Al-Qurtubi - Al-Muminoon : 36
هَیْهَاتَ هَیْهَاتَ لِمَا تُوْعَدُوْنَ۪ۙ
هَيْهَاتَ : بعید ہے هَيْهَاتَ : بعید ہے لِمَا : وہ جو تُوْعَدُوْنَ : تمہیں وعدہ دیا جاتا ہے
جس بات کا تم سے وعدہ کیا جاتا ہے (بہت) بعید اور (بہت) بعید ہے
آیت نمبر 36 ۔ حضرت ابن عباس ؓ نے کہا : ھیھات یہ بعد کے لئے ہے گویا انہوں نے کہا : جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بعید ہے، جو یہ دوبارہ اٹھنے کا ذکر کرتے ہیں یہ نہیں ہوگا۔ ابو علی نے کہا : یہ فعل کے قائم مقام ہے۔ یعنی بعد ماتوعدون جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے وہ بعید ہے۔ ابن الانباری نے کہا : ھیھات ھیھات میں دس لغات ہیں۔ ھیھات لک۔ تاء کے فتحہ کے ساتھ، یہ جماعت کی قرأت ہے۔ ھیھات لک تاء کے کسرہ کے ساتھ، ابو جعفر بن قعقاع سے مروی ہے۔ ھیھات لک تاء کے کسرہ اور تنوین کے ساتھ عیسیٰ بن عمر سے مروی ہے۔ ھیھات لک تاء کے رفع کے ساتھ۔ ثعلبی نے کہا : نصر بن عاصم اور ابو العالیہ نے اس طرح پڑھا ہے۔ اور ھیھات لک رفع اور تنوین کے ساتھ ابو حیوہ شامی نے اس طرح پڑھا ہے، یہ قول بھی ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ ھیھات لک نصب اور تنوین کے ساتھ۔ احوص نے کہا : تذکرت ایاما مضین من الصبا وھیھات ھیھاتا الیک رجوعھا اور ساتویں لغت ایھات ایھات ہے۔ فراء نے یہ دلیل دی ہے۔ فایھات ایھات العقیق ومن بہ ایھات خل بالعقیق نواصلہ (المحرر الوجیز، جلد 4، صفحہ 143) مہدوی نے کہا : عیسیٰ ہمدانی نے ھیھات ھیھات تاء کے سکون کیساتھ پڑھا ہے۔ ابن الانباری نے کہا : عربوں میں سے کچھ ایھان نون کے ساتھ بھی کہتے ہیں۔ ایھا بغیر نون کے کہتے ہیں۔ فراء نے یہ شعر پڑھا۔ ومن دونی الاعیان والقنع کلہ وکتمان ایھا ما اشت وابعدا یہ دس لغات ہیں جنہوں نے ھیھات تاء کے فتحہ کے ساتھ کہا اس نے اس کو این اور کیف کی مثل بنایا۔ بعض نے کہا : کیونکہ یہ دواداۃ ہیں جو مرکب ہیں جیسے خمسۃ عشر، بعلبک اور رام ہرمز اور توھا کے ساتھ دوسرے پر وقف کرے گا جیسے تو کہتا ہے : خمس عشرہ وسبع عشرہ۔ فراء نے کہا اس کی نصب تمت اور ربت کی نصب کی طرح ہے۔ الف اور اس سے پہلے فتحہ کی اتباع میں فتح ہونا بھی جائز ہے اور جنہوں نے تاکسرہ دیا انہوں نے اسے امس اور ھولاء کی مثل بنایا ہے شاعر نے کہا : وھیھات ھیھات الیک رجوعھا کسائی نے کہا : جنہوں نے کسرہ دیا انہوں نے اس پر ھا کے ساتھ وقف کیا وہ کہتا ہے : ھیھاہ اور جنہوں نے تا کو نصب دی اس نے تا کے ساتھ وقف کیا اور وہ چاہے تو ھا کے ساتھ وقف کرے اور جنہوں نے تا کو ضمہ دیا انہوں نے اس کو منذر، قط اور حیث کی مثل بنایا اور جنہوں نے ھیھات تنوین کیساتھ پڑھا وہ جمع ہے اس کے ساتھ اس نے کثرت کا ارادہ کیا گویا کہا : بعدا بعدا بعض نے کہا کسرہ دیا گیا اور تنوین دی گئی اصوات کے ساتھ تشبیہ کی بناء پر جیسے عاق وطاق۔ اخفش نے کہا : ھیھات میں جمع کا تصور ہونا بھی جائز ہے پس اس میں تا اس جمع کے لئے ہوگی جو تانیث کے لئے ہوتی ہے اور جنہوں نے ھیھات پڑھا یہ جائز ہے کہ اس نے اس کو اسم معرب بنایا ہو جس میں بعد کا معنی ہو اور اس نے فعل کے لئے اسم نہ بنایا ہوتا کہ مبنی ہو۔ بعض نے کہا : تا کو جمع کے ساتھ تشبیہ دی گئی جیسے اللہ کا ارشاد ہے ؛ فاذا ا فضتم من عرفت (البقرہ :198) فراء نے کہا : میں تا پر وقف کو پسند کرتا ہوں عربوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو تاکو ہر حال میں جردیتے ہیں گویا یہ عرفات اور ملکوت اور اس کے مشابہ الفاظ کی طرح ہے۔ مجاہد، عیسیٰ بن عمرو، ابو عمر بن علائ، کسائی اور ابن کثیر ھیھاہ پر وقف کرتے تھے۔ ابو عمرو سے یہ بھی مروی ہے کہ وہ ھیھات پر تا پر وقف کرتے تھے۔ بقیہ قراء کا بھی یہی نظریہ ہے کیونکہ یہ حرف ہے۔ ابن الانباری نے کہا : جس نے ان دونوں کو ایک حرف بنایا ہے وہ ایک کو دوسرے سے علیحدہ نہیں کرتا اور دوسرے پر ھا کیساتھ وقف کیا اور پہلے پر وقف نہیں کیا پس وہ کہتا ہے : ھیھات ھیھات جیسے کہتا ہے خمس عشرہ جیسا کہ پہلے گزرا ہے اور جنہوں نے ایک کی دوسرے سے علیحدگی کی نیت کی اس نے دونوں میں ھا اور تا کے ساتھ وقف کیا کیونکہ ھا کی اصل تا ہے۔
Top