Mualim-ul-Irfan - Al-Muminoon : 115
اَفَحَسِبْتُمْ اَنَّمَا خَلَقْنٰكُمْ عَبَثًا وَّ اَنَّكُمْ اِلَیْنَا لَا تُرْجَعُوْنَ
اَفَحَسِبْتُمْ : کیا تم خیال کرتے ہو اَنَّمَا : کہ خَلَقْنٰكُمْ : ہم نے تمہیں پیدا کیا عَبَثًا : عبث (بیکار) وَّاَنَّكُمْ : اور یہ کہ تم اِلَيْنَا : ہماری طرف لَا تُرْجَعُوْنَ : نہیں لوٹائے جاؤگے
کیا تم گمان کرتے ہو کہ بیشک ہم نے پیدا کیا ہے تم کو فضول۔ اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جائو گے
ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے کفار ومشرکین کی ضد ، ہٹ دھرمی اور ان کے انجام کا ذکر فرمایا۔ اس سورة کی ابتداء بھی توحید اور معاد کے مضمون سے ہوئی تھی۔ اور اب اختتام بھی اسی پر ہورہا ہے۔ درمیان میں اللہ نے انبیاء (علیہم السلام) کی تبلیغ اور کفار ومشرکین کی بدسلوکی کا ذکر فرمایا ، اور توحید کے عقلی اور نقلی دلائل پیش کیے۔ قیامت اور محاسبہ کا ذکر تفصیل کے ساتھ کیا۔ اب آخر میں پھر قیامت اور جزائے عمل کا خصوصی ذکر فرمایا ہے۔ انسان مکلف ہے : ارشاد ہوتا ہے افحسبتم انما خلقنکم عبثا ، کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں فضول پیدا کیا ہے ؟ عبث کا معنی باطل ، مہمل ، بےکار ، بےسودبافضول ہے۔ سورة القیمۃ میں ہے ایحسب………… …سدی (آیت 36) کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اسے مہمل چھوڑ دیا جائے گا ؟ نہیں بلکہ یہ خیال ہی باطل ہے کہ انسان سے باز پرس نہ ہو۔ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ انسان کو بالکل کھلا چھوڑ دیا جائے ، وہ نہ کی حلال حرام کا پابند ہو ، نہ امرونہی کا اور نہ نیکی بدی کا ، جب وہ کسی چیز کا پابند نہیں ہوگا ، تو پھر اس سے باز پرس بھی نہیں ہوگی۔ ایسا نہیں ہے ، بلکہ ہر انسان قانون خداوندی کا پابند ہے اور پھر اس کا محاسبہ بھی ہوگا کہ اس نے قانون قدرت کی کس حد تک پابندی کی ہے۔ یہ صرف انسان کی بات نہیں بلکہ جہاں اللہ نے زمین وآسمان کی تخلیف کا ذکر کیا وہاں فرمایا ربنا…… …باطلا (آل عمران 191) اے ہمارے پروردگار تو نے یہ سب کچھ بیکار محض نہیں پیدا کردیا۔ گویا پوری کائنات کی تخلیق بھی مبنی برحکمت الٰہی ہے۔ فرمایا کیا تم گمان کرتے ہو کہ ہم نے تمہیں بےکار پیدا کیا وانکم الینا لا ترجعون ، اور یہ کہ تم ہماری طرف نہیں لوٹائے جائو گے ؟ ظاہر ہے کہ اگر انسان کی تخلیق بےمقصد ہے تو پھر اس کے محاسبے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا اور نہ اسے اللہ کے پاس لوٹائے جانے کی ضرورت ہے یہ باطل خیال ہے۔ ہر چیز کی تخلیق اللہ تعالیٰ کے منشا اور حکمت کے مطابق عمل میں آئی ہے۔ اللہ نے انسان کو ایک پروگرام دے کر دنیا میں بھیجا ہے۔ اس سے اس کی کارکردگی کی بازپرس ضروری ہے اور اس کے لئے اس کا واپس لوٹایا جانا بھی ضروری ہے۔ الغرض ! اللہ نے انسان کو مکلف یعنی قانون کا پابند بنایا ہے لہٰذا وہ سب کو اپنے پاس اکٹھا کریگا ، پھر حساب کتاب کی منزل آئیگی اور جزا وسزا کا فیصلہ ہوگا۔ ملکیت اور بہمیت کی کشمکش : امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی (رح) اپنی حکمت (حجۃ اللہ البالغہ ص 19 (فیاض) کے مطابق بیان کرتے ہیں۔ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان میں ملکیت اور بہیمیت دو قوتوں رکھی ہیں۔ ملکیت سے فرشتوں جیسی پاکیزہ خصلتیں مثلاً اللہ کے سامنے عجزونیاز مندی ، عدل و انصاف ، عبادت و ریاضت ، خود غرضی اور کمینی باتوں سے اجتناب وغیرہ شامل ہیں جب کہ بہیمیت میں کھاناپینا ، اولاد پیدا کرنا ، خواہشات کی تکمیل ، جسم کا بنائو سنگھار ، آرام و راحت وغیرہ خصائل شامل ہیں۔ گویا انسان ملکیت اور بہیمیت کی کشمکش کا نام ہے ، انسانی فطرت کا تقاضہ یہ ہے کہ اس میں صفت ملکیت غالب اور بہیمیت مغلوب ہو ، اور پھر اس کا نتیجہ بھی ظاہر ہو۔ شاہ صاحب (رح) مثال کے ذریعے سمجھاتے ہیں کہ گائے بھینس ، بھیڑ ، بکری وغیرہ جب تک گھاس یا چارہ کھاتے ہیں ان کا بہیمی مزاد درست رہتا ہے۔ وہ کام بھی کرتے ہیں اور دودھ بھی دیتے ہیں ، اگر یہی جانور گھاس کی بجائے گوشت کھانے لگیں تو یہ ان کی فطرت کے خلاف ہوگا اور ان کا مزاج بگڑ جائے گا۔ اسی طرح درندوں کی فطری خوراک گوشت ہے۔ جب تک گوشت کھاتے رہیں گے ان کا مزاج درست رہیگا۔ اگر شیر ، چیتا ، بھیڑیا وغیرہ گوشت کی بجائے گھاس چرنے لگیں تو ان کا مزاج بگڑ جائیگا۔ انسان کے مزاد کی مثال بھی ایسی ہی ہے جب تک وہ طہارت ، سماحت ، عبادت ، ریاضت اور فکر کی پاکیزگی جیسے کام کرتارہتا ہے تو اس کا ملکی مزاج بالکل ٹھیک رہتا ہے۔ اور جونہی وہ نجاست ، تکبر ، خود غرضی ، ظلم وجور وغیرہ کو اختیار کرتا ہے تو اس کا مزاج خراب ہوجاتا ہے اور پھر اس کا نتیجہ بھی غلط ہی نکلتا ہے۔ الغرض ! اللہ نے انسان کو ملکیت اور بہیمیت کا مزاج بخشا ہے۔ اللہ نے اس میں مکلف بننے کی صلاحیت رکھ دی ہے۔ اور یہی اس کا کمال ہے۔ گویا اللہ نے انسان کو فطری طور پر مکلف بنایا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن پاک جیسی امانت کو ارض وسما اور پہاڑوں نے تو اٹھانے سے انکار کردیا مگر وحملھا الانسان (الاحزاب 72) انسان نے اس کو اٹھایا۔ جب انسان مکلف ٹھہرا تو پھر اس پر جزائے عمل بھی آئے گا ، وہ پیدا ہوا ہے تو موت سے بھی ہمکنار ہوگا ، اس کے ذمے قانون کی پابندی بھی لازم آئیگی۔ اگر وہ اس میں ناکام رہے گا تو خطیرۃ القدس جیسے پاک مقام کا ممبر نہیں بن سکے گا ، گویا اس کی ترقی کا راز اس کے معلف ہونے میں ہے ، لہٰذا یہ خیال باطل ہے کہ اللہ نے اس فضول پیدا کیا ہے اور یہ کہ وہ اس کی طرف نہیں لوٹائے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات عالیہ : فرمایا فتعلی اللہ الملک الحق ، پس بلندو برتر ہے اللہ کی ذات جو سچا بادشاہ ہے۔ ایسی بلند ہستی بھلا فضول کام کیسے کرسکتی ہے ، وہ حکیم ہے اور اس کا ہر فعل مبنی برحکمت ہے۔ تو اللہ نے انسان کو بیکار پیدا نہیں کیا۔ بلکہ اسے مکلف بنا کر اس کے لئے ترقی کا دروازہ کھول دیا ہے تاکہ وہ قانون کی پابندی اختیار کرکے اپنے لئے اعلیٰ مقام حاصل کرسکے۔ فرمایا لا الہ الا ھو نہیں ہے کوئی معبود مگر وہی اللہ۔ اس کے علاوہ کوئی مستحق عبادت نہیں ، کوئی نافع ضار ، قدار مطلق ، علیم کل ، ہمہ دان ، ہمہ بین اور ہمہ تو ان نہیں ہے۔ کوئی ایسی ہستی نہیں ہے جس کی قولی ، فعلی ، مالی ، جسمانی اور روحانی عبادت کی جائے ، عبادت انتہائی درجے کی تعظیم کا نام ہے۔ جو اس اعتقاد کے ساتھ کی جاتی ہے کہ معبود میرے حالات کو جانتا ہے میری بگڑی بناسکتا ہے ، خالق اور مالک ہے اور اس کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ اس کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ رب العرش الکریم ہے یعنی عزت والے عرش کا مالک ہے۔ گزشتہ آیات میں عرش عظیم کے الفاظ بھی گزر چکے ہیں اور اب عرش کریم سے یاد کیا گیا ہے ، عرش کا تصور دو صورتوں میں سامنے آتا ہے۔ ایک یہ ہے کہ عرش الٰہی بہت بڑا ہے اور ساتوں آسمان اور ساتوں زمینیں اس کے مقابلہ میں ایک کٹرے کی حیثیت رکھتی ہیں جو کسی بہت بڑے میدان میں پڑاہو۔ گویا عرش عظیم تمام کائنات پر محیط ہے۔ عرش کا دوسرا تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت بڑی سلطنت کا مالک ہے ، ایسی سلطنت جو ساری کائنات اور اس سے بھی پرے تک محیط ہے۔ جس مالک الملک کی سلطنت اتنی وسیع ہے وہ اپنے وفاداروں کو اعلیٰ بدلہ اور غداروں کو سخت سزا بھی دے گا۔ ان سب کو جزائے عمل کی منزل سے گزرنا پڑے گا۔ توحید باری تعالیٰ : آگے اللہ نے پھر توحید کے مضمون کی طرف اشارہ کیا ہے جو اس سورة مبارکہ کا اہم مضمون ہے۔ ارشاد ہوتا ہے ومن یدع مع اللہ الھا اخر اور جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے الٰہ کو پکارتا ہے یعنی اس سے اپنی حاجات طلب کرتا ہے ، لا برھان لہ بہ اس کے پاس اس بات کی کوئی دلیل نہیں ہے۔ کسی مشرک اور کافر کے پاس کفر وشرک کی صحت پر کوئی دلیل نہیں سوائے اس کے کہ وہ کہتے ہیں بل نتبع ما الفنا علیہ اباء نا (البقرہ 170) ہم نے اپنے آبائو اجداد کو اسی طریقے پر پایا ہے۔ یہ جاہلانہ دلیل ہے جسے اندھی تقلید کہا جاتا ہے جب آبائواجداد بےعقل اور غیر ہدایت یافتہ ہوں تو پھر ان کی راہ پر چلنا بجائے خود بےعقلی کی دلیل ہے اس کے برخلاف اللہ کی وحدانیت کی کروڑوں دلیلیں موجود ہیں۔ اس سورة میں بھی اللہ نے سمع وبصر ، زندگی اور موت ، زمین پھیلائو۔ وغیرہ جیسی عقلی دلیلیں پیش کی ہیں۔ عقلی دلیل کا مطلب یہی ہے کہ مشاہدات قدرت میں غور وفکر کرو گے تو اللہ کی وحدانیت خود بخودسمجھ میں آئے گی۔ پتہ چلے گا کہ ہر شے کا خالق ، مالک اور متصرف اللہ ہی ہے۔ جہاں تک نقلی دلائل کا تعلق ہے اللہ کے ہر نبی نے یہی کہا ہے یقوم…………… …غیرہ (المومنون 23) اے میری قوم کے لوگو ! اللہ کی عبادت کرو کہ اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں ہے۔ تمام انبیاء اور تمام صلحاء نے یہی تعلیم دی ہے کہ اللہ کے سوا کوئی مشکل کشا اور حاجت روا نہیں ہے ، کوئی موت وحیات کا مالک نہیں۔ اس کے علاوہ نہ کوئی شفا دے سکتا ہے اور نہ کوئی ترقی وتنزل کرسکتا ہے۔ فرشتوں کے حالات میں بھی یہی چیز ملیگی کہ اللہ کے سوا معبود نہیں۔ مگر مشرک کے پاس سوائے اندھی تقلید کے کوئی دلیل نہیں ہے۔ محاسبہ اعمال : فرمایا فانماحسابہ عند ربہ ایسے کافر ومشرک کا حساب اس کے اللہ کے پاس ہے۔ جب وہ اللہ کی عدالت میں پیش ہوگا تو پھر پتہ چلے گا اس نے دنیا میں جاہلانہ دلیل کی بنا پر شرک کا راستہ اختیار کیا ، جب وہ حساب کتاب کے لئے پیش ہوگا تو ضرور گرفت میں آئے گا۔ فرمایا انہ لا یفلح الکفرون ، بیشک کفر کرنے والے فلاں نہیں پائیں گے ، جس نے توحید ، رسالت ، معاد ، کتب سماویہ ، رسل اور ملائکہ کا انکار کیا وہ کافر بن گیا اور وہ ہمیشہ نامرادر ہے گا۔ اس حصہ آیت کو سورة ہذا کی ابتدائی آیت کے ساتھ ملا کر پڑھیں وہاں تھا قد افلح المومنون تحقیق ایمان والے فلاح پاگئے اور پھر آگے ان کی صفات بیان کی گئی ہیں اور یہاں ارشاد ہے انہ لا یفلح الکفرون اللہ تعالیٰ کافروں کو فلاح سے ہمکنار نہیں کرے گا۔ کافروں کو فلاح نصیب نہیں ہوگی۔ یہ تو ہوسکتا ہے کہ دنیا کی چند روزہ زندگی دھوم دھام اور شور وشر سے گزار لیں۔ مگر انہیں برزخ اور آخرت کی فلاح ہرگز نصیب نہیں ہوگی۔ اس طرح اس سورة کی ابتداء اور انتہا آپس میں مربوط ہوگئی ہے۔ فرمایا وقل رب اغفر اے پیغمبر ﷺ ! آپ اس طرح دعا کریں کہ اے میرے پروردگار ! ہمیں بخش دے ، ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں کو معاف فرمادے وارحم اور ہم پر رحم فرما ، اپنی رحمت نازل فرما ، ہمیں کسی ابتلایا بدعقیدگی میں مبتلا نہ کر ، کفر وشرک سے نجات دے اور ہماری حالت پر رحم فرما کیونکہ وانت خیرالرحمین تو سب سے بہتر رحم کرنے والا ہے۔ تجھ سے بڑھ کر کوئی مہربان نہیں۔ آخری آیات کے فضائل : یہ آخری آیات بہت بڑی فضیلت کی حامل ہیں ، اس لئے مفسرین کرام اور بزرگان دین فرماتے ہیں کہ ان آیات کو ہر روز کم از کم دو دفعہ پڑھ لینا چاہیے۔ صاحب روح المعانی ، حکیم ترمذی نے اپنی کتاب نوادرا الاصول میں اور صاحب حلیۃ الاولیاء نے اپنی کتاب میں حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ کے حوالے سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے سورة ہذا کی یہ آخری چار آیات (افحسبتم…الخ) پڑھ کر ایک جنون زدہ آدمی کو پھونک ماری تو اللہ تعالیٰ نے اس کو شفا دیدی۔ جب یہ واقعہ حضور ﷺ کے گوش گزار کیا گیا تو آپ نے ارشاد فرمایا۔ لوان موقنا یعنی اگر کوئی کامل الایقان والیقین آدمی ان آیات کو پڑھ کر پہاڑ پر پھونک دے تو وہ بھی اپنی جگہ سے ٹل جائے گا۔ بہرحال یہ بڑی فضیلت والی آیات ہیں۔ جنہیں بطور وردصبح شام پڑھا جاسکتا ہے۔
Top