Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Mualim-ul-Irfan - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ
: بہت بابرکت ہے وہ ذات
بِيَدِهِ
: جس کے ہاتھ میں ہے
الْمُلْكُ
: ساری بادشاہت
وَهُوَ
: اور وہ
عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ
: ہر چیز پر
قَدِيْرُۨ
: قدرت رکھنے والا ہے
وہ بڑی ہی برکت والی ذات ہے ۔ جس کے قبضے میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
وجہ تسمیہ اور اکوائف : اس سورة کا نام سورة ملک ہے۔ اس کی پہلی آیت میں لفظ ملک آیا ہے۔ اسی لفظ سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ ملک سے مراد اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت ہے۔ حدیث میں اس سورة کے اور بھی نام آئے ہیں۔ اس کا ایک نام سورة واقیہ ہے یعنی نجات دلانے والی سورة اور بچانے والی۔ اور ایک نام سورة مانعہ یعنی اللہ کے عذاب سے روکنے والی ہے۔ اس کا ایک نام سورة متجیہ ہے عذاب سے نجات دلانے والی ، اور سورة ملک بھی ہے۔ یہ مکی سورة ہے ، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس میں تیس آیات دو رکوع ، 335 الفاظ اور 1313 حروف ہیں۔ دیکر سورتوں سے مناسبت : یہ سورة اور اس کے بعد والی سورة مکی سورتیں ہیں۔ اس سے پہلی سورة تحریم میں حضور نبی کریم ﷺ کے حقوق کا ذکر تھا۔ آپ کی ازواج مطہرات سے معمولی سی لغزش ہوگئی تھی ، اس پر اللہ تعالیٰ نے سخت تنبیہ فرمائی۔ اور نبی (علیہ السلام) کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیا ، اور دیگر باتوں کا ذکر فرمایا۔ اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے حقوق کا ذکر ہے۔ تو گویا اس طریقے سے ان سورتوں کو آپس میں مناسبت ہے۔ اس سورة مبارکہ کی فضیلت کے سلسلہ میں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سورة تیس آیات پر مشتمل ہے۔ اور اس سورة نے کسی شخص کے لیے اللہ کے ہاں سفارش کی تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو نجات دی۔ اور اس کی سفارش کو قبول فرمایا۔ وہ تیس آیتیں اسی سورة مبارکہ میں ہیں۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کے صحابہ کرام کسی سفر پر تھے۔ انہوں نے ایک جگہ پڑائو کیا۔ اور خیمہ لگایا۔ اور انہیں معلوم تھا کہ جس جگہ خیمہ لگا رہے ہیں ، اس کے نیچے قبر ہے۔ تو اس صحابی نے اس قبر والے کو اس سورة مبارکہ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ صحابی کو بڑا تعجب ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ اس صحابی نے اس واقعہ کا ذکر جب نبی ﷺ کے سامنے کیا۔ تو آپ نے فرمایا۔ یعنی یہ سورة انسان کو نجات دلانے والی ہے اور عذاب قبر سے بچانے والی ہے۔ تو اس واقعہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ بتلا دیا۔ کہ اس سورة کے پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے کسی کو اکئی بات سنا دے۔ اس لیے اس سورة کا نام مبخیہ اور مانعہ ہے۔ یعنی اللہ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے بچانے والی سورة ۔ امام باقر (رح) امام زین العابدین (رح) کے فرزند اور امام ابوحنیفہ (رح) کے استاذ اور پیر ہیں۔ ان کی عادت تھی کہ عشاء کے بعد دو نفل بیٹھ کر پڑھتے تھے ، اور ان میں اس سورة مبارکہ کو تلاوت فرماتے تھے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق حضور نبی کریم ﷺ سونے سے پہلے سورة تبارک الذی اور سورة السجدہ ضرور تلاوت فرماتے تھے۔ موضوع سورة : اس سورة میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور توحید کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ آیات قدرت یعنی اس کی نشانیوں کا بیان ہے۔ اور اس کے بعد سزا کی منزل اور قیامت کا حال بھی مذکور ہے لیکن مرکزی مضمون اس کا توحید ہے۔ برکت کا مفہوم : اس سورة کی ابتدا برکت کے لفظ سے ہوئی ہے ۔ برکت اس زیادتی کو کہتے ہیں ، جس میں پاکیزگی ، طہارت اور تقدس کا مفہوم پایا جائے اور جن اذکار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جاتا ہے اسکی بہت سی صورتیں ہیں۔ جیسے بسم اللہ ، لا حول ولا قوۃ ، سبحان اللہ ، الحمد اللہ ، اللہ اکبر۔ اور انہیں اذکار میں ایک تبرک اللہ ہے۔ تبرک اللہ احسن الخالقین تبرک الذی بیدہ الملک ایسے ہی اور بھی کئی اذکار ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو یا د کیا جاتا ہے۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ برکت دینے والا صرف خدا ہے۔ مگر مشرک لوگ دوسروں سے برکت کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ تو اس کا رد ہے یہ مضمون اور بھی کئی سورتوں آیات کے اندر آیا ہے۔ جیسا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق قرآن پاک میں موجود ہے۔ جعلنی مبارکا یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بابرکت بنایا۔ یعنی برکت اللہ تعالیٰ نے عطا کی ۔ اسی طرح تبرک الذی نزل الفرقان علیٰ عبدہ یعنی وہ ذات بڑی برکت والی ہے۔ جس نے اپنے بندہ کا مل پر قرآن حکیم نازل فرمایا۔ اس سورة میں ارشاد ہے ۔ یعنی وہ بڑی ہی برکت والی ذات ہے جس کے قبضے میں بادشاہی ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اور سب اختیارات اسی کے پاس ہیں۔ ساری سلطنت اسی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کوئی کام کرنا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ نہ اس کے سامنے کوئی ٹھہر سکتا ہے۔ اس کے ارادے اور مشیت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ وہ قادر مطلق ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ جس ذات نے موت اور زندگی کو پیدا کیا۔ اور پھر یہ بھی فرمایا۔ وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے۔ ان کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ موت کی حقیت کے متعلق دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ اسے عدمی چیز مانتے ہیں جب کہ بعض دوسرے اسے وجود ی تسلیم کرتے ہیں۔ موت کے ساتھ چونکہ تخلیق کا ذکر آیا ہے اسی لیے ظاہر ہے۔ کہ یہ ایک وجود یہ چیز ہے نہ کہ عدمی۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے۔ ْ قیامت کے روز حساب کتاب ہوجانے کے بعد موت کو لایا جائے گا۔ اس کی شکل و صورت سیا ہ رنگ کے مینڈھے کی ہوگی پھر اسے جنت اور دوزخ کے درمیان ایسی جگہ لا کر کحرا کیا جائیگا۔ جہاں سب لوگ اسے دیکھیں گے اور پھر ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔ یہ کیا ہے ؟ سب کہیں گے یہ موت ہے ۔ پھر سب کے سامنے اسے ذبح کردیا جائے گا۔ اور اہل جنت سے کہا جائے گا۔ اب تم ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہو گے۔ تمہیں موت نہیں آئے گی۔ اسی طرح اہل دوزخ بھی ہمیشہ دوزخ میں ہی رہے گے۔ انہیں بھی موت نہیں آئے گی۔ ایسے لوگ جن متعلق قرآن پاک میں قطعی فیصلہ ہوچکا ہے ۔ اور قرآن پاک نے انہیں دوزخ میں روک دیا ہے۔ وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ یہ دن مومنوں کے لیے بڑی خوشی ، کافروں کے لیے بڑی حسرت کا دن ہوگا۔ یہ سارا ذکر صحیح احادیث میں موجود ہے۔ موت وحیات کی تخلیق کا مقصد : موت وحیات کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا کہ تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے اعمال کو ن کرتا ہے۔ اگر موت کا تصورنہ ہوتا تو کوئی شخص نیکی کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا۔ یہ موت کا تصور ہی ہے جو انسان کو نیکی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک نہ ایک دن اسے مرنا ہے۔ اور یہ دنیا فانی ہے ۔ یہی تصور انسان کو اچھے اعمال پر آمادہ کرتا ہے۔ تاکہ دوسرے جہاں پہنچ کر اسے پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ تو گویا موت نیکی کے لیے بمنزلہ شرط ہے۔ اور حیات تو خود ایک طرف ہے۔ جس کے اندر رہ کر انسان کا م کرتا ہے۔ اور نیکی کی طرف راغب کرنے والی چیز صرف موت ہی ہے۔ متنبی کہتا ہے ۔ یعنی اگر موت سے ملاقات نہ ہوتی تو کسی نوجوان کے صبر اور کسی سخی کی سخاوت کو کوئی فضیلت حاصل نہ ہوتی۔ موت سے ملاقات ہی ان چیزوں کی قدرو قیمت سے روشناس کراتی ہے۔ اعمال صالحہ کو اپنانے اور دولت ایمان کے حصول کے لیے موت ایک بڑی حقیقت ہے۔ اگر یہ نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا ۔ تو گویا موت اور حیات کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ نے یہی بیان فرمایا کہ۔ تم میں سے اعمال صالحہ کو ن کرتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اجھا انسان وہ ہے جس نے لمبی عمر پائی اور اچھے اعمال کر کے لمبی عمر سے فائدہ اٹھایا۔ دوسری حدیث میں ہے کہ اچھا انسان وہ انسان ہوسکتا ہے جو اچھی عقل رکھنے والا ، اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچنے والا ، اور اللہ کی اطاعت میں سبقت حاصل کرنے والا ہو۔ تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو برکتیں دینے والا ہے۔ قادر مطلق ہے۔ اس نے موت وحیات کو پیدا کیا۔ تاکہ انسان کی آزمائش ہو کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔ صفات الہٰی : اس کے بعد ارشاد فرمایا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک ہے۔ وہ عزیز ہے ، غالب ہے۔ اور عزت دینے والا ہے اور الغفور ہے یعنی لغزشوں کو معاف کرتا ہے۔ اگرچہ وہ نافرمانی پر گرفت کرتا ہے ، مگر لغزشوں اور غلطیوں کو معاف بھی کرتا ہے۔ بسا اوقات مجرموں کو سنبھلنے کا وقت دیتا ہے۔ یہ بھی اس کی بخشش کی ایک ذریعہ ہے۔ سات آسمان : مو ت وحیات کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کا بیان ہے ارشاد ربانی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا حدیث میں ایسا ہی ذکر آتا ہے کہ آسمانوں کو تہ بر تہ یعنی اوپر نیچے پیدا کیا۔ پھر ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین سے پہلے آسمان تک اس کے بعد بہشت آتی ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ کے واقعہ معراج میں مذکور ہے۔ تو گویا سارے آسمانوں کو طے کرنے کے بعد جنت آتی ہے۔ جیسے فرمایا ۔ اور اسی جگہ سدرۃ لمنتہیٰ والا مقام بھی آتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ آسمانوں کی یہ تہیں کیسی ہیں تو اس جگہ ہمارا تصور کا م نہیں کرتا۔ ہمیں صرف اس بات پر ایمان رکھنا چاہیے کہ آسمان سات ہیں اور نیچے ہیں۔ ایک مقام پر سبعاََ شداداََ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی وہ آسمان بڑے مضبوط ہیں پھر ان آسمانوں میں دروازوں کا ذکر بھی موجود ہے۔ جیسا کہ معراج والی حدیث میں دروازے کھولنے کا ذکر ہے۔ اور آپ کا وہاں سے گذر کر آگے جانا معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء نقص سے پاک ہیں : مو ت وحیات اور سات آسمانوں کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا۔ یعنی رحمان کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے اندر تم کوئی فرق نہیں دیکھ پائو گے۔ یہاں پر تفاوت سے مراد چھوٹا بڑا ہونا نہیں ، بلکہ نقص مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی نقص نہیں ہے۔ اس نے ہر چیز کو اپنی حکمت کے ساتھ کمال درجے پر پیدا کیا۔ آسمان ہوں یا کرے ، زمین ہو یا اس کی کوئی چیز کسی میں تم کوئی نقص نہیں پائو گے۔ اسی طرح انسان کی پیدائش ، حیوانات اور نباتات اور دیگر عناصر کو اللہ تعالیٰ نے کما حکمت اور بصیرت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ان میں تم کوئی شخص نہیں پائو گے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو خود دعوت نظارہ دے رہے ہیں کہ ذرا نگاہ اٹھا کر دیکھو کیا تمہیں کوئی شگاف یا دراڑنظر آتی ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کی کما قدرت کی دلیل ہے۔ پھر نگاہ اٹھا کر دیکھو دو بار یعنی باربار نگاہ اٹھا کر دیکھو تمہیں کوئی دراڑ یا شگاف نظر نہیں آئے گا۔ بلکہ تمہاری ہی طرف لوٹ آئیگی ذلیل ہو کر اس حالت میں کہ تھکی ہوئی ہوگی اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی نقص تلاش نہیں کرسکے گی۔ ستارے آسمان دنیا کی زینت : اللہ تعالیٰ کی کما قدرت کا ایک اور شاہکار آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت دینا ہے۔ اور البتہ تحقیق ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ساتھ زینت دی۔ اگر یہ نہ ہوتے تو آسمان بالکل بےرونق معلوم ہوتی ہے۔ جگہ جگہ چراغ جل رہے ہیں۔ کوئی چھوٹا ، کوئی بڑا ، عجیب و غریب قسم کی زینت اور رونق ہے۔ ستاروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں صراحت کے ساتھ بیان کی ہیں۔ اول یہ کہ آسمان دنیا کی زینت ہیں۔ دوسری یہ کہ یعنی شیطانوں کو مارنے کے آلات ہیں۔ شیطان فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے جب اوپر جاتے ہیں تو اوپر سے شہات پڑتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے کہانت کی حقیقت دریافت کی گئی۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان اوپر جا کر فرشتوں کی گفتگو سنتے ہیں۔ اور کوئی ایک آدھ بات ان کے کان میں پڑجاتی ہے تو وہ اسے دوسروں تک پہنچاتے ہیں اور آگے سے ان پر شہاب ثاقب پڑتے ہیں۔ جو کلمہ وہ فرشتوں سے سن پاتے ہیں اسے وہ اپنے کاہن کے کان میں پھونک دیتے ہیں اور وہ اس کے ساتھ سینکڑوں جھوٹ ملا کر آگے چلا دیتا ہے۔ یہی کہانت کی حقیقت ہے۔ کاہن سے واقعات اور خبریں معلوم کرنا شرک میں شمار کیا گیا ہے وہ غیب دان تو ہیں نہیں عالم الغیب تو صرف خدا ہے۔ لہٰذا کاہن کے پا س نہیں جانا چاہیے۔ یہ ستارے تو ابتدائے آفرینش سے ہی ٹوٹا کرتے تھے۔ مگر جیسا کہ سورة جن میں مذکور ہے حضور کی بعثت کے بعد یہ سلسلہ بہت زیادہ ہوگیا۔ کیونکہ نزول قرآن کے بعد جو شیطان گفتگو سننے کے لے اوپر جاتے ہیں انہیں مارنے کے لیے ستاروں کے ٹوٹنے کا عمل بھی تیز تر ہوگیا ہے۔ ستاروں کے ذریعے رہنمائی : ستارون کے متعلق تیسری بات اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی ہے۔ کہ یعنی انسان ستاروں کے ذریعے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ سینکڑوں اور ہزاروں میلوں پر پھیلے ہوئے ، سمندروں ، جنگلوں اور بیابانوں میں سفر کے دوران صحیح سمت کی طرف صحیح راہنمائی ستاروں کے ذریعے سے ہی ممکن ہے ۔ چودہ کروڑ مربع میل میں پھیلے ہوئے سمندروں بڑے بڑے صحرائوں اور جنگلوں میں سفر کے دوران بھٹک جانا معمولی بات ہے۔ ایسے میں راستے کے تعین کے لیے یہ ستارے ہی کار آمد ثابت ہوتے ہیں اور مسافر اپنی منزل تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ حاصل کلام : فرمان خداوندی ہے۔ کہ ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ساتھ زینت بخشی ۔ اور ان ستاروں کو شیطانوں کو مارنے والا بنایا۔ اور پھر ان شیاطین کے لیے دوزخ کی سزا بھی مقرر کی کہ اس میں انہیں ڈالا جائے گا۔
Top