بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Mualim-ul-Irfan - Al-Mulk : 1
تَبٰرَكَ الَّذِیْ بِیَدِهِ الْمُلْكُ١٘ وَ هُوَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرُۙ
تَبٰرَكَ الَّذِيْ : بہت بابرکت ہے وہ ذات بِيَدِهِ : جس کے ہاتھ میں ہے الْمُلْكُ : ساری بادشاہت وَهُوَ : اور وہ عَلٰي كُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز پر قَدِيْرُۨ : قدرت رکھنے والا ہے
وہ بڑی ہی برکت والی ذات ہے ۔ جس کے قبضے میں بادشاہی ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
وجہ تسمیہ اور اکوائف : اس سورة کا نام سورة ملک ہے۔ اس کی پہلی آیت میں لفظ ملک آیا ہے۔ اسی لفظ سے اس سورة کا نام لیا گیا ہے۔ ملک سے مراد اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت ہے۔ حدیث میں اس سورة کے اور بھی نام آئے ہیں۔ اس کا ایک نام سورة واقیہ ہے یعنی نجات دلانے والی سورة اور بچانے والی۔ اور ایک نام سورة مانعہ یعنی اللہ کے عذاب سے روکنے والی ہے۔ اس کا ایک نام سورة متجیہ ہے عذاب سے نجات دلانے والی ، اور سورة ملک بھی ہے۔ یہ مکی سورة ہے ، ہجرت سے پہلے نازل ہوئی۔ اس میں تیس آیات دو رکوع ، 335 الفاظ اور 1313 حروف ہیں۔ دیکر سورتوں سے مناسبت : یہ سورة اور اس کے بعد والی سورة مکی سورتیں ہیں۔ اس سے پہلی سورة تحریم میں حضور نبی کریم ﷺ کے حقوق کا ذکر تھا۔ آپ کی ازواج مطہرات سے معمولی سی لغزش ہوگئی تھی ، اس پر اللہ تعالیٰ نے سخت تنبیہ فرمائی۔ اور نبی (علیہ السلام) کے حقوق کا خیال رکھنے کا حکم دیا ، اور دیگر باتوں کا ذکر فرمایا۔ اس سورة مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کی توحید کے حقوق کا ذکر ہے۔ تو گویا اس طریقے سے ان سورتوں کو آپس میں مناسبت ہے۔ اس سورة مبارکہ کی فضیلت کے سلسلہ میں حضور نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ سورة تیس آیات پر مشتمل ہے۔ اور اس سورة نے کسی شخص کے لیے اللہ کے ہاں سفارش کی تو اللہ تعالیٰ نے اس شخص کو نجات دی۔ اور اس کی سفارش کو قبول فرمایا۔ وہ تیس آیتیں اسی سورة مبارکہ میں ہیں۔ ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ کے صحابہ کرام کسی سفر پر تھے۔ انہوں نے ایک جگہ پڑائو کیا۔ اور خیمہ لگایا۔ اور انہیں معلوم تھا کہ جس جگہ خیمہ لگا رہے ہیں ، اس کے نیچے قبر ہے۔ تو اس صحابی نے اس قبر والے کو اس سورة مبارکہ کی تلاوت کرتے ہوئے سنا۔ صحابی کو بڑا تعجب ہوا کہ یہ کیا معاملہ ہے۔ اس صحابی نے اس واقعہ کا ذکر جب نبی ﷺ کے سامنے کیا۔ تو آپ نے فرمایا۔ یعنی یہ سورة انسان کو نجات دلانے والی ہے اور عذاب قبر سے بچانے والی ہے۔ تو اس واقعہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ بتلا دیا۔ کہ اس سورة کے پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ نے محفوظ رکھا ۔ بعض اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ جب چاہے کسی کو اکئی بات سنا دے۔ اس لیے اس سورة کا نام مبخیہ اور مانعہ ہے۔ یعنی اللہ کے عذاب سے اور قبر کے عذاب سے بچانے والی سورة ۔ امام باقر (رح) امام زین العابدین (رح) کے فرزند اور امام ابوحنیفہ (رح) کے استاذ اور پیر ہیں۔ ان کی عادت تھی کہ عشاء کے بعد دو نفل بیٹھ کر پڑھتے تھے ، اور ان میں اس سورة مبارکہ کو تلاوت فرماتے تھے۔ ایک دوسری روایت کے مطابق حضور نبی کریم ﷺ سونے سے پہلے سورة تبارک الذی اور سورة السجدہ ضرور تلاوت فرماتے تھے۔ موضوع سورة : اس سورة میں اللہ تعالیٰ کی صفات اور توحید کا ذکر ہے۔ اس کے علاوہ آیات قدرت یعنی اس کی نشانیوں کا بیان ہے۔ اور اس کے بعد سزا کی منزل اور قیامت کا حال بھی مذکور ہے لیکن مرکزی مضمون اس کا توحید ہے۔ برکت کا مفہوم : اس سورة کی ابتدا برکت کے لفظ سے ہوئی ہے ۔ برکت اس زیادتی کو کہتے ہیں ، جس میں پاکیزگی ، طہارت اور تقدس کا مفہوم پایا جائے اور جن اذکار کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو یاد کیا جاتا ہے اسکی بہت سی صورتیں ہیں۔ جیسے بسم اللہ ، لا حول ولا قوۃ ، سبحان اللہ ، الحمد اللہ ، اللہ اکبر۔ اور انہیں اذکار میں ایک تبرک اللہ ہے۔ تبرک اللہ احسن الخالقین تبرک الذی بیدہ الملک ایسے ہی اور بھی کئی اذکار ہیں جن کے ذریعے اللہ تعالیٰ کو یا د کیا جاتا ہے۔ دوسری قابل ذکر بات یہ ہے کہ برکت دینے والا صرف خدا ہے۔ مگر مشرک لوگ دوسروں سے برکت کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ تو اس کا رد ہے یہ مضمون اور بھی کئی سورتوں آیات کے اندر آیا ہے۔ جیسا کہ عیسیٰ (علیہ السلام) کے متعلق قرآن پاک میں موجود ہے۔ جعلنی مبارکا یعنی اللہ تعالیٰ نے مجھ کو بابرکت بنایا۔ یعنی برکت اللہ تعالیٰ نے عطا کی ۔ اسی طرح تبرک الذی نزل الفرقان علیٰ عبدہ یعنی وہ ذات بڑی برکت والی ہے۔ جس نے اپنے بندہ کا مل پر قرآن حکیم نازل فرمایا۔ اس سورة میں ارشاد ہے ۔ یعنی وہ بڑی ہی برکت والی ذات ہے جس کے قبضے میں بادشاہی ہے۔ اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ اور سب اختیارات اسی کے پاس ہیں۔ ساری سلطنت اسی کی ہے۔ اللہ تعالیٰ جب کوئی کام کرنا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ نہ اس کے سامنے کوئی ٹھہر سکتا ہے۔ اس کے ارادے اور مشیت کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ وہ قادر مطلق ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ جس ذات نے موت اور زندگی کو پیدا کیا۔ اور پھر یہ بھی فرمایا۔ وہ زندہ کرتا اور موت دیتا ہے۔ ان کو پیدا کرنے والا خدا ہے۔ موت کی حقیت کے متعلق دو نظریات پائے جاتے ہیں۔ بعض لوگ اسے عدمی چیز مانتے ہیں جب کہ بعض دوسرے اسے وجود ی تسلیم کرتے ہیں۔ موت کے ساتھ چونکہ تخلیق کا ذکر آیا ہے اسی لیے ظاہر ہے۔ کہ یہ ایک وجود یہ چیز ہے نہ کہ عدمی۔ حدیث مبارکہ میں آتا ہے۔ ْ قیامت کے روز حساب کتاب ہوجانے کے بعد موت کو لایا جائے گا۔ اس کی شکل و صورت سیا ہ رنگ کے مینڈھے کی ہوگی پھر اسے جنت اور دوزخ کے درمیان ایسی جگہ لا کر کحرا کیا جائیگا۔ جہاں سب لوگ اسے دیکھیں گے اور پھر ہر ایک سے پوچھا جائے گا۔ یہ کیا ہے ؟ سب کہیں گے یہ موت ہے ۔ پھر سب کے سامنے اسے ذبح کردیا جائے گا۔ اور اہل جنت سے کہا جائے گا۔ اب تم ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہو گے۔ تمہیں موت نہیں آئے گی۔ اسی طرح اہل دوزخ بھی ہمیشہ دوزخ میں ہی رہے گے۔ انہیں بھی موت نہیں آئے گی۔ ایسے لوگ جن متعلق قرآن پاک میں قطعی فیصلہ ہوچکا ہے ۔ اور قرآن پاک نے انہیں دوزخ میں روک دیا ہے۔ وہ ہمیشہ دوزخ میں رہیں گے۔ یہ دن مومنوں کے لیے بڑی خوشی ، کافروں کے لیے بڑی حسرت کا دن ہوگا۔ یہ سارا ذکر صحیح احادیث میں موجود ہے۔ موت وحیات کی تخلیق کا مقصد : موت وحیات کی تخلیق کا مقصد یہ بیان فرمایا کہ تاکہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے اچھے اعمال کو ن کرتا ہے۔ اگر موت کا تصورنہ ہوتا تو کوئی شخص نیکی کرنے کے لیے تیار نہ ہوتا۔ یہ موت کا تصور ہی ہے جو انسان کو نیکی کرنے پر آمادہ کرتا ہے۔ کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایک نہ ایک دن اسے مرنا ہے۔ اور یہ دنیا فانی ہے ۔ یہی تصور انسان کو اچھے اعمال پر آمادہ کرتا ہے۔ تاکہ دوسرے جہاں پہنچ کر اسے پریشانی نہ اٹھانی پڑے۔ تو گویا موت نیکی کے لیے بمنزلہ شرط ہے۔ اور حیات تو خود ایک طرف ہے۔ جس کے اندر رہ کر انسان کا م کرتا ہے۔ اور نیکی کی طرف راغب کرنے والی چیز صرف موت ہی ہے۔ متنبی کہتا ہے ۔ یعنی اگر موت سے ملاقات نہ ہوتی تو کسی نوجوان کے صبر اور کسی سخی کی سخاوت کو کوئی فضیلت حاصل نہ ہوتی۔ موت سے ملاقات ہی ان چیزوں کی قدرو قیمت سے روشناس کراتی ہے۔ اعمال صالحہ کو اپنانے اور دولت ایمان کے حصول کے لیے موت ایک بڑی حقیقت ہے۔ اگر یہ نہ ہوتی تو کچھ بھی نہ ہوتا ۔ تو گویا موت اور حیات کی تخلیق کا مقصد اللہ تعالیٰ نے یہی بیان فرمایا کہ۔ تم میں سے اعمال صالحہ کو ن کرتا ہے۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ اجھا انسان وہ ہے جس نے لمبی عمر پائی اور اچھے اعمال کر کے لمبی عمر سے فائدہ اٹھایا۔ دوسری حدیث میں ہے کہ اچھا انسان وہ انسان ہوسکتا ہے جو اچھی عقل رکھنے والا ، اللہ کی حرام کردہ چیزوں سے بچنے والا ، اور اللہ کی اطاعت میں سبقت حاصل کرنے والا ہو۔ تو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ وہ ذات ہے جو برکتیں دینے والا ہے۔ قادر مطلق ہے۔ اس نے موت وحیات کو پیدا کیا۔ تاکہ انسان کی آزمائش ہو کہ کون اچھے عمل کرتا ہے۔ صفات الہٰی : اس کے بعد ارشاد فرمایا۔ یعنی اللہ تعالیٰ کمال قدرت کا مالک ہے۔ وہ عزیز ہے ، غالب ہے۔ اور عزت دینے والا ہے اور الغفور ہے یعنی لغزشوں کو معاف کرتا ہے۔ اگرچہ وہ نافرمانی پر گرفت کرتا ہے ، مگر لغزشوں اور غلطیوں کو معاف بھی کرتا ہے۔ بسا اوقات مجرموں کو سنبھلنے کا وقت دیتا ہے۔ یہ بھی اس کی بخشش کی ایک ذریعہ ہے۔ سات آسمان : مو ت وحیات کی پیدائش کے بعد اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیوں کا بیان ہے ارشاد ربانی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا حدیث میں ایسا ہی ذکر آتا ہے کہ آسمانوں کو تہ بر تہ یعنی اوپر نیچے پیدا کیا۔ پھر ایک آسمان سے دوسرے آسمان تک اتنا فاصلہ ہے جتنا زمین سے پہلے آسمان تک اس کے بعد بہشت آتی ہے۔ جیسا کہ نبی ﷺ کے واقعہ معراج میں مذکور ہے۔ تو گویا سارے آسمانوں کو طے کرنے کے بعد جنت آتی ہے۔ جیسے فرمایا ۔ اور اسی جگہ سدرۃ لمنتہیٰ والا مقام بھی آتا ہے۔ رہا یہ سوال کہ آسمانوں کی یہ تہیں کیسی ہیں تو اس جگہ ہمارا تصور کا م نہیں کرتا۔ ہمیں صرف اس بات پر ایمان رکھنا چاہیے کہ آسمان سات ہیں اور نیچے ہیں۔ ایک مقام پر سبعاََ شداداََ کا لفظ آیا ہے۔ یعنی وہ آسمان بڑے مضبوط ہیں پھر ان آسمانوں میں دروازوں کا ذکر بھی موجود ہے۔ جیسا کہ معراج والی حدیث میں دروازے کھولنے کا ذکر ہے۔ اور آپ کا وہاں سے گذر کر آگے جانا معلوم ہے۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کردہ اشیاء نقص سے پاک ہیں : مو ت وحیات اور سات آسمانوں کی تخلیق کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا۔ یعنی رحمان کی پیدا کی ہوئی چیزوں کے اندر تم کوئی فرق نہیں دیکھ پائو گے۔ یہاں پر تفاوت سے مراد چھوٹا بڑا ہونا نہیں ، بلکہ نقص مراد ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی نقص نہیں ہے۔ اس نے ہر چیز کو اپنی حکمت کے ساتھ کمال درجے پر پیدا کیا۔ آسمان ہوں یا کرے ، زمین ہو یا اس کی کوئی چیز کسی میں تم کوئی نقص نہیں پائو گے۔ اسی طرح انسان کی پیدائش ، حیوانات اور نباتات اور دیگر عناصر کو اللہ تعالیٰ نے کما حکمت اور بصیرت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔ ان میں تم کوئی شخص نہیں پائو گے۔ اللہ تعالیٰ انسان کو خود دعوت نظارہ دے رہے ہیں کہ ذرا نگاہ اٹھا کر دیکھو کیا تمہیں کوئی شگاف یا دراڑنظر آتی ہے۔ یہی اللہ تعالیٰ کی کما قدرت کی دلیل ہے۔ پھر نگاہ اٹھا کر دیکھو دو بار یعنی باربار نگاہ اٹھا کر دیکھو تمہیں کوئی دراڑ یا شگاف نظر نہیں آئے گا۔ بلکہ تمہاری ہی طرف لوٹ آئیگی ذلیل ہو کر اس حالت میں کہ تھکی ہوئی ہوگی اللہ تعالیٰ کی تخلیق میں کوئی نقص تلاش نہیں کرسکے گی۔ ستارے آسمان دنیا کی زینت : اللہ تعالیٰ کی کما قدرت کا ایک اور شاہکار آسمان دنیا کو ستاروں سے زینت دینا ہے۔ اور البتہ تحقیق ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ساتھ زینت دی۔ اگر یہ نہ ہوتے تو آسمان بالکل بےرونق معلوم ہوتی ہے۔ جگہ جگہ چراغ جل رہے ہیں۔ کوئی چھوٹا ، کوئی بڑا ، عجیب و غریب قسم کی زینت اور رونق ہے۔ ستاروں کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے تین باتیں صراحت کے ساتھ بیان کی ہیں۔ اول یہ کہ آسمان دنیا کی زینت ہیں۔ دوسری یہ کہ یعنی شیطانوں کو مارنے کے آلات ہیں۔ شیطان فرشتوں کی باتیں سننے کے لیے جب اوپر جاتے ہیں تو اوپر سے شہات پڑتے ہیں۔ حدیث شریف میں آتا ہے کہ حضور ﷺ نے کہانت کی حقیقت دریافت کی گئی۔ تو آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ شیطان اوپر جا کر فرشتوں کی گفتگو سنتے ہیں۔ اور کوئی ایک آدھ بات ان کے کان میں پڑجاتی ہے تو وہ اسے دوسروں تک پہنچاتے ہیں اور آگے سے ان پر شہاب ثاقب پڑتے ہیں۔ جو کلمہ وہ فرشتوں سے سن پاتے ہیں اسے وہ اپنے کاہن کے کان میں پھونک دیتے ہیں اور وہ اس کے ساتھ سینکڑوں جھوٹ ملا کر آگے چلا دیتا ہے۔ یہی کہانت کی حقیقت ہے۔ کاہن سے واقعات اور خبریں معلوم کرنا شرک میں شمار کیا گیا ہے وہ غیب دان تو ہیں نہیں عالم الغیب تو صرف خدا ہے۔ لہٰذا کاہن کے پا س نہیں جانا چاہیے۔ یہ ستارے تو ابتدائے آفرینش سے ہی ٹوٹا کرتے تھے۔ مگر جیسا کہ سورة جن میں مذکور ہے حضور کی بعثت کے بعد یہ سلسلہ بہت زیادہ ہوگیا۔ کیونکہ نزول قرآن کے بعد جو شیطان گفتگو سننے کے لے اوپر جاتے ہیں انہیں مارنے کے لیے ستاروں کے ٹوٹنے کا عمل بھی تیز تر ہوگیا ہے۔ ستاروں کے ذریعے رہنمائی : ستارون کے متعلق تیسری بات اللہ تعالیٰ نے یہ فرمائی ہے۔ کہ یعنی انسان ستاروں کے ذریعے راہنمائی حاصل کرتے ہیں۔ سینکڑوں اور ہزاروں میلوں پر پھیلے ہوئے ، سمندروں ، جنگلوں اور بیابانوں میں سفر کے دوران صحیح سمت کی طرف صحیح راہنمائی ستاروں کے ذریعے سے ہی ممکن ہے ۔ چودہ کروڑ مربع میل میں پھیلے ہوئے سمندروں بڑے بڑے صحرائوں اور جنگلوں میں سفر کے دوران بھٹک جانا معمولی بات ہے۔ ایسے میں راستے کے تعین کے لیے یہ ستارے ہی کار آمد ثابت ہوتے ہیں اور مسافر اپنی منزل تک رسائی حاصل کرتے ہیں۔ حاصل کلام : فرمان خداوندی ہے۔ کہ ہم نے آسمان دنیا کو چراغوں کے ساتھ زینت بخشی ۔ اور ان ستاروں کو شیطانوں کو مارنے والا بنایا۔ اور پھر ان شیاطین کے لیے دوزخ کی سزا بھی مقرر کی کہ اس میں انہیں ڈالا جائے گا۔
Top