Al-Qurtubi - Al-Muminoon : 63
بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِیْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ
بَلْ : بلکہ قُلُوْبُهُمْ : ان کے دل فِيْ غَمْرَةٍ : غفلت میں مِّنْ ھٰذَا : اس سے وَلَهُمْ : اور ان کے اَعْمَالٌ : اعمال (جمع) مِّنْ دُوْنِ : علاوہ ذٰلِكَ : اس هُمْ لَهَا : وہ انہیں عٰمِلُوْنَ : کرتے رہتے ہیں
مگر ان کے دل ان (باتوں) کی طرف سے غفلت میں (پڑے ہوئے) ہیں اور اسکے سوا اور اعمال بھی ہیں جو یہ کرتے رہتے ہیں
آیت نمبر 63-65 اللہ کا ارشاد ہے۔ بل قلوبھم فی غمرۃ من ھذا مجاہد نے کہا : وہ پردے اور غفلت میں ہیں اور قرآن سے اندھے ہوچکے ہیں کہا جاتا ہے۔ غمرۃ الماء جب پانی ڈھانپ لے۔ نہر غمر ایسی نہر کہ جو اس میں داخل ہو اس کو ڈھانپ دیتی ہے۔ رجل غمر یغمرہ آراء الناس۔ ایسا شخص جس کو لوگوں کی آراء ڈھانپ لیں۔ بعض علماء نے کہا غمرۃ کیونکہ وہ چہرے کو ڈھانپ لیتی ہے اسی سے ہے دخل فی غمار الناس وخمارھم یعنی لوگوں کے مجمع نے اسے ڈھانپ لیا۔ بعض نے کہا : بل قلوبھم فی غمرۃ یعنی وہ حیرت اور اندھے پن میں ہیں یعنی اس سے وہ اندھے ہیں جو پہلی آیات میں اعمال خیر بیان کیے گئے ہیں ؛ یہ قتادہ کا قول ہے یا اس کتاب سے اندھے ہیں جو حق بولتی ہے (احکام القرآن للطبری، جز 18، صفحہ 46) ۔ ولھم اعمال من دون ذالک ھم لھا عملون۔ قتادہ اور مجاہد نے کہا : ان کی ایسی خطائیں ہیں کہ ضرور وہ حق کے علاوہ کام کریں گے۔ حسن اور ابن زید نے کہا : اس کا معنی ہے ان کے ردی اعمال ہیں جس روش پر ہیں انہوں نے اس کے علاوہ اعمال نہیں کیے ضرور وہ مومنین کے اعمال کے علاوہ اعمال کریں گے جنکی وجہ سے وہ دوزخ میں داخل ہوں گے ان کے لئے شقاوت مقدر ہوچکی ہے۔ ایک تیسرا احتمال بھی ہے کہ اس نے خالق کا کفر کرنے کے ساتھ مخلوق پر ظلم کیا ؛ یہ ماوردی نے ذکر کیا ہے۔ یہ معانی قریب قریب ہیں۔ حتی اذا اخذنا مترفیھم بالعذاب۔ یعنی بدر کے دن جب ہم نے تلوار کے ساتھ ان کے خوشحال لوگوں کو پکڑ لیا ؛ یہ حضرت ابن عباس ؓ کا قول ہے۔ ضحاک نے کہا : یعنی بھوک سے پکڑلیا۔ جب نبی کریم ﷺ نے انکے خلاف دعا کی : اے اللہ مضر قبیلہ پر سختی فرما۔ اے اللہ انہیں ایسے قحط میں مبتلا کردے جیسے یوسف کے زمانہ میں تھا۔ (صحیح بخاری، الدعاء علی المشرکین، جلد 2 صفحہ 942) پس اللہ نے انہیں قحط اور بھوک میں مبتلا کردیا حتیٰ کہ انہوں نے ہڈیاں، مردار، کتے اور دھرنگے کھائے، ان کے مال اور عیال ہلاک ہوئے۔ اذاھم یجئرون۔ وہ چیختے تھے اور مدد طلب کرتے تھے۔ الجوار کا اصل معنی تضرع کے ساتھ آواز بلند کرنا ہے۔ جیسے بیل آواز نکالتا ہے۔ اعشی نے گائے کا وصف بیان کرتے ہوئے کہا : فظافت ثلاثا بین یوم ولیلۃ وکان النکیران تضیف وتجارا جوہری نے کہا : الجوار، الخوارمثل ہے۔ کہا جاتا ہے : جار الثور یجار یعنی بیل نے آواز نکالی۔ بعض نے عجلا جسدا لہ خوار پڑھا ہے۔ اخفش نے یہ حکایت کیا ہے۔ اور جار الرجل الی اللہ عزوجل یعنی دعا کے ساتھ تضرع کیا۔ قتادہ نے کہا : وہ توبہ کے ساتھ چیختے تھے پس ان سے توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔ یراوح من صلوات الملیک فطورا سجودا وطورا جوارا ابن جریح نے کہا : حتیٰ اذا اخذنا مترفیھم بالعذاب۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو بدر میں قتل کیے گئے تھے۔ اذا ھم یجئرون۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو مکہ میں تھے۔ پس دونوں قولوں کو جمع کیا گیا۔ یہ عمدہ ہے۔ لا تجئروالیوم انکم منا۔ منا سے مراد من عذابنا ہمارے عذاب سے لاتنصرون تمہاری حفاظت نہیں کی جائے گی اور تمہاری جزع و فزع تمہیں نفع نہیں دے گی حسن نے کہا : توبہ کی قبولیت کے ساتھ انکی مدد نہیں کی جائے گی۔ بعض علماء نے کہا : اس نہی کا معنی اخبار ہے یعنی تم اگر تضرع وزاری کرو تو تمہیں نفع نہ دے گی۔
Top