Mualim-ul-Irfan - Al-Hashr : 21
لَوْ اَنْزَلْنَا هٰذَا الْقُرْاٰنَ عَلٰى جَبَلٍ لَّرَاَیْتَهٗ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْیَةِ اللّٰهِ١ؕ وَ تِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ یَتَفَكَّرُوْنَ
لَوْ اَنْزَلْنَا : اگر ہم نازل کرتے هٰذَا الْقُرْاٰنَ : یہ قرآن عَلٰي جَبَلٍ : پہاڑ پر لَّرَاَيْتَهٗ : تو تم دیکھتے اس کو خَاشِعًا : دبا ہوا مُّتَصَدِّعًا : ٹکڑے ٹکڑے ہوا مِّنْ خَشْيَةِ اللّٰهِ ۭ : اللہ کے خوف سے وَتِلْكَ : اور یہ الْاَمْثَالُ : مثالیں نَضْرِبُهَا : ہم وہ بیان کرتے ہیں لِلنَّاسِ : لوگوں کیلئے لَعَلَّهُمْ : تاکہ وہ يَتَفَكَّرُوْنَ : غور وفکر کریں
اگر ہم نازل کرتے اس قرآن کو کسی پہاڑ پر تو البتہ دیکھتے آپ اس کو خشوع کرنے والا اور پھٹ جانے والا اللہ کے خوف سے۔ اور یہ مثالیں ہم بیان کرتے ہیں لوگوں کے لئے تاکہ وہ غور وفکر کریں
ربط آیات : پہلے اللہ نے نافرمانوں کا حال بیان کیا اور پھر ایمان والوں کی توجہ مستقبل اور قیامت کی طرف دلائی ، اور آئندہ زندگی کے لئے سامان آگے بھیجنے کی تلقین کی۔ نیز فرمایا کہ انسان کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے کیونکہ انسانوں کے تمام اعمال اس کی نگاہ میں ہیں۔ اللہ نے یہ بھی فرمایا کہ اہل جنت اور اہل دوزخ برابر نہیں ہوسکتے کیونکہ دوزخ والے ناکام اور جنت والے فائزالمرام ہوں گے۔ آگے نافرمانوں کا شکوہ بیان ہورہا ہے اور ایمان والوں کو بات سمجھائی جارہی ہے۔ قرآن حکیم اللہ کا کلام ہے جس میں قیامت تک آنے والے لوگوں کے لئے راہ ہدایت موجود ہے مگر نافرمان لوگ اس کو سنتے تو ہیں ، اس کی طرف راغب نہیں ہوتے۔ حقیقت میں یہ سنگدل کی علامت ہے۔ شاہ عبدالقادر (رح) لکھتے ہیں کہ کافروں کے دل بڑے سخت ہیں۔ یہ کلام سن کر بھی ایمان نہیں لاتے ، حالانکہ قرآن کریم وہ کلام ہے کہ اگر پہاڑ بھی اس کو سمجھ جائیں تو اس کی عظمت و جلال کے سامنے دب جائیں یعنی عاجزی کرنے پر مجبور ہوجائیں۔ ارشاد ہوتا ہے لو انزلنا ھذا القران علی جبل ، اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر بھی نازل کرتے لراینہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ تو آپ دیکھتے اس کو عاجزی کرنے والا اور پھٹ جانے والا اللہ کے خوف سے ۔ یہاں پر لفظ جبل نکرہ لایا گیا ہے۔ یعنی کوئی پہاڑ ، پہاڑمٹی اور پتھر کا بہت بڑا ٹیلا ہوتا ہے۔ بعض پہاڑ سرسبز ہوتے ہیں اور اس پر درخت ، جھاڑیاں اور جڑی بوٹیاں ہوتی ہیں اور بعض پہاڑ بالکل خشک ہوتے ہیں۔ تاہم پہاڑ ایک جامد چیز ہے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ کہ اگر ہم پہاڑ جیسی ٹھوس چیز پر بھی اپنا کلام نازل فرماتے تو یہ اللہ کی ہیبت و جلال کو برداشت نہ کرسکتا۔ مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ چھوٹے چھوٹے ٹیلوں کے علاوہ روئے زمین پر 2270 بڑے بڑے پہاڑ ہیں اور اللہ کا فرمان ہے کہ ان میں سے کسی بھی پہاڑ پر وہ اپنا کلام نازل فرماتا تو اس کی یہی حالت ہوتی جو بیان کی گئی ہے۔ انسانوں اور پہاڑوں لیں یہ فرق ہے کہ پہاڑ ایک جامد چیز ہے جو عقل و شعور اور حس و حرکت سے خالی ہے۔ اس کے برخلاف انسان کو اللہ تعالیٰ نے حواس خمسہ ظاہرہ اور حواس باطنہ ، حس مشترک ، وہم خیال ، قوت متفکرہ اور عقل و شعور سے نوازا ہے۔ تو فرماتے ہیں کہ اگر یہ چیزیں پہاڑوں میں بھی ہوتیں تو وہ کلام الٰہی کو سن کر عجز ونیاز مندی کا اظہار کرتے اور خوف خدا سے ریزہ ریزہ ہوجاتے مگر اس کے ملی الرغم پہاڑوں کے اثر قبول کرنے کا ثبوت موجود ہے۔ سورة البقرہ میں اللہ کا فرمان ہے وان منھا……………………خشیۃ اللہ (آیت 74) کہ ان پہاڑوں کے پتھروں میں بعض ایسے بھی ہیں جو پھٹ جاتے ہیں اور ان چشمے جاری ہوجاتے ہیں اور بعض وہ ہیں جو اللہ کے خوف سے نیچے گر پڑتے ہیں۔ اگر پہاڑوں میں بھی انسانوں جیسا شعورہوتا تو وہ اللہ کے کلام کو سن کر اس کے خوف سے دب جاتے ، مگر افسوس کا مقام ہے کہ صاحب شعور انسان کے دل پر اس قرآن کا کچھ اثر نہیں ہوتا۔ انسان کی سنگدلی : شاہ عبدالقادر (رح) نے لکھا ہے کہ کافر تو ویسے ہی سنگدل ہیں مگر عام طور پر ایمان بھی ایسے ہی ہیں کہ کلام الٰہی کو سن کر ان پر وہ اثر نہیں ہوتا جو ہونا چاہیے۔ اللہ نے انسان کو عقل و شعور ، فہم سے مزین کرکے بڑی باکمال ہستی بنایا ہے۔ مگر اس پر کلام الٰہی کا اثر نہیں ہوتا۔ اس معاملہ میں ہنود ، یہود ، مجوس ، نصاریٰ اور مسلمانوں کی اکثریت برابر ہیں۔ غیراقوام کا تو قرآن پر ایمان ہی نہیں ہے۔ لہٰذا ان پر اس کا اثر انداز نہ ہونا سمجھ میں آتا ہے لیکن آج کا مسلمان بظاہر تو قرآن پاک کی بڑی عزت واحترام کرتا ہے ، ریشمی غلاف میں بند کرکے اور اس پر خوشبو لگا کر اونچی جگہ رکھتا ہے ، اس کی طرف پیٹھ نہیں کرتا ، مگر اس سے اثر قبول نہیں کرتا۔ اللہ کے کلام پر ایمان لانے والے اگر اس کو پڑھتے اور سمجھتے تو ضروران پر اثر ہوتا اور پھر وہ اس پر عمل بھی کرتے۔ قرآن پاک کی اثر انگیزی کے نمونے قرون اولیٰ کے مسلمان پیش کرچکے ہیں جن کی زندگیوں میں اس قرآن پاک کی وجہ سے عظیم انقلاب آیا اگر آج کے مسلمان بھی اسکی طرف توجہ کریں اور اس کا اثر قبول کریں تو ان کی زندگی میں انقلاب آسکتا ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان حدیث میں موجود ہے ان اللہ یرفع بھذالکتب اقواما ویضع بہ اخرین ، اللہ تعالیٰ اس کتاب کے ذریعے بعض لوگوں کو بام عروج پر پہنچاتا ہے اور بعض کو پست کردیتا ہے۔ کتاب موجود ہے مگر ایمان اور عمل صحیح نہیں ، لہٰذا لوگ پستی میں جا رہے ہیں۔ عدم اثر کی وجہ : شاہ عبدالعزیز (رح) اپنی تفسیر عزیزی میں لکھتے ہیں کہ قرآن کریم اور پیغمبر (علیہ السلام) کی ذات مبارکہ کی مثال عمدہ قسم کی غذا کی ہے۔ اگر یہ غذا تندرست جسم میں جائیگی تو جسم میں مثبت اثرات پیدا کریگی۔ جسم میں خون پیدا کرنے اور جسمانی قوی کو مضبوطی کا باعث ہوگی۔ اس کے برخلاف اگر یہی غذا بیمار جسم میں جائے گی تو بیماری میں اضافے کا باعث ہی بنے گی۔ اللہ نے منافقوں کے متعلق فرمایا ہے فزادتھم ……………رجسھم (التوبہ 125) یعنی قرآنی آیات ان کی پہلے سے موجود گندگی میں اضافہ ہی کرتی ہیں۔ جس کی وجہ سے وہ قرآن پاک کے متعلق مزید شک و تردد میں پڑجاتے ہیں اور بالآخر اس کا انکار ہی کردیتے ہیں۔ شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں قرآن اور پیغمبر کی ذات سے فائدہ حاصل کرنے کے لئے انسان کی روح اور مزاج کو درست کرنا ضروری ہے۔ جب تک انسان کے جسم سے فاسد مادوں کو اسہال وغیرہ کے ذریعے انسانی جسم سے نکال نہ دیا جائے اس وقت تک کوئی دوائی جسم پر اثر نہیں کرتی۔ اسی طرح انسان کے دل و دماغ سے فاسد اخلاق ، تعصبات ، باطل عقائد ، باطل رسوم اور جہالت کو نکالنا ضروری ہے۔ جب تک یہ چیزیں انسان کی روح میں موجود ہیں ، اللہ کے کلام اور نبی کی زبان سے فائدہ حاصل نہیں ہوسکتا۔ حضرت مولانا شاہ اشرف علی تھانوی (رح) بھی فرماتے ہیں کہ جب تک انسان خواہشات اور شہوات میں ڈوبا ہوا ہے اس وقت تک اس کے لئے قرآن مفید نہیں ہوسکتا۔ قرآن خدا کا کلام ہے اور برحق ہے۔ نبی کی زبان مبارک بھی پاک ہے مگر انسان خود اپنے برے اخلاق کی وجہ سے ان چیزوں سے متاثر نہیں ہوپاتا۔ فساد کے راستے : پرانے بزرگوں میں دوسری تیسری صدی کے بزرگ حضرت ذوالنون مصری (رح) فرماتے ہیں کہ فسا چھ مداستوں سے مخلوق میں آتا ہے۔ پہلا راستہ ہے ضعف النیۃ بعمل الاخرۃ یعنی آخرت کے اعمال کے بارے میں انسانوں کی نیت کمزور ہوتی ہے ، حالانکہ وہ دنیا کے عمل تو پکی نیت سے انجام دیتے ہیں مگر آخرت والے کام بےیقینی کے ساتھ انجام دیتے ہیں۔ فساد کا دوسرا راستہ یہ ہے کہ انسانوں کے اجسام ان کی خواہشات کی سواریاں بنی ہوئی ہیں اور وہ خواہشات نفسانی کے علاوہ کسی دوسری چیز کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ فرماتے ہیں کہ فساد کا تیسرا راستہ یہ ہے کہ انسان کی زندگی تو مختصر ہے مگر وہ آرزو لمبی رکھتی ہے اور وہ قرآن کی طرف توجہ ہی نہیں دے سکتے۔ چوتھا راستہ یہ ہے کہ عام طور پر لوگ اللہ کی رضا پر مخلوق کی رضا کو مقدم رکھتے ہیں ان کو ہمیشہ یہی فکر لاحق رہتی ہے کہ لوگ ناراض نہ ہوجائیں خدا چاہے راضی ہو یا ناراض۔ پھر فرماتے ہیں کہ فساد کا پانچواں راست یہ ہے کہ لوگ خواہشات میں پڑ کر سنت نبوی ﷺ کو پس پشت ڈال دیتے ہیں اکثر لوگ خوشی اور غمی کے مواقع پر سنت کی پرواہ نہیں کرتے بلکہ خواہشات نفسانی کا ہی اتباع کرتے ہیں اور چھٹا راستہ یہ ہے کہ اکثر لوگ سلف کی معمولی سی لغزش کو بھی اپنے لئے بڑے بڑے گناہوں کے ارتکاب کا ذریعہ بنالیتے ہیں اور ان کی خوبیوں کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ یہودیوں نے اسی لئے انبیاء پر اعتراضات کیے تاکہ لو گ ان کو برا نہ کہیں۔ جب لوگ ان کی برائیوں پر اعتراض کرتے تو وہ کہتے کہ اللہ کے نبی بھی تو ایسا کرتے رہے ہیں ، لہٰذا اگر ہم نے ایسا کام کرلیا تو کون سا حرج ہوگیا ۔ بہرحال حضرت ذوالنون مصری (رح) نے انسانی اخلاق و اعمال میں فساد کے ان چھ ذرائع کی نشاندہی کی ہے۔ شاہ ولی اللہ کا فد : شاہ ولی الل محدث دہلوی (رح) فرماتے ہیں کہ جب تک انسان اس دنیا میں رہتا ہے اس پر مادیت غالب رہتی ہے۔ اور اس مادیت کے اثر سے انسان بالکل اس طرح بےہوش رہتا ہے جس طرح کسی آدمی کو کلور وفارم سونگھا دیا گیا ہو۔ ایسا کرنے سے انسان بےحس ہوجاتا ہے اور پھر اگر آپریشن کرکے اس کے جسم کا کوئی حصہ کاٹ بھی دیا جائے تو اسے محسوس نہیں ہوتا۔ اسی طرح انسان پر مادیت کا کلوروفارم چڑھا ہوا ہے جب تک اس کا اثر باقی ہے انسان کو برے اعمال کی وجہ سے اس کی ملکیت پر ہونے والا دکھ درد محسوس نہیں ہوتا۔ اس بےحسی کو ختم کرنے کے لئے دو طریقے ہیں۔ اگر انسان کی طبعی موت واقع ہوجائے تو مادیت کا خول اتر کر اصلی انسان ظاہر ہوجاتا ہے اور پھر اس کو بڑی تکلیف پہنچتی ہے۔ یا پھر دوسری صورت یہ ہے کہ انسان عبادت و ریاضت کے ذریعے مادیت یا حیوانیت کے اثر کو کم کردے تاکہ بےحسی ختم ہو کر اصلی چیز ظاہر ہوجائے۔ اسی لئے شاہ صاحب (رح) فرماتے ہیں کہ دنیا کی زندگی کے دوران بہیمیت اور ملکیت کی کشمکش جاری رہتی ہے اور انسان کی فطرت کا تقاضا یہ ہے کہ اس کی بہیمیت کمزور ہو کر ملکیت میں اضافہ ہو ، یہی وہ مقصد ہے جس کے حصول کے لئے ہم کوئی کوشش نہیں کرتے۔ اگر کوئی محنت کرتے بھی ہیں تو وہ اس قدر قلیل مقدار میں ہوتی ہے کہ بےاثر ہو کر رہ جاتی ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جب تک انسان پر مادیت کا خول غالب ہے۔ اس پر قرآن کی آواز اور نبی کا فرمان اثر انداز نہیں ہوسکتا۔ غوروفکر کی دعوت : الغرض ! اللہ تعالیٰ نے انسان کے متعلق یہ شکوہ کیا ہے کہ وہ اللہ کے عطا کردہ تمام کمالات کے باوجود اس قدر سنگدل واقع ہوا ہے کہ وہ قرآن حکیم کا اثر قبول نہیں کرتا۔ فرمایا اگر ہم یہ قرآن پہاڑوں پر نازل کرتے اور ان میں انسانوں جیسا شعور ہوتا تو وہ اس کو سن کر ریزہ ریزہ ہوجائے یعنی اللہ کے خوف سے ڈر جاتے ۔ فرمایا و تلک الامثال نضربھا للناس یہ مثالیں ہیں جو ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں۔ اور اس کا مقصد یہ ہے لعلھم یتفکرون ، تاکہ وہ غور وفکر کریں اور اللہ کے کلام کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ آگے سورة کے آخر میں اللہ تعالیٰ کی صفات بیان ہورہی ہیں۔ تاہم اس درس میں نافرمانوں کا شکوہ ہی بیان کیا گیا ہے کہ ان پر کلام الٰہی کی عظمت کا اثر نہیں ہوتا اور وہ اس کی برکات سے محروم رہتے ہیں۔
Top