Al-Qurtubi - Al-Muminoon : 90
بَلْ اَتَیْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ
بَلْ : بلکہ اَتَيْنٰهُمْ : ہم لائے ہیں ان کے پاس بِالْحَقِّ : سچی بات وَاِنَّهُمْ : اور بیشک وہ لَكٰذِبُوْنَ : البتہ جھوٹے ہیں
بات یہ ہے کہ ہم نے ان کے پاس حق پہنچا دیا ہے اور جو (بت پرستی کئے جاتے ہیں) بیشک جھوٹے ہیں
آیت نمبر 90-92 ۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بل اتینھم بالحق یعنی ہم نے انہیں سچا قول پہنچادیا نہ کہ وہ جو کفار کہتے ہیں یعنی شریک کا اثبات اور دوبارہ اٹھنے کی نفی۔ وانھم لکذبون۔ وہ جھوٹے ہیں کہ کہتے ہیں : ملائکہ اللہ کی بیٹیاں ہیں اللہ نے فرمایا : ما اتخذاللہ من ولد۔ من صلہ ہے وما کان معہ من الہ۔ من زائدہ ہے تقدیر اس طرح ہے۔ ما اتخذاللہ ولدا۔ یعنی اللہ نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا جیسا کہ تم نے کہا اور جو اس نے پیدا کیا ہے اس میں اسکے ساتھ کوئی خدا نہیں ہے کلام میں حذف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے تو ہر خدا اپنی مخلوق کے ساتھ علیحدہ ہوتا۔ ولعلا بعضھم علی بعض۔ قوی، ضعیف پر غالب آتا ہے جیسے بادشاہوں کینفی پر دلالت کرتا ہے وہ بیٹے کی نفی پر بھی دلالت کرتا ہے کیونکہ بیٹا باپ سے ملک میں جھگڑتا ہے جس طرح شریک جھگڑتا ہے۔ سبحن اللہ عما یصفون۔ وہ شرک سے پاک ہے۔ نافع، ابوبکر، حمزہ اور کسائی نے عالم رفع کے ساتھ پڑھا ہے۔ یعنی ھو عالم الغیب نئی کلام ہے۔ باقی قرأء نے للہ کی صفت کی بناء پر، مجرور پڑھا ہے۔ رویس نے کہا یعقوب سے روایت کیا ہے جب وصل کیا تو عالم کو جردی اور جب ابتداء کی تو رفع دیا۔
Top