Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Al-Hashr : 22
هُوَ اللّٰهُ الَّذِیْ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ١ۚ عٰلِمُ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ١ۚ هُوَ الرَّحْمٰنُ الرَّحِیْمُ
هُوَ اللّٰهُ
: وہ اللہ
الَّذِيْ
: وہ جس
لَآ اِلٰهَ
: نہیں کوئی معبود
اِلَّا هُوَ ۚ
: اس کے سوا
عٰلِمُ الْغَيْبِ
: جاننے والا پوشیدہ کا
وَالشَّهَادَةِ ۚ
: اور آشکارا
هُوَ الرَّحْمٰنُ
: وہ بڑا مہربان
الرَّحِيْمُ
: رحم کرنے والا
وہ اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ جاننے والا ہے پوشیدہ اور ظاہر کو۔ وہ بڑا مہربان اور رحم کرنے والا ہے
ربط آیات : نبی نضیر کی غداری کے نتیجہ میں اہل ایمان نے ان کو جلا وطن کردیا اور ان کی زمینوں ، باغات اور گھروں پر قبضہ کرلیا۔ پھر اس سلسلہ میں مال فے کی تقسیم کا قانون بیان ہوا۔ پھر آخر میں اللہ نے انسانوں کو جزائے عمل کی طرف متوجہ کیا۔ اہل جنت اور اہل جہنم لوگوں کے متفاوت ہونے کا ذکر ہوا۔ اللہ نے لوگوں کی غفلت اور کوتاہی پر تنبیہ کی اور کتاب الٰہی کی عظمت اور اس کی تاثیر کو بیان کیا۔ فرمایا کہ اگر یہ قرآن پہاڑوں پر نازل ہوتا تو وہ بھی خشیت الٰہی سے ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں مگر انسان ہیں جن کی اکثریت اثر قبول کرنے کے لئے تیار نہیں۔ یہ ایسے سنگدل ہیں کہ اللہ کے کلام کی طرف توجہ ہی نہیں کرتے۔ معرفت الٰہی : کتاب اللہ کی عظمت بیان کرنے کے بعد اب اللہ نے اپنی عظمت اور صفات کا تذکر ہ فرمایا ہے کیونکہ قرآن حکیم کو نازل کرنے والا خود وہی ہے۔ مفسرین کرام یہ بات اس طرح سمجھاتے ہیں کہ انسان سعادت مند یا نیک بخت اس وقت ہوتا ہے جب اس کی قوت نظری یا عقلی اور قوت عملی بھی صحیح ہو۔ اس کے بغیر انسان کو سعادتمندی حاصل نہیں ہوسکتی۔ اور قوت نظری اس وقت صحیح ہوتی ہے۔ جب انسان اپنے پروردگار کو پہچاننے اور اس کی توحید کو ماننے لگے۔ جس شخص کی قوت عقلی صحیح نہیں ہے وہ بدبخت ہوگا۔ اس لئے اللہ نے سورة کے آخر میں اپنی عظمت اور صفات کا ذکر کیا ہے ، اور انہی صفات سے خدا تعالیٰ کی معرفت حاصل ہوتی ہے۔ توحید خداوندی : ارشا ہوتا ہے ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ مستحق عبادت ہونے کے لئے بعض صفات کا پایا جانا ضروری ہے۔ مثلاً عبادت کے لائق وہ ذات ہوسکتی ہے جو واجب الوجود ہو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر اس کا وجود مستعار ہے یعنی کسی کا دیا ہوا ہے تو وہ الٰہ نہیں ہوسکتا۔ الٰہ وہ ہوگا جس کا وجود خودبخود ہے۔ الوہیت کے لئے دوسری صفت خلق ہے یعنی وہ ہر چیز کا خالق ہو اور خود کسی کا پیدا کردہ نہ ہو۔ پھر وہ رب ہو یعنی اس میں صفت ربوبیت پائی جائے۔ وہ ہر چیز کو بتدریج درجہ کمال تک پہنچانے والا ہو۔ اور چوتھی صفت تدبیر ہے کہ وہ ہر چیز کا مدبر ہو۔ اسے ہر چیز پر تصرف حاصل ہو۔ ظاہر ہے کہ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں ہے۔ اللہ خالق کل شیء (الزمر 62) وہی ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ اس صفت کو دہریوں کی ایک قلیل تعداد کے علاوہ تمام مذاہب والے تسلیم کرتے ہیں تو اللہ کی ذات ہی وہ واحد ذات ہے جس میں الوہیت کی تمام صفات پائی جاتی ہیں۔ اس کے سوا ساری مخلوق عاجز ہے اور اس کے در کی سوالی ہے۔ لہٰذا مستحق عبادت بھی وہی ہے ، اور کوئی نہیں۔ علم غیب ۔۔۔ : فرمایا علم الغیب والشھادۃ اللہ تعالیٰ ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جاننے والا ہے۔ لفظ غیب مخلوق کے اعتبار سے ہے کیونکہ خدا تعالیٰ سے تو کوئی چیز پوشیدہ نہیں ہے۔ اس کے لئے تو ہر چیز ظاہر ہے۔ بہرحال اس کا علم ہر چیز پر محیط ہے خواہ وہ کائنات کے کسی بھی کونے میں ہو۔ اللہ کا فرمان ہے وما یغزب……………………السمائ (یونس 61) زمین وآسمان کی کوئی ذرہ بھر چیز بھی اللہ تعالیٰ سے مخفی نہیں ہے۔ فرشتے ہوں یا جنات ، انسان ہوں یا عالم بالا کی کوئی اور مخلوق ، کوئی بھی غیب دان نہیں ہے۔ انسانوں سے ملائکہ اور جنات غائب ہیں۔ اس کے علاوہ بیشمار ایسی اشیاء ہیں جو انسان کی عقل یا اس کی نگاہ میں نہیں آتیں۔ مگر پروردگار کے علم محیط سے کوئی بھی باہر نہیں ہے۔ غرضیکہ محسوسات اور غیر محسوسات ، مادی اور غیر مادی اشیاء سب کی سب اللہ تعالیٰ کے علم میں ہیں۔ اسی واسطے فرمایا کہ وہ ہر پوشیدہ اور ظاہر چیز کو جاننے والا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات : ھوالرحمن وہ نہایت مہربان ہے۔ یہ اس کی مہربانی ہی کا کرشمہ ہے۔ کہ اس نے کتابیں اور صحیفے نازل فرمائے اور پھر آخر میں قرآن کریم نازل کرکے اسے قیامت تک کے لئے قابل عمل بنادیا۔ یہ بھی اس کی مہربانی ہے کہ اس نے انسانوں کی ہدایت کے لئے بیشمار پیغمبر بھیجے اور پھر آخر میں حضور خاتم النبیین ﷺ کو مبعوث فرما کر سلسلہ نبوت بند کردیا۔ اس نے سعادت مندی کے حصول کے…تمام اسباب مہیا کیے۔ اور پھر اگر خود انسان ہی ان سے استفادہ حاصل نہ کرے تو اس کی اپنی بد بختی ہے۔ وہ اللہ الرحیم یعنی نہایت رحم کرنے والا بھی ہے وہ اپنی صفت رحمیت کی وجہ سے اپنے بندوں کو خطائوں کو معاف کرتا رہتا ہے۔ اس جملے کو اپنے ذہن نشین کرلینا چاہیے۔ ھو اللہ الذی لا الہ الا ھو ، کہ معبود برحق صرف اللہ کی ذات ہے ان صفات کی حامل کوئی دوسری ذات نہیں۔ لہٰذا عبادت کے لائق بھی اس کے سوا کوئی نہیں۔ اس توحید کے بغیر نہ انسان کو کمال حاصل ہوسکتا ہے اور نہ نجات حاصل ہوسکتی ہے۔ اس کے بغیر نجات کا دروازہ ہی بند ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ایک نام الملک بھی ہے۔ وہ بادشاہ ہے اور حقیقی بادشاہت اسی کی ہے۔ دنیا کی بادشاہت ناپائیدار ہے مگر جس کو یہ حاصل ہوجاتی ہے۔ وہ خدا کے سامنے اکڑ جاتا ہے اور اسے نسلاً بعد نسل چلانے کی کوشش کرتا ہے۔ مگر تاریخ شاہد ہے کہ کوئی سلطنت کتنی بھی مضبوط ہو۔ بالا آخر زوال پذیر ہوجاتی ہے اور حقیقی بادشاہ وہی ہے جس کی بادشاہت ازل سے قائم ہے اور ابد تک قائم رہے گی ، دنیا کی عارضی حکومت اور اقتدار وہی تقسیم کرتا ہے اور جب چاہتا ہے اس عارضی اقتدار کو کسی دوسری طرف منتقل کردیتا ہے۔ اس کا فرمان ہے ملک الملک……………… ………ممن تشائ (آل عمران 62) وہ جس کو چاہتا ہے حکومت ، ملک اور سلطنت عطا کرتا ہے اور جس سے چاہتا ہے چھین لیتا ہے مسو لینی اپنے زمانے کا بہت بڑا ڈکٹیٹر تھا مگر جب اس کو زوال آیا تو لوگوں نے اس کی لاش کو کتوں کی طرح گھسیٹا۔ قیصرو کسریٰ کی بڑی بڑی سلطنتیں ختم ہوگئیں ، دنیا کا فاتح سکندر نہ رہا۔ فرعون کی بادشاہت خام میں مل گئی۔ یہ سب اسی وحدہ لاشریک کا کارنامہ ہے جس کی شہنشاہی کو کبھی زوال نہیں ، حقیقی ملک اور بادشاہ وہی ہے۔ فرمایا اس کی ذات القدوس ہے یعنی وہ تمام عیوب اور نقائص سے پاک ہے۔ وہ السلم یعنی سلامتی والا ہے۔ خود قائم ودائم ہے اور دوسروں کو سلامتی عطا کرتا ہے اور سلامتی میں رکھتا ہے۔ وہ المومن یعنی امن دینے والا اور تصدیق کرنے والا ہے۔ وہ اپنے نبیوں اور ایمانداروں کے ایمان کی تصدیق کرتا ہے۔ وہ پرندوں کو بھی امن دیتا ہے کہ احرام کی حالت میں کوئی شخص جانوروں یا پرندوں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہیں کرسکتا۔ اس کے علاوہ وہ المھیمن بھی ہے اسی صفت کی بنا پر وہ ہر چیز کی نگرانی کرتا ہے اور اس کی حفاظت میں رکھتا ہے وہ العزیز ہے یعنی زبردست ہے اور کمال قدرت کا مالک ہے۔ فرمایا وہ الجبار بھی ہے جس کا معنی دبائو ڈالنے والا بھی آتا ہے اور تلافی کرنے والا بھی۔ وہ جس پر چاہتا ہے دبائو ڈالتا ہے اور جس چیز کی چاہتا ہے تلافی کردیتا ہے۔ انسان دعا کرتے ہیں مولا کریم واجبرنی یعنی میری شکستگی کی تلاف فرمادے اور میری کمزوریوں کو دور فرمادے۔ اس معبود برحق کی ایک صفت المتکبر بھی ہے۔ ساری بڑائی اسی کی شان کے لائق ہے جب کے ساری مخلوق درماندہ اور عاجز ہے۔ تکبر ، بڑائی اور عظمت اللہ تعالیٰ کو ہی سزاوار ہے۔ حضور ﷺ کا ارشاد ہے کہ اللہ نے فرمایا کہ عظمت میری چادر ہے اور کبریائی میرا تہبند ہے۔ جو ان کو اوڑھنا چاہے گا۔ میں اس کو ذلیل کردوں گا۔ یہ چیز انسان یا کسی بھی مخلوق کے لائق نہیں۔ سعدی صاحب (رح) نے بھی کہا ہے۔ مر اور ا رسد کبریا ومنی کہ ملکش قدیم است وذاتش غنی بڑائی اور عظمت تو اسی ذات کے لائق ہے جس کی بادشاہی پرانی ہے اور اس کی ذات بےنیاز ہے۔ اللہ نے اپنے نبی کو بھی یہی حکم دیا ہے وربک فکبر (المدثر 3) اور اپنے پروردگار کی بڑائی بیان کرو۔ فرمایا سبحن اللہ عما یشرکون ، پاک ہے اللہ تعالیٰ کی ذات ان چیزوں سے جن کو یہ اس کا شریک بناتے ہیں۔ بعض لوگ مثلا مجوسی یا تنوی وغیرہ اللہ تعالیٰ کی ذات میں شریک بناتے ہیں اور دو یا زیادہ خدائوں کو تسلیم کرتے ہیں۔ عیسائیوں کا عقیدہ بھی باپ ، بیٹا اور روح القدس کا ہے یعنی وہ تین خدائوں کو مانتے ہیں بعض دو خدا مانتے ہیں۔ ایک حیر کا اور دوسرا شر کا۔ ایک نور کا اور ایک ظلمت کا ، علیٰ ہذا القیاس۔ البتہ اکثر وبیشتر لوگ اللہ تعالیٰ کی صفات میں اس کا شریک بناتے ہیں۔ بعض علم میں دوسروں کو شریک کرتے ہیں اور بعض قدرت میں۔ بعض اللہ کی دیگر صفات میں اس کا شریک بناتے ہیں۔ مگر اللہ نے فرمایا کہ وہ تمام عیوب ونقائص اور ہر قسم کے شریکوں سے پاک ہے۔ وہ وحدہ لاشریک ہے ، اس کی نہ کوئی بیوی ہے اور نہ اولاد ۔ وہ نہ کھاتا پیتا ہے اور نہ سوتا اور اونگھتا ہے۔ اس میں کمزوری والی کوئی بات نہیں پائی جاتی بلکہ وہ صفات کا مال کا مال ہے اور تمام شرکاء سے پاک ہے۔ مزید صفات الٰہیہ : پھر فرمایا ھو اللہ الخالق وہ اللہ ہر چیز کو پیدا کرنے والا ہے۔ اس صفت کو تمام مذاہب والے تسلیم کرتے ہیں الباری وہ بنانے والا ہے یعنی کسی چیز کو چھیل تراش کر خوبصورت شکل و صورت میں بنا دیتا ہے۔ یہ تراش خراش کا مادہ صفت باری کے ساتھ مخصوص ہے۔ درخت کے ایک پتے کو ہی دیکھ لیں یا کسی پتھر کو ملاحظہ کرلیں۔ اللہ نے اسکی بناوٹ کس انداز سے کی ہے ایک درخت کے تمام پتے بالکل ایک جیسے ہوتے ہیں اور ان کی کاٹ چھانٹ میں ذرہ بھر بھی فرق نہیں ہوتا۔ یہ اللہ کی اسی صفت کا شاہکار ہے۔ فرمایا اس کی ذات المصور بھی ہے۔ وہ انسانوں ، جانوروں ، چرندوں اور پرندوں سب کی شکلیں کمال درجے کی بناتا ہے۔ چناچہ حقیقی مصور خدا تعالیٰ کی ذات ہی ہے ، اسی لئے کسی انسان کے لئے یہ لائق نہیں کہ وہ کسی جاندار کی تصویر بنائے اگر ایسا کرے گا تو خدا تعالیٰ کی صفت مصور کے ساتھ مشابہت اختیار کرے گا۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جس چیز کی تصویر بنائی ہے۔ اب اس میں جان بھی ڈالو۔ جب وہ ایسا نہیں کرسکے گا تو ہر تصویر کے بدلے سخت سزا ملے گی۔ ہاں اگر کوئی تصویر بنانا ہی چاہتا ہے تو بےجان چیز پہاڑ ، درخت ، عمارت وغیرہ کی تصویر بناسکتا ہے جاندار کی تصویر بنانا حرام ہے۔ کہ یہ اللہ کی صفت مخصوصہ ہے۔ حضور ﷺ کا فرمان ہے لعن اللہ المصورین مصوروں پر خدا کی لعنت ہے ، مگر آج کی دنیا میں تصویر کے بغیر کوئی کام نہیں چلتا۔ تصویر کے بغیر تو لوگ اخبار نہیں پڑھتے اور اب ٹیلیویژن نے رہی سہی کسر بھی پوری کردی ہے۔ اب تو علماء کی تقریروں اور جلسوں کی بھی وڈیوز بن رہی ہیں ، گویا تصویر زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکی ہے۔ بہ سب ملعون چیز کیا ہیں۔ اصل مصور تو اللہ ہے ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشاء (آل عمران 6) جو شکم مادر میں تمہاری تصویر کشی کرتا ہے اور جس کی کوئی مثال پیش نہیں کرسکتا۔ جو شخص اللہ کی اس صفت کے ساتھ مشابہت پیدا کریگا وہ مجرم ٹھہرے گا۔ فرمایا لہ الاسماء الحسنی ، اللہ تعالیٰ کے بھلے نام ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے۔ قل ادعوا…… …………الحسنی (آیت 110) اللہ تعالیٰ کو اس کے ذاتی اسم اللہ کے ساتھ پکارو یا اسم رحمان کے ساتھ ، جس کے ساتھ بھی پکارو اس کے سارے ہی نام بھلے ہیں۔ حضور ﷺ والسلام کا ارشاد مبارک ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں۔ ان میں سے جس نام کے ساتھ کوئی اللہ کو یاد کریگا۔ اللہ تعالیٰ راضی ہوگا۔ صحیحین کی روایت میں یہ بھی آتا ہے ان للہ تسعۃ وتسعین اسما مائۃ الا واحدا من احصاھا دخل الجنۃ اللہ تعالیٰ کے ننانوے یعنی ایک کم سو نام ہیں ، جو ان کو زبانی یاد کرے گا۔ جنت میں داخل ہوگا۔ اس کے بعد ارشاد ہوا یسبح لہ مافی السموت والارض پاکی بیان کرتی ہے اس کے لئے جو چیز بھی ہے آسمانوں اور زمین میں ، انسان جن ، چرند ، پرند ، کیڑے مکوڑے ، سمندر کی مچھلیاں یا آسمانی مخلوق اللہ کے فرشتے سب کے سب اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں۔ سورة بنی اسرائیل میں ہے۔ وان من………………………تسبیحھم (آیت 44) ہر چیز اللہ کی تسبیح بیان کرتی ہے۔ مگر تم ان کی تسبیح کو نہیں سمجھ سکتے البتہ انسانوں میں اگر دو گروہ بن جاتے ہیں۔ بعض تو اپنے اختیار اور ارادے سے اللہ کی پاکی بیان کرتے ہیں جیسے اہل ایمان۔ اور بعض شرک کرتے ہیں۔ حالانکہ ان کے سائے خدا تعالیٰ کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں اور ان کے اعضاء جوارح خدا کی تسبیح بیان کرتے ہیں مگر خود ناشکرگزار ہی رہتے ہیں۔ فرمایا وھوالعزیز الحکیم وہ اللہ تعالیٰ غالب ہے اور کمال قدرت اور کمال قوت کا مالک ہے۔ بہرحال آخر میں اللہ تعالیٰ نے اپنی صفات میں سے غالب اور حکمت والا ہونا بیان کیا ہے۔ پہلی صفت اس کے کمال قدرت پر دلالت کرتی ہے جب کہ دوسری کی بنیاد کمال علم پر ہے۔ ان دو صفات کے اعتبار سے بھی اللہ تعالیٰ وحدہ لاشریک ہے۔ فضائل آیات آخرہ : مسند احمد اور ترمذی شریف کی حدیث میں حضرت معقل بن یسار ؓ سے مروی ہے کہ اس سورة مبارکہ کی آخرت تین آیات بڑی فضیلت والی ہیں۔ حضور ﷺ کا ارشاد مبارک ہے کہ جو شخص صبح وشام اعوذ باللہ السمیع العلیم من الشیطن الرجیم تین دفعہ پڑھے گا ، اور پھر تن آیات سورة حشر کی آخری پڑھے گا۔ بشرطیکہ عقیدے میں فساد نہ ہو بلکہ صحیح ایماندار ہو ، تو اگر وہ رات کو ان آیات کی تلاوت کرے گا۔ تو اللہ تعالیٰ اس کے لئے سترہزار فرشتے مقرر کردے گا جو اس کے لئے صبح تک دعائیں کرتے رہیں گے۔ اور اگر وہ اس دوران مرگیا تو شہادت کا درجہ پائے گا۔ اور جو شخص ان آیات کو صبح کے وقت پڑھے گا اس کا بھی یہی مرتبہ ہوگا۔ لہٰذا ہر مسلمان کو چاہیے کہ وہ ان آیات کو اپنا ورد بنالے اور صبح شام تین تین دفعہ پڑھ لیا کرے۔
Top