Ahsan-ut-Tafaseer - Al-Haaqqa : 25
وَ اَمَّا مَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِشِمَالِهٖ١ۙ۬ فَیَقُوْلُ یٰلَیْتَنِیْ لَمْ اُوْتَ كِتٰبِیَهْۚ
وَاَمَّا : اور رہا مَنْ اُوْتِيَ : وہ جو کوئی دیا گیا كِتٰبَهٗ : کتاب اپنی بِشِمَالِهٖ : اپنے بائیں ہاتھ میں فَيَقُوْلُ : تو وہ کہے گا يٰلَيْتَنِيْ : اے کاش کہ میں لَمْ اُوْتَ : نہ دیا جاتا كِتٰبِيَهْ : اپنا نامہ اعمال۔ اپنی کتاب
اور جس کا نامہ (اعمال) اسکے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا وہ کہے گا اے کاش مجھ کو میرا (اعمال) نامہ نہ دیا جاتا
25۔ 37۔ جن لوگوں کے نامہ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے جب وہ لوگ اس میں اول سے آخر تک بدیاں لکھی ہوئی دیکھیں گے تو نہایت پریشانی سے وہ باتیں کہیں گے جن کا ذکر ان آیتوں میں ہے اسی وقت خدا تعالیٰ فرمائے گا ایسے لوگوں کو گرفتار کرکے ان کی گردنوں میں طوق ڈالے جائیں اور ان کو دوزخ میں جھونک دیا جائے کیونکہ یہ ایسے لوگ ہیں جنہوں نے نہ اللہ کی عبادت کی نہ اللہ کی مخلوقات کو کچھ فائدہ پہنچایا پھر ان کی گردنوں میں طوق ڈال کر ستر گز کی زنجیر میں ان کی جماعت کی جماعت کو پرو دیا جائے گا اور دوزخ میں جھونک دیا جائے گا حضرت عبداللہ بن عباس ؓ 2 ؎ کا قول ہے کہ یہ ستر گزر فرشتوں کے ہاتھوں کی ناپ کے ہیں ورنہ آدمیوں کے ہاتھوں کے ناپ کے موافق گزوں کا حساب لیاجائے تو وہ زنجیریں بہت بڑی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کے اس قول کی تائید ہوتی ہے جو مسند امام احمد اور ترمذی 3 ؎ وغیرہ میں ہیں جن کا حاصل یہ ہے کہ ان زنجیروں کے اس سرے سے اس سرے تک چالیس برس کا راستہ کا فاصلہ ہے۔ حمیم کے معنی رشتہ دار۔ غسلین کے معنی دوزخیوں کے زخموں کی دھو ون کے صیح ہیں کیونکہ علی بن طلحہ 4 ؎ کی روایت سے امام المفسرین حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ کا یہی قول ثابت ہوا ہے اس کے سوا حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے اور جو روایتیں ہیں جن کو بعض مفسروں نے اپنی تفسیروں میں بیان کیا ہے وہ روایتیں اس درجہ کی نہیں ہیں۔ چناچہ اوپر بیان ہوچکا ہے کہ حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ سے جس قدر سلسلے روایت کے ہیں ان میں علی بن طلحہ کا سلسلہ اعلیٰ درجہ کا ہے۔ (2 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 416 ج 4۔ ) (3 ؎ جامع ترمذی باب ماجاء فی طعام اھل النار ص 96 ج 2۔ ) (4 ؎ تفسیر ابن کثیر ص 416 ج 4۔ )
Top