Mualim-ul-Irfan - Al-Mulk : 6
وَ لِلَّذِیْنَ كَفَرُوْا بِرَبِّهِمْ عَذَابُ جَهَنَّمَ١ؕ وَ بِئْسَ الْمَصِیْرُ
وَلِلَّذِيْنَ كَفَرُوْا : اور ان لوگوں کے لیے جنہوں نے کفر کیا بِرَبِّهِمْ : اپنے رب کے ساتھ عَذَابُ : عذاب ہے جَهَنَّمَ : جہنم کا وَبِئْسَ الْمَصِيْرُ : اور کتنا برا ہے ٹھکانہ۔ لوٹنے کی جگہ
اور جو لوگ اپنے رب کے منکر ہوئے ان کے لیے جہنم کا عذات ہے اور بہت بُرا ٹھکا نا ہے۔
گذشتہ سے پیوستہ : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ کی بادشاہی اور حکومت کا ذکر ہوا ہے۔ کہ تمام برکات اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔ قادر مطلق بھی وہی ہے۔ جس نے موت وحیات کو انسانوں کی آزمائش کے لیے پیدا کیا تاکہ اس بات کو ظاہر کردے ا کہ اچھا عمل کون کرتا ہے۔ خدا تعالیٰ عزیز اور غفور ہے ۔ اس نے سات آسمانوں کو تہ بر تہ پیدا کیا۔ اس کی پیدا کی ہوئی چیز میں تم کسی قسم کا نقص نہیں دیکھو گے ، تم بار بار اپنی نگا اٹھا کر دیکھو۔ اللہ تعالیٰ کی پیدا کی ہوئی مخلوق میں کوئی دراڑ ، شگاف یا نقص نظر نہیں آئیگا۔ نگا ہ تھکی ہوئی واپس لوٹ آئے گی۔ دیکھو آسمان دنیا کو ہم نے زینت بخشی ہے ستاروں کے چراغوں کے ساتھ اور ان ستاروں سے دوسرا کام یہ لیا جاتا ہے کہ یہ شیاطین کو مارنے کا ذریعہ ہیں۔ جو شیطان ملاء اعلیٰ یا ملائکہ کی گفتگو سننے کے لیے اوپر جاتے ہیں۔ ان کو آگے سے شہاب مارتے ہیں ۔ شیاطین دوزخ کی سزا کے مستحق ہیں ۔ یہ اغوا اور اضلال کرتے ہیں۔ لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں اور برے راستے پر ڈالتے ہیں ۔ ا س لیے وہ جہنم کے سزاوار ہیں۔ اللہ نے ان کے لیے عذاب سعیر یعنی بھڑکتی ہوئی آگ کا عذاب بھی تیار کر رکھا ہے۔ شیاطین اور کفار جہنم کے سز اور ہیں : جولوگ شیاطین کے اغوا اور وسوسوں میں آئین گے ان کی باتوں پر عمل کریں گے ، ان کا اثر قبول کریں گے ، اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کے نازل کردہ احکام اور شرائع کا انکار کریں گے ، وہ بھی جہنم کے سزاوار بنیں گے۔ شیٰطین تو ظاہر ہے۔ کہ اپنے اغواء اور گمراہ کرنے کے فعل کی وجہ سے دوزخ کے سزاوار ہیں ، مگر جو لوگ کفر کا راستہ اختیار کریں گے اور شیطانوں کے اغواء میں آئیں گے توا ن کے لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ یعنی جو لوگ اپنے رب کے منکر ہوئے یعنی خدا کی توحید یا صفت یا اس کے احکام یا شرائع یا اس کے فرشتے یا رسول کسی کا بھی انکار کریں گے وہ درحقیقت خدا تعالیٰ کی ربوبیت کا انکار کریں گے۔ اور ربوبیت کا انکار الوہیت کا انکار ہے۔ یہ ساری چیزیں آپس میں مربوط ہیں۔ تو فرمایا جنہوں نے اپنے رب کے ساتھ کفر کیا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے۔ اور بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ یعنی جس جگہ یہ گمراہ کرنے والے شیطان جائیں گے اسی جگہ ان کا اثر قبول کرنے والے لوگ بھی جائیں گے۔ اور یہ بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ اس کی تھوڑی سی کیفیت اللہ تعالیٰ نے بیان فرمائی ہے۔ جب ان لوگوں کو اس دوزخ کے اندر ڈالا جائے گا۔ تو اس کی خوفناک آوازسنیں گے شیق گدھے کی آواز کو بھی کہتے ہیں۔ وہ ابتدائی حصے میں زور کی آواز نکالتا ہے۔ تو اس سے مراد ہے جوش کی آواز۔ اور وہ اچھل رہی ہوگی۔ تفور کا معنی جوش مارنا ہے۔ ابلنا ہے۔ اس میں انتہا کا جوش ہوگا۔ قریب ہے کہ غصے کی وجہ سے پھٹ پڑے۔ دوزخ کا یہ حال ہوگا۔ اس کی آواز نہایت کریہہ اور خوفناک ہوگی۔ دوزخ والوں سے سوال و جواب : جب کوئی گروہ دوزخ میں ڈالا جائے گا۔ تو وہاں پر مقرر داروغے جو اللہ تعالیٰ کے حکم سے وہاں انتظام و انصرام کرتے ہیں وہ پوچھیں گے کیا تمہارے پاس کوئی ڈرانے والا ، تبنیہ کرنے والا ، سمجھانے والا نہیں آیا تھا۔ جو تمہیں بتاتا۔ کہ جس کفروشرک کے راستے پر تم چل رہے ہو ، اس کا نتیجہ خراب ہوگا ، خطرناک ہوگا ، اس راستے پر مت چلو۔ نذیر کا معنی ڈرانے والا۔ سمجھانے والا ، تنبیہ کرنے والا ہے۔ وہ جواب دیں گے کیوں نہیں۔ تحقیق ہمارے پاس ڈرسنانے والے آئے مگر ہم نے ان کو جھٹلا دیا۔ ان کی بات نہیں مانی ، اور انہیں کہا کہ تم جھوٹ کہتے ہو کہ دوزخ ہوگا۔ سزا میں مبتلا ہوں گے اور پکڑ ہوگی۔ ہم نے ان کی تکذیب کردی اور ہم نے کہہ دیا یعنی اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ اللہ تعالیٰ نے نہ کوئی وحی نازل کی ہے نہ کتاب نازل کی ہے اے ڈرانے والو ! تم جھوٹ کہتے ہو۔ جیسے عام طور پر مشرک کہتے تھے۔ خدا پر جھوٹ بولتا ہے۔ کہاں خدا نے وحی نازل کی ہے ، یہ اپنے پاس نے بنا کر لاتا ہے۔ محض چوہدری بننے کے لیے بڑا بننے کے لیے خدا پر افترا کرتا ہے۔ تو وہاں کہیں گے کہ ہم نے تو کہا تھا خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی سب کا انکار کیا اور ہم نے نذیروں کو جھٹلا دیا اور یوں کہا اسکا تعلق ان کافروں سے بھی ہو سکتا ہے اور الگ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر پہلے کلام کے ساتھ جوڑا جائے تو یہ معنی ہوگا کہ دوزخ میں جانیوالے لوگ اقرار کرینگے کہ ہمارے پاس ڈرانیوالے آئے ہم نے ان کو جھٹلا دیا اور کہا کہ خدا نے کوئی چیز نازل نہیں کی تم جھوٹ کہتے ہو۔ یعنی تم بڑی گمراہی میں پڑے ہو ، جو لوگوں کو پھنسانے اور اپنے ساتھ ملانے کے لیے ایسی باتیں کرتے ہو۔ تو گویا انہوں نے نبیوں کو ڈرانے والوں کو کہا کہ تم گمراہی میں پڑے ہوئے ہو ، جو لوگوں کو کہتے ہو کہ ہم پر وحی آتی ہے۔ خدا نے حکم نازل کیا ہے۔ یا کتاب نازل کی ہے خواہ مخواہ لوگوں کے ساتھ ملانے کے لیے ایسی باتیں کرتے ہو۔ تو یہ اللہ کے ساتھ مربوط ہے۔ اور بعض فسرین کہتے ہیں کہ پر مشرکین کی بات ختم ہوگئی۔ کہ اللہ تعالیٰ نے کوئی چیز نازل نہیں کی۔ آگے اللہ تعالیٰ کا کلام ہے ۔ نہیں ہو تم مگر کھلی گمراہی میں جو ایسی باتیں کرتے ہو۔ یہ فرشتوں کا کلام بھی ہو سکتا ہے۔ جو بازپرس کر رہے ہوں گے۔ وہی کہیں گے تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے ، تمہارے پاس خدا تعالیٰ کی طرف سے ڈرانے والے بھی آئے۔ شریعت بھی آئی ، دین بھی آیا۔ وحی الہیٰ بھی آئی۔ مگر تم نے کسی چیز کو نہیں مانا۔ لہٰذا تم ہی کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔ تو کفر کرنے والے افسوس ، حسرت اور ندامت کا اظہار کریں گے۔ کاش ہم نہ ہوتے ، افسوس نہ ہم نے سنا ، عقل سے سوچا دوسری جگہ ہے۔ افسوس کہ ہم پر ہماری بدبختی غالب آئی اور ہم گمراہ ثابت ہوئے۔ رسول آئے ، ڈرانے والے آئے۔ سمجھانے والے آئے مگر افسوس کہ ہماری بدبختی غالب آئی یہاں اس مقام پر ہے کہ کاش ہم نصیحت کرنے والوں کی بات سنتے نجات کے دو ذرائع : انسان کی فلاح کے لیے دو چیزیں ہیں۔ یا تو خیر خواہ کی بات سن کر اس پر عمل پیرا ہوجائے ، تو اس کی نجات ہے۔ یا عقل سے خود غور و فکر کرے ، یہ وہی چیزیں ہیں ، تیسرا کوئی راستہ نہیں ، جیسا کہ دوسری جگہ موجود ہے کہ یہ کافر بہرے اندھے اور گونگے ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انہیں عقل جیسا کمال درجے کا جوہر عطا کیا ہے۔ مگر یہ اس سے کوئی فائدہ نہیں اٹھاتے۔ بعض مفسرین کرام فرماتے ہیں کہ سورة اٰل عمران میں الفرقان کا جو لفظ آیا ہے اس سے مراد جوہر عقل ہے۔ قرآن کا الگ ذکر ہے۔ تورات اور انجیل کا الگ اور فرقان کا الگ ایک درجے تک یہ بات درست معلوم ہوتی ہے کیونکہ اچھائی اور برائی میں امتیاز صرف عقل سے ہی کیا جاسکتا ہے۔ بے عقل کا نہیں : حدیث شریف میں آتا ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے عقل کو پیدا کیا تو فرمایا آگے آئو وہ آگے آئی۔ فرمایا پیچھے ہٹ جائو وہ پیچھے ہٹ گئی۔ پھر ارشاد فرمایا یعنی تیر ی وجہ سے میں دوں گا اور تیری وجہ سے روکوں گا۔ تمہارے استعمال پر ہی سارا دارومدار ہے۔ جس کو اللہ تعالیٰ نے عقل نہیں دی اس کو مکلف بھی نہیں بنایا۔ تمام پاگل لوگ غیر مکلف ہیں۔ بہائم بےعقل ہیں ، اس لیے غیر مکلف ہیں۔ بچے بھی جب تک ان میں عقل نہیں آتی مکلف نہیں ہوتے تو گو اللہ تعالیٰ نے نجات کا مدار دوہی چیزوں پر رکھا ہے یعنی خیر خواہ کی بات کو سن کر اس پر عمل کرنا یا خود اپنی عقل سے کام لے کر اچھائی اور برائی میں تمیز پیدا کرنا۔ اجہتاد اور تقلید : بعض مفسرین فرماتے ہیں کہ ایک اجہتاد ہے اور ایک تقلید ۔ تقلید اسی کو کہتے ہیں ، کہ کسی اچھے شخص سے بات سن کر اس کو مان لیا جائے۔ تقلید سے لوگ بد کتے ہیں ، اس کو معنی پہناتے ہیں۔ یہاں جاہلوں کی تقلید مرا د نہیں ہے۔ اس کی تو اللہ تعالیٰ نے مذمت کی ہے۔ مشرک اور کافر اپنے ابائو اجداد کی تقلید کرتے تھے۔ غلط اور شرکیہ رسوم میں اپنے بڑوں کی تقلید کرتے تھے۔ اس کو اللہ تعالیٰ نے بےعقلی کی بات فرمائی۔ ہاں اگر کوئی اچھی بات سن کر اس پر عمل کرتا ہے۔ تو یہ تقلید ہی ہے۔ اس پر بھی نجات ہے۔ یا انسان خود بحیثیت مجتہد عقل کو ٹھیک ٹھیک استعمال کرے۔ غور کرے اور پھر نتیجے ۔ یہ دونوں باتیں ہیں۔ کافر لوگ افسوس کا اظہار کریں گے اور کہیں گے ہم نے دونوں باتیں ہی نہیں کیں۔ خیرخواہ کی بات سن کر بھی عمل نہیں کیا۔ اور عقل کو بھی ٹھیک ٹھیک استعمال نہیں کیا۔ غلط ہی استعمال کیا۔ اگر ہم دونوں میں سے ایک بات پر بھی عمل کرتے تو دوزخ والوں میں نہ ہوتے۔ کفار کا اعتراف معصیت : اپنے گناہوں کا اقرار کریں گے حکم ہوگا پس جہنم والوں کے لیے دوری ہے۔ دفع ہو جائو ، دور ہو جائو ، سُحق کا معنی دوری اور بعد ہوتا ہے۔ بعض فرماتے ہیں کہ دوزخ میں صحرا کا نام بھی ہے جیسے ویل جہنم میں ایک وادی کا نام ہے صعود ایک پہاڑ کا نام ہے جس پر کافروں کو چڑھایا جائے گا۔ اور نیچے اتارا جائے گا۔ ایسا ہی سحق بیابان ہے اسمیں کافروں کو دوڑایاجائے گا۔ بعض فرماتے ہیں سحق کا معنی ہے دوری ہے جیسے تو گویا جہنم والوں کے لیے دوری ہے خدا کی رحمت اور مہربانی سے۔ اب اس جہنم میں جلتے رہو۔ ایمان بالغیب والوں کے لیے انعام : یہ تو تھا کافروں کا حال اور ان کا انجام۔ اب ترہیب کے ساتھ ترغیب بھی ہے۔ بیشک جو لوگ اپنے پروردگار سے ڈرتے ہیں بن دیکھے ہوئے۔ یہ ہے ایمان بالغیب ۔ بالغیب کے معنی ہے بغیر دیکھے ہوئے۔ نہ دوزخ دیکھا ہے ، نہ جنت ، نہ اس کی وحی اترتے دیکھی ہے۔ نہ خدا کی ذات۔ تو جنت بھی برحق ہے۔ دوزخ بھی برحق ہے احساب بھی برحق ہے۔ یہ ساری چیزیں برحق ہیں۔ باطل کوئی نہیں ، کفر کا بُرا انجام سامنے آئے گا۔ اور ایمان کا اچھا انجام بھی سامنے ہوگا۔ ان تمام چیزوں پر بن دیکھے ایمان لانا ایمان بالغیب ہے۔ سورة بقرہ کی ابتدا میں اور اخیر میں اس وحی پر جو خدا نے اتاری ہے اس پر رسول بھی ایمان رکھتا ہے اور مومن بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اور اس کتاب پر خد ا کے رسولوں پر ، بعث بعدالموت پر ، تقدیر پر ، ملائکہ پر تمام نبیوں پر ، اور جو آگے حالات پیش آنے ہیں ، ان سب پر ایمان رکھتے ہیں۔ یہ ایمان بالغیب ہے۔ خوف خدا دار حکومت ہے : تو جو لوگ اللہ تعالیٰ پر اس کی صفات پر بن دیکھے ایمان لاتے ہیں۔ اس سے لرزتے ہیں ان پر خوف طاری رہتا ہے ، ایسے لوگوں کا بدلہ اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے۔ اسی لیے حضور ﷺ کا ارشاد ہے۔ یعنی حکمت کی جڑ اور بنیادہی اللہ کا خوف ہے۔ اللہ کا خوف مشاہدے سے نہیں آیا بلکہ رسولوں کے بتلانے اور کتاب کو پڑھنے سے یقین آیا ہے۔ تو بڑا حکیم وہی ہوگا جس میں خوف خدا زیادہ ہوگا۔ فرمایا جو لوگ اپنے رب سے بن دیکھے ڈرتے ہیں ان کے لیے بخشش اور مغفرت ہے انکی خطائیں اور گناہ ڈھانپ دیے جائیں گے اور ان کے لیے اللہ کے ہاں بہت بڑا اجر ہے کہ وہ ایمان لائے بن دیکھے خدا سے ڈرتے ہیں اطاعت کرے ہیں کفر و شرک سے بیزار ہے۔ ان کے لیے اللہ نے بہت بڑا ثواب تیار کیا ہے۔ اللہ تعالیٰ عالم الغیب ہے : آگے فرمایا تم اپنی بات کو چھپائو یا ظاہر کرو۔ آہستہ کہو یا بلند کہو ، ہر حالت میں خدا سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے کفر ، شرک ، نفاق کی بات کو پوشیدہ رکھو گے یا ظاہر کرو گے۔ برائی ادنیٰ سے ادنیٰ یا بڑی سے بڑی ، چھپائو یا ظاہر کرو ، ہر حالت میں خدا تو سینوں کے رازوں کو بھی جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ لطیف وخبیر ہے : فرمایا کیوں نہیں جانے گا۔ کیا وہ نہیں جانے گا جس نے خود پیدا کیا وہ نہیں جانے گا تو اور کون جانے گا اور وہ تو خالق ہے اور خالق ہونے کے علاوہ اسکی صفات لطیف وخبیر بھی ہیں ۔ لطیف یعنی بہت باریک بین لطیف کا معنی مہربان بھی ہوتا ہے۔ اللہ اپنے بندوں کے ساتھ بڑی مہربانی کرتا ہے۔ اور یعنی ہر ایک کی حالت سے واقف اور ہر ایک کی خبر رکھنے والا ہے۔ الہٰذا کوئی بھی چیز خواہ نیکی کی ہو یا برائی کی ، تم اسے چھپائو یا ظاہر کرو ہر حالت میں اللہ تعالیٰ جانتا ہے۔ اور اسی کے مطابق آگے چل کر انسان کو اس کا بھگتان کرنا پڑے گا۔
Top