Mutaliya-e-Quran - Al-Mulk : 16
ءَاَمِنْتُمْ مَّنْ فِی السَّمَآءِ اَنْ یَّخْسِفَ بِكُمُ الْاَرْضَ فَاِذَا هِیَ تَمُوْرُۙ
ءَاَمِنْتُمْ : کیا بےخوف ہوگئے تم مَّنْ : اس سے جو فِي السَّمَآءِ : آسمان میں ہے اَنْ يَّخْسِفَ : کہ دھنسا دے بِكُمُ الْاَرْضَ : تم کو زمین میں فَاِذَا هِيَ : تو اچانک وہ تَمُوْرُ : لرزنے لگے۔ پھٹ جائے
کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے تمہیں زمین میں دھنسا دے اور یکایک یہ زمین جھکولے کھانے لگے؟
[ءَاَمِنْتم : کیا تم لوگ امن میں (نڈر) ہوگئے ][ مَنْ فِي السَّمَاۗءِ : اس سے جو آسمان میں ہے ][ ان يَّخْسِفَ : (اِس سے) کہ وہ دھنسا دے ][ بِكُمُ الْاَرْضَ : تمہارے ساتھ زمین کو ][ فَاِذَا هِيَ تموْرُ : پھر جب ہی وہ کپکپاتی ہو ] نوٹ۔ 2: مَنْ فِی السَّمَائِ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمان میں رہتا ہے بلکہ یہ بات اس لحاظ سے فرمائی گئی ہے کہ انسان فطری طور پر جب خدا سے رجوع کرنا چاہتا ہے تو آسمان کی طرف دیکھتا ہے۔ دعا مانگتا ہے تو آسمان کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کی بھیجی ہوئی کتابوں کو کتب سماوی کہا جاتا ہے۔ اس طرح کی باتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ بات کچھ انسان کی فطرت ہی میں ہے کہ وہ جب خدا کا تصور کرتا ہے تو اس کا ذہن آسمان کی طرف جاتا ہے۔ اسی بات کو ملحوظ رکھ کے یہاں اللہ تعالیٰ کے متعلق یہاں عَنْ فِی السَّمَائِ کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں۔ اس میں اس شبہ کی کوئی گنجائش نہیں ہے کہ قرآن اللہ تعالیٰ کو آسمان میں مقیم قرار دیتا ہے۔ یہ شبہ آخر کیسے پیدا ہوسکتا ہے جب کہ اسی سورة ملک کے آغاز میں فرمایا جا چکا ہے کہ جس نے تہہ بہ تہہ سات آسمان پید اکیے اور سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْہُ اللّٰہِ (پس تم جدھر بھی رخ کرو اس طرح اللہ کا رخ ہے) (تفہیم القرآن)
Top