Mutaliya-e-Quran - Al-Mulk : 5
وَ لَقَدْ زَیَّنَّا السَّمَآءَ الدُّنْیَا بِمَصَابِیْحَ وَ جَعَلْنٰهَا رُجُوْمًا لِّلشَّیٰطِیْنِ وَ اَعْتَدْنَا لَهُمْ عَذَابَ السَّعِیْرِ
وَلَقَدْ : اور البتہ تحقیق زَيَّنَّا : زینت دی ہم نے۔ خوب صورت بنایا ہم نے السَّمَآءَ الدُّنْيَا : آسمان دنیا کو بِمَصَابِيْحَ : چراغوں کے ساتھ وَجَعَلْنٰهَا : اور بنایا ہم نے ان کو رُجُوْمًا : مارنے کی چیز لِّلشَّيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے وَاَعْتَدْنَا : اور تیار کیا ہم نے لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابَ السَّعِيْرِ : جلنے کا عذاب
ہم نے تمہارے قریب کے آسمان کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے اور اُنہیں شیاطین کو مار بھگانے کا ذریعہ بنا دیا ہے اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیا کر رکھی ہے
[وَلَقَدْ زَيَّنَا : اور بیشک ہم نے سجایا ہے ][ السَّمَاۗءَ الدُّنْيَا : نزدیکی (دنیوی) آسمان کو ] بِمَصَابِيْحَ : چراغوں سے ][ وَجَعَلْنٰهَا : اور ہم نے بنایا ان (چراغوں) کو ][ رُجومًا : سنگسار کرنے کے ذرائع ][ لِلشَّـيٰطِيْنِ : شیطانوں کے لیے ][ وَاَعْتَدْنَا لَهُمْ : اور ہم نے تیار کیا ان کے لیے ][ عَذَابَ السَّعِيْرِ : بھڑکتی آگ کا عذاب ] نوٹ۔ 3: آیت۔ 6 ۔ کا یہ مطلب نہیں ہے کہ یہی تارے شیطانوں پر پھینک مارے جاتے ہیں اور یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ شہاب ثاقب صرف شیطانوں کو مارنے ہی کے لیے گرتے ہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ تاروں سے جو بیحد و حساب شہاب ثاقب نکل کر کائنات میں انتہائی تیز رفتاری سے گھومتے رہتے ہیں اور جن کی بارش زمین پر بھی ہر وقت ہوتی رہتی ہے، وہ اس امر میں مانع ہے کہ زمین کے شیاطین عالم بالا میں جاسکیں۔ اگر وہ اوپر جانے کی کوشش کریں بھی تو یہ شہاب ثاقب انہیں مار بھگاتے ہیں۔ رہا یہ سوال کہ ان شہابوں کی حقیقت کیا ہے، تو اس کے بارے میں انسان کی معلومات اس وقت تک کسی قطعی تحقیق سے قاصر ہیں۔ تاہم جس قدر بھی حقائق اور واقعات اب تک انسان کے علم میں آئے ہیں اور زمین پر گرے ہوئے شہابیوں کے معائنے سے جو معلومات حاصل کی گئی ہیں ان کی بناء پر سائنس دانوں میں سب سے زیادہ مقبول نظریہ یہی ہے کہ یہ شہابیے کسی سیارے کے انفجار کی بدولت نکل کر خلا میں گھومتے رہتے ہیں اور پھر کسی وقت زمین کی کشش کے دائرے میں آ کر ادھر کا رخ کرلیتے ہیں۔ (تفہیم القرآن) ۔
Top