Mazhar-ul-Quran - Aal-i-Imraan : 192
مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا یَصِفُوْنَۙ
مَا اتَّخَذَ : نہیں بنایا اللّٰهُ : اللہ مِنْ وَّلَدٍ : کسی کو بیٹا وَّمَا كَانَ : اور نہیں ہے مَعَهٗ : اس کے ساتھ مِنْ اِلٰهٍ : کوئی اور معبود اِذًا : اس صورت میں لَّذَهَبَ : لے جاتا كُلُّ : ہر اِلٰهٍ : معبود بِمَا خَلَقَ : جو اس نے پیدا کیا وَلَعَلَا : اور چڑھائی کرتا بَعْضُهُمْ : ان کا ایک عَلٰي بَعْضٍ : دوسرے پر سُبْحٰنَ اللّٰهِ : پاک ہے اللہ عَمَّا : اس سے جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
پھر اگر وہ منہ پھیریں تو تم فرمادو : ” مجھے اللہ کافی ہے نہیں کوئی معبود اس کے سوا، میں نے اسی پر بھروسہ کیا اور وہی عرش عظیم کا مالک ہے “
سورة توبہ کے فضائل (تمام مسائل کا حل) ارشاد ہوتا ہے کہ اگر منافق آپ کی فرمانبرداری سے منہ پھیریں، پس ان سے فرمادیجئے کہ میرا اللہ مجھے کافی ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔ اسی پر میرا بھروسہ ہے اور وہ عرش عظیم کا مالک ہے۔ غرضیکہ یہ سورة توبہ بڑی مبارک سورة ہے۔ حدیث شریف میں ہے کہ جو شخص ہر روز صبح وشام حسبی اللہ لآ الٰہ الا ہو علیہ توکلت وھو رب العرش العظیم سات مرتبہ پڑھ لیا کرے تو خدا اس کی ساری مشکلیں آسان کرے گا۔
Top