Mutaliya-e-Quran - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اُس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اُسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اُس کا کوئی حصہ نہیں ہے
مَنْ كَانَ [ جو ہے (کہ ) ] يُرِيْدُ [ وہ چاہتا ہے ] حَرْثَ الْاٰخِرَةِ [ آخرت کی کھیتی کو ] نَزِدْ لَهٗ [ تو ہم زیادہ کرتے ہیں اس کے لئے ] فِيْ حَرْثِهٖ ۚ [اس کی کھیتی میں ] وَمَنْ كَانَ [ اور جو ہے (کہ ) ] يُرِيْدُ حَرْثَ الدُّنْيَا [ وہ چاہتا ہے دنیا کی کھیتی کو ] نُؤْتِهٖ [ توہم دیتے ہیں اس کو ] مِنْهَا [ اس میں سے ] وَمَا لَهٗ [ اور نہیں ہے اس کے لئے ] فِي الْاٰخِرَةِ [ آخرت میں ] مِنْ نَّصِيْبٍ [ کوئی بھی حصہ ] ترکیب : (آیت ۔ 20) کان یرید۔ کو اگر ماضی استمراری مانیں تو آگے نزدلہ بےجوڑ ہوجاتا ہے اور ترجمہ ٹھیک نہیں بنتا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ یہاں پر کان فعل ناقص ہے اور من شرطیہ کی وجہ سے اس کا ترجمہ ماضی کے بجائے حال میں ہوگا ۔ (آیت ۔ 24) ۔ یمح اللہ میں دراصل مضارع یمحو ہے جس کی واو گری ہوئی ہے ۔ اس کا ایک امکان یہ ہوسکتا تھا کہ فان یشاء اللہ شرط کا پہلا جواب شرط یختم ہے اور یمحو دوسرا جواب شرط ہونے کی وجہ سے مجزوم ہوا تو واوگرگئی ۔ لیکن ایسی صورت میں آیت کا مفہوم ہوجاتا ہے کہ اگر اللہ چاہتا تو وہ مہرلگا دیتا آپ کے دل پر (لیکن مہرلگائی نہیں ) اور مٹا دیتا باطل کو (لیکن مٹایا نہیں ) یہ مفہوم کئی لحاظ سے غلط ہے۔ اولا یہ کہ یہ بات خلاف واقعہ ہے ۔ ثانیا یہ کہ آگے ویحق الحق بےجوڑ ہوجاتا ہے ۔ ثالثا یہ کہ ایسی صورت میں یمح کا فاعل اسم ظاہر اللہ لانے کی ضرورت نہیں تھی ۔ اس کو یمح الباطل آنا چاہیے تھا ۔ اس لئے علی قلبک پر وقف کرتے ہیں اور آگے نیا جملہ مانتے ہیں ۔ ایسی صورت میں کہتے ہیں کہ یمح اللہ اور دراصل یمحو اللہ ہے اور کسی عامل کے بغیر اس کی واوگری ہے ۔ یہ قرآن مجید کا مخصوص املا ہے اس مقام پر یمحو کو واو کے بغیر لکھتے ہیں۔ اس طرح آگے ویحق الحق سے اس کا ربط قائم ہوجاتا ہے اور پوری عبارت مربوط ہوجاتی ہے ۔ (نوٹ : مذکورہ بالا بظاہر غیر ضروری طوالت کے حوالے سے طلباء اس حقیقت کو ذہن نشین کرلیں کہ ہمارے بزرگوں نے ایک ایک آیت کے ایک ایک لفظ اور ایک ایک حرف پر Magnifying Glass (محدب شیشہ ) لگا کر بڑی باریک بینی اور عرق ریزی کے ساتھ آیات کے مفہوم کا تعین کیا ہے ۔ آج کل کچھ لوگ قرآنی آیات کو اپنے من مانے معانی پہنانا چاہتے ہیں ۔ ان کا پہلا حربہ یہ ہوتا ہے کہ وہ جدید تعلیم یافتہ لوگوں کی نظروں میں بزرگوں کے کام کو بےوقعت قرار دیتے ہیں ۔ جو طلباء محض اللہ کی رضا کے لیے قرآن کا مطالعہ کررہے ہیں انھیں خود کو اس شیطانی حربے سے بچانا ہوگا ۔ )
Top