلات پیش نہ آئیں ۔ بات وہی ہے کہ لوگ اپنے معاملات کو اللہ کی طرف لوٹانے کی بجائے من مرضی کرتے ہیں اور پھر مصیبت میں پھنس جاتے ہیں ۔ اسی لیے اللہ نے اصول بتلا دیا ہے کہ جس بات میں اختلاف پیدا ہوجائے اس میں اللہ کا فیصلہ حاصل کرو۔ توکل علی اللہ فرمایا ذلکم اللہ ربی علیہ توکلت یہ ہے اللہ میرا پروردگار میں تو اسی پر بھروسہ کرتا ہوں ۔ والیہ انبیب اور اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں ۔ فاطر السموات والارض ود بنانے والا ہے آسمانوں اور زمین کا جعل لکم من انفسکم ازواجا ً اس نے بنائے ہیں تمہارے لیے تمہاری جانوں میں سے جوڑے ، گویا اللہ تعالیٰ نے تفریق جنس کر کے کسی کو مرد بنا دیا اور کسی کو عورت و من الانعام ازواجا ً اور جانوروں کے بھی جوڑے جوڑے یعنی نر اور مادہ بنائے ہیں تا کہ سلسلہ تولد و تناسل اسی طرح قائم ہے یدرء کم فیہ اللہ تعالیٰ پھیلاتا ہے تم کو اس میں فیہ سے مراد تدبیر یا شکم مادر یا پھر زیادہ بہتر بات زمین ہے کہ اللہ تعالیٰ تم کو زمین میں بکھیر دیتا ہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ لفظ زمین تو عربی میں مونث ہے جب کہ فیہ کی ضمیر مذکر ہے تو اس لحا ظ سے فیہ کا معنی اس زمین میں نہیں بلکہ اس مقام پر ہوگا ۔ سورة الملک میں بھی زمین میں پھیلانے کے لیے ذرا استعمال ہوا ہے قل ھو الذین ذرا کم فی الارض والیہ تحشرون ( آیت : 24) آپ کہہ دیجئے کہ اللہ تعالیٰ کی ذات وہ ہے۔ جس نے تمہیں زمین میں پھیلا دیا ہے اور پھر تم اسی کی طرف اکٹھے کیے جائو گے۔ بے مثال ذات الٰہی آگے ارشاد ہوتا ہے لیس کمثلہ شی اس کی مثل کوئی چیز نہیں اللہ تعالیٰ کی ذات بےمثل اور بےمثال ہے ۔ عام طور پر لوگ دو بیماریوں کی وجہ سے تباہ ہوئے ہیں ۔ ایک شرک اور دوسری تشبیہ ، شرک یہ ہے کہ اللہ کی صفت انسان یا کسی دوسری مخلوق میں مانی جائے ، مثلاً یہ کہ اللہ کے علاوہ فلاں انسان جن یا فرشتہ بھی عالم الغیب ، قادر مطلق یا مختار مطلق ہے اور تشبیہ یہ ہے کہ انسان کی صفت خدا تعالیٰ میں مانی جائے ۔ مثلاً بیوی بچے ہونا انسان یا دیگر مخلوق کی صفت ہے ، مگر یہی صفت خدا تعالیٰ میں مانی جائے کہ فلاں اس کی بیوی اولاد ہے ۔ جیسے عقیدہ انبیت والے کہتے ہیں وقالو اتخذ الرحمن ولد ( مریم : 88) کہ خدائے رحمان نے بیٹا بنا لیا ہے ، حالانکہ خدا تعالیٰ کا نہ کوئی حقیقی بیٹا ہے اور نہ مجازی اور نہ ہی اس نے مسیح (علیہ السلام) کو حاجت روائی کا اختیار دے دیا ہے۔ فرمایا وھو السمیع البصیر اللہ کی ذات سننے والی اور دیکھنے والی ہے لہ مقالید السموات والارض آسمانوں اور زمین کی چابیاں اسی کے پاس ہیں یعنی ہر چیز کا متصرف وہی ہے۔ یبسط الرزق لمن یشاء و یقدر کشادہ کرتا ہے روزی جس کو چاہے اور تنگ کردیتا ہے جس کی چاہے ، وہ اپنی حکمت کے مطابق رزق کی تقسیم کرتا ہے کیونکہ انہ بکل شی علیم ہر چیز کو جاننے والا وہی ہے وہ اپنے علم کے مطابق ہی تصرف کرتا ہے۔
Top