Home
Quran
Recite by Surah
Recite by Ruku
Translation
Maududi - Urdu
Jalandhary - Urdu
Junagarhi - Urdu
Taqi Usmani - Urdu
Saheeh Int - English
Maududi - English
Tafseer
Tafseer Ibn-e-Kaseer
Tafheem-ul-Quran
Maarif-ul-Quran
Tafseer-e-Usmani
Aasan Quran
Ahsan-ul-Bayan
Tibyan-ul-Quran
Tafseer-Ibne-Abbas
Tadabbur-e-Quran
Show All Tafaseer
Word by Word
Nazar Ahmed - Surah
Nazar Ahmed - Ayah
Farhat Hashmi - Surah
Farhat Hashmi - Ayah
Word by Word English
Hadith
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Sunan Abu Dawood
Sunan An-Nasai
Sunan At-Tirmadhi
Sunan Ibne-Majah
Mishkaat Shareef
Mauwatta Imam Malik
Musnad Imam Ahmad
Maarif-ul-Hadith
Riyad us Saaliheen
Android Apps
IslamOne
QuranOne
Tafseer Ibne-Kaseer
Maariful Quran
Tafheem-ul-Quran
Quran Urdu Translations
Quran Word by Word
Sahih Bukhari
Sahih Muslim
Mishkaat Shareef
More Apps...
More
Seerat-un-Nabi ﷺ
Fiqhi Masail
Masnoon Azkaar
Change Font Size
About Us
View Ayah In
Navigate
Surah
1 Al-Faatiha
2 Al-Baqara
3 Aal-i-Imraan
4 An-Nisaa
5 Al-Maaida
6 Al-An'aam
7 Al-A'raaf
8 Al-Anfaal
9 At-Tawba
10 Yunus
11 Hud
12 Yusuf
13 Ar-Ra'd
14 Ibrahim
15 Al-Hijr
16 An-Nahl
17 Al-Israa
18 Al-Kahf
19 Maryam
20 Taa-Haa
21 Al-Anbiyaa
22 Al-Hajj
23 Al-Muminoon
24 An-Noor
25 Al-Furqaan
26 Ash-Shu'araa
27 An-Naml
28 Al-Qasas
29 Al-Ankaboot
30 Ar-Room
31 Luqman
32 As-Sajda
33 Al-Ahzaab
34 Saba
35 Faatir
36 Yaseen
37 As-Saaffaat
38 Saad
39 Az-Zumar
40 Al-Ghaafir
41 Fussilat
42 Ash-Shura
43 Az-Zukhruf
44 Ad-Dukhaan
45 Al-Jaathiya
46 Al-Ahqaf
47 Muhammad
48 Al-Fath
49 Al-Hujuraat
50 Qaaf
51 Adh-Dhaariyat
52 At-Tur
53 An-Najm
54 Al-Qamar
55 Ar-Rahmaan
56 Al-Waaqia
57 Al-Hadid
58 Al-Mujaadila
59 Al-Hashr
60 Al-Mumtahana
61 As-Saff
62 Al-Jumu'a
63 Al-Munaafiqoon
64 At-Taghaabun
65 At-Talaaq
66 At-Tahrim
67 Al-Mulk
68 Al-Qalam
69 Al-Haaqqa
70 Al-Ma'aarij
71 Nooh
72 Al-Jinn
73 Al-Muzzammil
74 Al-Muddaththir
75 Al-Qiyaama
76 Al-Insaan
77 Al-Mursalaat
78 An-Naba
79 An-Naazi'aat
80 Abasa
81 At-Takwir
82 Al-Infitaar
83 Al-Mutaffifin
84 Al-Inshiqaaq
85 Al-Burooj
86 At-Taariq
87 Al-A'laa
88 Al-Ghaashiya
89 Al-Fajr
90 Al-Balad
91 Ash-Shams
92 Al-Lail
93 Ad-Dhuhaa
94 Ash-Sharh
95 At-Tin
96 Al-Alaq
97 Al-Qadr
98 Al-Bayyina
99 Az-Zalzala
100 Al-Aadiyaat
101 Al-Qaari'a
102 At-Takaathur
103 Al-Asr
104 Al-Humaza
105 Al-Fil
106 Quraish
107 Al-Maa'un
108 Al-Kawthar
109 Al-Kaafiroon
110 An-Nasr
111 Al-Masad
112 Al-Ikhlaas
113 Al-Falaq
114 An-Naas
Ayah
1
2
3
4
5
6
7
8
9
10
11
12
13
14
15
16
17
18
19
20
21
22
23
24
25
26
27
28
29
30
Get Android App
Tafaseer Collection
تفسیر ابنِ کثیر
اردو ترجمہ: مولانا محمد جوناگڑہی
تفہیم القرآن
سید ابو الاعلیٰ مودودی
معارف القرآن
مفتی محمد شفیع
تدبرِ قرآن
مولانا امین احسن اصلاحی
احسن البیان
مولانا صلاح الدین یوسف
آسان قرآن
مفتی محمد تقی عثمانی
فی ظلال القرآن
سید قطب
تفسیرِ عثمانی
مولانا شبیر احمد عثمانی
تفسیر بیان القرآن
ڈاکٹر اسرار احمد
تیسیر القرآن
مولانا عبد الرحمٰن کیلانی
تفسیرِ ماجدی
مولانا عبد الماجد دریابادی
تفسیرِ جلالین
امام جلال الدین السیوطی
تفسیرِ مظہری
قاضی ثنا اللہ پانی پتی
تفسیر ابن عباس
اردو ترجمہ: حافظ محمد سعید احمد عاطف
تفسیر القرآن الکریم
مولانا عبد السلام بھٹوی
تفسیر تبیان القرآن
مولانا غلام رسول سعیدی
تفسیر القرطبی
ابو عبدالله القرطبي
تفسیر درِ منثور
امام جلال الدین السیوطی
تفسیر مطالعہ قرآن
پروفیسر حافظ احمد یار
تفسیر انوار البیان
مولانا عاشق الٰہی مدنی
معارف القرآن
مولانا محمد ادریس کاندھلوی
جواھر القرآن
مولانا غلام اللہ خان
معالم العرفان
مولانا عبدالحمید سواتی
مفردات القرآن
اردو ترجمہ: مولانا عبدہ فیروزپوری
تفسیرِ حقانی
مولانا محمد عبدالحق حقانی
روح القرآن
ڈاکٹر محمد اسلم صدیقی
فہم القرآن
میاں محمد جمیل
مدارک التنزیل
اردو ترجمہ: فتح محمد جالندھری
تفسیرِ بغوی
حسین بن مسعود البغوی
احسن التفاسیر
حافظ محمد سید احمد حسن
تفسیرِ سعدی
عبدالرحمٰن ابن ناصر السعدی
احکام القرآن
امام ابوبکر الجصاص
تفسیرِ مدنی
مولانا اسحاق مدنی
مفہوم القرآن
محترمہ رفعت اعجاز
اسرار التنزیل
مولانا محمد اکرم اعوان
اشرف الحواشی
شیخ محمد عبدالفلاح
انوار البیان
محمد علی پی سی ایس
بصیرتِ قرآن
مولانا محمد آصف قاسمی
مظہر القرآن
شاہ محمد مظہر اللہ دہلوی
تفسیر الکتاب
ڈاکٹر محمد عثمان
سراج البیان
علامہ محمد حنیف ندوی
کشف الرحمٰن
مولانا احمد سعید دہلوی
بیان القرآن
مولانا اشرف علی تھانوی
عروۃ الوثقٰی
علامہ عبدالکریم اسری
معارف القرآن انگلش
مفتی محمد شفیع
تفہیم القرآن انگلش
سید ابو الاعلیٰ مودودی
Mualim-ul-Irfan - Al-Mulk : 6
وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ
وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا
: اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا
بِرَبِّهِمْ
: اپنے رب کے ساتھ
عَذَابُ
: عذاب ہے
جَهَنَّمَ
: جہنم کا
وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ
: اور کتنا برا ہے ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ
اور جو لوگ اپنے رب کے منکر ہوئے ان کے لیے جہنم کا عذات ہے اور بہت بُرا ٹھکا نا ہے۔
گذشتہ سے پیوستہ : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت کا ذکر ہوا ہے۔ کہ تمام برکات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ قادر مطلق بھی وہی ہے۔ جس نے موت وحیات کو انسانوں کی آزمائش کے لیے پیدا کیا تاکہ اس بات کو ظاہر کردے ا کہ اچھا عمل کون کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ عزیز اور غفور ہے ۔ اس نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا۔ اس کی پیدا کی ہوئی چیز میں تم کسی قسم کا نقص نہیں دیکھو گے ، تم بار بار اپنی نگا اٹھا کر دیکھو۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں کوئی دراڑ ، شگاف یا نقص نظر نہیں آئیگا۔ نگا ہ تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی۔ دیکھو آسمان دنیا کو ہم نے زینت بخشی ہے ستاروں کے چراغوں کے ساتھ اور ان ستاروں سے دوسرا کام یہ لیا جاتا ہے کہ یہ شیاطین کو مارنے کا ذریعہ ہیں۔ جو شیطان ملاء اعلیٰ یا ملائکہ کی گفتگو سننے کے لیے اوپر جاتے ہیں۔ ان کو آگے سے شہاب مارتے ہیں ۔ شیاطین دوزخ کی سزا کے مستحق ہیں ۔ یہ اغوا اور اضلال کرتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور برے راستے پر ڈالتے ہیں ۔ ا س لیے وہ جہنم کے سزاوار ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے عذاب سعیر یعنی بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب بھی تیار کر رکھا ہے۔ شیاطین اور کفار جہنم کے سز اور ہیں : جولوگ شیاطین کے اغوا اور وسوسوں میں آئین گے ان کی باتوں پر عمل کریں گے ، ان کا اثر قبول کریں گے ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے نازل کردہ احکام اور شرائع کا انکار کریں گے ، وہ بھی جہنم کے سزاوار بنیں گے۔ شیٰطین تو ظاہر ہے۔ کہ اپنے اغواء اور گمراہ کرنے کے فعل کی وجہ سے دوزخ کے سزاوار ہیں ، مگر جو لوگ کفر کا راستہ اختیار کریں گے اور شیطانوں کے اغواء میں آئیں گے توا ن کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یعنی جو لوگ اپنے رب کے منکر ہوئے یعنی خدا کی توحید یا صفت یا اس کے احکام یا شرائع یا اس کے فرشتے یا رسول کسی کا بھی انکار کریں گے وہ درحقیقت خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا انکار کریں گے۔ اور ربوبیت کا انکار الوہیت کا انکار ہے۔ یہ ساری چیزیں آپس میں مربوط ہیں۔ تو فرمایا جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ اور بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ یعنی جس جگہ یہ گمراہ کرنے والے شیطان جائیں گے اسی جگہ ان کا اثر قبول کرنے والے لوگ بھی جائیں گے۔ اور یہ بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ اس کی تھوڑی سی کیفیت اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ جب ان لوگوں کو اس دوزخ کے اندر ڈالا جائے گا۔ تو اس کی خوفناک آوازسنیں گے شیق گدھے کی آواز کو بھی کہتے ہیں۔ وہ ابتدائی حصے میں زور کی آواز نکالتا ہے۔ تو اس سے مراد ہے جوش کی آواز۔ اور وہ اچھل رہی ہوگی۔ تفور کا معنی جوش مارنا ہے۔ ابلنا ہے۔ اس میں انتہا کا جوش ہوگا۔ قریب ہے کہ غصے کی وجہ سے پھٹ پڑے۔ دوزخ کا یہ حال ہوگا۔ اس کی آواز نہایت کریہہ اور خوفناک ہوگی۔ دوزخ والوں سے سوال و جواب : جب کوئی گروہ دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ تو وہاں پر مقرر داروغے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہاں انتظام و انصرام کرتے ہیں وہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا ، تبنیہ کرنے والا ، سمجھانے والا نہیں آیا تھا۔ جو تمہیں بتاتا۔ کہ جس کفروشرک کے راستے پر تم چل رہے ہو ، اس کا نتیجہ خراب ہوگا ، خطرناک ہوگا ، اس راستے پر مت چلو۔ نذیر کا معنی ڈرانے والا۔ سمجھانے والا ، تنبیہ کرنے والا ہے۔ وہ جواب دیں گے کیوں نہیں۔ تحقیق ہمارے پاس ڈرسنانے والے آئے مگر ہم نے ان کو جھٹلا دیا۔ ان کی بات نہیں مانی ، اور انہیں کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو کہ دوزخ ہوگا۔ سزا میں مبتلا ہوں گے اور پکڑ ہوگی۔ ہم نے ان کی تکذیب کردی اور ہم نے کہہ دیا یعنی اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے نہ کوئی وحی نازل کی ہے نہ کتاب نازل کی ہے اے ڈرانے والو ! تم جھوٹ کہتے ہو۔ جیسے عام طور پر مشرک کہتے تھے۔ خدا پر جھوٹ بولتا ہے۔ کہاں خدا نے وحی نازل کی ہے ، یہ اپنے پاس نے بنا کر لاتا ہے۔ محض چوہدری بننے کے لیے بڑا بننے کے لیے خدا پر افترا کرتا ہے۔ تو وہاں کہیں گے کہ ہم نے تو کہا تھا خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی سب کا انکار کیا اور ہم نے نذیروں کو جھٹلا دیا اور یوں کہا اسکا تعلق ان کافروں سے بھی ہو سکتا ہے اور الگ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر پہلے کلام کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ معنی ہوگا کہ دوزخ میں جانیوالے لوگ اقرار کرینگے کہ ہمارے پاس ڈرانیوالے آئے ہم نے ان کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم جھوٹ کہتے ہو۔ یعنی تم بڑی گمراہی میں پڑے ہو ، جو لوگوں کو پھنسانے اور اپنے ساتھ ملانے کے لیے ایسی باتیں کرتے ہو۔ تو گویا انہوں نے نبیوں کو ڈرانے والوں کو کہا کہ تم گمراہی میں پڑے ہوئے ہو ، جو لوگوں کو کہتے ہو کہ ہم پر وحی آتی ہے۔ خدا نے حکم نازل کیا ہے۔ یا کتاب نازل کی ہے خواہ مخواہ لوگوں کے ساتھ ملانے کے لیے ایسی باتیں کرتے ہو۔ تو یہ اللہ کے ساتھ مربوط ہے۔ اور بعض فسرین کہتے ہیں کہ پر مشرکین کی بات ختم ہوگئی۔ کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ آگے اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ۔ نہیں ہو تم مگر کھلی گمراہی میں جو ایسی باتیں کرتے ہو۔ یہ فرشتوں کا کلام بھی ہو سکتا ہے۔ جو بازپرس کر رہے ہوں گے۔ وہی کہیں گے تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے ، تمہارے پاس خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈرانے والے بھی آئے۔ شریعت بھی آئی ، دین بھی آیا۔ وحی الہیٰ بھی آئی۔ مگر تم نے کسی چیز کو نہیں مانا۔ لہٰذا تم ہی کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ تو کفر کرنے والے افسوس ، حسرت اور ندامت کا اظہار کریں گے۔ کاش ہم نہ ہوتے ، افسوس نہ ہم نے سنا ، عقل سے سوچا دوسری جگہ ہے۔ افسوس کہ ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ ثابت ہوئے۔ رسول آئے ، ڈرانے والے آئے۔ سمجھانے والے آئے مگر افسوس کہ ہماری بدبختی غالب آئی یہاں اس مقام پر ہے کہ کاش ہم نصیحت کرنے والوں کی بات سنتے نجات کے دو ذرائع : انسان کی فلاح کے لیے دو چیزیں ہیں۔ یا تو خیر خواہ کی بات سن کر اس پر عمل پیرا ہوجائے ، تو اس کی نجات ہے۔ یا عقل سے خود غور و فکر کرے ، یہ وہی چیزیں ہیں ، تیسرا کوئی راستہ نہیں ، جیسا کہ دوسری جگہ موجود ہے کہ یہ کافر بہرے اندھے اور گونگے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل جیسا کمال درجے کا جوہر عطا کیا ہے۔ مگر یہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سورة اٰل عمران میں الفرقان کا جو لفظ آیا ہے اس سے مراد جوہر عقل ہے۔ قرآن کا الگ ذکر ہے۔ تورات اور انجیل کا الگ اور فرقان کا الگ ایک درجے تک یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ اچھائی اور برائی میں امتیاز صرف عقل سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ بے عقل کا نہیں : حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا تو فرمایا آگے آئو وہ آگے آئی۔ فرمایا پیچھے ہٹ جائو وہ پیچھے ہٹ گئی۔ پھر ارشاد فرمایا یعنی تیر ی وجہ سے میں دوں گا اور تیری وجہ سے روکوں گا۔ تمہارے استعمال پر ہی سارا دارومدار ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل نہیں دی اس کو مکلف بھی نہیں بنایا۔ تمام پاگل لوگ غیر مکلف ہیں۔ بہائم بےعقل ہیں ، اس لیے غیر مکلف ہیں۔ بچے بھی جب تک ان میں عقل نہیں آتی مکلف نہیں ہوتے تو گو اللہ تعالیٰ نے نجات کا مدار دوہی چیزوں پر رکھا ہے یعنی خیر خواہ کی بات کو سن کر اس پر عمل کرنا یا خود اپنی عقل سے کام لے کر اچھائی اور برائی میں تمیز پیدا کرنا۔ اجہتاد اور تقلید : بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ایک اجہتاد ہے اور ایک تقلید ۔ تقلید اسی کو کہتے ہیں ، کہ کسی اچھے شخص سے بات سن کر اس کو مان لیا جائے۔ تقلید سے لوگ بد کتے ہیں ، اس کو معنی پہناتے ہیں۔ یہاں جاہلوں کی تقلید مرا د نہیں ہے۔ اس کی تو اللہ تعالیٰ نے مذمت کی ہے۔ مشرک اور کافر اپنے ابائو اجداد کی تقلید کرتے تھے۔ غلط اور شرکیہ رسوم میں اپنے بڑوں کی تقلید کرتے تھے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے بےعقلی کی بات فرمائی۔ ہاں اگر کوئی اچھی بات سن کر اس پر عمل کرتا ہے۔ تو یہ تقلید ہی ہے۔ اس پر بھی نجات ہے۔ یا انسان خود بحیثیت مجتہد عقل کو ٹھیک ٹھیک استعمال کرے۔ غور کرے اور پھر نتیجے ۔ یہ دونوں باتیں ہیں۔ کافر لوگ افسوس کا اظہار کریں گے اور کہیں گے ہم نے دونوں باتیں ہی نہیں کیں۔ خیرخواہ کی بات سن کر بھی عمل نہیں کیا۔ اور عقل کو بھی ٹھیک ٹھیک استعمال نہیں کیا۔ غلط ہی استعمال کیا۔ اگر ہم دونوں میں سے ایک بات پر بھی عمل کرتے تو دوزخ والوں میں نہ ہوتے۔ کفار کا اعتراف معصیت : اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے حکم ہوگا پس جہنم والوں کے لیے دوری ہے۔ دفع ہو جائو ، دور ہو جائو ، سُحق کا معنی دوری اور بعد ہوتا ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ دوزخ میں صحرا کا نام بھی ہے جیسے ویل جہنم میں ایک وادی کا نام ہے صعود ایک پہاڑ کا نام ہے جس پر کافروں کو چڑھایا جائے گا۔ اور نیچے اتارا جائے گا۔ ایسا ہی سحق بیابان ہے اسمیں کافروں کو دوڑایاجائے گا۔ بعض فرماتے ہیں سحق کا معنی ہے دوری ہے جیسے تو گویا جہنم والوں کے لیے دوری ہے خدا کی رحمت اور مہربانی سے۔ اب اس جہنم میں جلتے رہو۔ ایمان بالغیب والوں کے لیے انعام : یہ تو تھا کافروں کا حال اور ان کا انجام۔ اب ترہیب کے ساتھ ترغیب بھی ہے۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں بن دیکھے ہوئے۔ یہ ہے ایمان بالغیب ۔ بالغیب کے معنی ہے بغیر دیکھے ہوئے۔ نہ دوزخ دیکھا ہے ، نہ جنت ، نہ اس کی وحی اترتے دیکھی ہے۔ نہ خدا کی ذات۔ تو جنت بھی برحق ہے۔ دوزخ بھی برحق ہے احساب بھی برحق ہے۔ یہ ساری چیزیں برحق ہیں۔ باطل کوئی نہیں ، کفر کا بُرا انجام سامنے آئے گا۔ اور ایمان کا اچھا انجام بھی سامنے ہوگا۔ ان تمام چیزوں پر بن دیکھے ایمان لانا ایمان بالغیب ہے۔ سورة بقرہ کی ابتدا میں اور اخیر میں اس وحی پر جو خدا نے اتاری ہے اس پر رسول بھی ایمان رکھتا ہے اور مومن بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اور اس کتاب پر خد ا کے رسولوں پر ، بعث بعدالموت پر ، تقدیر پر ، ملائکہ پر تمام نبیوں پر ، اور جو آگے حالات پیش آنے ہیں ، ان سب پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ ایمان بالغیب ہے۔ خوف خدا دار حکومت ہے : تو جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اس کی صفات پر بن دیکھے ایمان لاتے ہیں۔ اس سے لرزتے ہیں ان پر خوف طاری رہتا ہے ، ایسے لوگوں کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ یعنی حکمت کی جڑ اور بنیادہی اللہ کا خوف ہے۔ اللہ کا خوف مشاہدے سے نہیں آیا بلکہ رسولوں کے بتلانے اور کتاب کو پڑھنے سے یقین آیا ہے۔ تو بڑا حکیم وہی ہوگا جس میں خوف خدا زیادہ ہوگا۔ فرمایا جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور مغفرت ہے انکی خطائیں اور گناہ ڈھانپ دیے جائیں گے اور ان کے لیے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے کہ وہ ایمان لائے بن دیکھے خدا سے ڈرتے ہیں اطاعت کرے ہیں کفر و شرک سے بیزار ہے۔ ان کے لیے اللہ نے بہت بڑا ثواب تیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے : آگے فرمایا تم اپنی بات کو چھپائو یا ظاہر کرو۔ آہستہ کہو یا بلند کہو ، ہر حالت میں خدا سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے کفر ، شرک ، نفاق کی بات کو پوشیدہ رکھو گے یا ظاہر کرو گے۔ برائی ادنیٰ سے ادنیٰ یا بڑی سے بڑی ، چھپائو یا ظاہر کرو ، ہر حالت میں خدا تو سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ لطیف وخبیر ہے : فرمایا کیوں نہیں جانے گا۔ کیا وہ نہیں جانے گا جس نے خود پیدا کیا وہ نہیں جانے گا تو اور کون جانے گا اور وہ تو خالق ہے اور خالق ہونے کے علاوہ اسکی صفات لطیف وخبیر بھی ہیں ۔ لطیف یعنی بہت باریک بین لطیف کا معنی مہربان بھی ہوتا ہے۔ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ بڑی مہربانی کرتا ہے۔ اور یعنی ہر ایک کی حالت سے واقف اور ہر ایک کی خبر رکھنے والا ہے۔ الہٰذا کوئی بھی چیز خواہ نیکی کی ہو یا برائی کی ، تم اسے چھپائو یا ظاہر کرو ہر حالت میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ اور اسی کے مطابق آگے چل کر انسان کو اس کا بھگتان کرنا پڑے گا۔
Top