Kashf-ur-Rahman - Al-Waaqia : 49
هُوَ الَّذِیْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ ذَلُوْلًا فَامْشُوْا فِیْ مَنَاكِبِهَا وَ كُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ١ؕ وَ اِلَیْهِ النُّشُوْرُ
هُوَ : وہ الَّذِيْ : اللہ وہ ذات ہے جَعَلَ : جس نے بنایا لَكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے لیے زمین ذَلُوْلًا : تابع۔ فرش فَامْشُوْا : پس چلو فِيْ مَنَاكِبِهَا : اس کے اطراف میں وَكُلُوْا : اور کھاؤ مِنْ رِّزْقِهٖ : اس کے رزق میں سے وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف النُّشُوْرُ : دوبارہ زندہ ہونا
وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو تابع کر رکھا ہے، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھاؤ خدا کا رزق، اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کر جانا ہے
[هُوَ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ : وہ، وہ ہے جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو ][ ذَلُوْلًا : رام (تابعدار) کی ہوئی ][ فَامْشُوْا فِيْ مَنَاكِبِهَا : پس تم لوگ چلو اس کے کندھوں (راستوں) میں ][ وَكُلُوْا مِنْ رِّزْقِهٖ ۭ: اور کھائو اس (اللہ) کے رزق میں سے ][ وَاِلَيْهِ النُّشُوْرُ : اور اس ہی کی طرف دوبارہ اٹھنا ہے ] ترکیب : (آیت۔ 15) ئِ زْقِہٖ کی ضمیر ھُوَ الَّذِیْ کے لیے ہے۔ اگر اَلْاَرْضَ کے لیے ہوتی تو رِزْقَھَا آتا۔ نوٹ۔ 1: فرمایا کہ زمین کو تمہارے لیے ہم نے ایسا مطیع بنادیا کہ تم اس کے مونڈھوں (کندھوں) پر چڑھتے پھرو۔ مطلب یہ ہے کہ زمین کو حق تعالیٰ نے ایک ایسا قوام (مادہ) بخشا ہے کہ نہ تو پانی کی طرح بہنے والا ہے، نہ روئی اور کیچڑ کی طرح دبنے والا، کیونکہ زمین ایسی ہوتی تو اس پر کسی انسان کا ٹھہرنا ممکن نہ ہوتا۔ اسی طرح زمین کو لوہے یا پتھر کی طرح سخت بھی نہیں بنایا۔ اگر ایسا ہوتا تو اس میں درخت اور کھیتی نہ بوئی جاسکتی، کنویں اور نہریں نہ کھودی جا سکتیں اور اس کو کھود کر اونچی عمارتوں کی بنیاد نہ رکھی جاسکتی۔ اس قوام (نرم مادے) کے ساتھ اس کو ایسا سکون بخشا کہ اس پر عمارتیں ٹھہر سکیں اور چلنے پھرنے والوں کو لغزش نہ ہو۔ (معارف القرآن) ۔
Top