Mufradat-ul-Quran - Al-Anbiyaa : 96
حَتّٰۤى اِذَا فُتِحَتْ یَاْجُوْجُ وَ مَاْجُوْجُ وَ هُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ یَّنْسِلُوْنَ
حَتّٰٓي : یہانتک کہ اِذَا : جب فُتِحَتْ : کھول دئیے جائینگے يَاْجُوْجُ : یاجوج وَمَاْجُوْجُ : اور ماجوج وَهُمْ : اور وہ مِّنْ : سے كُلِّ : ہر حَدَبٍ : بلندی (ٹیلہ) يَّنْسِلُوْنَ : پھیلتے (دوڑتے) آئیں گے
یہاں تک کہ یاجوج اور ماجوج کھول دیئے جائیں اور وہ ہر بلندی سے دوڑ رہے ہوں
حَتّٰٓي اِذَا فُتِحَتْ يَاْجُوْجُ وَمَاْجُوْجُ وَہُمْ مِّنْ كُلِّ حَدَبٍ يَّنْسِلُوْنَ۝ 96 فتح الفَتْحُ : إزالة الإغلاق والإشكال، يدرک بالبصر کفتح الباب ونحوه، وکفتح القفل والغلق والمتاع، نحو قوله : وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] (ت ح ) الفتح کے معنی کسی چیز سے بندش اور پیچیدگی کو زائل کرنے کے ہیں فتح المتاع ( اسباب کھولنا قرآن میں ہے ؛وَلَمَّا فَتَحُوا مَتاعَهُمْ [يوسف/ 65] اور جب انہوں نے اپنا اسباب کھولا ۔ أج قال تعالی: هذا عَذْبٌ فُراتٌ وَهذا مِلْحٌ أُجاجٌ [ الفرقان/ 53] : شدید الملوحة والحرارة، من قولهم : أجيج النار وأَجَّتُهَا، وقد أجّت، وائتجّ النهار . ويأجوج ومأجوج منه، شبّهوا بالنار المضطرمة والمیاه المتموّجة لکثرة اضطرابهم «2» . وأجّ الظّليم : إذا عدا، أجيجاً تشبيهاً بأجيج النار .( ا ج ج ) الاجاج ۔ کے معنی سخت کھاری اور گرم پانی کے ہیں قرآن میں ہے :۔ { هَذَا عَذْبٌ فُرَاتٌ وَهَذَا مِلْحٌ أُجَاجٌ } [ الفرقان : 53] ایک کا پانی نہایت شیریں اور دوسرے کا سخت گرم ہے ۔ یہ ( اجاج ) اجیح النار ( شعلہ نار یا اس کی شدید تپش اور حرارت ) واجل تھا وقد اجت ۔ میں نے آگ بھڑکائی چناچہ وہ بھڑک اٹھی ( وغیرہ محاورات ) سے مشتق ہے ۔ ائتج النھار ۔ دن گرم ہوگیا ۔ اسی ( اج) سے يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ (18 ۔ 94) (21 ۔ 94) ہے ان کے کثرت اضطراب کی وجہ سے مشتعل آگ یا موجزن اور متلاطم پانی کے ساتھ تشبیہ دے کر یاجوج ماجوج کہا گیا ہے ۔ اج الظلیم اجیحا ۔ شتر مرغ نہایت سرعت رفتار سے چلا ۔ یہ محاورہ اشتعال نار کے ساتھ تشبیہ دے کر بولا جاتا ہے ۔ حدب يجوز أن يكون الأصل في الحَدَبِ حدب الظهر، يقال : حَدِبَ «2» الرجل حَدَباً ، فهو أَحْدَب، واحدودب . وناقة حدباء تشبيها به، ثم شبّه به ما ارتفع من ظهر الأرض، فسمّي حَدَباً ، قال تعالی: وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ [ الأنبیاء/ 96] . ( ح د ب ) حدب ( س) حدبا ۔ الرجل واحدب واحدودب کبڑا ہونا ۔ ہوسکتا ہے کہ حدب الظھر کا لفظ اس مادہ میں بنیاد کی حیثیت رکھتا ہو جس کے معنی کبڑے پیٹھ کے ہیں ۔ پھر تشبیہ کے طور ( لاغر اونٹنی کو جس کے سربنوں کی ہڈیاں نمایاں ہوں ناقۃ حدباء کہہ دیتے ہیں اور اسی سے ( مجاز) بلند اور سخت زمین کو حدب کہتے ہیں ۔ قرآن میں ہے ؛ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ [ الأنبیاء/ 96] اور وہ ( یاجوج ماجوج) بلندی سے دوڑ رہے ہونگے ۔ نسل النَّسْلُ : الانفصالُ عن الشیءِ. يقال : نَسَلَ الوَبَرُ عن البَعيرِ ، والقَمِيصُ عن الإنسان، قال الشاعر۔ فَسُلِّي ثِيَابِي عَنْ ثِيَابِكِ تَنْسِلي والنُّسَالَةُ : ما سَقَط من الشَّعر، وما يتحاتُّ من الریش، وقد أَنْسَلَتِ الإبلُ : حَانَ أن يَنْسِلَ وَبَرُهَا، ومنه : نَسَلَ : إذا عَدَا، يَنْسِلُ نَسَلَاناً : إذا أسْرَعَ. قال تعالی: وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ [ الأنبیاء/ 96] . والنَّسْلُ : الولدُ ، لکونه نَاسِلًا عن أبيه . قال تعالی: وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] وتَنَاسَلُوا : تَوَالَدُوا، ويقال أيضا إذا طَلَبْتَ فَضْلَ إنسانٍ : فَخُذْ ما نَسَلَ لک منه عفواً. ( ن س ل ) النسل ۔ کے معنی کسی چیز سے الگ ہوجانے کے ہیں چناچہ محاورہ ہے : ۔ نسل الوا بر عن البعیر اون اونٹ سے الگ ہوگئی ۔ اور نسل القمیص عن الانسان کے معنی قمیص کے بدن سے الگ ہوجانے کے ہیں ۔ چناچہ شاعر نے کہا ہے ۔ ( 422 ) فسلی ثیا بی عن ثیا بک تنسلی تو اپنے کپڑوں سے کھینچ لے تاکہ جدا ہوجائیں ۔ النسا لۃ داڑھی سے گرے ہوئے بال یا پرندہ کے پر جو جھڑ کر گر پڑتے ہیں ۔ انسلت الابل اونٹوں کی اون جھڑنے کا وقت آگیا اسی سے نسل ینسل نسلانا ہے جس کے معنی تیز دوڑ نے کے ہیں ۔ چناچہ قرآن میں ہے : ۔ وَهُمْ مِنْ كُلِّ حَدَبٍ يَنْسِلُونَ [ الأنبیاء/ 96] اور وہ ہر بلند ی سے دوڑ رہے ہوں گے ۔ النسل اولاد کو کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی اپنے باپ سے جدا ہوئی ہوتی ہے ۔ چناچہ فرمایا : ۔ وَيُهْلِكَ الْحَرْثَ وَالنَّسْلَ [ البقرة/ 205] اور کھیتی کو ( بر باد ) اور انسانوں اور حیوانوں کی نسل کو نابود کر دے ۔ اور تنا سلو ا کے معنی تو الد وا کے ہیں نیز جب کوئی انسان دوسرے سے خیرات طلب کرے تو کہا جاتا ہے : ۔ فخذ ما سنل لک منہ عفوا کہ جو کچھ ملے وہی لے لو ۔
Top