Mualim-ul-Irfan - Al-Mulk : 23
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْٓ : وہ ذات ہے اَنْشَاَكُمْ : جس نے پیدا کیا تم کو وَجَعَلَ : اور بنائے اس نے لَكُمُ السَّمْعَ : تمہارے لیے کان وَالْاَبْصَارَ : اور آنکھیں وَالْاَفْئِدَةَ : اور دل قَلِيْلًا مَّا : کتنا تھوڑا تَشْكُرُوْنَ : تم شکر ادا کرتے ہو
اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تم کو بنایا ہے اور تمہارے لیے کان آنکھیں اور دل بنائے ۔ تم بہت ہی کم شکریہ ادا کرتے ہو
انسانی وجود کی نعمت : اللہ کی قدر ت کی چند نشایاں بیان کی گئی ہیں اور ان کو توحید اور قیامت پر دلیل بنانا گیا ہے۔ اسی سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے اپنی وحدانیت کی دلیل کے طو ر پر اور بھی کئی نشانیاں بیان فرمائی ہیں۔ ساتھ ساتھ انسان سے یہ مطالبہ بھی کیا جا رہا ہے کہ وہ خدا کی نعمتوں کا بھی شکریہ ادا کرے۔ فرمایا۔ اے پیغمبر ﷺ آپ کہہ دیجئے اللہ کی ذات وہ ہے جس نے تم کو بنایا ہے۔ انشاء کا معنی ہے ایجاد کرنا بناکر کھڑا کردینا۔ یعنی وجود کی نعمت عطا فرمائی تمہارا وجود ذاتی نہیں ہے تم کو اللہ تعالیٰ نے بنایا ہے۔ تمہارا وجود اور جسم اللہ تعالیٰ نے قائم کیا ہے۔ اسی نے بنایا ہے۔ کان آنکھ اور دل : وجود کی نعمت کے ساتھ ساتھ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے کان ، آنکھ اور دل بنائے ان تین چیزوں کا ذکرا للہ تعالیٰ نے خاص طور پر کیا۔ انسان کے جسم میں یہ تینوں چیزیں بڑی نعمت ہیں اور اللہ تعالیٰ کے خاص احسانات میں سے ہیں۔ کہ وجود کے بعد انسان کو کان آنکھ اور دل عطا فرمائے۔ حواس خمسہ : حواس ِ حمسہ تو پانچ ہیں مگر اس مقام پر ان میں سے صرف دو کا ذکر کیا حواس خمسہ میں سننے دیکھنے ، سونگھنے ، چکھنے اور ٹٹولنے کی طاقت شامل ہے۔ چھونے کی طاقت اللہ تعالیٰ نے جسم کے سارے حصوں میں رکھی ہے۔ جسم کے جس حصے کے ساتھ چاہے ، انسان چھوکر ، ٹٹول کر معلوم کرسکتا ہے۔ اور سختی اور نرمی کا پتہ چلا سکتا ہے۔ چکھنے کی طاقت اللہ تعالیٰ نے صرف زبان میں رکھی ہے۔ کہ منہ اور زبان کے ذریعے انسان چکھ کر کسی چیز کا ذائقہ معلوم کرسکتا ہے کہ کڑوا ہے یا میٹھا ہے۔ اسی طرح ناک کے ذریعے سونگھ کر خوشبو یا بدبو والی چیز معلوم کرسکتا ہے یہ قوت اللہ تعالیٰ نے صرف ناک میں رکھی ہے۔ حصول علم کے ذرائع : تو حواس میں خمسہ میں نے مذکورہ تین چیزیں چھوڑ کر یہاں صرف کان اور آنکھ کا ذکر فرمایا کیونکہ یہ دونوں چیزیں حصول عمل کا ذریعہ ہیں ۔ حواس خمسہ میں سے یہ کان اور آنکھیں ہی ہیں یہ حصول عمل کا بڑا ہی ذریعہ ہیں۔ انسان کو جو معلومات حاصل ہوتی ہیں وہ کان اور آنکھوں کے ذریعہ سے حاصل ہوتی ہیں۔ قلب جسم کا مرکز ہے : باقی رہا دل تو اس میں اللہ تعالیٰ نے بڑے کمالات اور حکمتیں رکھی ہیں۔ یہ حصہ جسم انسانی کا مرکز ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قلب کی شراکت دماغ کے ساتھ جوڑی ہے۔ لیکن ہر حال قوت اور اخلاق کا مرکز قلب ہے۔ انسان جو بھی اعمال سر انجام دیتا ہے۔ اسی میں قلب کے عزائم ، ارادے اور نیت کار فرما ہوتی ہے۔ حضور ﷺ نے قلب کو تمام انسانی جسم کا مرکز قرار دیا ، فرمایا کہ انسان کے جسم میں گوشت کا ایک لوتھڑا ہے۔ جب وہ درست ہو تو سارا جسم درست ہوتا ہے۔ اگر و ہ بگڑا ہوا ہو تو سارا جسم بگڑا ہوا ہوتا ہے۔ وہ لوتھڑا قلب ہے اگر قلب کے اندر فساد ہو تو سارا جسم فاسد ہوگا جسم کا کوئی حصہ صحیح نہیں رہیگا اور اگر قلب کی حالت صحیح ہے تو سارا جسم درست ہوگا۔ تو اللہ تعالیٰ نے قلب کو مرکز قرار دیا ہے۔ انسان جو بھی اعمال کرتا ہے تمام قوتوں کا مرکز قلب ہے۔ تو یہ دو چیزیں یعنی کان اور آنکھ حصول علم کا ظاہر ی ذریعہ ہیں اور قلب بحیثیت مرکز کے ہے ایمان اور محبت بھی اس میں ہوتی ہے۔ اور کفر ، شرک اور نفاق بھی اسی میں ہوگا۔ اسی طرح نفرت اور عداوت بھی دل میں ہوگی۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ نے جہاں سزا کا ذکر فرمایا وہاں یہ فرمایا کہ جہنم کی آگ بڑی سخت ہوگی۔ یعنی سب سے پہلے وہ دلوں پر چڑھے گی۔ کیونکہ مرکز تو دل ہے اور اسی دل میں انسان نے کفر شرک نفا ق یا بڑے عقیدے کو جگہ دی ہوئی ہے۔ تو سب سے پہلے آگ کا اثر دل پر ہوگا۔ اس کے بعد جسم پر ہوگا۔ تو قلب مرکز اخلاق اور مرکز اعمال ہے۔ اور کان اور آنکھ حصول علم کے ذرائع ہیں۔ ان کے ذریعے جو چیز حاصل ہوتی ہے۔ وہ مرکز کے اندر پہنچتی ہے۔ مرکز اس کے مطابق سوچتا ہے۔ اور پھر اعمال اور اخلاق ظاہر ہوتے ہیں۔ کان اور آنکھ کی اہمیت : تو اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ کی نشانیاں بیان کرتے ہوئے فرمایا یعنی تم کو پیدا کیا تم کو جسم عطا کیا ، یہ خدا کا کتنا کرم اور احسان ہے اور پھر تم میں کان اور آنکھیں دیں سمع کو مقدم بیان فرمانے میں بھی مصلحت ہے ۔ کہ انسان آنکھ کی نسبت کان کے ذریعے زیادہ فائدہ اٹھاتا ہے۔ اکثر وبیشتر معلومات سماعت کے ذریعے ہوتی ہیں۔ اس کی زیادہ اہمیت کی بنا پر اسے پہلے بیان فرمایا۔ حواس ظاہر ہ کے اعتبار سے دوسری اہم ترین چیز انسان کے جسم میں آنکھیں ہیں ، ترمذی شریف کی حدیث میں حضور ﷺ کا فرمان ہے کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ یعنی جس آدمی کے جسم سے یہ دو چیزیں یعنی آنکھیں میں نے اٹھا لیں اور اس نے صبر کیا تو اس کو بہشت تک پہنچانے کے بغیر کسی چیز پر اکتفا نہیں کروں گا۔ میں ضرور اس کو جنت تک پہنچائوں گا۔ آنکھیں انسان کے جسم میں نہایت ہی عزت والی چیزیں ہیں۔ اور ہدایت کے سلسلہ میں اللہ تعالیٰ نے جہاں یہ بیان فرمایا کہ تم نے گمراہی کیوں اختیار کی ہے وہاں یہ بھی فرمایا کیا ہم نے تمہیں آنکھیں نہیں دی تھیں۔ اگر تمہارے پا س علم نہیں تھا۔ تو ہم نے تمہیں زبان اور ہونٹ عطا کئے تھے۔ تم کسی سے پوچھ لیتے جیسے عام قانون ہے۔ یعنی اگر نہیں جانتے تو خود مفتی ، قاضی بن کر مت بیٹھو علم والوں سے دریافت کرو ۔ وہ تم کو صبح چیز بتلائیں گے۔ صحیح چیز پر عمل پیرا ہو کر نجات حاصل ہوگی۔ تو وہاں بھی اللہ تعالیٰ نے آنکھوں کی نعمت کا ذکر فرمایا ہم نے تمہیں دیکھنے کے لیے آنکھیں نہیں دی تھیں کہ ان کے ذریعے نشیب و فراز کو دیکھ لو۔ اور اس سے بڑھ کر حصول علم کا ذریعہ کان ہیں۔ ان کے ذریعے انسان علم حاصل کرسکتا ہے۔ لہٰذا قلب تو مرکز ہے۔ اور کان اور آنکھ دو اہم چیزیں ہیں۔ باقی تین چیریں حصول علم کے اعتبار سے کمزور ہیں ، لہٰذا ان کا ذکر نہیں فرمایا اور اپنی جگہ وہ بھی خدا کی بڑی نعمتیں ہیں۔ جس کے جسم سے لمس کی حس ختم ہوجائے۔ اس کے لیے بڑی تکلیف کا باعث ہوگا۔ کیونکہ ا س سے ٹٹولنے کی طاقت ہی سب ہوگئی۔ خدا تعالیٰ بعض لوگوں کے اعصاب اس طرح خراب کردیتا ہے کہ ان کو ناک میں بدبو ہی آتی ہے۔ خوشبو نہیں آتی یہ بھی عذاب ہے۔ اسی طرح جس کے آواز کے اعصاب خراب ہوجائیں وہ بول نہیں سکتا۔ تو انسان میں کتنا نقص معلوم ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت بالغہ اور قدرت تامہ کے ساتھ کیسی کیسی نعمتیں عطا فرمائی ہیں۔ اور یہ بڑے بڑے انعامات ہیں۔ شکر گزاری اور ناشکری : ان انعامات کا ذکر فرمانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے ارشاد فرمایا ک کہ تم بہت ہی کم شکر یہ ادا کرتے ہو اللہ تعالیٰ نے یہ نعمتیں عطا کیں تاکہ تم اس شکر ادا کرو مگر ایسا کرنے والے بہت ہی تھوڑے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے انعامات کا شکریہ کس طرح ادا ہو ، اس سلسلہ میں امام رازی (رح) قاضی ثناء اللہ صاحب پانی پتی (رح) اور دوسرے مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمت کا شکریہ ادا کرنے کا طریقہ یہ ہے۔ کہ اس نعمت کو رضائے الہٰی میں صرف کرے اگر ایسا نہیں کرے گا تو ناشکری ہوگی۔ تو مطلب یہ ہے کہ اپنی آنکھ ، کان زبان اور جسم کو خدا تعالیٰ کی رضا کے کام میں لگا ئو ، ناراضگی کے کام میں مت لگائو۔ حکماء عام طور پر یہی تعریف کرتے ہیں۔ کہ نعمت کو اس کام میں لگائو جس مقصد کے لیے وہ دی گئی ہے۔ مگر آنکھ ، کان اور دل جیسی نعمت پر بہت تھوڑے لوگ شکر یہ ادا کرتے ہیں۔ اکثر و بیشتر ان نعمتوں کو خدا کی ناراضگی کے کام میں صرکرتے ہیں۔ اگر انسان کے کان فحش باتیں ، لغو گانے کفر کی باتیں اور بیہودہ باتیں سنیں گے تو اس سے بڑھ کر اور کیا ناشکری ہو سکتی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ آنکھ جیس نعمت کو ناجائز باتوں پر لگاے ہیں کسی اجنی عورت کی طرف نگاہ اٹھانے سے منع کیا گیا ہے۔ حضور ﷺ نے حضرت علی ؓ سے فرمایا کہ پہلی نگاہ اچانک ہوتی ہے۔ یہ معاف ہے دوسری نگاہ معاف نہیں ہے۔ دوسری نگال کا مطلب یہ ہے کہ تم عمداََ ایک غیر محرم عورت کو دیکھ رہے ہو جس کی اجازت نہیں۔ اسی لیے ارشاد خدا وندی ہے ۔ مومن مردوں کو حکم ہے کہ اپنی نگاہ پست رکھیں اور عورتوں کو بھی حکم ہے کہ وہ اپنی نگاہیں پست رکھیں۔ اگر آنکھ ان کاموں میں صرف ہوگی تو یہ ناشکر گزاری ہوگی۔ افسوس ہے آنکھ ناراضگی کے کاموں میں لگ رہی ہے۔ کان کے ذریعہ فحش گانے اور بیہودہ باتیں سنی جارہی ہیں۔ اللہ اور اللہ کے رسول کا کلام نصیحت کی بات اچھی بات کان میں نہیں آرہی ہے۔ تو یہ ناشکری ہی تو ہے۔ اسی لیے فرمایا کہ تم ان نعمتوں کو صحیح مصرف میں نہیں لاتے لہٰذا تم بہت کم ہی شکر یہ ادا کرتے ہو۔ زمین انسان کے لیے قرار گاہ ہے : اس کے بعد پیغمبر ﷺ کو خطاب ہے کہ آپ فرمایجئے خدا کی ذات وہ ہے جس نے تم کو زمین میں بکھیر دیا ۔ کہیں فرمایا اس سے معلو ہوا کہ انسان ہوا پر نہیں رہ سکتا۔ انسان جسم رکھتا ہے اس کو مکان کی ضرورت ہے جگہ کی ضروت ہے۔ یعنی قیامت تک تمہارے لیے زمین ہی ٹھکا نا اور قرار گاہ ہے۔ انسان ہوا پر زندگی بسر نہیں کرسکتا اگر وہاں جائے گا بھی تو عارضی طور پر۔ اصل قرار گاہ زمین ہی ہے۔ تو فرمایا کہ پیدا کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے تمہیں زمین پر بکھیر دیا۔ جس کا معنی یہ ہے کہ انسان کو جگہ کی ضرورت ہے۔ انسان کی بنیادی حقوق : ترمذی شریف کی روایت میں ہے کہ حضور ﷺ نے چار چیزوں کو خاص طور پر انسان کے بنیادی حقوق میں شمار فرمایا ہے۔ یعنی کھانے کے لیے خوراک کہ اس کے بغیر انسان زندہ نہیں رہ سکتا ۔ پینے کا پانی کہ یہ بھی انسان کے لیے ضروری ہے۔ جسم ڈھانپنے کے لیے لباس اور ٹھہرنے کے لیے جگہ۔ اس کے علاوہ دو چیزیں اور ہیں جو آج بھی دنیا میں بنیادی حقوق کے طور پر تسلیم کی جاتی ہیں ان میں سے ایک صحت ہے کہ یہ بھی ایک ضروری چیز ہے۔ تندرستی کے بغیر نہ عبادت ہو سکتی ہے ، نہ محنت مزدوری اور نہ ہی جہاد ہو سکتا ہے۔ دوسری چیز علم ہے یہ بھی بنیادی ضرورت ہے اس کے بغیر انسان نہ فرائض اد اکر سکتا ہے۔ اور نہ خالق اور مخلوق کے حقوق اداکر سکتا ہے۔ تو گویا یہ چھ چیزیں ہیں۔ جنہیں آج بھی دنیا کی متمدن قومیں انسان کے بنیادی حقوق میں شمار کرتی ہیں۔ یو نسکو اور دیگر عالمی ادارے سب ان کو تسلیم کرتے ہیں۔ یہ بنیادی حقوق تو قرآن نے بتائے ہیں حضور ﷺ نے فرمایا کہ یہ بنیادی چیزیں ہر آدمی کو اپنے اپنے درجے میں ضرور ملنی چاہئیں۔ سر چھپانے اور گرمی سردی سے بچنے کے لیے اگر عالیشان بلڈنگ نہ بھی ہو تو چھوٹا موٹا مکان تو ضرور ہونا چاہیے۔ بالکل کھلی جگہ تو نہیں ہونی چاہیے اسی طرح خوراک کیسی بھی ہو مگر میسر تو ہو۔ اسی طرح کپڑا بھی ایسا تو ہونا چاہیے۔ جو جسم کو ڈھانپ لے اور گرمی سردی سے بجائے۔ دینی تعلیم کی اہمیت : انسان کے لیے تعلیم بھی ضروری ہے۔ خصوصاََ ایسی تعلیم جس کے بغیرا نسان فرائض ادا نہیں کرسکتا۔ آج کل تعلیم عام ہے مگر بہت قلیل حد تک ہمارے ملک میں چونکہ تعلیم لازمی نہیں ہے ۔ اس لیے تعلیم یافتہ افراد کی تعداد بیس پچیس فیصد سے زیادہ نہیں۔ ستر پچھتر فیصد لوگ آج بھی بغیر تعلیم کے ہیں۔ اور یہ جو پچیس فیصد تعلیم ہے بھی ، یہ بھی دنیاوی تعلیم ہے۔ بس لکھنا پڑھنا اور حساب کتاب دینی تعلیم تو ایک فیصدی بھی بمشکل ہوگی ۔ جس کے ذریعے انسان فرائض ادا کرسکتا ہے۔ انسانی دماغ کی صحیح ضرورت دینی تعلیم ہے لہذا یہ مقدم ہونی چاہیے۔ ڈاکٹر اقبال مرحوم نے تعلیم پر تبصرہ کیا ہے۔ کہتے ہیں کہ ہماری عورتوں کو پہلے دینی تعلیم دلانی چاہیے۔ اس کے بعد ایسی تعلیم جو ان کو امور خانہ داری میں مفید ہو۔ اس کے بعد تاریخ ، جغرافیہ اور سائنس وغیرہ کی تعلیم دلا ئو۔ الغرض دینی تعلیم کے فقدان کی وجہ سے اصل بنیاد تو موجود نہیں۔ لہذا لوگوں کو اصل فرائض کا علم نہیں۔ اس لیے دینی تعلیم کو اولیت حاصل ہونی چاہیے تاکہ انسان اپنے اصل فرائض کو سمجھ کرا ن پر عمل پیرا ہو سکے۔ خلاصہ کلام : تو بہر حال رشاد فرمایا خدا کی ذات وہ ہے جس نے تم کو زمین میں بکھیر دیا۔ اور یہ انسان کے لوازمات ہیں۔ جیسا ابتداء میں فرمایا۔ یعنی خدا تعالیٰ کی ذات وہ ہے جس نے موت وحیات کو پیدا کیا تاکہ تمہیں آزمائے کہ تم میں اچھا عمل کون کرتا ہے۔ یعنی موت وحیات کو انسان کے امتحان کے لیے پیدا فرمایا۔ یہاں فرمایا دیکھو ! انسان کو اللہ نے پیدا کیا علم کے ذرائع عطا کئے ، کان آنکھیں اور قلب دیا۔ اور پھر زمین میں بکھیر دیا۔ انسان کو ٹھکانا مہیا کیا۔ خدا کے حضور پیش ہونا پڑے گا : ان تمام انعامات کا ذکر کرنے کے بعد فرمایا کہ اے انسان اس بات کو مت بھولنا کہ تمہیں خدا کے سامنے پیش ہونا ہے۔ معاد بر حق ہے ، قیامت برحق ہے۔ ایک نہ ایک دن خدا کے حضور پیش ہو کر اپنے اعمال کا جائزہ پیش کرنا ہے۔ اللہ تعالیٰ تو جانتا ہے کہ اچھا کام کون کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تنبیہ فرمائی کہ میں نے یہ سب ذرائع تم کو دیے ہیں کہیں ان میں منہک ہو کر معادکو ہی نہ بھول بیٹھنا بلکہ تم سب اسکی طرف اکٹھے کئے جائو گے۔ ایک نہ ایک دن امتحان ہو کر رہے گا ۔ اور جزائے عمل ضرور واقع ہوگی۔
Top