Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Al-Mulk : 23
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
قُلْ
: کہہ دیجئے
هُوَ الَّذِيْٓ
: وہ ذات ہے
اَنْشَاَكُمْ
: جس نے پیدا کیا تم کو
وَجَعَلَ
: اور بنائے اس نے
لَكُمُ السَّمْعَ
: تمہارے لیے کان
وَالْاَبْصَارَ
: اور آنکھیں
وَالْاَفْئِدَةَ
: اور دل
قَلِيْلًا مَّا
: کتنا تھوڑا
تَشْكُرُوْنَ
: تم شکر ادا کرتے ہو
اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تم کو بنایا ہے اور تمہارے لیے کان آنکھیں اور دل بنائے ۔ تم بہت ہی کم شکریہ ادا کرتے ہو
انسانی وجود کی نعمت : اللہ کی قدر ت کی چند نشایاں بیان کی گئی ہیں اور ان کو توحید اور قیامت پر دلیل بنانا گیا ہے۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی دلیل کے طو ر پر اور بھی کئی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ ساتھ ساتھ انسان سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ خدا کی نعمتوں کا بھی شکریہ ادا کرے۔ فرمایا۔ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تم کو بنایا ہے۔ انشاء کا معنی ہے ایجاد کرنا بناکر کھڑا کردینا۔ یعنی وجود کی نعمت عطا فرمائی تمہارا وجود ذاتی نہیں ہے تم کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ تمہارا وجود اور جسم اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔ اسی نے بنایا ہے۔ کان آنکھ اور دل : وجود کی نعمت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کان ، آنکھ اور دل بنائے ان تین چیزوں کا ذکرا للہ تعالیٰ نے خاص طور پر کیا۔ انسان کے جسم میں یہ تینوں چیزیں بڑی نعمت ہیں اور اللہ تعالیٰ کے خاص احسانات میں سے ہیں۔ کہ وجود کے بعد انسان کو کان آنکھ اور دل عطا فرمائے۔ حواس خمسہ : حواس ِ حمسہ تو پانچ ہیں مگر اس مقام پر ان میں سے صرف دو کا ذکر کیا حواس خمسہ میں سننے دیکھنے ، سونگھنے ، چکھنے اور ٹٹولنے کی طاقت شامل ہے۔ چھونے کی طاقت اللہ تعالیٰ نے جسم کے سارے حصوں میں رکھی ہے۔ جسم کے جس حصے کے ساتھ چاہے ، انسان چھوکر ، ٹٹول کر معلوم کرسکتا ہے۔ اور سختی اور نرمی کا پتہ چلا سکتا ہے۔ چکھنے کی طاقت اللہ تعالیٰ نے صرف زبان میں رکھی ہے۔ کہ منہ اور زبان کے ذریعے انسان چکھ کر کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرسکتا ہے کہ کڑوا ہے یا میٹھا ہے۔ اسی طرح ناک کے ذریعے سونگھ کر خوشبو یا بدبو والی چیز معلوم کرسکتا ہے یہ قوت اللہ تعالیٰ نے صرف ناک میں رکھی ہے۔ حصول علم کے ذرائع : تو حواس میں خمسہ میں نے مذکورہ تین چیزیں چھوڑ کر یہاں صرف کان اور آنکھ کا ذکر فرمایا کیونکہ یہ دونوں چیزیں حصول عمل کا ذریعہ ہیں ۔ حواس خمسہ میں سے یہ کان اور آنکھیں ہی ہیں یہ حصول عمل کا بڑا ہی ذریعہ ہیں۔ انسان کو جو معلومات حاصل ہوتی ہیں وہ کان اور آنکھوں کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہیں۔ قلب جسم کا مرکز ہے : باقی رہا دل تو اس میں اللہ تعالیٰ نے بڑے کمالات اور حکمتیں رکھی ہیں۔ یہ حصہ جسم انسانی کا مرکز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قلب کی شراکت دماغ کے ساتھ جوڑی ہے۔ لیکن ہر حال قوت اور اخلاق کا مرکز قلب ہے۔ انسان جو بھی اعمال سر انجام دیتا ہے۔ اسی میں قلب کے عزائم ، ارادے اور نیت کار فرما ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے قلب کو تمام انسانی جسم کا مرکز قرار دیا ، فرمایا کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔ جب وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہوتا ہے۔ اگر و ہ بگڑا ہوا ہو تو سارا جسم بگڑا ہوا ہوتا ہے۔ وہ لوتھڑا قلب ہے اگر قلب کے اندر فساد ہو تو سارا جسم فاسد ہوگا جسم کا کوئی حصہ صحیح نہیں رہیگا اور اگر قلب کی حالت صحیح ہے تو سارا جسم درست ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے قلب کو مرکز قرار دیا ہے۔ انسان جو بھی اعمال کرتا ہے تمام قوتوں کا مرکز قلب ہے۔ تو یہ دو چیزیں یعنی کان اور آنکھ حصول علم کا ظاہر ی ذریعہ ہیں اور قلب بحیثیت مرکز کے ہے ایمان اور محبت بھی اس میں ہوتی ہے۔ اور کفر ، شرک اور نفاق بھی اسی میں ہوگا۔ اسی طرح نفرت اور عداوت بھی دل میں ہوگی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جہاں سزا کا ذکر فرمایا وہاں یہ فرمایا کہ جہنم کی آگ بڑی سخت ہوگی۔ یعنی سب سے پہلے وہ دلوں پر چڑھے گی۔ کیونکہ مرکز تو دل ہے اور اسی دل میں انسان نے کفر شرک نفا ق یا بڑے عقیدے کو جگہ دی ہوئی ہے۔ تو سب سے پہلے آگ کا اثر دل پر ہوگا۔ اس کے بعد جسم پر ہوگا۔ تو قلب مرکز اخلاق اور مرکز اعمال ہے۔ اور کان اور آنکھ حصول علم کے ذرائع ہیں۔ ان کے ذریعے جو چیز حاصل ہوتی ہے۔ وہ مرکز کے اندر پہنچتی ہے۔ مرکز اس کے مطابق سوچتا ہے۔ اور پھر اعمال اور اخلاق ظاہر ہوتے ہیں۔ کان اور آنکھ کی اہمیت : تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا یعنی تم کو پیدا کیا تم کو جسم عطا کیا ، یہ خدا کا کتنا کرم اور احسان ہے اور پھر تم میں کان اور آنکھیں دیں سمع کو مقدم بیان فرمانے میں بھی مصلحت ہے ۔ کہ انسان آنکھ کی نسبت کان کے ذریعے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اکثر وبیشتر معلومات سماعت کے ذریعے ہوتی ہیں۔ اس کی زیادہ اہمیت کی بنا پر اسے پہلے بیان فرمایا۔ حواس ظاہر ہ کے اعتبار سے دوسری اہم ترین چیز انسان کے جسم میں آنکھیں ہیں ، ترمذی شریف کی حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ یعنی جس آدمی کے جسم سے یہ دو چیزیں یعنی آنکھیں میں نے اٹھا لیں اور اس نے صبر کیا تو اس کو بہشت تک پہنچانے کے بغیر کسی چیز پر اکتفا نہیں کروں گا۔ میں ضرور اس کو جنت تک پہنچائوں گا۔ آنکھیں انسان کے جسم میں نہایت ہی عزت والی چیزیں ہیں۔ اور ہدایت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ بیان فرمایا کہ تم نے گمراہی کیوں اختیار کی ہے وہاں یہ بھی فرمایا کیا ہم نے تمہیں آنکھیں نہیں دی تھیں۔ اگر تمہارے پا س علم نہیں تھا۔ تو ہم نے تمہیں زبان اور ہونٹ عطا کئے تھے۔ تم کسی سے پوچھ لیتے جیسے عام قانون ہے۔ یعنی اگر نہیں جانتے تو خود مفتی ، قاضی بن کر مت بیٹھو علم والوں سے دریافت کرو ۔ وہ تم کو صبح چیز بتلائیں گے۔ صحیح چیز پر عمل پیرا ہو کر نجات حاصل ہوگی۔ تو وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی نعمت کا ذکر فرمایا ہم نے تمہیں دیکھنے کے لیے آنکھیں نہیں دی تھیں کہ ان کے ذریعے نشیب و فراز کو دیکھ لو۔ اور اس سے بڑھ کر حصول علم کا ذریعہ کان ہیں۔ ان کے ذریعے انسان علم حاصل کرسکتا ہے۔ لہٰذا قلب تو مرکز ہے۔ اور کان اور آنکھ دو اہم چیزیں ہیں۔ باقی تین چیریں حصول علم کے اعتبار سے کمزور ہیں ، لہٰذا ان کا ذکر نہیں فرمایا اور اپنی جگہ وہ بھی خدا کی بڑی نعمتیں ہیں۔ جس کے جسم سے لمس کی حس ختم ہوجائے۔ اس کے لیے بڑی تکلیف کا باعث ہوگا۔ کیونکہ ا س سے ٹٹولنے کی طاقت ہی سب ہوگئی۔ خدا تعالیٰ بعض لوگوں کے اعصاب اس طرح خراب کردیتا ہے کہ ان کو ناک میں بدبو ہی آتی ہے۔ خوشبو نہیں آتی یہ بھی عذاب ہے۔ اسی طرح جس کے آواز کے اعصاب خراب ہوجائیں وہ بول نہیں سکتا۔ تو انسان میں کتنا نقص معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور قدرت تامہ کے ساتھ کیسی کیسی نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ اور یہ بڑے بڑے انعامات ہیں۔ شکر گزاری اور ناشکری : ان انعامات کا ذکر فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ک کہ تم بہت ہی کم شکر یہ ادا کرتے ہو اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں عطا کیں تاکہ تم اس شکر ادا کرو مگر ایسا کرنے والے بہت ہی تھوڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکریہ کس طرح ادا ہو ، اس سلسلہ میں امام رازی (رح) قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی (رح) اور دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کا شکریہ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے۔ کہ اس نعمت کو رضائے الہٰی میں صرف کرے اگر ایسا نہیں کرے گا تو ناشکری ہوگی۔ تو مطلب یہ ہے کہ اپنی آنکھ ، کان زبان اور جسم کو خدا تعالیٰ کی رضا کے کام میں لگا ئو ، ناراضگی کے کام میں مت لگائو۔ حکماء عام طور پر یہی تعریف کرتے ہیں۔ کہ نعمت کو اس کام میں لگائو جس مقصد کے لیے وہ دی گئی ہے۔ مگر آنکھ ، کان اور دل جیسی نعمت پر بہت تھوڑے لوگ شکر یہ ادا کرتے ہیں۔ اکثر و بیشتر ان نعمتوں کو خدا کی ناراضگی کے کام میں صرکرتے ہیں۔ اگر انسان کے کان فحش باتیں ، لغو گانے کفر کی باتیں اور بیہودہ باتیں سنیں گے تو اس سے بڑھ کر اور کیا ناشکری ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ آنکھ جیس نعمت کو ناجائز باتوں پر لگاے ہیں کسی اجنی عورت کی طرف نگاہ اٹھانے سے منع کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ پہلی نگاہ اچانک ہوتی ہے۔ یہ معاف ہے دوسری نگاہ معاف نہیں ہے۔ دوسری نگال کا مطلب یہ ہے کہ تم عمداََ ایک غیر محرم عورت کو دیکھ رہے ہو جس کی اجازت نہیں۔ اسی لیے ارشاد خدا وندی ہے ۔ مومن مردوں کو حکم ہے کہ اپنی نگاہ پست رکھیں اور عورتوں کو بھی حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہیں پست رکھیں۔ اگر آنکھ ان کاموں میں صرف ہوگی تو یہ ناشکر گزاری ہوگی۔ افسوس ہے آنکھ ناراضگی کے کاموں میں لگ رہی ہے۔ کان کے ذریعہ فحش گانے اور بیہودہ باتیں سنی جارہی ہیں۔ اللہ اور اللہ کے رسول کا کلام نصیحت کی بات اچھی بات کان میں نہیں آرہی ہے۔ تو یہ ناشکری ہی تو ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ تم ان نعمتوں کو صحیح مصرف میں نہیں لاتے لہٰذا تم بہت کم ہی شکر یہ ادا کرتے ہو۔ زمین انسان کے لیے قرار گاہ ہے : اس کے بعد پیغمبر ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ فرمایجئے خدا کی ذات وہ ہے جس نے تم کو زمین میں بکھیر دیا ۔ کہیں فرمایا اس سے معلو ہوا کہ انسان ہوا پر نہیں رہ سکتا۔ انسان جسم رکھتا ہے اس کو مکان کی ضرورت ہے جگہ کی ضروت ہے۔ یعنی قیامت تک تمہارے لیے زمین ہی ٹھکا نا اور قرار گاہ ہے۔ انسان ہوا پر زندگی بسر نہیں کرسکتا اگر وہاں جائے گا بھی تو عارضی طور پر۔ اصل قرار گاہ زمین ہی ہے۔ تو فرمایا کہ پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین پر بکھیر دیا۔ جس کا معنی یہ ہے کہ انسان کو جگہ کی ضرورت ہے۔ انسان کی بنیادی حقوق : ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے چار چیزوں کو خاص طور پر انسان کے بنیادی حقوق میں شمار فرمایا ہے۔ یعنی کھانے کے لیے خوراک کہ اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔ پینے کا پانی کہ یہ بھی انسان کے لیے ضروری ہے۔ جسم ڈھانپنے کے لیے لباس اور ٹھہرنے کے لیے جگہ۔ اس کے علاوہ دو چیزیں اور ہیں جو آج بھی دنیا میں بنیادی حقوق کے طور پر تسلیم کی جاتی ہیں ان میں سے ایک صحت ہے کہ یہ بھی ایک ضروری چیز ہے۔ تندرستی کے بغیر نہ عبادت ہو سکتی ہے ، نہ محنت مزدوری اور نہ ہی جہاد ہو سکتا ہے۔ دوسری چیز علم ہے یہ بھی بنیادی ضرورت ہے اس کے بغیر انسان نہ فرائض اد اکر سکتا ہے۔ اور نہ خالق اور مخلوق کے حقوق اداکر سکتا ہے۔ تو گویا یہ چھ چیزیں ہیں۔ جنہیں آج بھی دنیا کی متمدن قومیں انسان کے بنیادی حقوق میں شمار کرتی ہیں۔ یو نسکو اور دیگر عالمی ادارے سب ان کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ بنیادی حقوق تو قرآن نے بتائے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ بنیادی چیزیں ہر آدمی کو اپنے اپنے درجے میں ضرور ملنی چاہئیں۔ سر چھپانے اور گرمی سردی سے بچنے کے لیے اگر عالیشان بلڈنگ نہ بھی ہو تو چھوٹا موٹا مکان تو ضرور ہونا چاہیے۔ بالکل کھلی جگہ تو نہیں ہونی چاہیے اسی طرح خوراک کیسی بھی ہو مگر میسر تو ہو۔ اسی طرح کپڑا بھی ایسا تو ہونا چاہیے۔ جو جسم کو ڈھانپ لے اور گرمی سردی سے بجائے۔ دینی تعلیم کی اہمیت : انسان کے لیے تعلیم بھی ضروری ہے۔ خصوصاََ ایسی تعلیم جس کے بغیرا نسان فرائض ادا نہیں کرسکتا۔ آج کل تعلیم عام ہے مگر بہت قلیل حد تک ہمارے ملک میں چونکہ تعلیم لازمی نہیں ہے ۔ اس لیے تعلیم یافتہ افراد کی تعداد بیس پچیس فیصد سے زیادہ نہیں۔ ستر پچھتر فیصد لوگ آج بھی بغیر تعلیم کے ہیں۔ اور یہ جو پچیس فیصد تعلیم ہے بھی ، یہ بھی دنیاوی تعلیم ہے۔ بس لکھنا پڑھنا اور حساب کتاب دینی تعلیم تو ایک فیصدی بھی بمشکل ہوگی ۔ جس کے ذریعے انسان فرائض ادا کرسکتا ہے۔ انسانی دماغ کی صحیح ضرورت دینی تعلیم ہے لہذا یہ مقدم ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے تعلیم پر تبصرہ کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہماری عورتوں کو پہلے دینی تعلیم دلانی چاہیے۔ اس کے بعد ایسی تعلیم جو ان کو امور خانہ داری میں مفید ہو۔ اس کے بعد تاریخ ، جغرافیہ اور سائنس وغیرہ کی تعلیم دلا ئو۔ الغرض دینی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے اصل بنیاد تو موجود نہیں۔ لہذا لوگوں کو اصل فرائض کا علم نہیں۔ اس لیے دینی تعلیم کو اولیت حاصل ہونی چاہیے تاکہ انسان اپنے اصل فرائض کو سمجھ کرا ن پر عمل پیرا ہو سکے۔ خلاصہ کلام : تو بہر حال رشاد فرمایا خدا کی ذات وہ ہے جس نے تم کو زمین میں بکھیر دیا۔ اور یہ انسان کے لوازمات ہیں۔ جیسا ابتداء میں فرمایا۔ یعنی خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں اچھا عمل کون کرتا ہے۔ یعنی موت وحیات کو انسان کے امتحان کے لیے پیدا فرمایا۔ یہاں فرمایا دیکھو ! انسان کو اللہ نے پیدا کیا علم کے ذرائع عطا کئے ، کان آنکھیں اور قلب دیا۔ اور پھر زمین میں بکھیر دیا۔ انسان کو ٹھکانا مہیا کیا۔ خدا کے حضور پیش ہونا پڑے گا : ان تمام انعامات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اے انسان اس بات کو مت بھولنا کہ تمہیں خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔ معاد بر حق ہے ، قیامت برحق ہے۔ ایک نہ ایک دن خدا کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا جائزہ پیش کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے کہ اچھا کام کون کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ میں نے یہ سب ذرائع تم کو دیے ہیں کہیں ان میں منہک ہو کر معادکو ہی نہ بھول بیٹھنا بلکہ تم سب اسکی طرف اکٹھے کئے جائو گے۔ ایک نہ ایک دن امتحان ہو کر رہے گا ۔ اور جزائے عمل ضرور واقع ہوگی۔
Top