Al-Qurtubi - Al-Muminoon : 117
وَ مَنْ یَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا یُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ
وَ : اور مَنْ يَّدْعُ : جو پکارے مَعَ اللّٰهِ : اللہ کے ساتھ اِلٰهًا اٰخَرَ : کوئی اور معبود لَا بُرْهَانَ : نہیں کوئی سند لَهٗ : اس کے پاس بِهٖ : اس کے لیے فَاِنَّمَا : سو، تحقیق حِسَابُهٗ : اس کا حساب عِنْدَ رَبِّهٖ : اس کے رب کے پاس اِنَّهٗ : بیشک وہ لَا يُفْلِحُ : فلاح (کامیابی) نہیں پائینگے الْكٰفِرُوْنَ : کافر (جمع)
اور جو شخص خدا کے ساتھ اور معبود کو پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کچھ سند نہیں تو اس کا حساب خدا ہی کے ہاں ہوگا کچھ شک نہیں کہ کافر رستگاری نہیں پائیں گے
آیت نمبر 117 تا 118 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ومن یدع مع اللہ الھا اخرلا برھان لہ بہ یعنی اسکے لیے اس پر کوئی دلیل نہیں ہے۔ فانما حسابہ عندربہ وہ اسے سزا دے گا اور محاسبہ کرے گا۔ انہ ضمیر شان ہے۔ لا یفلح الکفرون۔ حسن اور قتاداہ نے لا یفلح فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے جس نے تکذیب کی اور انکار کیا اس کا جو میں نے بھیجا ہے اور جس نے میری نعمتوں کی نا شکری کی وہ کامیاب نہ ہوگا۔ پھر اپنے نبی کریم ﷺ کو حکم دیا کہ استغفار کرو تاکہ آپ کی اقتدار کرے۔ بعض علماء نے فرمایا : استغفار کا حکم آپ کی امت کیلئے ہے۔ ثعلبی نے ابن لبیعہ کی حدیث مسند روایت کی ہے ابن لہیعتہ نے عبداللہ بن ہیرو سے انہوں نے حنش بن عبداللہ صنعانی سے انہوں نے حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایات کی ہے کہ وہ ایک مصیبت میں مبتلا شخص کے پاس سے گذرتے تو انہوں نے اس کے کان میں افحسبتم انما خلقنکم عبثا الخ۔ پڑھ دیا تو وہ ٹھیک ہوگیا رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ــ” تو نے اس کے کان میں کیا پڑھا ہے “ حضرت ابن مسعود نے بتایا تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ” قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! اگر کوئی شخص جو یقین رکھتا ہو وہ اسے پہاڑ پر پڑھتے تو وہ اپنی جگہ سے زائل ہو جائیـ“
Top