Mutaliya-e-Quran - Al-Waaqia : 41
اِذَاۤ اُلْقُوْا فِیْهَا سَمِعُوْا لَهَا شَهِیْقًا وَّ هِیَ تَفُوْرُۙ
اِذَآ اُلْقُوْا : جب وہ ڈالیں جائیں گے فِيْهَا : اس میں سَمِعُوْا : سنیں گے لَهَا : واسطے اس کے شَهِيْقًا : چلانا وَّهِىَ تَفُوْرُ : اور وہ جوش کھارہی ہوگی
جب وہ اُس میں پھینکے جائیں گے تو اسکے دھاڑنے کی ہولناک آواز سنیں گے اور وہ جوش کھا رہی ہوگی
[اِذَآ اُلْقُوْا فِيْهَا : جب وہ ڈالے جائیں گے اس میں ][ سَمِعُوْالَهَا : تو وہ سنیں گے اس میں ][ شَهِيْقًا : رینکنے والی آواز ][ وَّهِىَ تَفُوْر : اس حال میں کہ وہ ابلتی ہوگی ] ترکیب : (آیت۔ 7 ۔ 8) اِذَا اور کُلَّمَا حرف شرط ہیں۔ اس لیے افعال ماضی کا ترجمہ مستبقل میں ہوگا۔ تُمَیِّزُ کی پہچان یہ ہے کہ نہ تو یہ تَمَیَّزَ (باب تفعل کا ماضی) ہے اور نہ ہی یہ تُمَیِّزُ (باب تفعیل کا مضارع) ہے، اس سے معلوم ہوا کہ یہ بات تفعل کا مضارع تَتَمَیَّرُ ہے جس کی ایک تا گری ہوئی ہے۔ خَازِنٌ کی جمع خَزَنَۃٌ ہے۔ یہاں یہ سَئَلَ کا فاعل اسم ظاہر ہے اس لیے فاعل جمع ہونے کے باوجود فعل سَئَلَ واحد آیا ہے۔ نوٹ۔ 1: آیت ۔ 7 میں شَھِیْقٌ کا لفظ استعمال ہوا ہے جو گدھے کی سی آواز کے لیے بولا جاتا ہے۔ اس فقرے کے معنی یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ خود جہنم کی آواز ہوگی، اور یہ بھی ہوسکتے ہیں کہ یہ آواز جہنم سے آرہی ہوگی جہاں ان سے پہلے گرے ہوئے لوگ چیخیں مار رہے ہوں گے۔ اس دوسرے مفہوم کی تائید سورة ہود کی آیت۔ 106 سے ہوتی ہے جس میں فرمایا گیا ہے کہ دوزخ میں یہ دوزخی لوگ ہانپیں گے اور پھنکاریں گے اور پہلے مفہوم کی تائید سورة فرقان کی آیت۔ 12 ۔ سے ہوتی ہے جس میں ارشاد ہوا ہے کہ دوزخ میں جاتے ہوئے یہ لوگ دور ہی سے اس کے غضب اور جوش کی آوازیں سنیں گے۔ اس بنا پر صحیح یہ ہے کہ یہ شور خود جہنم کا بھی ہوگا اور جہنمیوں کا بھی۔ (تفہیم القرآن) ۔
Top